بیگم سے جوال تک : کیف الحال سے دوسرا نمک پارہ


تحریر جو لکھاری کی خود نوشت سوانح و سفرنامہ سعودیہ کے لئے سن 1999 ء میں لکھی گئی۔ چوبیس پچیس سال میں پل کے نیچے سے محض پانی نہیں بلکہ تبدیلیوں کا پورا سمندر گزر چکا ہے۔ عربی کے مخصوص الفاظ کی وضاحت جملوں کے آخر میں کی گئی ہے۔ یاد رہے یہ پچیس سال پرانی تحریر ہے۔

***

پاکستان میں رہتے ہوئے ہم اکثر اس بات کا رونا سنتے تھے کہ پاکستانیوں کو اپنے اوپر ہنسنا نہیں آتا، لیکن سر زمین عرب پر آ کر خدا کا لاکھ لاکھ شکر ادا کرتے ہیں کہ کم از کم ہمیں ہنسنا تو آتا ہے۔

کسی عرب بالخصوص بدو ( 1 ) کا تیل یا میٹھے پانی ( 2 ) کا کنواں نکل آئے یا اس کے گھر بیٹی کی پیدائش ہو، ہر ایک صورت میں وہ خوش تو ہوتا ہے ہنستا نہیں۔ ہنسنا اور وہ بھی زور زور سے ہنسنا، ان کے نصیب میں نہیں۔ یہاں ایسی گواہی دیتے کم ہی لوگ ملیں گے جو یہ کہیں کے ہاں میں نے ایک دفعہ فٹبال میچ جیتنے پر ان کو مسکراتے دیکھا تھا۔

( 1۔ بدو کو ”بے دو“ بولا جاتا ہے معنی صحرا میں پلنے بڑھنے والے خانہ بدوش قبائل۔ ان کے ہزاروں سال سے اپنے رسم و رواج ہوتے ہیں، جن میں متعدد کو وقت اور تعلیم نے بدل دیا۔ لیکن کچھ پر شہروں میں آباد ہونے کے باوجود اب تک کچھ فرق نہیں پڑا۔

2۔ صحرا ہوں یا شہر، جھیل اور دریا کی کمی کی وجہ سے میٹھے پانی کے کنویں کم ہی ملتے ہیں۔ ہزار سال پہلے بھی جس کسی کے پاس میٹھے پانی کا کنواں ہو اسے انتہائی امیر مانا جاتا تھا۔ سو سال پہلے اس میں یہ تبدیلی آئی کہ اب اگر کسی کا تیل کا کنواں نکل بھی آئے تو وہ بھی یا شیخ بن جاتا ہے ) ۔

ویسے لڑکی کے پیدا ہونے پر عربوں کی خوشی سے اسلام یا مسلمانی کا کوئی تعلق نہیں بلکہ وہی معاشرتی مسئلہ ہے، جس کی بناء پر برصغیر میں لڑکی کے پیدا ہو نے پر لوگ ”نا خوش“ ہوتے ہیں۔

جس طرح ہمارے یہاں لڑکیوں کی شادی کے لئے والدین پریشان ہوتے ہیں، بالکل اسی طرح عربوں میں لڑکے کی شادی کے لئے خود لڑکا ہی پریشان ہوتا ہے، اس کے ”ماتا پتا“ نہیں، کیوں کہ یہاں لڑکی والے حق مہر کے نام پر لاکھ دو لاکھ ریال نان ریفنڈبل ایڈوانس سے کم پر راضی نہیں ہوتے اور لڑکی اگر بڑے گھر یا قبیلہ کی ہو تو یہ رقم پاکستان جیسے کسی ملک کے صحت یا تعلیم کے بجٹ کو بھی چھو سکتی ہے۔

مرے پہ سو درے کے مصداق لڑکی کچھ ساتھ (جہیز کے نام پر ) بھی نہیں لاتی اور نئے گھر کی تمام آرائش و زیبائش وغیرہ بھی لڑکے کی ذمہ داری ہوتی ہے اور تو اور ولیمہ کے غدر ( 3 ) یعنی دن کے کھانے کا خرچ وہ الگ۔

