ایپکٹیٹس، ماركس اوریلئس اور سینیکا کے افکار


مجھے ہمیشہ سے فلسفے کی تاریخ، ارتقا اور مجموعی اثرات کو سمجھنے میں دلچسپی رہی۔ ول ڈیوراں کی داستان فلسفہ، برٹرینڈ رسل کی لوگوں کو سوچنے دو اور جوسٹن گارڈر کی سوفی کی دنیا شوق سے پڑھی۔ ایک شمع جو یونان کے فلسفیوں نے روشن کی، سنہری دور کے مسلم حکما اور نشات ثانیہ کے مفکرین سے ہوتی ہوئی دور جدید کے وجودیوں تک پہنچی۔ دیے سے دیا جلتا رہا۔ فلسفے نے برابر مجھے اپنے سحر میں گرفتار رکھا۔ خیال و خامہ کی بھول بھلیوں سے نکل کر روز مرہ زندگی کے چوراہے پر عوامی دانش سے بھی مڈ بھیڑ ہوتی رہی۔

میں نے فلسفہ رواقیت (Stoicism) کو حال ہی میں تفصیل سے پڑھا۔ اب یہ میرے پسندیدہ موضوعات میں سے ایک ہے۔ جہاں اس فلسفے کی بات ہوگی وہاں تین شخصیات کا نام ضرور لیا جائے گا۔ یعنی ایپکٹیٹس، مارکس اوریلئس اور سینیکا۔ یہ فلسفہ ہمیں مشکل کی گھڑی میں ذہن میں ترکیب، نگاہ میں امید، دل میں حوصلہ اور لبوں پر مسکراہٹ سجانے کا درس دیتا ہے۔

یونانی ایپکٹیٹس ایک آزاد غلام تھا۔ اس کی کتاب The Manual میں اس کے لیکچرز اور مکالمات کا خلاصہ بیان کیا گیا ہے۔

وہ لکھتا ہے کہ ہماری تکالیف کے ذمہ دار بیش تر ہم خود ہوتے ہیں۔ خارجی حالات نہیں بلکہ ان پر ہمارا داخلی ردعمل ہمیں پریشان کرتا ہے۔ جواب دینے سے پہلے اگر ہم تھوڑا سا توقف کر لیں تو اپنے فیصلوں کا معیار بہتر بنا سکتے ہیں۔ اگر ہم غلط ہیں تو ہمیں اپنے رویے پر نظر ثانی کرنی چاہیے۔ اگر ٹھیک ہیں تو پھر لوگوں کی پرواہ نہیں کرنی چاہیے۔ جو ہمارے اختیار میں ہو وہ کام کریں۔ باقی تقدیر پر چھوڑ دیں۔ ٹھنڈے دل اور دماغ سے سوچیں۔ جب ہم پر کوئی مشکل اترے تو خدا سے اس کا مقابلہ کرنے کا حوصلہ مانگیں۔ اچھے لوگوں کی صحبت اختیار کریں۔ کیچڑ میں اترنے سے ہمارے اپنے کپڑے میلے ہوتے ہیں۔ کم گوئی اختیار کریں۔ بناوٹ اور دکھاوے سے پرہیز کریں۔

تعلیم کا مقصد ہماری صلاحیتوں کو نیچر کے مقابل آراستہ کرنا ہے اور یہ پریکٹیکل نوعیت کی ہونی چاہیے۔ تعلیم کا حصول صرف اس کا حق نہیں جو آزاد ہے۔ بلکہ یہ تعلیم ہی ہے جو ایک فرد کو حقیقی معنوں میں آزاد کرتی ہے۔ آزادی ایک خواہش کو پورا کرنے سے نہیں بلکہ اسے قابو میں لانے سے ملتی ہے۔ اگر ہم خود درست طریقے سے کھانا نہیں کھاتے تو ہمارے الفاظ دوسروں کو ٹھیک طرح سے کھانا نہیں سکھا سکتے۔ کوئی چیز راتوں رات حاصل نہیں ہوتی۔ اس کے لیے آج کوشش کر کے صبر کے ساتھ نتیجہ کا انتظار کرنا پڑتا ہے۔ انسان کی پہچان مشکل وقت میں ہوتی ہے۔ اگر ہم کوئی بڑا کام کرنا چاہتے ہیں تو آج اسے چھوٹے پیمانے سے شروع کر دیں اور مستقل مزاجی سے کرتے چلے جائیں۔ ایک دن یہ ہماری فطرت کا حصہ بن جائے گا۔

افلاطون نے کہا تھا کہ ملک کا حکمران ایک دانشور ہونا چاہیے۔ یہ بات مارکس اوریلئس پر صادق آتی ہے۔ وہ رومن شہنشاہ اور اپنے وقت کا ایک طاقت ور شخص تھا۔ اس کا فلسفہ اس کی کتاب Meditations میں بیان ہوا ہے :

کسی چیز کو اچھی طرح سمجھنے کے لیے کڑی مشق کی ضرورت ہوتی ہے۔ جو ہم دیکھتے ہیں وہ ہمارا نقطہ نظر ہے، سچائی نہیں۔ اچھی زندگی اچھے خیال سے شروع ہوتی ہے۔ لیکن آپ معاشرے سے کنارہ کش نہیں ہو سکتے۔ جیسی آپ کی سوچ ہوگی، ویسا کردار۔ اپنے ذہن کو مثبت خیالات پر مرتکز رکھیں اور منفی خیالات کی آلودگی سے بچائیں۔ مظاہر فطرت پر غور و فکر کی عادت ڈالیں۔ شاہد ہو کہ مشہود، ہر چیز فانی ہے۔ اگر آپ کچھ نہیں کرتے تو نا انصافی کرتے ہیں۔ جو کچھ ہو رہا ہے، وہ پہلے بھی ہو چکا ہے اور آئندہ بھی ہوتا رہے گا۔

مقصد اور ثابت قدمی کے بغیر کوئی کام شروع نہ کریں۔ دوسروں کا کوئی عمل آپ کو بے توقیر نہیں کر سکتا۔ آپ کی مقبولیت کا دار و مدار زمانے کے مزاج پر ہے۔ اور آپ کی خوشی کا تعلق آپ کے اپنے اعمال سے ہے۔ دکھوں کے معاملے میں مبالغہ آرائی نہ کریں۔ جو آپ کے پاس ہے، اسے استعمال میں لائیں۔ جو نہیں ہے، اس پر غمگین نہ ہوں۔ رکاوٹیں ہمیں سکھانے کے لیے آتی ہیں۔ ہر دن کو ایسے جئیں جیسے یہ آپ کا آخری دن ہے۔ اپنے اعصاب کو مضبوط بنائیں۔ اپنے مخالفین اور حاسدین کو کوئی رعایت نہ دیں۔ جب آپ صبح جاگیں تو ایسے لوگوں سے نبٹنے کے لیے کمر کس لیں۔ ان سے بہترین انتقام یہ ہے کہ آپ ان جیسے نہ بن جائیں۔

سینیکا اسپین کے ایک امیر گھرانے میں پیدا ہوا۔ اس کی کتاب Letters from a Stoic سے ہم اس کے خیالات کو سمجھنے کی کوشش کریں گے :

انسان کو فطری قوانین سے ہم آہنگ رہنا چاہیے۔ اگر آپ ایسا کریں تو کبھی غریب نہیں ہوں گے۔ دوسروں کی رائے پر چلنے والا کبھی سکھ نہیں پا سکتا۔ غریب وہ نہیں جس کے پاس تھوڑا ہے، بلکہ وہ ہے جو زیادہ کے غم میں گھلے۔ امیر وہ ہے جس کے پاس جو کچھ ہے اس پر مطمئن رہے۔ ہم چیزوں کو بانٹ کر ہی ان سے لطف اندوز ہو سکتے ہیں۔ خوشی دوسروں کے کام آنے سے ملتی ہے۔ لوگوں سے اچھا برتاؤ کریں۔ حسن ظن رکھیں، آپ کے ساتھ اچھا ہو گا۔ لیکن ہر کسی پر بھروسا نہ کریں۔ میانہ روی اختیار کریں۔ لوگ ہماری تعریف کریں، ہماری چیزوں کی نہیں۔ ایک اچھا انسان خدا کا نمائندہ ہوتا ہے۔

سب انسان برابر ہیں۔ تمام دنیا میرا وطن ہے۔ میں آنے والی نسلوں کے لیے لکھتا ہوں۔ خود آگاہی کی پہلی کڑی اپنی غلطی کو تسلیم کرنا ہے۔ مقصد کا تعین اور منزل کی طرف پیشرفت صحیح معنوں میں زندگی کی تکمیل ہے۔ ان لوگوں سے بچیں جو توجہ کے طالب ہوتے ہیں، اور بہتری کی گنجائش نہیں رکھتے۔ جو تبدیلی آپ باہر لانا چاہتے ہیں، پہلے اپنے اندر پیدا کریں۔ ہم خیال لوگوں کا حلقہ بنائیں۔ مطالعہ کی عادت اپنائیں۔ اگر ہم سوچیں تو ہمیں جینے کا بہت وقت ملا ہے۔ ہمیں صرف اسے ٹھیک سے استعمال کرنا سیکھنا چاہیے۔ ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ ایک دن ہمیں مرنا ہے۔ پھر ہمیں خود بخود اپنے وقت کی اہمیت کا احساس ہو جائے گا۔

 

فرحان خالد

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

فرحان خالد

فرحان خالد تعلیمی اعتبار سے انجنیئر ہیں. ایک دہائی سے سافٹ ویئر انڈسٹری سے منسلک ہیں. بچپن سے انہیں مصوری، رائٹنگ اور کتابیں پڑھنے کا شوق ہے. ادب اور آرٹ کے شیدائی ہیں.

farhan-khalid has 38 posts and counting.See all posts by farhan-khalid

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments