اعمال کی نقالی


نقّالی کا عمل آج تک جاری و ساری ہے اور یہ ہمیشہ اپنی کسی نہ کسی صورت میں موجود رہے گا۔ نقالی کا تعلق ہر فرد کی اپنی جبلی صلاحیت پر منحصر ہے جب لی صلاحیتیں سب میں ایک جیسی نہیں ہوتیں، میں نے کئی لوگوں کو بڑے قریب سے مشاہدہ کیا ہے۔ میرے تجربے میں ایسے کئی امرا کے بچے آئے، جنہیں ہر طرح کی سہولیات میسر تھیں، نقالی کے تمام ذریعے و طریقے مختلف موضوعات کے ساتھ اُنہیں اس عمل سے گزارا گیا لیکن نتیجہ صفر رہا، اس کے ساتھ نہایت کم وسائل کے حامل گھر کے بچے بھی نظر سے گزرے، ان سب کے باوجود ان بچوں نے سماج میں اپنے ہونے کے کمالات دکھائے، میرے نزدیک نقالی کے عمل سے انسان کے اندر جن اشیا کی وہ نقالی کر رہا ہوتا ہے کے تمام اوصاف اس کے وجود کا عارضی طور پر تو حصہ بن جاتے ہوں البتہ مشق سے وہ ان کا اظہار بھی کر لے گا مگر ان کے وجود کا ناگزیر حصہ شاید کبھی نہ بن پائیں، جب تک وہ نقالی سے کیے گئے اکتساب کی عملی تکرار کرتا رہے گا تب تک ناظر و سامع کو اس کی مشقی صلاحیت و اوصاف پر ان کے پیدائشی خصائص ہونے کا قطعی گماں گزرتا رہے گا۔ تاہم جونہی وہ مشق سے کنارہ کشی کرے گا وہ صلاحیت و اوصاف مفقود ہو جائیں گے۔ یہاں اس نقالی کی بات ہو رہی ہے جو وہ دوسروں سے اکتساب کرے گا اور اس کی اپنی طبع ان سے لگا نہ کھاتی ہو اور وہ اسے شعوری کوشش سے اپنے معمولات زندگی میں سرانجام دے گا۔

نقل کرنا بچپن ہی سے انسانی سرشت ہے۔
ارسطو۔

میرے نزدیک اعلی اعمال کی نقالی انسانی جبلی صلاحیتوں کو مہمیز دیتی اور نکھارتی ہے وگرنہ اس کے برعکس اکثر و بیش تر دیکھنے میں یہ آیا ہے کہ فرد کی جبلی خوبیاں دب کر رہ جاتی ہیں۔ نقالی پر بھی اس کا کافی کچھ عمل دخل ہوتا ہے۔ نقالی جس کی ہو رہی ہے اُس کی اہلیت کیا ہے؟ اور بہت کچھ تو نقالی کے عمل سے بھی اس کا تعلق ہوتا ہے۔

نقالی افراد کے جبلی اعمال پر اپنے اثرات رکھتی ہے۔ نقالی چونکہ شعور سے متماثل ہے۔ (فرق محض باخبر و عمل کا ہے۔ شعور کو جانکاری/باخبر سے اور نقالی کو عمل سے جوڑ کر دیکھیں ) اور شعوری طور پر کی گئی نقالی انسانی جبلت پر اپنا واضح اثر رکھتی ہے۔ مثال کے طور پر سفّلی جذبات، غصہ وغیرہ پر انسان مہذب اعمال (سماجی اخلاقیات) کے زیر اثر قابو پا لیتا ہے البتہ ایسا ممکن ہی نہیں کہ وہ اپنی جبلتوں کو جو اس کے اندر موجود ہوتی ہیں کو سرے سے ختم کرنے پر قادر ہو۔

 

Facebook Comments HS