یہاں لڑکی کے باپ کو دینے کے لئے مہر کی رقم کے لئے کئی بنک آسان اقساط پر قرضے تو دیتے ہی ہیں اس کے علاوہ مہر کی رقم میں دولہوں کو اکثر کسی بڑے کی سفارش سے رعایت بھی مل جاتی ہے اور بعض اوقات خود لڑکی کا باپ بھی اپنی ڈیمانڈ میں کمی کر دیتا ہے، اگر لڑکی مطلقہ یا ”ارملہ“ ( 4 ) ہو۔

ڈیپوٹیشن پر آنے کے کچھ عرصے بعد جب ہم عربی میں آدھی اردو اور آدھی انگریزی فٹ کر کے محض تُکے پر کام چلاتے تھے۔ ایک خالص مردانہ محفل میں دوران عربی گفتگو پتہ چلا کہ فلاں جندی ( 5 ) نے کل ہی ارملہ سے شادی کرلی ہے۔ پہلے تو ہمیں اس انکشاف پر غش، پھر سپاہی پر رشک اور اپنی آؤٹ ڈیٹڈ معلومات پر غصہ آیا کہ ”تنہا تنہا“ اور ”کم بخت عشق“ کا رونا رونے والی، رنگیلی انڈین اداکارہ ارملہ ماٹونڈکر، نے اکیلے اکیلے شادی کرلی اور ہماری بھابی بن کر ہمارے پیچھے سعودیہ آ گئی اور ہمیں پتہ بھی نہ چل سکا۔

مزید معلومات کے لئے کریدنے سے بھی ڈر رہے تھے کہ مبادا یہ لوگ اسے اپنی پرائیویسی میں مداخلت نہ سمجھ بیٹھیں۔

ایک دو راتیں کانٹوں پہ گزارنے کے بعد پوچھنے پر یہ انکشاف ہوا کہ ”ارملہ ماٹونڈکر“ ابھی بھی فارغ ہیں اور یہ سپاہی صاحب جس ارملہ کو بیاہ لائے ہیں، اس کا اصل نام تو سلمیٰ ہے مگر درحقیقت بیوہ ہے اور تقریباً نئی ہی ہے کیوں کہ اس کا پچھلا بوڑھا شوہر شادی کی کچھ راتوں بعد ہی ”واجرا“ کھا کر فوت ہو گیا تھا اور جندی بہادر کو ارملہ رعایتی مہر پر مل گئی تھی۔

تفصیلات ہمیں اِس طرح سننے کو ملیں جیسے حضرت نے شادی نہ کی ہو بلکہ کسی حراج سے شیورلیٹ خریدی ہو۔ (عربی میں بیوہ کو ارملہ کہتے ہیں۔ جبکہ حراج سیکنڈ ہینڈ چیزوں کی مارکیٹ ہوتی ہے اور واجرا، ہرگز باجرہ نہیں بلکہ ”گاف“ کی عدم موجودگی میں انگریزی دوا ”ویاگرا“ کا عربی نام ہے ) ۔

( 3۔ صبح کے ناشتے کو یہاں فطرہ اور عید الفطر کی مناسبت سے ”فطور“ کہتے ہیں جسے ہم ایک عرصے تک نیتوں کا فتور سمجھتے رہے۔ دوپہر کے کھانے یعنی لنچ کو ”غدا“ لکھتے اور زور ڈالتے ہوئے ”غدر“ بولتے ہیں۔ یہاں شادیوں میں رخصتی ہو یا ولیمہ ایک ہی کھانا رخصتی پر دیا جاتا ہے جسے ولیمہ کہتے ہیں یعنی لڑکے کی طرف سے کھانا مگر ”طعام قبل از رخصتی“ ۔ عام طور پر یہ کھانا دوپہر ہی میں ہوتا ہے۔ اس لئے اس ولیمے میں جو کچھ کھانے کے ساتھ کیا جاتا ہے۔ شاید ”غدر“ سے زیادہ مناسب لفظ بھی کوئی نہ ہو۔ رات کے ڈنر کے لئے عشاء کی نماز کی مناسبت سے ”عشا“ یا ”اعاشہ“ جیسا آسان لفظ استعمال ہوتا ہے۔

