نئی جنگ پرانے جنگجو: امریکہ بمقابلہ روس بذریعہ مسلمان


جب ستر کی دہائی میں سرد جنگ اپنے عروج پر تھی تو دنیا کے تمام آزاد تجزیہ نگار اس بات پر متفق تھے کہ کمیونسٹ بلاک اگلے بیس برس میں کیپٹلسٹ گروپ کو زیر کر لے گا وہ اس لیے کہ جنگی اور افرادی قوت میں کمیونسٹ زیادہ تھے اور منظم بھی تھے۔ مگر وہ قدیم جنگی اصولوں کے مطابق آگے بڑھ رہے تھے جبکہ کیپٹلسٹ گروپ کو بہت سارے شاطر دماغوں کی معاونت بھی حاصل تھی۔ ان شاطر دماغوں نے روس کو جو اس وقت کا سپر پاور تھا افغانستان میں مصروف رکھ کر اس کا سارا زور توڑ دیا اور امریکہ کو دنیا کی واحد سپر پاور بنا دیا۔

یہ تجربہ کامیاب رہا کہ مسلمانوں کو جہاد کے نام پر یکجا کر کے کسی بھی گروہ کے ساتھ لڑایا جاسکتا ہے۔ یہ ضروری نہیں کہ وہ غیر مسلم ہوں۔ پیسہ لگا کر ان کو ایک دوسرے کے خلاف بھی لڑایا جاسکتا ہے۔ پہلے انہوں نے مجاہدین بنائے جن کو مسلسل روس کے خلاف استعمال کیا گیا۔ روس کی عملی شکست اور سویت یونین کے خاتمہ کے بعد ان مجاہدین کو ان کے حال پر چھوڑ دیا گیا۔ جن جن ممالک میں ان کے مفادات تھے وہاں وہاں انہوں نے اسلامی عسکریت پسند بنائے۔

ان کو براہ راست فنڈز دیے اور کچھ کو سعودی عرب اور دیگر ذرائع سے مالی معاونت مہیا کی۔ یہ جہادی صرف ان کی مہیا کردہ مطلوبہ اہداف اور مقامات تک ہی محدود رہے اور اپنا مشن پورا کرتے رہے۔ اگر یہ حقیقی معنوں میں اسلامی جہادی ہوتے تو وہ ہراس جگہ جہاد کے لیے جاتے جہاں مسلمانوں پر ظلم ہو رہا ہوتا مگر ایسا کبھی نہیں ہوا۔ اس وقت بھی دنیا میں ساٹھ سے زیادہ اسلامی جہادی گروپس ہیں مگر ان میں سے کسی ایک نے بھی فلسطین کے مسلمانوں کی مدد کی کوئی کوشش نہیں کی۔ جبکہ شام میں جہاد کے لیے بھاری معاوضہ لے کر درجنوں گروہ پہنچ گئے تھے۔

مجاہدین کی قوت کم کرنے کے لیے طالبان کو بنایا گیا۔ اور اب طالبان کے مقابلے میں امارت اسلامی خراسان کے نام سے لوگوں کو بھرتی کیا گیا ہے۔ اس مقصد کے لیے عراق اور شام میں داعش کے نام سے جنگجووں کو جمع کیا گیا اور جب ان کا مقصد پورا ہو گیا تو یہ سب ان علاقوں سے ایسے غائب ہوئے جیسے یہ کہیں تھے ہی نہیں۔ اب جب ان کی ضرورت افغانستان اور روس کے مقابلے کے لیے پڑی تو انہیں دوبارہ سینٹرل ایشیا اور روس کے اردگرد جمع کیا جا رہا ہے۔

امریکہ کا افغانستان میں اپنی فوجی قوت اتارنا، دو ٹریلین ڈالر سے زیادہ خرچ کرنا۔ اور پھر اپنا سارا اسلحہ اور جنگی ساز و سامان وہاں چھوڑ کر طالبان کو پورا افغانستان سونپ کر واپس جانا عقل انسانی کو مطمٔین نہیں کر سکتا۔ یوکرین جنگ میں اچانک سے اسلامی جنگجوؤں کی شرکت اور اب روس میں ان کا ظاہر ہو جانا جبکہ فلسطین میں لاکھوں مسلمانوں کا قتل عام ہو رہا ہو اور ان کا کوئی پوچھنے والا نہ ہو۔ یہ سب اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ یہ جہادی گروپس اسلام کی نہیں بلکہ کسی مقصد اور پلان کا حصہ ہیں۔

اس وقت طالبان کا یہ دعویٰ ہے کہ انہوں نے افغانستان میں اسلامی ریاست بنا دی ہے اور تمام کام شریعت کے مطابق سرانجام پا رہے ہیں۔ لیکن جنگجؤوں کا ایک متحرک گروپ جو خود کو اسلامی جہادی کہتے ہیں ان کے خلاف بھی برسرپیکار ہیں۔ شام میں امریکہ اور روس ایک دوسرے کو نقصان پہنچانے کے لیے ان مسلمان گروہوں کو استعمال کرتے رہے۔ گزشتہ چند ماہ سے دولت اسلامیہ خراسان کے نام سے داعش کی اس ذیلی تنظیم کا نام بار بار دہشت گردی کے حوالے سے آ رہا ہے۔

افغانستان، پاکستان اور اب روس میں ان کی حملوں سے یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں ہے کہ اب یہ تنظیم افغانستان میں طالبان کے خلاف گوریلا جنگ شروع کرے گی۔ افغان طالبان گزشتہ کچھ عرصے میں روس اور چین کے بہت قریب ہو گئے ہیں۔ ان دونوں طاقتوں کے ساتھ تجارتی اور دفاعی معاملات پر ان کا قریب آنا امریکہ اور یورپی یونین کو تشویش میں مبتلا کر رہا ہے۔ جبکہ افغانستان کے سابق مجاہدین کو بھی روس میں یکجا کرنا اور انہیں پھرسے افغانستان کے مخصوص خطوں میں واپس لانے کا منصوبہ بھی بنایا گیا ہے۔

یہ سب جنگ ان بڑی طاقتوں کی ہے جو پردے کے پیچھے ہیں۔ افغانستان پر و کسی جنگوں کے لیے بہت ہی زرخیز جگہ ہے۔ اس لیے کہ یہاں کرائے کے جنگجو آسانی کے ساتھ دستیاب ہو جاتے ہیں۔ اور افغانستان میں موجود تمام لوگ جنگ اور جنگی ماحول میں پیدا ہوئے اور جوان ہوئے ہیں۔ جبکہ دنیا کے دیگر ممالک گزشتہ پانچ دہائیوں سے زیادہ ہو گئے ہیں کہ امن اور سکون کی زندگی گزار رہے ہیں۔ افغانستان میں برسر اقتدار طالبان بھی ایک گروہ سے تعلق نہیں رکھتے۔

سولہ سے زیادہ گروہ یکجا ہو کر یہ حکومت چلا رہے ہیں۔ غلزئی گروہ جو پشتونوں پر مشتمل ہے اہم اور فائدہ مند عہدوں اور جگہوں پر قابض ہے، جبکہ دوسرا بڑا گروہ حقانیوں کا ہے۔ دری، تاجک، ازبک، نورستانی اور پشائی علاقوں سے جو لوگ ان کے ساتھ شامل ہوئے ہیں وہ با امر مجبوری ان کے ساتھ ہیں۔ اور ان کو حکومت میں بھی کوئی اہمیت و حیثیت حاصل نہیں ہے۔ اگرچہ اس وقت افغانستان کی اقتصادی صورتحال ماضی کے مقابلے میں بہت زیادہ بہتر ہوئی ہے مگر ایک چھوٹی سی شورش اس استحکام کو ختم کر کے افغانستان کو واپس ماضی کی صورتحال پر واپس لے جا سکتی ہے۔

پاکستان کے ساتھ افغانستان کے طالبان میں کچھ گروہوں کا رویہ بہت ہی غیر متوقع ہے۔ امریکہ کے افغانستان سے انخلا کے وقت دنیا کے تمام عسکری تجزیہ نگار اس بات پر متفق تھے کہ یہ پاکستان کی بہت بڑی کامیابی ہے کہ افغانستان میں دہائیوں بعد اس کی حمایت یافتہ حکومت بن گئی ہے۔ جس سے پاکستان کے افغانستان کے ساتھ تعلقات اور مفادات کو فائدہ پہنچے گا۔ مگر طالبان کے وہ گروہ جو براہ راست امریکہ کے ساتھ رابطے میں تھے یعنی وہ گروہ جو قطر میں تھا وہ اب پاکستان کو بائی پاس کر کے اپنے معاملات چلانے کی کوشش میں ہے۔

طالبان جو افغانستان میں مکمل کنٹرول کا دعویٰ کرتے ہیں لیکن تحریک طالبان پاکستان کے پاکستان کے خلاف کارروائیوں کو روکنے کی کوشش نہیں کرتے اور ان کو مدد اور سہولت بھی فراہم کر رہے ہیں۔ طالبان کے کچھ گروہ جیسے حافظ گل بہادر گروہ اور دیگر کھلے عام ان کو سپورٹ بھی کرتے ہیں اور مدد بھی فراہم کرتے ہیں۔ جس کی وجہ سے پاکستان میں امن و امان کی صورتحال خراب ہو رہی ہے۔ سوشل میڈیا پر بھی افغان طالبان کے مختلف حمایت یافتہ افراد پاکستان کے خلاف ہرزہ سرائی میں مصروف رہتے ہیں۔

اس لیے اب افغان طالبان کو پاکستان کی وہ حمایت حاصل نہیں ہے جو کسی زمانے میں ہوا کرتی تھی۔ افغانستان میں جب جب سردیوں کا موسم اپنے اختتام کو پہنچتا ہے وہاں شورشوں کا آغاز ہوجاتا ہے۔ رمضان کے مہینے کے بعد افغانستان میں پھر سے جھڑپوں کا سلسلہ شروع ہو گا۔ مگر یہ سب کچھ نہ تو اسلام کی سر بلندی کے لیے ہو رہا ہے اور نہ ہی افغانستان کے کسی مفاد کے لیے یہ سب بڑی عالمی طاقتوں کی مفاداتی جنگ کا حصہ ہے جو یہ قوتیں دہائیوں سے لڑ رہی ہیں۔

عراق، شام، لیبیا، ایران، سوڈان، یوکرین اور افغانستان اس کا شکار ہیں۔ اگر جنگ مذاہب کے بیچ ہوتی تو اب تک مسلمان جنگجو اسرائیل کے خلاف جہاد کے لیے میدان میں کود چکے ہوتے یا پھر وہ فلسطین کے لیے متحرک گروہوں کو اپنی مدد کی پیش کش کرچکے ہوتے۔ یہ جتنی بھی جنگیں اور شورشیں جہاد کے نام پر ہو رہی ہیں یہ سب مسلمان ممالک میں ایک دوسرے کے خلاف ہو رہی ہیں۔ اور کمال دیکھیں کہ ایک جیسے عقیدے اور فرقے سے تعلق رکھنے والے لوگ بھی ایک دوسرے کے خلاف برسر پیکار ہیں۔

سرد جنگ کے بعد روس نے پہلی مرتبہ یوکرین پر حملہ کر کے اپنی قوت اور مستقبل کے عزائم کا اظہار کیا ہے۔ جس سے امریکہ اور یورپ کا پریشان ہونا لازمی امر ہے۔ روس نے شام میں امریکی نواز مسلح گروپوں کے خلاف بھی ایران نواز گروپوں کی کھل کر مدد کی ہے۔ یعنی اس کا مطلب ہے کہ سرد جنگ کا خاتمہ ہو گیا ہے لیکن امریکہ اور روس کی جنگ ختم نہیں ہوئی۔ یہ دونوں گروہ اقتصادی طور پر ایک دوسرے کو نقصان پہنچانے کے درپے رہتے ہیں لیکن یوکرین پر حملے کے بعد امریکہ اور نیٹو کو پھر سے اپنی حکمت عملی بدلنے کی ضرورت پڑی ہے۔

ایک ایسے وقت میں جب اسرائیل فلسطینوں کے خلاف مکمل جارحیت کی موڈ میں ہے اور امریکہ کھل کر اس کی حمایت کر رہا ہے۔ روس کا سلامتی کونسل میں کھل کر امریکہ کے خلاف جانا اور امریکہ مخالف گروپوں کا ساتھ دینا اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ یہ بڑی طاقتیں عنقریب پھر سے ایک دوسرے کو نقصان پہنچانے کی کوشش میں ہیں۔ یہ ایک دوسرے کے خلاف براہ راست جنگ شروع نہیں کر سکتے اس لیے کہ دونوں طاقتوں کے پاس ایٹمی ہتھیار ہیں۔ اس لیے یہ جنگیں دوسروں کی سرزمینوں اور کرائے کے جنگجوؤں کی مدد سے لڑی جائیں گی۔

