صدیق عالم: زندگی اور موت کی پیشگوئی کرنے والا کہانی کار!


*
یہ کہانی زندگی اور موت کے باہمی تعلق اور کشمکش پر بحث کرتی محسوس ہوتی ہے۔

بنیادی سوال یہ اٹھایا گیا ہے کہ کیا سانس کا تانا بانا باقی رہنا زندگی اور سانس کی آمدورفت کا منقطع ہو جانا ہی موت ہے؟

ایسی زندگی جس میں ہر ایک پل چیلنج بن کر سامنے آئے اور پورا سماج راستہ روکنے کو آمادہ ہو، کیا اسے زندگی کہا جا سکتا ہے؟

جہاں کسی بھی انہونی کے بعد رشتے اپنی ماہیئت بدل لیں، کیا اس کے بعد بھی وہ زندگی زندگی رہے گی؟

دکھ کی شدت اور بے بسی جسم کو آہستہ آہستہ بے جان کرنا شروع کر دے، حسیات ساتھ چھوڑ دیں تو کیا یہ زندگی ہو گی یا موت؟

کہانی میں معذوری موت کا پر تو دکھائی گئی ہے جس میں جسم قطرہ قطرہ پگھل کر موت کے اندھیروں کی طرف چلتا ہے۔ اس جسم کا مالک بچی کچھی زندگی کی تلچھٹ بوند بوند گلے سے اتارتا ہے اور ہر آہٹ پہ موت کا گمان کرتا ہے

کہانی میں کمال کی منظر نگاری سے کام لیتے ہوئے تمام واقعات اور جگہوں کو نہ صرف آپس میں مربوط کیا گیا ہے بلکہ کرداروں کی شخصیت کو بھی منظر نگاری کے لینز سے دکھایا گیا ہے۔

اکرم اور امید علی کی آپس کی جان پہچان صرف اتنی ہے کہ دونوں اپنے گھر کے پاس واقع اس پل پہ سے گزرتے ہوئے ایک دوسرے کے صورت آشنا ہیں۔ دونوں کبھی ہم کلام نہیں ہوئے۔ اکرم کو یہ علم ہے کہ امید علی بظاہر بانسری بجاتے ہوئے بانسریاں فروخت کرتا ہے لیکن اصل میں کچھ اور ہے۔ امید علی اکرم کے بارے میں کیا جانتا ہے، صرف اتنا کہ اکرم اکثر اپنی شاموں گور راتوں کا وقت پل پہ گزارتا ہے۔

کہانی میں پل ایک اہم مقام ہے، دونوں کردار پل کے آس پاس کی بستیوں کے مکین ہیں۔ پل کے اوپر اور نیچے ہر طرح کے لوگ نظر آتے ہیں اور ہر قسم کا دھندا بھی ہوتا ہے۔ گویا پل ایک دنیا ہے، غریب لوگوں کی دنیا۔ پل پہ پائے جانے والے دوسرے دوسرے لوگ بھکاری ہیں، خرکار، منشیات فروش، جیب تراش یا طوائفوں کے ایجنٹ، اکرم نہیں جانتا۔

اکرم پل پہ کھڑے ہو کر پہروں آفتاب کے طلوع و غروب کا منظر دیکھتا ہے، چاندنی راتوں میں چاند کا فسوں اسے مسحور کرتا ہے اور اس کی فطرت کے اس پہلو کا ذکر امید علی خط میں بھی کرتا ہے کہ وہ چاند کو پہروں دیکھتے دیکھتے خود بھی کسی مجسمے کی طرح دکھتا ہے۔

پل کے قریب بکرا ہاٹ ہے جس میں بے شمار بیوپاری ہزاروں جانور باندھے ان کا کاروبار کرتے ہیں۔ دن بھر خرید و فروخت چلتی ہے، گاہک لین دین کرتے ہیں جبکہ بیوپاری چارپائیوں پر بیٹھے حقہ پیتے رہتے ہیں۔ پھیری والے بھی اپنی پھیری لے کر ہاٹ میں گھوم پھر کر اپنا مال بیچتے ہیں۔ امیر علی بھی ایسا ہی ایک پھیری والا ہے لیکن بکروں کے بیوپاری اس پہ ٹھگ ہونے کا شک بھی کرتے ہیں۔

ہاٹ میں ہر طرف سے بو پھیلی رہتی ہے اور یہ پل سے اترتے ہی بکرا ہاٹ کی موجودگی کا احساس دلاتی ہے۔ قریبی محلوں کے مکین بھی اس سے محفوظ نہیں۔

ہاٹ میں ہزاروں کی تعداد میں بندھے بکرے بکریاں، ان کے کھروں سے اڑتی دھول، چارے کے طور پہ ڈالے گئے سوکھے پتے ان پہ کیا گیا جانوروں کا پیشاب اور ان سے نکلتے بخارات ہاٹ کی مکمل تصویر کھینچ کر رکھ دیتے ہیں۔ بکرا ہاٹ کی چہل پہل خرید و فروخت کی غماز تو ہے ہی لیکن ایک اور سوال بھی اٹھ کھڑا ہوتا ہے کہ کیا پل کے دوسری طرف کا شہر راکشش ہے جو روزانہ اتنے جانوروں کو نگل جاتا ہے۔

ایک اور کمال منظر پل کے نیچے گزرنے والی کھال کا ہے جس کے گدلے کیچڑ نما پانی میں قریبی جھونپڑیوں میں رہنے والے بچوں کا ہجوم مچھلی اور گھونگے ڈھونڈتا رہتا ہے۔ کھال کے کنارے بنی ریلنگ پہ انہی جھونپڑیوں کے باسی خستہ حال توشک اور کمبل سوکھنے کے لئے ڈال دیتے ہیں جہاں ان کی خستہ حالی انہیں ریلنگ سے چپکنے پر مجبور کر دیتی ہے۔

حادثہ اکرم کو موت کی طرف دھکیل دیتا ہے۔ چار ماہ موت اور زندگی کی سانپ سیڑھی کھیلنے کے بعد اکرم جب گھر لوٹتا ہے تو اس کی ٹانگیں بے جان کھپچیاں بن چکی ہوتی ہیں۔

وہ اپنی ٹانگوں کو اس طرح دیکھتا ہے جیسے پہلی دفعہ دیکھ رہا ہو، اس کے لئے وہ ایک ایسی دنیا بن گئی تھیں جسے وہ ہمیشہ کے لئے کھو چکا تھا۔

”میری ٹانگیں بے حس و حرکت میرے جسم سے اس طرح جڑی ہوئی تھیں جس طرح کسی لٹھ پتلی کی ٹانگیں پتلی بازی کی ڈور کے سہارے دھڑ کے ساتھ جڑی ہوتی ہیں۔ بے ڈھب، سوکھی ہوئی نسیں، کہیں سے ابھری کہیں سے دبی، جلد پہ چھائی مردنی“

اپنے جسم کے کسی حصے کو کھو دینے کے بعد اُسے کھوجنا اور اُس کی جزئیات نگاری قاری کو تو اداس کرتی ہی ہے لیکن اکرم کی شخصیت کا ایک اور پہلو بھی سامنے آتا ہے جس میں وہ اپنے آپ سے سوال کرتا ہے کہ وہ اپنے جسم سے اتنا بے خبر کیسے تھا؟

لیکن جواب بھی وہ خود ہی دیتا ہے کہ ہم میں سے بیشتر اپنے جسم سے اس وقت تک لاتعلق ہی رہتے ہیں جب تک کوئی عضو ناکارہ ہو کر ہمیں ان کی اہمیت کا احساس دلا کر ان کی طرف متوجہ نہ کرے۔ شاید فطرت کا یہ اصول کائنات کی ہر اس چیز پر منطبق کیا جا سکتا ہے جو زندگی اور موت کو ساتھ ساتھ لے کر چل رہی ہو۔

کرداروں کے آپس کے تعلقات کے مختلف رنگ دکھائے گئے ہیں اور زندگی کا ہر بدلتا ہوا پل انہیں کیسے بدلتا ہے۔

