صدیق عالم: زندگی اور موت کی پیشگوئی کرنے والا کہانی کار!
صوم و صلاۃ کا پابند، بیڑی فیکٹری کا مینیجر دوغلے پن کا حامل نظر آتا ہے۔ اکرم کی طبیعت خراب ہونے کے بعد انتہائی بے رحمی سے اُسے جھاڑتے ہوئے بتاتا ہے کہ اکرم بیڑیوں کو برباد کر رہا ہے لہذا وہ اب اسے مزید کام نہیں دے گا۔ اس کے خیال میں اکرم جان بوجھ کر ایسا کر رہا ہے۔ یہی مینیجر کچھ ماہ پہلے کام کے آغاز میں اکرم کو ایک اچھا کاریگر کہتے ہوئے تعریف کرتا ہے۔ وقت اور ضرورتیں کس طرح کسی بھی انسان کے اخلاقی پہلو کو بدل کر رکھ دیتی ہیں، یہ کردار اس کی جیتی جاگتی علامت ہے۔
اکرم کی دگرگوں ہوتی ذہنی حالت کی منظر کشی قاری کو گرفت میں لے لیتی ہے۔
کانپتی ہوئی انگلیاں، کچھ برا ہونے کے اوہام، بڑھتا ہوا خوف، لوگوں کے نادیدہ بدلتے ہوئے رویے، آنکھ میں بڑھتی ہوئی تاریکی، انگلیوں سے نکلتی آگ، سردی کا بڑھتا ہوا احساس اور کپکپاہٹ، سائیکل کی گھنٹی کا سنائی نہ دینا، کھڑکی سے آتی بکرا ہاٹ کی بو، دل کی تیز رفتار دھڑکنیں، کانوں میں لوگوں کی آوازیں، سانس کا پھولنا، جلد پہ رینگتی چیونٹیوں کا احساس اور انہیں جھاڑنے کی کوشش، بے خوابی، اور پڑوس کی کھڑکی کا دیکھتے ہی دیکھتے خط بن جانا جس میں سے الفاظ پتوں کی طرح ٹوٹ ٹوٹ کر گریں۔ ذہنی ابتری کی اس سے بہتر تصویر کیا کھینچی جا سکتی ہے۔
دھندلا نظر آنے کی شکایت کو بلب کے گدلے پن یا چوری کی بجلی سے وابستہ کرنا ان رویوں کی عکاسی کرتا ہے جب کسی بھی انہونی کی وجہ سمجھ میں نہ آ نے پہ جواز تراشے جائیں۔ آنکھوں کے ڈاکٹر کو دکھانے کا مشورہ اکرم کے لئے ایک اور تازیانہ ہے کہ تیس برس کی عمر میں آخر آنکھوں کیسے خراب ہو سکتی ہو سکتی ہیں؟
اپنی لاچاری اور بیوی کی بے حسی یا لاتعلقی کو اپنی فاقہ کشی سے سہارا دینا اکرم کی حساسیت کو ظاہر کرتا ہے اور قاری کے دل پہ یہ جان کر گھونسا سا لگتا ہے کہ اکرم کے لیے شکم کے مطالبات کو نظر انداز کرنا آسان نہیں مگر دھیرے دھیرے بیڑی اور چائے کے سہارے وہ اس کا بھی عادی ہو جاتا ہے اور دن کے وقت اسے سرے سے بھوک ہی نہیں لگتی۔
دو انسانوں کے بیچ رشتے میں دراڑیں پڑ جانا اور وہ نہ رہنا جو وہ تھے، بھی تو موت سے کسی طور کم نہیں۔ تلخ رویوں اور شکوک و شبہات میں لپٹی زندگی، بے حسی کی چادر، بے چارگی، بے بسی اور نا امیدی میں لپٹا وقت، موت ہی تو ہوتا ہے۔
امید علی اور اکرم کی ملاقات کا منظر قاری کو سانس روک لینے پہ مجبور کرتا ہے۔
تنگ گلی میں گھپ اندھیروں میں ڈوبا ہوا گھر، دیوار سے لگے تخت پوش پہ بیٹھا ہوا گھنے بالوں گھنی داڑھی، چمکتی آنکھوں اور کٹے ہوئے بازوؤں والا آدمی۔ یہ ہے امید علی جو ایک سال پہلے کسی جھگڑے کے نتیجے میں اپنے بازوؤں سے محروم کیا جا چکا ہے اور خط دس مہینے پہلے لکھا گیا۔
ٹانگوں سے معذور شخص کا بازوؤں سے محروم آدمی سے مکالمہ قاری کو حیرت میں مبتلا کرتا ہے
امید علی خط لکھنے کے استفسار کا کوئی بھی تسلی بخش جواب نہیں دے پاتا۔ وہ اکرم کو بار بار یاد دلاتا ہے کہ خط میں کی گئی پیش گوئی پوری نہیں ہوئی اس لئے وہ اس خط کو بھول جائے۔
اہم بات یہ ہے کہ کہانی کے بنیادی کردار اکرم اور امید علی زندگی اور موت کی مختلف اشکال کے تجربے سے ایک ہی وقت میں گزرتے ہیں اور ان کے درمیان خط کی ڈور انہیں ایک دوسرے سے باندھے ہوئے ہے۔
امید علی کے گھر کی فضا اکرم کے گھر سے مختلف دکھائی گئی ہے۔ اس کے بچے اور بیوی کے تعلقات امید علی سے تلخ نظر نہیں آتے اگر چہ امید علی خود مانتا ہے کہ معذوری سے پہلے وہ ان کے لئے اچھا باپ اور شوہر نہیں تھا۔ بیوی اس کا خیال رکھ رہی ہے، بیٹی گھر میں بیٹھ کر روزگار کمانے کی کوشش کر رہی ہے، بیٹا اناڑی ہونے کے باوجود بانسری بجا کر بیچنے کی کوشش کر رہا ہے۔ وہ امید علی کے منفی جذبات کو جھٹلانے کی کوشش بھی کرتا ہے۔
کہانی ایک ہی طبقے کے دو ایسے افراد کے گرد گھوم رہی ہے جو ایک ہی وقت میں جسمانی معذوری کا شکار ہوئے، بے روزگاری اور بے بسی نے ان کی زندگی میں ایک ہی طرح سے سیندھ لگائی، دونوں اپنے اپنے انداز سے جینے کی کوشش میں مصروف ہیں لیکن زندگی ان سے کیا سلوک کر رہی ہے؟
امید علی ایک برے شخص کے روپ میں دکھایا گیا ہے جو مختلف قسم کے فراڈ کرتا ہے لیکن حادثے کے بعد زندگی اس کے ساتھ اتنی بے رحم نہیں رہی جس کا سامنا اکرم کو کرنا پڑ رہا ہے۔ حالانکہ اکرم کا کردار ایک اچھے انسان کے طور پہ اجاگر کیا گیا ہے۔
کہانی کے آخر میں یہ سوال پھر منہ پھاڑے آن کھڑا ہوتا ہے کہ ایک ایسا خط جو لکھا گیا تھا، مکتوب الیہ کو ملا، لیکن جس کے نام سے لکھا گیا وہ خط کے وجود سے کیوں انکار کر رہا ہے؟
اسرار اور تحیر میں لپٹا ہوا وہ خط کیا امید علی کے کٹے ہوئے ہاتھوں نے کسی انجان دنیا سے لکھ کر اکرم کو کسی ناگہانی کی اطلاع دینے کی کوشش کی؟
ناگہانی آئی تو لیکن اس کی صورت وہ نہ تھی جو خط کے الفاظ کہتے تھے۔ سو کیا یہ بتانے کی کوشش کی گئی ہے کہ ہر لفظ کے معنی وہی نہیں ہوتے جو پہلی نظر میں سمجھ آئیں۔ یہ بھی تو ہو سکتا ہے کہ ہر لفظ کے معنی ہر کسی کی ذات کے دائرے میں داخل ہو کر بدل جاتے ہوں۔ جیسے ہر کوئی کسی بھی لفظ کو اپنی مرضی کا لباس پہنا کر اطمینان محسوس کرتا ہے، ایسا لباس جو ان الفاظ کے معنی اس کی پسند کے مطابق ترتیب دیں۔
سوچا جا سکتا ہے کہ کیا خط میں واقعی موت کا ذکر تھا؟ اور اگر تھا تو کس موت کا؟ حقیقی موت یا رشتوں کی موت یا احساس کی موت یا وقت کی موت، یا پل پہ گزارے گئے کچھ لمحات کی موت یا بھوک کی موت؟
مصنف نے بڑی چابکدستی سے اس کہانی کو اس خیال کے گرد بنا ہے کہ موت کا لفظ ایسی زندگی کے لئے کیوں نہیں استعمال کیا جا سکتا جس کا ہر لمحہ جان لیوا ہو، ہر پل کی باقیات خراج چاہتی ہوں، جسم دھیرے دھیرے ساتھ چھوڑ رہا ہو، مردہ اعضا انسان اپنے ساتھ گھسیٹ رہا ہو۔ رگوں میں زندگی نہ دوڑے بلکہ موت سرایت کر جائے، سنکھیا جیسے زہر کی طرح، بنا کسی نشانی اور بنا کسی اطلاع۔
کہانی کا ایک اور رخ ان بے شمار مزدور پیشہ لوگوں کی زندگی کا وہ رخ ہے جہاں اگر وہ کسی حادثے یا معذوری کا شکار ہو جائیں تو معاشرہ انہیں بنیادی دھارے سے کاٹ کر تنہا مرنے پہ مجبور کر دیتا ہے۔ ذریعہ معاش کچھ رہتا نہیں اور افلاس موت سے پہلے موت لے آتا ہے۔
افلاس کے مارے ہوئے معذوروں کے پاس کچھ بھی باقی نہیں رہتا۔ کولہو کا بیل بننے کے سوا، اندھی مشقت کرنے پہ مجبور، سو یہی مقدر ٹھہرتا ہے اور یونہی شب و روز گزرتے چلے جاتے ہیں۔ ہر پل اس فکر میں گزرتا ہے کہ کل کا سورج ان کے لئے کیا لے کر آئے گا؟ آنتوں کی اینٹھن کیسے رہ رہ کر تڑپاتی ہے اور جسم کیسے ہر لحظہ زندگی سے نفرت کرتے ہوئے حسیات کے سب دروازے بند کرتا چلا جاتا ہے۔
اکرم کے لئے زندگی اور موت کے بیچ کھچی لکیر کا نام ایک خط ہے۔ وہ خط جس کے ملنے سے پہلے وہ ایک مکمل انسان تھا اور جس کو پانے کے بعد اب وہ زندگی اور موت کے بیچ جھول رہا ہے۔ جسم کا عذاب تو بھوگنا پڑا ہی لیکن حسیات کو کھونا بھی اسے قبل از مرگ جہنم میں لے جاتا ہے ایسا جہنم جہاں سے نکلنے کا کوئی طریقہ وہ نہیں جانتا۔
کہانی کی بنت میں اسرار کو استعمال کرتے ہوئے قاری کے تجسس کو مہمیز دی گئی ہے لیکن کہانی کا اصل موضوع کیا ہے؟ زندگی یا موت اور خط جس کی پیش گوئی کر رہا ہے؟

