عمران خان کے خلاف مقدمات زرداری جیسے؟


آنکھوں دیکھے ہوئے واقعات کی موجودگی میں انسان کس طرح گمراہ ہوتا ہے اس معاملہ کو سمجھنا اور دیکھنا حیرت انگیز ہوتا ہے۔ لیکن کسی نہ کسی جگہ پر ایسی پراگندہ خیالی پھیلائی جاتی ہے کہ دیکھ کر حیرانی ہوتی ہے کہ کچھ ذی شعور، عقلمند اور طالب علم قسم کے لوگ بھی گمراہ ہو جاتے ہیں۔

میری فیس بک وال پر کچھ لوگ ایسے موجود ہیں جنہیں میں سنجیدہ قاری اور تعلیم، تاریخ اور سیاسی فہم و فراست کا حامل مانتا اور سمجھتا ہوں لیکن ان کے سوالات چونکا دینے والے ہوتے ہیں۔

ابھی آج صبح مجھ سے سوال کیا گیا کہ عمران خان پر جو مقدمات بنائے گئے ہیں ان کے بارے میں میرا کیا خیال ہے۔ کیا انہیں آصف علی زرداری اور شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کے خلاف بنائے گئے مقدمات کی مثال سے دیکھا جا سکتا ہے۔

بنیادی طور پر یہ سوال غلط ہے۔ یہ مثال غلط ہے اور ہر دو کا اپس میں کوئی معمولی سا بھی تعلق یا علاقہ نہیں ہے۔ لیکن میڈیا میں بھاڑے پر لکھنے والے لوگوں نے یہ تاثر اور پرسپشن بنا دیا ہے۔ کہ پیپلز پارٹی کی قیادت کے خلاف جس طرح ماضی میں مقدمات بنائے گئے تھے۔ شاید عمران خان اور اس کے ساتھیوں کے خلاف بھی اسی طرح کے مقدمات بنائے گئے ہیں۔

تاریخ کو مسخ کرنا اور حقائق کا ڈھٹائی سے انکار کرنا مندرجہ بالا جملہ میں پنہاں ہے۔

یاد دلاتا چلوں کہ جب بھی پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت کو توڑا گیا۔ اچانک اور غیر آئینی طور پر توڑا گیا۔ اور حکومت توڑنے کے چند لمحات کے اندر آصف علی زرداری اور شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کو گرفتار کیا گیا۔ اب پھر سمجھ لیجیے کہ حکومت توڑتے وقت یا ٹوٹنے سے پہلے آصف علی زرداری یا بے نظیر بھٹو کے خلاف کوئی مقدمہ موجود نہیں تھا۔

دوسری بات سمجھ لیجیے کہ حکومت توڑنے کے بعد کوئی شکایت درج کی گئی نہ ایف آئی آر درج کی گئی، نہ کوئی ریفرنس دائر کیا گیا۔ یا آصف علی زرداری یا شہید محترمہ بے نظیر بھٹو نے عدالت، انتظامی اداروں یا فوج، پولیس پر کبھی کوئی حملہ کیا یا ان کے خلاف ایجیٹیشن کیا؟ ایسا کبھی کچھ نہیں ہوا۔

آصف علی زرداری یا شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کو حکومت توڑتے ہی گرفتار کیا گیا اور مہینوں بعد جعلی جھوٹے اور ایسے واقعات گھڑے گئے اور ان پر الزامات لگائے گئے جن کو مستقبل میں کسی بھی طرح واقعات کی روشنی میں، شہادت کی روشنی میں، حقائق کی روشنی میں ثابت نہیں کیا جا سکا۔

میں بار بار مثالیں لکھتا رہا ہوں کہ آصف علی زرداری کی ایک بار گرفتاری کے وقت گورنر ہاؤس لاہور میں ان کی دائیں بغلی جیب سے دو ارب روپے کے نئے کرنسی نوٹ جو مبینہ طور پر سٹیٹ بینک سے منگوائے گئے تھے۔ اور ان کی بائیں بغلی جیب سے دو ٹن سونے کے بسکٹ بھی برآمد کیے گئے تھے۔ اور کم از کم 10 سال تک اخبارات اس پر فخریہ لکھتے رہے کہ یہ برآمدگی ہوئی ہے۔ لیکن کبھی ایسی کسی برآمدگی کو عدالت میں پیش کرنا ممکن نہ ہو سکا۔