اکرم اور اس کی بیوی سرد مہری سے میکانکی انداز میں ایک دوسرے کے ساتھ رہ رہے ہیں۔ دونوں کے درمیان کسی بھی طرح کی محبت یا کشش موجود نہیں۔ ان کے درمیان ذہنی ہم آہنگی بھی موجود نہیں، اکرم خط کے بارے میں بیوی کو نہیں بتاتا۔

حادثے کے بعد اکرم کی بیوی کا رویہ ہمدردانہ ہے وہ اکرم کو سائیکل لینے کا مشورہ بھی دیتی ہے لیکن نوکری اور گھریلو ذمہ داریوں کا بوجھ اسے دھیرے دھیرے تلخ بنا رہا ہے۔ اکرم کی مالی معاونت کے بارے میں دی جانے والی تسلی اسے مطمئن نہیں کر پاتی اور گھر سے دور جانے کی فکر کو بھی رد کر دیتی ہے۔ اس کے اندر یہ خواہش موجود ہے کہ اکرم کسی طرح دوبارہ سے کام شروع کر دے۔

اکرم نے بیوی کو حادثے سے پہلے خط کے بارے میں نہیں بتایا تھا لیکن حادثے کے بعد خط کا ذکر جب ہوتا ہے تب اکرم کو احساس ہوتا ہے کہ بیوی پہلے سے زیادہ زیرک اور سمجھ دار ہو گئی ہے۔ اکرم کے خیال میں اس بات کا کریڈٹ باہر نکل کر مردوں کے شانہ بشانہ کام کرنا ہے۔ چولہا چوکی کرنے والی عورت احتجاج کرنے، رائے دینے اور سوال و جواب کرنے کی ہمت نہیں رکھتی۔ وقت، حادثہ اور ضرورت کس صلاحیت کو کیا جلا بخش سکتا ہے یہ کوئی نہیں جانتا۔

لیکن یہ بھی تو ہو سکتا ہے کہ اکرم اپنی بیوی کی شخصیت سے واقف ہی نہ ہو۔ وہ دونوں ریل کی پٹڑیوں کی طرح ایسی زندگی گزار رہے ہوں جو ساتھ ساتھ تو چلتی ہیں لیکن قریب نہیں آ پاتیں۔ اکرم معاشرے کی سوچ کے مطابق اسے چولہا چوکی کرنے والی ایسی عورت سمجھتا ہو جسے باہر کی دنیا کی کوئی بھی بات بتانے کا کوئی فائدہ نہیں، اسی لئے وہ خط کا ذکر بھی گول کر دیتا ہے۔ دونوں کے درمیان روزمرہ کی سرسری سی گفتگو ہوتی ہے لیکن حادثے کے بعد اکرم کو بہت سی چیزیں نظر آنا شروع ہو جاتی ہیں۔ درد کی شدت احساس محرومی اور زندگی کا دباؤ اسے گھر میں موجود دوسرے فریق کی طرف متوجہ کرتا ہے۔

اکرم لاشعوری طور پہ خط اور اس کی تحریر پہ یقین رکھتا ہے۔ خط کی آمد نے اسے چونکایا تھا اور حادثے کے بعد اس نے خط کو کسی نہ کسی طور اپنی معذوری سے نتھی کیا تھا۔ خط کا گم ہو جانا اکرم کی ذہنی ابتری کا باعث بنتا ہے۔

یہاں خط کو ایک علامت کے طور پہ استعمال کیا گیا ہے۔ کہانی میں خط کا ملنا جسمانی معذوری سے منسلک کیا گیا ہے اور خط کا گم ہونا ذہنی پراگندگی سے۔

اکرم کی دگرگوں ہوتی ذہنی حالت اور نتیجتاً بے روزگاری بیوی کو مزید تلخ اور بے حس بنا دیتی ہے۔ ہمدردی کا وہ عنصر دھیرے دھیرے گہنا رہا ہے جو حادثے کے آغاز میں تھا۔ بیوی کے خیال میں اکرم جان بوجھ کام چوری کر رہا ہے۔

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2 3