حیراں ہوں دل کو روؤں یا پیٹوں جگر کو میں


mohammad rafiq dad

ایک خبر کے مطابق 30 مارچ 2024 کو ضلع چار سدّہ کے علاقے اتمان زئی میں، امتحان میں پاس ہونے کی خوشی میں، نو سالہ بچے نے اپنے والد کے پستول سے ہوائی فائرنگ کردی جس کی زد میں آ کر اس کی اپنی والدہ جان سے ہاتھ دھو بیٹھی۔ اس واقعے پر آدمی کیا کہہ سکتا ہے سوائے غالب کے ان اشعار کے :

حیراں ہوں دل کو روؤں یا پیٹوں جگر کو میں
مقدور ہو تو ساتھ رکھوں نوحہ گر کو میں

علامہ اقبال کے مندرجہ ذیل اشعار بھی تھوڑی بہت ہیر پھیر کے ساتھ اس سیچویشن پر صادق آ سکتے ہیں (اگر اُن کی روح کو تکلیف نہ ہو) :

یہ فیضانِ نظر تھا کہ مکتب کی کرامات تھی
سکھائے کس نے ”بچے“ کو آدابِ فرزندی

اب سننے کو صرف یہ باقی رہ گیا ہے کہ ”روزہ کشائی کے موقع پر روزہ دار بچے یا اس کے گھر والوں نے ہوائی فائرنگ کردی جس کی زد میں آ کر ان کے ہمسائے کا بچہ دم توڑ گیا ہے“ (خدا نخواستہ) ۔

شُومیِ قسمت کہ تشدد ہماری رگ و پے میں اس طرح سرایت کر گیا ہے کہ ہم اپنی خوشیوں میں جب تک کسی کی جان نہ لیں، ہماری تسلی و تشفی نہیں ہوتی۔ ابھی کچھ دنوں کی بات ہے کہ لاہور میں آصف نامی ایک نوجوان، موٹر سائیکل پر گھر آتے ہوئے، پتنگ بازی کی نذر ہو گئے اور گلے پر قاتل ڈور پھرنے سے جان کی بازی ہار گئے۔ اس کے اگلے ہی دن، فیصل آباد میں ایک بچہ تانبے سے بنے ڈور کو پکڑتے ہی گرنٹ لگنے سے جاں بحق ہو گیا کیوں کہ ڈور کا دوسرا سرا بجلی کے تار سے اٹکا ہوا تھا۔ بسنت کے موقع پر اس طرح کے حادثات پنجاب میں اب معمول بن گئے ہیں، فروری کا مہینہ آتے ہی لوگوں کے دلوں کی دھڑکنیں بے ترتیب ہونا شروع ہوجاتی ہیں کہ دیکھیے! اب کس کے گھر کا چراغ گُل ہوتا ہے۔

ایک زمانہ تھا جب پنجاب، خاص طور پر لاہور، میں بسنت کو ایک ثقافتی تہوار کی حیثیت حاصل تھی۔ ملک اور بیرونِ ملک سے لاکھوں سیاح بسنت منانے لاہور میں ڈیرہ جماتے، ہوٹلوں میں کمرے کم پڑتے، پرانے لاہور میں مکانوں کی چھتوں کو کرائے پر لیا جاتا اور اربوں روپے کا دیگر کاروبار ہوتا جس سے معیشت کا پہیہ گھومنے لگتا۔ لیکن ہمارے تشدد آمیز رویوں نے سرسوں کے زرد پھولوں کی رنگت سے مزیّن اس خوشی اور انبساط کے تہوار کو انسانوں کے خون سے رنگین کر دیا۔ اب سیاح تو دور کی بات ہے لاہور میں رہنے والوں کے عزیز و اقارب بھی بسنت کے دوران لاہور جانے سے گریز کرتے ہیں کہ مبادہ گلے پر تانبے کا خنجر نما ڈور پھر جائے اور وہ داعیِ اجل کو لبیک کرتے ہوئے راہیِ عدم ہوجائیں۔

ایک بسنت ہی کیا! یہاں تو عید، رمضان اور نئے سال کی خوشی میں بھی لوگ بے قابو ہو کر ہوائی فائرنگ شروع کرتے ہیں، جس کے دوران اندھی گولیوں سے درجنوں معصوم انسان اپنی زندگیوں سے محروم ہو جاتے ہیں، وہ لوگ خوش قسمت کہلاتے ہیں جو صرف زخمی ہوتے ہیں۔ اسی طرح شادی بیا کے موقع پر دولھا اور دلہن کے عزیز و اقارب اپنی خوشی کے اظہار کے لیے ہوائی فائرنگ کا سہارا لیتے ہیں اور دوسروں کے گھروں کو ماتم کدہ بناتے ہیں۔ بعض اوقات دولھا اور اس کے ابا کو سہاگ رات تھانے میں گزارنی پڑی ہے لیکن وہ جو غالب نے کہا ہے : ”شرم تم کو مگر نہیں آتی“ ، یہ سلسلہ کئی دہائیوں سے یوں ہی چلا آ رہا ہے۔

کہنے کو تو گورنمنٹ نے ہوائی فائرنگ پر پابندی عائد کی ہوئی ہے مگر ہماری قوم ایک آزاد منش قوم ہے (بلکہ یہ کہیے انسانوں کا ہجوم ہے ) جو پابندیوں کو اپنے لیے طوقِ غلامی سمجھتی ہے۔ بدقسمتی سے تعلیم بھی اس قوم کا کچھ بگاڑ نہ سکی اور وہ اپنے رویوں میں تبدیلی لانے پر تیار نہیں۔ اقبال ہی کے یہ اشعار اس قوم کی ضد اور ہٹ دھرمی پر صادق آتے ہیں :

آئینِ نو سے ڈرنا طرزِ کُہن پے اڑنا
منزل یہی کٹھن ہے قوموں کی زندگی میں

اگرچہ سرکاری سطح پر علامہ اقبال ہمارا قومی شاعر ہے لیکن ہم نے مِن حیث القوم ان کی ایک بات پر بھی عمل نہیں کیا بس دل پشوری کے لیے یا دوسروں پر اپنا علمی برتری ثابت کرنے کے لیے چند مشہور اشعار رٹیے ہیں جنھیں ہم مخصوص مواقع پر پڑھتے ہیں۔ آج دنیا میں ہماری پہچان ایک خون خوار قوم کی حیثیت سے ہونے لگی ہے جو اپنے جیسے

دوسرے انسانوں کے لہو سے اپنی خوشیوں کی ہولی مناتی ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں ہدایت عطا فرمائے۔ آمین۔

Facebook Comments HS