اس کام کے لیے افغانستان ایک آسان اور ایسی جگہ ہے جہاں روس کر پھر سے مصروف رکھا جاسکتا ہے اور اس کی توجہ یوکرین اور یورپ سے کسی حد تک ہٹائی جا سکتی ہے۔ پھر امریکہ چین کے اقتصادی پیش رفت کو بھی لگام ڈالنے کا خواہاں ہے جو اس وقت افغانستان میں بہت تیزی کے ساتھ جاری ہے۔ چین کا پاکستان کے ذریعہ بحیرہ عرب تک کی آسان رسائی کو بھی سازشوں سے روکا جا رہا ہے۔ اگر روس افغانستان میں کسی بھی طرح پھرسے سرگرم ہوجاتا ہے تو یہ اقتصادی راہداریاں جو بن رہی ہیں شدید متاثر ہوں گی اور چین نے جو اقتصادی ترقی کے اہداف مقرر کیے ہیں وہ پورے نہیں ہو سکیں گے۔

اس مقصد کے لیے امریکہ تمام ذرائع کا استعمال کرے گا اور کر رہا ہے۔ جبکہ چین کے مقابلے میں بھارت کو لانے کے لیے بھی مسلسل منصوبہ بندی ہو رہی ہے اور بھارت کی اقتصادی ترقی میں مدد کی جا رہی ہے اور اس سلسلے میں امریکہ خود اور سعودی عرب کے ذریعہ بہت کچھ کر رہا ہے۔ جبکہ پاکستان کو چین کے مستقبل کے منصوبوں اور خواہشات کی تکمیل میں مدد فراہم کرنے کے راستے میں بھی مسائل پیدا کیے جا رہے ہیں۔ روس میں اس وقت جو صلاح مشورے ہو رہے ہیں وہ اسی نہج پر ہیں جو ستر کی دہائی کے آخر میں ہو رہے تھے۔ جس کا انجام سویت یونین کے خاتمے پر ہوا تھا۔ اس کی قیمت پاکستان نے بھی چکائی ہے اور ہم دنیا کے مقابلے میں ترقی کے دھارے میں بہت پیچھے رہ گئے۔ اب کے بار ہمیں ان کی جنگوں میں حصہ دار نہیں بننا چاہیے۔ اس لیے کہ اب کے بار امریکہ نے روس میں پہلے ہی سے اربوں ڈالر کا اسلحہ کرائے کے جنگجووں کے پاس چھوڑ دیا ہے۔ اور ان کے پاس ڈالرز بھی بہت ہیں۔ اس بار انہیں تاجکستان اور ازبکستان سے بھی مزید کرائے کے جنگجو مل جائیں گے۔

ہماری ترجیح اس وقت افغانستان کے شہریوں کو ان کے ملک واپس بھیج کر سرحدوں پر نگرانی کو بڑھانے کی ہونی چاہیے اس لیے کہ اسی میں ہماری بقا ہے۔ اس وقت ہماری معیشت اور حیثیت دونوں کسی سہولت کاری کے متحمل نہیں ہوسکتے۔ خراسانی گروہ چین، پاکستان، تاجکستان اور افغانستان میں اپنی کارروائیاں تیز کر دے گا۔ اور پھر ستر کی دہائی کی طرح روسی مفادات کو نشانہ بنائے گا جس کو جواز بنا کر روس حرکت میں آئے گا اور پھر ایک طویل گوریلا جنگ کا آغاز ہو گا جس کا بنیفشری امریکہ ہو گا۔

اس جنگ میں سارا کا سارا نقصان مسلمانوں کا ہو گا اور مسلمانوں کے ہاتھوں ہو گا۔ یہ اقتصاد اور مفاد کی جنگیں ہیں۔ ان سے دور رہنے والے ترقی کریں گے اور اس میں حصہ دار بننے والے پتھر کے دور میں واپس جائیں گے۔ شام، عراق، لیبیا اور چند دیگر ممالک کی چند دس برس پہلے کی تصویریں انٹر نیٹ پر تلاش کریں اور ان کی آج کی تصویر کے ساتھ موازنہ کر لیں۔ آپ یقین نہیں کریں گے کہ کس ترقی سے وہ کسی تنزلی کی طرف گئے ہیں۔ یہ تنزلی اور عذاب خریدنے والے اس ملک کے اپنے باشندے تھے جو انقلاب لانے کے چکر میں امریکی پروپیگنڈا کا شکار ہوئے اب ان کے بچے اور خواتین در در بھیک مانگ رہے ہیں۔ ذلیل ہو رہے ہیں، ان کے محل کھنڈر بن چکے ہیں۔ اور ان کی نسلیں تباہ ہو گئیں ہیں۔ اس لیے مشتری ہوشیار باش!

 

Facebook Comments HS