عمران خان کے خلاف جس وقت عدم اعتماد کی تحریک پیش کی گئی اس کے کم از کم ایک سال بعد تک عمران خان کے خلاف کوئی مقدمہ درج ہوا۔ نہ ان کے خلاف قانونی کارروائی کی گئی۔ عمران خان مسلسل غیر آئینی۔ غیر پارلیمانی اور مجرمانہ حرکتوں میں مصروف رہے۔

آئین کے مطابق عدم اعتماد کی قرارداد پر 21 دن کے اندر گنتی کروانا ضروری تھا۔ نہیں کروائی گئی۔ آئین کو توڑا گیا۔ 28 مارچ سے 10 اپریل تک عمران خان کا سٹیٹس منتخب وزیراعظم کا ہرگز نہیں تھا بلکہ وہ ایک قبضہ گروپ، غنڈے، بدمعاش، موالی یا غیر آئینی قابض کے سٹیٹس میں حکومت پاکستان کا وزیراعظم رہا۔

اسی طرح عمران خان نے عدم اعتماد کے بعد اقتدار سے محروم ہونے کے بعد ریاست پاکستان پر مجرمانہ حملے کیے۔ جتنے بھی مقدمات درج کیے گئے ہیں ان میں سے ایک مقدمہ کے وقوعہ کا بھی عمران خان یا اس کے پیروکار انکار نہیں کرتے۔

توشہ خانہ کی چوری ایک جرم تھا اور اس جرم کے ہونے کا یقین اور احساس عمران خان اور اس کی قانونی ٹیم کو روز اول سے تھا۔ جونہی رائٹ ٹو انفارمیشن کے تحت برادر رانا ابرار خالد نے معلومات کی رسائی کے لیے درخواست دی تو مزاحمت شروع ہو گئی۔ پہلے انفارمیشن دینے سے انکار کیا گیا۔ پھر ہائی کورٹ میں طویل عرصہ تک حکم امتناعی لے کر قانونی کارروائی کو روکا گیا۔

اسی طرح جتنے بھی فوجداری قسم کے مقدمات درج ہوئے ہیں۔ سب میں پہلے قبل از گرفتاری ضمانت بار بار لی گئی اور قبل از گرفتاری ضمانتیں کنفرم نہ ہونے کی صورت میں شامل تفتیش ہونے سے انکار کیا گیا۔ گرفتاری پیش کرنے سے انکار کیا گیا اور بار بار ریاست کی رٹ کو چیلنج کیا گیا اور قانون پر عمل درآمد میں رکاوٹ ڈالی گئی۔

اس ساری صورتحال میں جو سادہ لوح انسان بے وقوف بن جاتے ہیں، پرسپشن کا شکار ہوتے ہیں، انہیں اپنی عادتوں اپنی دماغی استعداد استعمال کرنے اور سوچ بہتر کرنے پر ذرا سا زور دینا چاہیے۔

آصف علی زرداری یا پیپلز پارٹی کی قیادت کو حکومت برطرف کیے جانے کے وقت سیکنڈوں میں گرفتار کر لیا جاتا تھا۔ جبکہ عمران خان کو ایک منہ زور بھینسے کی مانند کم از کم ایک سال تک ملک میں اگی ہوئی ہر فصل اجاڑنے کے لیے نہ صرف فری ہینڈ دیا گیا بلکہ کامل عدالتی سرپرستی بھی دستیاب رہی۔

اس صورتحال میں ان دونوں معاملات کو ایک جملہ میں ذکر کرنا یا ایک طرح کا قرار دینا ایک سنجیدہ نوعیت کا مجرمانہ رویہ ہے۔

Facebook Comments HS