4۔ بیوہ کو ارملہ لکھیں یا ارمیلا۔ جس کے سینے پر تیر چلنے تھے چل گئے۔ مطلقہ یا بیوہ خاتون کا حق مہر کنواری سے یقیناً کافی کم ہوتا ہے۔

5۔ فوج میں سب سے چھوٹا عہدہ سپاہی ہوتا ہے جسے یہاں جندی کہتے ہیں۔ اب جندی اگر سعودی ہو تو بھی ارمیلا ماٹونڈکر سے شادی کیوں نہیں کر سکتا۔ یہاں کچھ بھی ممکن ہے ) ۔

جیسے کہ اوپر تذکرہ ہوا، عرب میں لڑکوں کی شادی کے لئے خود لڑکے ہی پریشان ہوتے ہیں ان کے والدین (بالخصوص باپ) نہیں وجہ اس کی یہ ہے کہ اس معاملہ میں معدودے چند باپ ہی ایسے ہوتے ہیں جو اپنے لڑکوں کو شادی کے لئے موٹی رقم دیں۔ سیدھی سی بات ہے اگر ابا جی کہ پاس مال ہو تو وہ خود ہی کیوں نہ شادی کر لیں؟ بیٹے کو کیوں دیں؟

آج کے لڑکوں کے پاس ویسے ہی رقم نہیں ہوتی اوپر سے ایک لطیفہ ایسا بھی ہوا جس پر تبصرہ ہم محفوظ رکھتے ہیں۔ ہوا یوں کہ ایک مقامی فوجی افسر نے بینک سے قرض لے کر اور کچھ رقم تنخواہ سے پس انداز کرنے کے بعد جب ریالوں میں چھ ہندسوں کی ہو گئی تو ایک لڑکی (جس کا حق مہر اس کی استطاعت میں تھا) کے گھر اپنے باپ کو قبیلے کی رسم کہ مطابق بھیجا، ابا جی نے بات چیت کی، اہم معاملات طے کیے، ادائیگی مہر کی اور چند دنوں بعد اس لڑکی کو اپنے بیٹے سے یہ کہہ کر ملوایا کہ لو بیٹے اپنی نئی ماں سے ملو۔ ”واٹ اے کنٹری“ ۔

اس مضمون کا ابتدائی ڈرافٹ جب ہم نے اپنے ایک مقامی ساتھی کو دکھا کر واقعہ مذکورہ کی بابت ان کی توجہ دلائی تو وہ مسکرا کر بولے کہ اس میں حیرت کی کون سی بات ہے، ہمارے ملک کے ایک بادشاہ کے لاڈلے بیٹے (یعنی شہزادے جو خاصے پرانے مگر کنوارے گویا پلے بوائے چل رہے تھے ) کو بھی اللہ اللہ کر کے ایک لڑکی پسند آ گئی۔ جس کے بارے میں انہوں نے اپنے ابا جی سے اتنی زیادہ تعریف کی کہ وہ فوراً اس حور پری حسینہ کے گھر بیٹے کا رشتہ لینے پہنچ گئے۔ یہ اور بات ہے کہ بیٹے کے دل کے ارمان، مملکت کی نئی ملکہ گویا اپنی نئی ماں سے مل کر آنسوؤں میں بہہ گئے۔

اس شاہی انکشاف کی جب ہم نے اپنے کسی دوسرے مقامی ساتھی سے تصدیق چاہی تو انہوں نے ایک نیا شوشہ چھوڑا اور بولے کہ یہ تماشا یہیں پر بس نہیں ہوتا بلکہ ان ہی بادشاہ سلامت نے زندگی کے آخر سالوں میں دارالحکومت میں بیٹھ کر اپنے ایک دوسرے شہزادے کو مملکت کے تیسرے کونے میں موجود ایک قبیلے کی خوبرو خاتون کو انتہائی عزت کے ساتھ اپنے ہمراہ لانے کو کہا اور ساتھ میں لڑکی کے باپ کے لئے معقول ”زاد راہ و واہ“ بھی کر دیا۔

