مجھے ملال نہیں اپنی کم نگاہی کا


یہ مصرع نابینا شاعر اقبال عظیم کا ہے۔ وہ پیدائش سے ہی بصارت کے نور سے محروم تھے مگر بصیرت کے نور سے معمور تھے۔ اس لیے کہ اس شعر کے دوسرے :مصرعے میں کہتے ہیں کہ

”جو دیدہ ور ہیں اُنہیں بھی نظر نہیں آتا “۔

قرآن کریم کی ایک آیت کا مفہوم کچھ یوں ہے کہ ”آنکھیں اندھی نہیں ہوتی ہیں بلکہ سینے میں موجود قلوب پر کائی جم جاتی ہے“ ۔ اس کائی کے جمنے کی متعدد وجوہات ہیں جس میں جھوٹی انا، احساس تفاخر، نرگسیت یا پھر اپنے قبیلے میں رہنے کے لیے قبیلے کے سردار کی اندھی پیروی شامل ہے۔

:اقبال عظیم ) مرحوم ( کا مکمل شعر کچھ یوں ہے کہ
مجھے ملال نہیں اپنی کم نگاہی کا
جو دیدہ ور ہیں انہیں بھی نظر نہیں آتا

ہمارے دیدہ وروں کی کوڑھ مغزی سے پاکستان کی تاریخ پر اُداسی بال کھولے سو رہی ہے۔ خود انحصاری کی جگہ ہمیں فارن ایڈ کا چسکا ڈالا گیا۔ گڈ طالبان اور بیڈ طالبان کی دلفریب اصطلاحیں متعارف کرائی گئیں۔ افغانستان کو سٹریٹجک ڈیپتھ تصور کیا گیا۔ سرحدوں کی بجائے بیڈ رومز میں کیمرے لگائے گئے۔ منکر نکیر بن کر سوال کیے گئے۔ اختیارات کو مرتکز کر کے ٹوپی میں چھپا دیا گیا۔ سیاستدانوں کو دولے شاہ کے چوہے بنا کر استعمال کیا گیا۔ رِندوں سے یہ نہیں کہا گیا کہ اپنا چلن بدلیں فقط ایسا ساقی مُسلط کیا گیا جو اپنے عہدِ اقتدار میں پٹھانے خان کی آواز میں یہ راگ ہی الاپتا رہا کہ: ”سانوں بے اختیاری لگی“ ۔

طاقت کے نشے میں بصیرت سے محروم ہو جانا تو انسانی تاریخ کا ایک معمول ہے لیکن ہمارے ہاں تو عوام بھی بے بصیرت ہیں۔ ہمارے گھر گھر میں بچے پیدا کرنے کا پروڈکشن ہاؤس کھلا ہوا ہے۔ ہر سال ٹویوٹا کر ولا کی طرح نیا ماڈل آتا ہے۔ پاکستان میں بچے ٹڈی دل کی طرح پیدا ہو رہے ہیں۔ نوبیاہتا جوڑا اگر شادی کے پہلے برس صاحبِ اولاد نہ ہو سکے تو اسے کن اکھیوں سے دیکھا جاتا ہے۔ رشتے دارچہ مگوئیاں شروع کر دیتے ہیں۔ بیٹی پیدا ہو جائے تو بیٹے کی تلاش میں بیٹیوں کی لائن لگ جاتی ہے۔

ہمارے جفاکش عوام کا منترہ ہے کہ کام جوان کی موت ہے۔ اس لیے جونہی اُنہیں اپنی روٹی روزی کمانے کے لیے با امرِ مجبوری کام کرنا پڑتا ہے تو انہیں غشی کے دورے پڑنا شروع ہو جاتے ہیں اور رمضان میں غشی کے دورے اپنے پورے جوبن میں ہوتے ہیں۔

یہ عوام جونہی پاکستان چھوڑ کر سبز گھاس کی تلاش میں بیرون ملک جاتے ہیں تو تیر کے طرح سیدھے ہو جاتے ہیں۔ وہاں کام اُن کا دھرم بن جاتا ہے جبکہ پاکستان میں سب اپنے آپ کو دھرم شالا میں محسوس کرتے ہیں اور مفت کی روٹیاں توڑنے کو عین ثواب سمجھتے ہیں۔

ہمارے عوام صرف وہ کام خوشی کے ساتھ کرتے ہیں جس میں ثواب فٹافٹ ہاتھ میں آ جائے۔ ثواب کو بھی انسٹنٹ کافی سمجھتے ہیں جسے بٹن دبا کر نکالا جا سکتا ہے۔ نیکی کا پھل ہمیں فوری چاہیے۔ اُخروی زندگی پر ایمان کے باوجود ہمیں اپنی ہر نیکی کی داد اسی دنیاوی زندگی میں وصول کرنی ہے۔

مجھے کیوں نکالا سے لے کر مجھے کیوں بلایا کہ گرداب میں پھنسی ہماری سادہ لوح قوم صرف تماشائی ہے اور اس کے باوجود اپنی اپنی پسند کے تماشا لگانے والوں کی زلف کی اسیر ہے۔ آخری ہچکیاں لیتی ہوئی یہ جنتا اپنے سے طاقتور ہر انسان سے یہ سوال :پوچھتی ہے کہ

میں کس کے ہاتھ پہ اپنا لہو تلاش کروں
تمام شہر نے پہنے ہوئے ہیں دستانے


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments