یونیورسٹی کا باوا آدم ہی نرالا تھا
ہم پنجاب یونیورسٹی کے گیٹ نمبر ایک کے سامنے کھڑے سوچ رہے تھے کہ جس زمانے میں اس حسینہ سے ہماری کچھ رسم و راہ تھی۔ وہ اس کے شباب کا زمانہ تھا۔ اپنے حُسن کے جلوؤں اور شباب کی رنگینیوں سے زمانے بھر کی نگاہوں کو خیرہ کرنے کی غرض سے چادر اور چار دیواری کی اوٹ میں چھپنا اُسے قطعاً گوارا نہیں تھا۔ مجھے دیکھو اور میرے حسن و شباب کی تعریف کرو کی خواہش لیے یہ لاہور شہر کی اضافی آبادیوں سے بھی دور دراز اجاڑ بیابان علاقے میں لاہور کے باسیوں اور دیگر شہروں سے آنے والے سیاحوں کو دعوت ِ نظارہ دیتے ہوئے بڑی خوش و خرم دکھائی دیتی تھی۔
کچھ تو گزرے ہوئے وقت نے اس کے حسن و شباب اور جلوؤں کی تاب کو کم کر دیا تھا اور کچھ زمانے کے بدلے ہوئے طور اطوار سے خائف اپنی عصمت و عفت کی حفاظت کے پیشِ نظر اس نے اپنے وجود کو چادر اور چار دیواری کا تحفظ فراہم کرنا ہی مناسب سمجھا تھا۔ ہم اس عفیفہ کے گیٹ نمبر ایک کے سامنے کھڑے ہوئے اُس کی قربت میں مقیم مشہور ِ زمانہ نہر کو جس نے اس کی خوبصورتی کو چار چاند لگانے میں بڑا اہم کردار ادا کیا تھا، اس طرح تلاش کر رہے تھے جس طرح کوئی شخص گم شدہ سوئی تلاش کر رہا ہو۔ بہر حال وہاں نہر سے ہماری ملاقات نہ ہو سکی اور ہم اُس کی تلاش میں سرگرداں آگے ہی آگے بڑھتے چلے گئے۔ اگلے گیٹ پر ہمیں حیرت کا ایک جھٹکا سا لگا۔ ظالموں نے نہر کی جگہ ایک گہری سی سڑک بنا دی تھی۔ اہل لاہور کی بدذوقی پر رونا آیا۔ اس ایک نہر کی موجودگی نے سارے ماحول کو کس قدر خوبصورت بنایا ہوا تھا۔ جس کو سنگ و خشت سے ڈھانپ کر بہت بڑا ظلم کیا گیا تھا۔
بڑے زندہ دلان ِ لاہور بنے پھرتے ہیں۔ ذوق نام کی کوئی چیز چھو کر بھی انہیں نہیں گزری۔ ابھی یہ گلے شکوے ہو ہی رہے تھے کہ اچانک دماغ میں ایک جھٹکا سا لگا کہ یہ سڑک نہر کے اندر تو نہیں بنائی گئی۔ بلکہ یہ تو ایک انڈر گراؤنڈ سڑک ہے۔ تو پھر نہر کہاں چلی گئی بڑی دیر تک یہاں بیٹھے سوچتے رہے لیکن یہ غالباً بہت ہی گمبھیر اور الجھا ہوا مسئلہ تھا۔ جو ہم جیسے کم فہم کی ذہنی سطح سے خاصا بلند تھا۔ بہر حال اس کے حل کے لیے ہمارے قومی مزاج کے عین مطابق بیرونی مدد کے حصول کا فیصلہ کیا۔
اتنی دیر میں ایک تیرہ چودہ سال کا ایک الہڑ سا لڑکا وہاں سے گزرا تو ہم نے بڑے اعتماد کے ساتھ اپنے پینڈو پن پر پردہ ڈالنے کی کوشش کرتے ہوئے اپنی طرف سے نہایت نستعلیق اُردو میں اس سے دریافت کیا۔ کسی زمانے میں یہاں پر ایک نہر ہوا کرتی تھی وہ کہاں چلی گئی ہے۔ اس نے ہمارا سوال غور سے سنا اس کے بعد سر سے پاؤں تک ہمیں اچھے طریقے سے جانچا اور ایک بار پھر جانچا جواب دینے سے پہلے غالباً وہ ہماری ذہنی صحت کی تصدیق کر رہا تھا یا پھر وا اللہ اعلم بالصواب اس کے ذہن میں کیا تھا بہرحال قدرے توقف کے بعد بولا میرے محترم نہر تو کہیں نہیں گئی لیکن آپ ضرور کہیں اور پہنچے ہوئے ہیں۔
اس سڑک کے پار دیکھیں آپ کو نہر نظر آ جائے گی۔ اپنی کو تاہ بینی کا ہمیں احساس تو تھا لیکن اس قدر ہوگی صحیح اندازہ آج ہوا اور اپنی بقیہ قوتوں کی طرح قوت ِ مشاہدہ کی کمزوری پر خاصی شرمندگی بھی ہوئی کہ ہم نہر کے بالکل پاس ہی کھڑے اس کے بارے میں دریافت کر رہے تھے۔ بہر حال نہر سے ملاقات پر خاصی خوشی ہوئی۔ اپنے عنفوانِ شباب کے حسین و جمیل یونیورسٹی کی قربت میں گزرے ہوئے خوبصورت لمحے سنہری یاد کی صورت میں ہمارے ذہن پر نقش تھے وہ بھی کیا خوب دن تھے۔
نوجوانی بے فکری اور بے نیازی کی گھنی چھاؤں تلے خراماں خراماں زندگی کا سفر طے ہو رہا تھا۔ یوں لگتا تھا کہ یہی زندگی کا انداز ہے لیکن اس دور کے اچانک خاتمے کے بعد جب ظالم وقت کی طاقت ور لہروں نے اٹھا کر زمانے کی سنگلاخ چٹانوں پر پٹخا تو علم ہوا کہ اصل زندگی تو یہی ہے وہ تو شاید خوابیدہ حالت میں گزارا ہوا وقت تھا۔ بہر حال دیر تک نہر پر گھومتے پھرتے رہے نہر کے دونوں کناروں کے ساتھ بنائی گئی کشادہ سڑکوں اور ہر چہار اطراف بکھری ہوئی سنگ و خشت کی بلند و بالا عمارتوں نے یونیورسٹی کے حُسن کو نہ صرف گہنا دیا تھا بلکہ اس کے سکون و اطمینان کو بھی غارت کر دیا تھا۔
لمبی واک کے بعد کمرے میں واپس آیا تو علیم صاحب کو یہاں موجود پایا۔ آپ بورے والا کے ایک قریبی گاؤں میں واقع ایک ہائی سکول میں عین اسلامی وضع قطع رکھنے والے ہیڈ ماسٹر تھے اور انہیں یونیورسٹی آف ایجوکیشن کی ہدایات کے مطابق افسران ِ بالا نے فوری طور پر یہاں رپورٹ کرنے کا حکم صادر فرمایا تھا اور وہ اس حکم کی بجا آواری کے لیے فوراً حاضر ہو گئے تھے۔ علیم صاحب اپنی وضع قطع سے ہیڈ ماسٹر کم اور امام مسجد زیادہ لگ رہے تھے۔
ایک بار اُن کے ساتھ لاہور سول سیکرٹریٹ میں جانے کا پہلے بھی اتفاق ہو چکا تھا۔ واقعہ کچھ یوں ہے کہ حکومت وقت نے سکول ٹیچر کے پروموشن کے لیے تین درجاتی فارمولا وضع کیا۔ اس فارمولا کے تحت ہم سے جونیئر سیکنڈری سکول ٹیچر گریڈ 18 میں پرموٹ ہو گئے۔ ہم لوگ سروس میں اُن سے سینئیر ہونے کے باوجود گریڈ 17 میں رہ گئے چوں کہ ہم ہیڈماسٹر تھے۔ اس لیے وہ فارمولا ہم پر لاگو نہیں ہو سکتا تھا۔ اب بہت سے سکولوں میں صورت ِ حال یہ بن گئی کہ سکول کا ہیڈ تو سکیل 17 میں ہے لیکن اس کے ماتحت ٹیچر سکیل 18 میں ہیں۔
اس سے انتظامی امور چلانے میں بھی مشکلات پیش آنے لگیں۔ محکمے کو اس بارے میں بار بار مطلع کرنے کے باوجود اس کے کان پر حسب ِ معمول جوں تک بھی نہ رینگی۔ چار و ناچار ہم متاثرین نے ہائی کورٹ کا رخ کیا تو ہائی کورٹ نے چیف سیکرٹری کو ڈائریکشن جاری کی کہ اس مسئلے کو قانون اور انصاف کے مروجہ اصولوں کے مطابق حل کیا جائے اور چیف سیکرٹری نے محکمانہ کارروائی کی تکمیل کے لیے تمام متاثرین کو پرسنل ہیئرنگ کے لئے اپنے دفتر بلوا لیا۔
ضلع وہاڑی سے تقریباً اٹھارہ بیس مرد و زن ہیڈ ٹیچرز اس مسئلے کا شکار تھے۔ میں نے حسبِ عادت ازخود نوٹس لیتے ہوئے اپنے آپ کو ان تمام متاثرین کے گروپ لیڈر کے عہدے پر فائز کر لیا۔ تمام لوگوں سے فرداً فرداً رابطہ کر کے مقررہ تاریخ پر پرسنل ہیئرنگ کے لیے جانے کا مشترکہ طور پر پروگرام تشکیل دیا گیا۔ علیم صاحب بھی اس گروپ میں شامل تھے۔ شدید سردی اور دھند میں اندھا دھند سفر کرتے ہوئے ہم تقریباً گیارہ بجے سیکرٹریٹ پہنچ گئے۔
لفظ اندھا دھند کی عملی تصویر اس دن اپنی ان گنہگار آنکھوں سے دیکھی۔ جب شدید دھند میں اندھے پن سے یہ سفر طے کیا تھا۔ میں نے اس میٹنگ کی جملہ تیاریوں کے سلسلہ میں ایک بہت ہی خوبصورت نیم ٹیگ جس پر میری زمانہ شباب کی تصویر بھی چسپاں تھی۔ سبز رنگ کے ربن میں پرو کر اپنے گلے میں زیور کی طرح پہن رکھا تھا۔ ہم لوگ ابھی گاڑیوں سے اتر کر اپنی اپنی جھاڑ پونچھ میں مصروف تھے کہ علیم صاحب اکیلے ہی انٹری گیٹ پر پہنچ گئے۔
گیٹ پر کھڑے ہوئے سکیورٹی گارڈ نے ایک نظر انہیں دیکھا اور پوچھا مولوی صاحب کہاں چیف سیکرٹری سے ملنے شناختی کارڈ ہے۔ آپ کے پاس وہ تو نہیں ہے بس آپ اس کے بغیر اندر نہیں جا سکتے ہمیں بہت سخت احکام ہیں۔ اب علیم صاحب اس کے سامنے تقریر کیے جا رہے ہیں اور وہ کم بخت بت بنا کھڑا ہے۔ میں نے اشارے سے انہیں واپس بلا لیا۔ دہشت گردی ان دنوں عروج پر تھی اور سرکاری دفاتر میں داخلے پر خاصی پرکھ پڑتال کی جاتی تھی۔ میں نے شناختی کارڈ کے بارے میں دریافت کیا تو پتہ چلا کہ تقریباً نصف سے زیادہ لوگوں کے پاس یہ گیٹ پاس موجود نہ ہے۔
بہر حال اس مرحلے پر میں کمال اعتماد کے ساتھ چلتا ہوا گیٹ کی طرف گیا درِ محبوب کے سنگ دل دربان کی طرح اس سکیورٹی گارڈ نے بھی ہمیں خشونت بھری آنکھ سے دیکھا۔ لیکن جونہی سینے پر تمغے کی طرح سجے ہوئے نیم ٹیگ پر نظر پڑی۔ تو اس نے دونوں پاؤں جوڑ کر ہمیں سلیوٹ کیا اور بولا میرے صاحب آئے ہیں۔ بعض اوقات ایک شخص کی جہالت دوسرے کے لیے کس قدر منافع بخش ہو سکتی ہے آج اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا۔ اگر وہ ہمارے نیم ٹیگ کر پڑھ لیتا تو اس کا رویہ یقیناً اس کے برعکس ہوتا۔
بہر حال میں نے بھی اپنی افسرانہ شان کو برقرار رکھتے ہوئے اپنے بقیہ ساتھیوں کو آگے آنے کا اشارہ کیا۔ اتنی دیر میں ایک اور شخص بڑی تیزی سے دوڑتا ہوا میرے پاس آیا اور اپنا موبائل میرے کان کے ساتھ لگا کر بولا۔ کہ جناب آپ ڈی ایس پی صاحب سے بات کیجیے۔ یہ سب کچھ اتنی تیزی سے ہوا کہ مجھے اپنے ردِ عمل کے اظہار کا موقع بھی نہ ملا۔ میں نے فون سنا تو آگے سے ایک صاحب بول رہے تھے کہنے لگے میں لاہور سے ڈی ایس پی پولیس آصف خان بول رہا ہوں یہ میرا عزیز ہے جو صبح سے ہی گیٹ پر کھڑا ہے اور اس کو اندر جانے کی اجازت نہیں مل رہی ہے۔
اب اس نے مجھے بتایا ہے کہ گیٹ پر کوئی بڑا افسر آیا ہے۔ جسے سب سلیوٹ کر رہے ہیں۔ تو پلیز آپ اسے بھی اندر جانے کی اجازت دے دیں۔ سکیورٹی گارڈ کے بعد ہماری افسری کی دوسری بڑی گواہی مذکورہ ڈی ایس پی دے رہا تھا۔ اس لیے اپنی اس افسرانہ شان کو برقرار رکھتے ہوئے ہم نے اس شخص کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر اسے بھی اپنے گروپ میں شامل کرتے ہوئے سول سیکرٹریٹ میں داخلے کا پہلا مرحلہ بڑی کامیابی کے ساتھ طے کر لیا۔ آگے میٹنگ روم میں گئے تو چیف سیکرٹری نے بھی ہمارے ساتھ مذاکرات کے لئے اپنے ساتھ میں نہ مانوں کے رویے کے حامل دس پندرہ اور بھی بابو ٹائپ لوگوں کو اپنے ساتھ بٹھایا ہوا تھا۔ لیکن اڑھائی تین گھنٹے کی میٹنگ کا حاصلِ حصول صفر ہم نے انہیں لاکھ سمجھانے کی کوشش کی کہ ہم سے جونیئر لوگ اپنی سنیاریٹی کی بنیاد پر ہم سے اگلے سکیل میں چلے گئے ہیں اور ہم لوگ جو اُن سے بھی سینیئر ہیں وہ اُن سے پچھلے سکیل میں ہیں لیکن دوسری طرف ڈھاک کے وہی تین پات۔
بہر حال میٹنگ اس بات پر ختم ہوئی کہ چیف سیکرٹری نے اپنے ساتھی بابوؤں سے کہا کہ میرے خیال میں تو ان لوگوں کا حق بنتا ہے۔ آپ آج کا دن اس پر سوچیں اور اس کے لیے کوئی قاعدہ قانون کوئی طریق کار نکالیں اور ہمیں فرمانے لگے کہ آپ لوگ واپس تشریف لے جائیں۔ کل صبح نو بجے دو تین حضرات تشریف لے آئیں اور ان لوگوں سے مل لیں۔ ہم اپنے تئیں میٹنگ کی کامیابی پر بڑے خوش تھے میں بشیر صاحب اور ایک وہاڑی سے تعلق رکھنے والی ہیڈ مسٹریس اگلے دن ہم سیکرٹریٹ گئے تو اس میٹنگ روم میں ایک عینک زدہ مدقوق سا بابو بیٹھا مکھیاں ما رہا تھا۔
ہمیں دیکھتے ہی بولا کل آپ کے جانے کے بعد سارا دن ہم نے خوب غور و خوض کیا ہے اور آخر کار اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ آپ لوگ اسی تنخواہ پر کام کریں گے۔ اس کے بعد وہ اپنی کتابیں اٹھا کر چلتا بنا۔ اس کے اس رویے سے بھرے توہم تینوں ہی پڑے تھے لیکن وہ خاتون ہیڈ مسٹریس تو ٹھیٹھ پنجابی زبان میں پھٹ پڑیں۔ وے سیکٹریا تیرا بیڑا غرق ہووے تیرا ککھ نہ روے ہمیں یہ تو علم نہیں ہے کہ اس کا ککھ رہا یا نہیں رہا لیکن اتنا ضرور ہوا کہ دو تین دنوں کے بعد ہی اس کی گاڑی نے ایک فوجی کرنل کو کچل ڈالا اور وہ پنجاب سیکرٹریٹ میں نہیں رہا۔
علیم صاحب کے تذکرے پر فضول میں بحث طویل ہوتی چلی گئی۔ انہیں ساتھ لے کر تقریباً ساڑھے نو بجے تک چڑھی کورس کوآرڈینیٹر زرینہ خٹک سے جا بھڑے۔ میڈم یہ بورے والا سے کورس کرنے کے لیے آج ہی حاضر ہوئے ہیں تو پھر میں کیا کروں انہیں جوائن کر لیں۔ تمام گروپس مکمل ہوچکے ہیں اب یہ اگلے گروپ میں آئیں ہم نے بہت کوشش کی کہ کسی نہ کسی طرح انہیں جوائن کروا دیں لیکن وہ میڈم تو بس بگلے کی ایک ہی ٹانگ پر کھڑی تھیں۔ آخر کار انہیں واپس بوریوالہ بھیج دیا گیا۔
حالاں کہ اُن کے واپس جانے کے بعد دوسرے تیسرے اور چوتھے دن بھی نئے نئے لوگ آ آ کر ہمارے گروپ کو جوائن کرتے رہے۔ لیکن میڈم نے علیم صاحب میں کوئی ایسی نا اہلیت بھانپ لی تھی جس سے ہم یقیناً بے خبر تھے۔ ورنہ اتنے بڑے ادارے میں یہ تو نہیں ہو سکتا کہ جگہ ہونے کے باوجود ایک شخص کو بلاوجہ جوائن کروانے سے انکار کر دیا جائے۔