لڑکی کے باپ نے (شاید) نامحرم شہزادے کے ساتھ اپنی دختر نیک اختر کے جانے پر اعتراض کیا اور کہا ہو گا کہ میں ایک نامحرم کے ساتھ اپنی صاحب زادی کو لمبے سفر پر روانہ نہیں کر سکتا۔ انٹرنیٹ اس وقت پیدا نہیں ہوا تھا اور سیٹلائٹ ٹیلیفون اور موبائل کی بدعتی ایجادات سے دنیا پاک تھی (جس پر ممکنہ ٹیلیفونک نکاح کیا جاسکتا) ، اس لیے بیٹے محترم نے باپ کی صحرائی قبیلے کو آل شاہان کی سمدھیانے میں لانے کی منشاء کے آگے سر جھکائے اور خود کو قبیلے کی فرزندی میں دینے کا کڑوا گھونٹ پی لیا۔ یہ اور بات کہ وہ اپنے ابا جی کا شاہانہ یعنی منتقمانہ و عاشقانہ مزاج خوب سمجھتے تھے اس لئے انہوں نے براہ راست دارالحکومت واپس جانے کا رِسک لینا مناسب نہ سمجھا اور نوبیاہتا کا ہاتھ تھام، قریبی ائر پورٹ سے جہاز پکڑ کر سیدھا یورپ پہنچ گئے۔

کچھ بدخواہ اس تاریخی قربانی کا شمار ”ایلوپ“ جیسی مثالوں سے بھی کرتے پائے گئے (یعنی آشنا کے ساتھ فرار ہوجانا) ۔ ہمیں بہر حال شہزادے صاحب کی نیت پر مطلق شک نہیں۔ سنا ہے بہت بعد میں شاید ابا جی کی طرف سے اماں جان نے قرآن پر لکھ کر بھجوایا تھا کہ ”بیٹے گھر آ جاؤ تمہیں کچھ نہیں کہا جائے گا“ ۔

ویسے کچھ (یاد رہے کچھ) بدوی قبائل میں یہ انوکھی رسم بھی ہوتی ہے کہ جس گھر میں کوئی لڑکی شادی کی عمر کو پہنچ جائے تو بدو باپ خیمے، گھر کے درخت یا چھت پر ایک مخصوص رنگ کا جھنڈا لہرا دیتا ہے جس کا حرف عام میں مطلب ہوتا ہے کہ ”ریشماں جوان ہو گئی“ اور حرف خاص میں بقول میرے، ”باپ نے بیٹی کی شادی کے لئے ٹینڈر طلب کر لئے“ ۔

ویسے ہر کسی گھر پر جھنڈا لہراتا دیکھ کر آپ کہیں انٹری نہ دے بیٹھیے گا ایسا نہ ہو کوئی بد مزگی ہو جائے یوں بھی ہو سکتا ہے کہ الٹا لینے کے دینے پڑ جائیں کیوں کہ ہر قبیلے کی روایات ایک دوسرے سے مختلف ہو سکتی ہیں۔

ایک دن ہمارے ایک مقامی ساتھی، ”ٹہنی پہ کسی شجر کی طرح، بلبل تھا کوئی اداس بیٹھا“ ، کی عملی تفسیر پیش کر رہے تھے کہ بات چیت شروع ہوئی اور گفتگو ایک ایسے موضوع پہ جا نکلی۔ جس سے ہم دونوں ہی ہمیشہ احتراز کرتے تھے یعنی شریک حیات۔

ڈبڈبائی آنکھوں کے ساتھ بے چارے نے برصغیر کی مشرقی عورتوں کی وفا شعاری، سگھڑاپے، کفایت شعاری اور اطاعت گزاری وغیرہ کے پُل کے پُل باندھنے شروع کر دیے۔ ہم ہمہ تن گوش رہے کہ دیکھیں، تھیلے سے کون سی ِہرہؔ یعنی بلی نکلتی ہے۔ پتہ چلا یہاں یہ عام مسئلہ ہے کہ کچھ لوگوں کی بیویاں گھر کی شاپنگ کے لئے وہیں جانے پہ اصرار کرتی ہیں جہاں رعایتی سیل نہ لگی ہو۔ (ہمیں پہلا جھٹکا لگا) ۔

