اقوام متحدہ، اسرائیل اور فلسطینیوں کی نسل کشی


اقوام متحدہ نے انسانی حقوق کی ماہر وکیل محترمہ فرانچسکا البا نیسی سے درخواست کی کہ وہ اسرائیل اور فلسطینیوں کی جنگ کے بارے میں تحقیق و تفتیش کر کے ایک رپورٹ تیار کریں اور پھر وہ رپورٹ اقوام متحدہ میں پیش کریں۔ میں ان کی رپورٹ کی تلخیص اور ترجمہ، ہم سب، کے قارئین کے سامنے پیش کرنا چاہتا ہوں۔ فرنچسکا البا نیسی فرماتی ہیں

پچھلے چھ ماہ میں فلسطینیوں پر جو بیتی ہے میں اس کی روداد بڑے دکھی دل سے آپ کے سامنے پیش کرنا چاہتی ہوں۔ میری نگاہ میں فلسطینیوں پر جو ظلم ہو رہا ہے وہ نسل کشی کی کسوٹی پر پورا اترتا ہے۔

نسل کشی صرف ایک حملے کا نام نہیں بلکہ وہ ایک مسلسل جارحانہ، ظالمانہ اور جابرانہ عمل ہے جس کی وجہ سے فلسطینیوں کی زندگی عذاب بن چکی ہے۔ نسل کشی ایک ایسا بھیانک عمل ہے جس میں انسان انسانیت کے درجے سے بہت نیچے گر جاتے ہیں۔

اسرائیل نے نسل کشی کے اس عمل میں پہلے فلسطینیوں کی تذلیل و تحقیر کی، پھر انہیں دنیا سے نیست و نابود کرنے کی پوری کوشش کی۔

فلسطینیوں کے بارے میں دانشور ایڈورڈ سعید نے کئی دہائیاں پہلے فرمایا تھا کہ اسرائیل تخلیق کرنے سے فلسطینی اپنے ہی گھر میں بے گھر ہو گئے اور وہ دھرتی ماں کے ہوتے ہوئے یتیم بنا دیے گئے۔

نسل کشی کو بین الاقوامی جرائم میں سب جرائم کی ماں سمجھا جاتا ہے اسے سب جرائم سے بڑا جرم سمجھا جاتا ہے کیونکہ اس جرم میں کسی ایک رنگ، مذہب یا نسل کے انسانوں کو سوچ سمجھ کر بڑی بے دردی سے ہلاک کیا جاتا ہے۔

نسل کشی کے جرم کی تعریف میں ظالموں اور جابروں کی نیت کو بھی شامل کیا جاتا ہے۔

پچھلے چھ ماہ میں اسرائیلی حکومت اور فوج کے نمائندوں کے بیانات سے واضح ہے کہ وہ فلسطینیوں کو اپنے علاقوں سے بے گھر بھی کرنا چاہتے ہیں انہیں اپنے علاقے چھوڑ کر کسی اور ملک جانے پر مجبور بھی کرنا چاہتے ہیں اور انہیں ہلاک بھی کرنا چاہتے ہیں۔

اس نسل کشی کی واردات میں اب تک تیس ہزار سے زیادہ فلسطینی ہلاک ہو چکے ہیں جن میں تیرہ ہزار بچے ہیں۔ جتنے بچے غزہ کی جنگ میں اب تک مارے گئے ہیں اتنے بچے تو پچھلے چار سالوں میں ساری دنیا کی جنگوں میں نہیں مارے گئے۔

اسرائیلی فوجیوں نے نہ صرف عوام کو قتل کیا ہے بلکہ فلسطین کے خواص کو بھی چن چن کر مارا ہے۔ ان خواص میں

ڈاکٹر بھی شامل ہیں نرسیں بھی
جرنلسٹ بھی شامل ہیں آرٹسٹ بھی
انجینئر بھی شامل ہیں پروفیسر بھی

تیس ہزار فلسطینیوں کے ہلاک ہونے کے علاوہ مظلوموں میں وہ اکہتر ہزار فلسطینی بھی شامل ہیں جو اس جنگ میں شدید زخمی ہوئے ہیں۔

پچھلے چھ ماہ میں اسرائیلی حکومت نے فلسطینیوں کا دائرہ حیات تنگ کر رکھا ہے۔ انہوں نے فلسطینیوں کی نقل و حرکت پر اتنی پابندیاں عائد کر دی ہیں کہ اب ان کے پاس

نہ کھانا جا سکتا ہے نہ پانی
نہ ادویہ جا سکتی ہیں نہ لباس

اسرائیلی حکومت نے بجلی کے ٹرانسفارمر بھی بموں سے تباہ کر دیے ہیں اور فلسطینی تاریکی میں زندگی گزار رہے ہیں۔

(اس تقریر کا ترجمہ کرتے ہوئے مجھے سردار جعفری کا مصرعہ یاد آ رہا ہے
راستے بند ہیں سب کوچہ قاتل کے سوا)
فلسطینیوں کی زندگی اب اس نہج پر آ گئی ہے کہ ان کے بچے جانوروں کی خوراک اور گھاس کھا کر زندہ ہیں۔
دھیرے دھیرے قحط کے آثار نمایاں ہو رہے ہیں اور انسان خوراک کی قلت سے مر رہے ہیں۔
پچھلے چھ ماہ میں اسرائیل نے جتنے فلسطینیوں کو ہلاک کیا ہے ان کی اوسط ہر روز دو سو پچاس فلسطینی ہیں۔

فلسطینیوں کو ہلاک کرنے کے لیے غزہ پر ایک اور دو ہزار پونڈ کے بم پھینکے گئے۔ اسرائیل اب تک پچیس ہزار ٹن کا اسلحہ و بارود استعمال کر چکا ہے یہ اس اسلحہ و بارود سے دگنا ہے جو ہیروشیما و ناگاساکی میں ایٹم بموں کی صورت میں استعمال کیا گیا تھا۔

اسرائیل نے غزہ میں نہ صرف معصوم مردوں عورتوں اور بچوں کو ہلاک کیا بلکہ غزہ کی ان گنت عمارتوں کو بھی منہدم کیا۔ ان تباہ شدہ عمارتوں میں

شہریوں کے گھروں اور بلڈنگوں کے علاوہ مسجدیں گرجے لائبریریاں اور قبرستان بھی شامل ہیں۔
اسرائیل یہ چاہتا ہے کہ فلسطینیوں کی سماجی زندگی کے ہر پہلو کو تباہ و برباد کر دیا جائے۔

فلسطینیوں نے جہاں اپنے ہزاروں مردوں کو دفن کیا ہے وہیں کئی ہزار لاشیں ایسی بھی ہیں جو اب تک عمارتوں کے ملبے تلے دبی پڑی ہیں اور ان کے عزیزوں کو موقع نہیں ملا کہ وہ اپنے رشتہ داروں کو عزت و احترام سے دفن کر سکیں۔

اسرائیل نے اپنے فوجیوں کو یہ سبق پڑھایا ہے کہ سب فلسطینی دہشت گرد ہیں اور اسرائیل کی سالمیت کے لیے خطرہ ہیں اس لیے انہیں تباہ کرنا ضروری ہے تا کہ وہ دوبارہ ہم پر حملہ آور نہ ہو سکیں۔

اسرائیلی حکومت اور فوج پچھلے چھ ماہ سے اس اصول پر عمل کر رہی ہے کہ اگر کسی جھوٹ کو بار بار دہرایا جائے تو اس جھوٹ کو سننے والے اسے سچ ماننے لگتے ہیں۔

اسرائیلی حکومت اور فوج کا ظلم اس وقت سب حدود پار کر گیا جب انہوں نے ہسپتالوں پر حملے کر کے وہاں کے ڈاکٹروں نرسوں اور مریضوں کو بھی ہلاک کر دیا۔

اسرائیل نے نہ صرف معصوم بچوں کو قتل کیا بلکہ حاملہ عورتوں کو بھی ہلاک کر دیا تاکہ وہ اور فلسطینی بچے نہ جن سکیں۔ یہ سب فلسطینیوں کی نسل کشی کا حصہ ہے۔

یوں لگتا ہے جیسے مغربی دنیا کا حافظہ کمزور ہو۔ کیا وہ جان بوجھ کر تجاہل عارفانہ سے کام لے رہے ہیں۔ کیا وہ نہیں جانتے کہ اس ظلم کی ابتدا 1948 میں ہوئی تھی جب دنیا کے نقشے پر اسرائیل ابھرا تھا اور لاکھوں فلسطینی بے گھر اور ہمسایہ ممالک میں رفیوجی بن گئے تھے۔ اس جنگ کے بعد کئی اور جنگیں لڑی گئیں اور ہر جنگ میں کئی لاکھ فلسطینی مارے گئے اور بے گھر ہوئے۔ ساری دنیا جانتی ہے کہ فلسطینی یہ ظلم یہ جبر اور یہ تشدد پچھلے پچھتر سال سے برداشت کر رہے ہیں اور اب ان کے صبر کا پیمانہ چھلک پڑا ہے۔

اسرائیلی حکومت اور مغربی ممالک نے فلسطینیوں کی زندگیوں میں جو ظلم و تشدد کے بیج دہائیاں پہلے بوئے تھے اب وہ اس درخت کے کڑوے پھل چکھ رہے ہیں۔

اب فلسطینیوں کی نسل کشی کا مقدمہ عالمی عدالت تک پہنچ چکا ہے۔

اب بین الاقوامی طاقتوں کا اخلاقی فرض ہے کہ وہ جنگ کو روکیں اور فلسطینیوں کو نسل کشی سے بچائیں۔ فلسطینی اس وقت اپنی تاریخ کے نہایت تاریک دور سے گزر رہے ہیں۔

مغربی ممالک کو چاہیے کہ وہ اسرائیل کو فلسطینیوں کی نسل کشی سے روکیں اور فلسطینیوں کے مسائل کا دیر پا حل تلاش کریں تا کہ فلسطینیوں کی آنے والی نسلیں اپنی دھرتی ماں کی آغوش میں عزت اور امن سے زندگی گزار سکیں۔

ڈاکٹر خالد سہیل

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

ڈاکٹر خالد سہیل

ڈاکٹر خالد سہیل ایک ماہر نفسیات ہیں۔ وہ کینیڈا میں مقیم ہیں۔ ان کے مضمون میں کسی مریض کا کیس بیان کرنے سے پہلے نام تبدیل کیا جاتا ہے، اور مریض سے تحریری اجازت لی جاتی ہے۔

dr-khalid-sohail has 689 posts and counting.See all posts by dr-khalid-sohail

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments