بر صغیر کا پہلا عدالتی قتل
بھارت کے شہر کولکتہ کا جنوبی علاقہ ”ہیسٹنگز“ کہلاتا ہے۔ لارڈ ہیسٹنگز ایسٹ انڈیا کمپنی کی طرف سے بنگال کی فورٹ ولیم پریسڈینسی کے پہلے گورنر تھے۔ وہ بعد ازاں گورنر جنرل بھی بنائے گئے۔ ہیسٹنگز کا علاقہ کے وسط میں تاریخی کنواں واقع ہے جو اب بری طرح تجاوزات میں گھرا ہوا ہے۔ اس کنویں کو ”پھانسی گھر“ بھی کہا جاتا ہے۔ آج سے تقریباً ڈھائی سو سال پہلے اس کنویں پر 5 اگست 1775 کو مہاراجہ نندا کمار کو پھانسی دی گئی تھی۔ وہ پہلے ہندوستانی تھے جن کو انگریزوں نے پھانسی دی۔ مہاراجہ نندا کمار کی پھانسی ہندوستان میں برطانوی حکومت کی طرف سے کیا جانے والا پہلا عدالتی قتل تھا۔
مہاراجہ نندا کمار کسی ریاست کے راجہ نہیں تھے۔ ان کو مہاراجہ کا خطاب 1764 میں مغل بادشاہ شاہ عالم ثانی نے دیا تھا۔ وہی شاہ عالم ثانی جن کو 10 اگست 1778 کو غلام قادر روہیلہ نے اندھا کروا دیا تھا، نندا کمار 1705 میں بنگال کے علاقے بھدر پور میں پیدا ہوئے۔ یہ علاقہ اب بیربھم کہلاتا ہے۔ نندا کمار نے بنگال کے حاکم علی وردی خان کے ماتحت ایک ریونیو اہلکار کے طور پر اپنی ملازمت کا آغاز کیا تھا۔ علی وردی خان سراج الدولہ کے نانا تھے۔
علی وردی خان کی وفات کے بعد سراج الدولہ مر شد آباد (بنگال ) کے نوابی حکمران بنے۔ انہوں نے نندا کمار کو 1756 میں ہگلی کا فوجدار اور ٹیکس کلکٹر مقرر کر دیا تھا۔ 1757 میں انگریزوں اور سراج الدولہ کی فوجوں کے درمیان جنگ شروع ہو گئی۔ اس جنگ میں میر جعفر کی غداری کی وجہ سے سراج الدولہ کو 23 جون 1757 کو شکست ہو گئی۔ اس جنگ کو ”جنگ پلاسی“ کہا جاتا ہے۔ اس جنگ کے دوران جب ایسٹ انڈیا کمپنی کی فوج نے نندا کمار کے زیر انتظام علاقے پر حملہ کیا تو حیرت انگیز طور پر نندا کمار نے کوئی مزاحمت نہیں کی غالباً وہ سراج الدولہ کی حکومت ختم کرنے کی سازش میں میر جعفر کا شریک کار تھا۔ میر جعفر، سراج الدولہ کی فوج کا کمانڈر انچیف تھا۔
پلاسی کی جنگ میں شکست کے بعد سراج الدولہ نے فرار ہونے کی کوشش کی لیکن میر جعفر نے اس کو گرفتار کر لیا اور اس کے حکم پر 2 جولائی 1757 کو سراج الدولہ کو قتل کر دیا گیا۔ قتل کے وقت سراج الدولہ کی عمر صرف 24 سال تھی۔ سراج الدولہ کو میر جعفر کے گھر کی ڈیوڑھی میں قتل کیا گیا۔ یہ مقام آج تک نمک حرام کی ڈیوڑھی کے نام سے مشہور ہے۔
سراج الدولہ کی شکست اور موت کے بعد نندا کمار فورٹ ولیم (بنگال) کی پریزیڈینسی کے انگریز گورنر رابرٹ کلائیو کا پسندیدہ شخص بن گیا۔ ایسٹ انڈیا کمپنی کے تحت نندا کمار کو 1764 میں بنگال کے تین اضلاع جس میں ہگلی بھی شامل تھا لگان / محصول جمع کرنے والا مقرر کر دیا گیا۔ اس عہدے پر پہلے وارن ہیسٹنگز براجمان تھے۔ وارن ہیسٹنگز کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ ایسٹ انڈیا کمپنی کے اعلی عہدے دار ایک گوری چمڑی والے پر ایک دیسی ہندوستانی کو فوقیت دیں گے۔
یہیں سے نندا کمار اور وارن ہیسٹنگز کے درمیان دشمنی کا آغاز ہوا۔ اس سے پہلے وارن ہیسٹنگز بلا شرکت غیرے اپنی ذاتی دولت میں خوب اضافہ کرنے میں مصروف تھا۔ نندا کمار میر جعفر کا بھی بہت قریبی دوست بن گیا۔ اس طرح نندا کمار بنگال کے حکومتی حلقوں کا ایک بہت اہم اور با اثر فرد بن گیا۔ یہاں تک کہ وہ ”کالا کرنل“ کہلایا جانے لگا۔ ایک طرف وہ بنگال کے پہلے کٹھ پتلی نواب میر جعفر کا دیوان (وزیر خزانہ) بن گیا دوسری طرف انگریزوں کی ایسٹ انڈیا کمپنی کا بھی عہدیدار تھا۔ شاید یہ دو کشتیوں کی سواری بھی اس کی پھانسی کی ایک وجہ ہو سکتی ہے۔
1773 میں وارن ہیسٹنگز گورنر جنرل بن گئے اسی سال برطانوی پارلیمنٹ نے قانون منظور کیا جو ریگولیٹنگ ایکٹ کہلاتا ہے۔ اس کا مقصد برطانوی ایسٹ انڈیا کمپنی کے زیر انتظام ہندوستانی علاقوں کے لیے قانونی ضابطہ کار کی بنیاد فراہم کرنا تھا۔ ایکٹ کی اہم دفعات میں سے ایک کلکتہ میں سپریم کورٹ کا قیام بھی تھا جو چار ججوں پر مشتمل تھا۔ کنگ جارج سوئم کے جاری کردہ چارٹر کے مطابق سر ایلیا امپی کو اس سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کے طور پر تعینات کیا گیا۔
یہ کہا جا سکتا ہے کہ اس ایکٹ نے ابتدا میں ہندوستان میں بادشاہ کے براہ راست کنٹرول میں ایک الگ اور کسی حد تک آزاد عدالتی ادارہ قائم کرنے کی کوشش کی تھی۔ لیکن 1773 کے اس ایکٹ کے دور میں، راجہ نندا کمار کے مقدمے کی سماعت، جسے ”نو آبادیاتی ہندوستان میں پہلا عدالتی قتل“ بھی کہا جاتا ہے، نے بڑی تباہی مچا دی۔ وارن ہیسٹنگز 1772 میں گورنر تو بن گئے تھے۔ لیکن ایسٹ انڈیا کمپنی کے ڈائریکٹرز نے بنگال کے انتظامی امور چلانے کے لیے چار اراکین پر مشتمل ایک کونسل بھی تشکیل دے دی تھی۔
کونسل کے تمام اراکین مساوی اختیارات کے مالک تھے یعنی گورنر جنرل کے پاس کوئی اضافی اختیار نہیں تھا۔ 1775 میں کونسل میں نندا کمار نے وارن ہیسٹنگز کے خلاف ایک تحریری شکایت جمع کرائی۔ جس میں کہا گیا کہ 1772 میں وارن ہیسٹنگز نے نندا کمار کے بیٹے گرو داس کو دیوان مقرر کرنے کے لیے نندا کمار سے ایک لاکھ روپے کی رشوت لی تھی۔ خط میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ وارن ہیسٹنگز نے مُنی بیگم سے رشوت بھی لی تاکہ اسے نابالغ نواب مبارک الدولہ کا قانونی سرپرست مقرر کیا جا سکے۔
منی بیگم مبارک الدولہ کی سگی ماں نہیں تھی۔ اس کی سگی ماں ببو بیگم تھی اور وہ بھی حیات تھی۔ لیکن منی بیگم نے وارن ہیسٹنگز کو خطیر رقم دے کر اپنے آپ کو نواب کا سرپرست بنوا لیا۔ کونسل کے ایک رکن نے یہ خط کونسل کے اراکین کے سامنے رکھا اور ایک دوسرے رکن نے ایک تحریک پیش کرتے ہوئے اس کی حمایت کی کہ نندا کمار کو کونسل کے سامنے حاضر ہونے کے لیے طلب کیا جائے۔ لارڈ وارن ہیسٹنگز جو گورنر جنرل کی حیثیت سے کونسل کی صدارت کر رہے تھے، نے اس تجویز کی مخالفت کی کیونکہ وہ اپنے خلاف کوئی الزام سننے کو تیار نہیں تھے اور نہ ہی وہ کسی رکن کو جج کی حیثیت سے تسلیم کرنے کو تیار تھے۔
ایک چوتھا کونسل ممبر، جو وارن ہیسٹنگز کی حمایت کر رہا تھا، نے تجویز پیش کی کہ چونکہ اس کیس میں ایک موجودہ گورنر جنرل شامل ہے، اس لیے نندا کمار کو کونسل میں نہیں بلکہ سپریم کورٹ میں کیس دائر کرنا چاہیے۔ وارن ہیسٹنگز نے اس تجویز کی بھی مخالفت کی نتیجتاً کونسل کا اجلاس شروع کر دیا گیا جوابی ردعمل کے طور پر لارڈ ہیسٹنگز نے کونسل کو ہی تحلیل کر دیا۔ لوگوں کی ایک بڑی تعداد نے وارن ہیسٹنگز کی طرف سے شروع کیے گئے اس کیس کی تحلیل پر اعتراض کیا اور ہیسٹنگز کی غیر موجودگی میں ایک دوسرے رکن کو اجلاس کی صدارت کے لیے منتخب کر لیا۔
کونسل نے وارن ہیسٹنگز کے خلاف نندا کمار کے کے الزامات کو درست پایا اور کہا کہ ہیسٹنگز نے 354105 روپے کی رقم بطور رشوت وصول کی۔ اس لیے کونسل نے قرارداد کے ذریعے وارن ہیسٹنگز کو اتنی ہی رقم کمپنی کے خزانے میں جمع کرانے کی ہدایت کی گئی۔ اس واقعہ کے تھوڑے ہی عرصے بعد ہیسٹنگز نے سپریم کورٹ کے ججوں کے سامنے ایک پٹیشن داخل کی جس میں کہا گیا کہ راجہ نندا کمار اور دوسرے دو افراد کمپنی کے خلاف سازش میں ملوث ہیں اور نندا کمار جعل سازی کا مرتکب بھی ہوا ہے۔
سپریم کورٹ نے جولائی 1775 میں سازش کیس کا فیصلہ سنا دیا اور اس فیصلے میں دوسرے دو افراد کو جرمانے کی سزا سنا دی۔ لیکن نندا کمار کے خلاف جعل سازی کا فیصلہ محفوظ رکھا۔ اسی دوران ہیسٹنگز نے نندا کمار کے خلاف ایک اور جعل سازی کا مقدمہ درج کرا دیا اس قسم کی جعل سازی کی سزا 1729 کے ایکٹ کی دفعات کے مطابق موت تھی۔
ججوں نے استغاثہ کے گواہوں کے شواہد سے مطمئن ہو کر کلکتہ میں ہز میجسٹی کی جیل کے جیلر کو حکم دیا کہ وہ نندا کمار کو اس وقت تک محفوظ حراست میں رکھیں جب تک کہ وہ قانون کے مطابق رہا نہ ہو جائیں۔ 8 مئی 1775 کو چیف جسٹس اور سپریم کورٹ کے تین دیگر ججوں کے سامنے اس کا مقدمہ شروع ہوا۔ نندا کمار کے مقدمے کی سماعت بغیر کسی التوا کے آٹھ دن تک جاری رہی۔ نندا کمار کے وکیل نے سب سے پہلے اس معاملے میں سپریم کورٹ کے دائرہ اختیار کو چیلنج کیا جسے عدالت نے مسترد کر دیا۔
عدالت ہر روز صبح 8 بجے سے بیٹھتی اور رات گئے تک گواہوں کی جرح ہوتی رہتی اس مقدمے کی سب سے خاص بات یہ تھی کہ ججوں نے دفاعی گواہوں سے اس درخواست پر تفصیل سے جرح کی کہ بادشاہ کا وکیل اپنا کیس موثر طریقے سے پیش کرنے سے قاصر ہے۔ اس نے ججوں کی دیانتداری اور غیر جانبداری پر سنگین سوالیہ نشان کھڑا کر دیا۔ مقدمے کی سماعت 15 جون 1775 کی آدھی رات تک جاری رہی۔ چیف جسٹس امپی نے 16 جون کی صبح پورے کیس کا خلاصہ کیا۔
ججوں اور جیوری نے متفقہ طور پر نندا کمار کو مجرم قرار دے دیا۔ چیف جسٹس نے راجہ نندا کمار کے دفاع کی تمام درخواستوں کو مسترد کرنے کے بعد برطانوی پارلیمنٹ کے ایک ایکٹ کے تحت اسے موت کی سزا سنائی یہ ایکٹ 1729 میں منظور ہوا تھا۔ راجہ نندا کمار کو بچانے کی ہر ممکن کوشش کی گئی لیکن کوئی فائدہ نہیں ہوا۔ راجہ نندا کمار کے وکیل نے کنگ کونسل میں اپیل کرنے کا فیصلہ کیا اور عدالت سے درخواست کی کہ جب تک کونسل کا فیصلہ معلوم نہ ہو اس سزا پر عمل درآمد روک دیا جائے۔
عدالت نے یہ درخواست بھی مسترد کر دی۔ کونسل کے ارکان کی مدد حاصل کرنے کی کوششیں بھی بے سود ثابت ہوئیں۔ اس وقت کے بنگال کے نواب کی طرف سے کونسل کو دی گئی سفارش کا خط کہ جب تک کہ انگلستان کے بادشاہ کی خوشنودی معلوم نہ ہو سزا کو معطل کر دیا جائے، وہ بھی بے سود ثابت ہوا، کیونکہ کونسل کی طرف سے بھیجے گئے اس خط کے بعد سپریم کورٹ نے اس پر کوئی کارروائی نہیں کی۔ اس طرح راجہ نندا کمار کو 5 اگست 1775 کو صبح 8 بجے فورٹ ولیم کے قریب کولی بازار میں پھانسی دے دی گئی۔
مقدمے میں اٹھائے گئے دو انتہائی اہم سوالات سامنے آئے۔ پہلا یہ کہ کیا اس معاملے میں سپریم کورٹ کا دائرہ اختیار تھا؟ دوسرا، کیا 1729 کا انگلش ایکٹ، جس نے جعلسازی کو سزائے موت کا جرم بنایا، ہندوستان پر اس کا اطلاق ہوتا ہے؟ سپریم کورٹ کے دائرہ اختیار پر سب سے بڑا اعتراض یہ تھا کہ کلکتہ میں سپریم کورٹ کے قیام سے قبل بنگال میں ہندوستانیوں پر مقامی فوجداری عدالتوں کے ذریعے مقدمہ چلایا جاتا تھا اور جعل سازی پر موت کی سزا نہیں دی جاتی تھی۔
اس کیس میں، سپریم کورٹ کے قیام سے پہلے جرم کا ارتکاب کیا گیا تھا، اور اس وجہ سے اس کیس کا فیصلہ کرنے کا کوئی دائرہ اختیار نہیں تھا۔ ہندوستان میں 1729 کے ایکٹ کے لاگو ہونے کے دوسرے معاملے پر، ججوں کے درمیان بھی منقسم رائے تھی، لیکن بالآخر چیف جسٹس امپی کے خیالات اکثریت کی رائے پر غالب آ گئے۔ اس طرح اس معاملے میں سپریم کورٹ کے فیصلے نے ایک بہت بڑا تنازعہ کھڑا کر دیا۔ اس فیصلے پر بڑے پیمانے پر تنقید کی گئی اور اسے راجہ نندا کمار کا عدالتی قتل کہا گیا۔
ہمارے ملک کے ایک سابق وزیراعظم کے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی معاملہ رہا۔ جناب ذوالفقار علی بھٹو کو 4 اپریل 1979 کو پھانسی دی گئی۔ اس کو بھی عام طور پر عدالتی قتل ہی گردانا گیا۔ 45 سال بعد مارچ 2024 میں پاکستان کی سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ پھانسی کے فیصلے میں ٹرائل کا طریقہ کار مکمل نہیں تھا، انہیں فیئر ٹرائل نہیں دیا گیا اور انصاف کے تقاضے پورے نہیں کیے گئے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ 1947 سے لے کر اب تک میرے وطن پر ایسٹ انڈیا کمپنی کے اہلکار ہی حکومت کر رہے ہیں۔ بس ان کی چمڑی گوری سے کالی ہو گئی ہے۔