پھر ایک جیسی چیزیں اور یکساں خواص کی حامل اشیاء میں سے یہ خواتین اس برانڈ کا انتخاب کرتی ہیں جو زیادہ مہنگی ہوں۔ (دوسرا جھٹکا ) ۔ ہم نے خوامخواہ دبے لفظوں، اِن اَن دیکھی خواتین کے کارناموں کی طرف داری کی کوشش کی، جسے حضرت نے غصہ سے نظر انداز کرتے ہوئے مزید بتلایا کہ اوپر سے یہ مہنگی چیزیں گھر جاکر پتہ چلتا ہے کہ گھر میں پہلے سے موجود ہیں۔ اور یوں اگلے دن ان میں سے اکثر زبالہؔ یعنی کوڑے کے ڈرم میں پہنچی ہوتی ہیں۔ اور یہی اس کے ساتھ بھی ہوا تھا۔

پوچھا وہ ایسا کیوں کرتی ہیں تو مسکرا کر کہنے لگا، ظاہر ہے ان کو شک ہوتا ہے کہ اگر ہمارے پاس بہت سے ریال بچ گئے تو ہم دوسری شادی نہ کر لیں اس خوف سے بچنے کے لئے وہ ریال بچنے ہی نہیں دیتیں۔

میں نے غصہ دکھاتے کہا کہ پھر تم لوگ ان کو سمجھاتے یا پھینٹی کیوں نہیں لگاتے۔ وہ بے چارا معصومیت سے کہنے لگا کہ میں نے بھی اپنی نصف بدتر کو انتہائی عزت سے سمجھانے کی کوشش کی تھی مگر وہ شاید اسی طرح کے کسی موقع کی تلاش میں تھی اور اس نے فوراً اپنے پرس سے، اپنا جوال (یعنی موبائل) نکال کر، اپنے باپ کو فون کر دیا، جس نے فوراً کہا کہ فون بند کرو میں ابھی پہنچتا ہوں۔

کہا، چلو یہ تو بہت اچھا ہوا پھر باپ نے آ کر خوب ڈانٹا ہو گا۔ اس نے کہا، ہاں، میرے سسرؔ نے، میرے گھر آ کر، خوب خوب ڈانٹ پلائی، مگر اپنی بیٹی کو نہیں، بلکہ مجھے۔

پتہ چلا کہ وہ غنڈہ گردی جو پاکستان میں لڑکے کی مائیں کرتی ہیں وہ سب یہاں لڑکی کا باپ کرتا ہے۔ بلکہ کچھ زیادہ ہی، کیونکہ مردؔ جو ٹھہرا۔ اور قصہ مختصر کچھ بحث کے بعد سسر صاحب نے فرما دیا کہ میری بیٹی تمہارے ساتھ اس کنجوسی کے عالم میں نہیں رہ سکتی اس لئے ابھی اور اسی وقت میری بیٹی کو طلاق دو۔

گویا چھوٹی چھوٹی باتوں پر جس طرح ہمارے یہاں لڑکے کی مائیں طلاق دینے کی دھمکیاں دیتی ہیں یہاں لڑکی کا باپ طلاق لینے پر ڈٹ جاتا ہے۔

بہر حال پھولے ہاتھ پاؤں کے ساتھ ہمارے مسکین دوست نے ناک رگڑ کر سونا نکالا اور سسر کی مٹھی چاپی کی تو سودا یہ طے پایا کہ جناب اب ہر ماہ لڑکی کو تین کے بجائے چار ہزار سکہ رائج الوقت ریال بطور بھتہ، جگا ٹیکس یا پاندان خرچ دیں گے۔

بعد میں پتہ چلا کہ یہاں ایسی دھمکیاں عام ہیں، کیوں کہ متوسط گھرانے (شاہی یا انتہائی امیر نہیں) کے لڑکے کے لئے طلاق دینا مسئلہ نہیں لیکن موجودہ بچوں کے لئے اگلی ماں کا بندوبست کرنا سخت مشکل ہوتا ہے۔ کیونکہ نئی بیگم کے لئے مہر، اس کے مزاج کے مطابق گھر کی نئی آرائش یعنی ڈیکور، ساتھ ولیمے کے خرچ کے لئے مزید رقم کہاں سے آئے گی۔ رہی تازہ تازہ ہونے والی مطلقہ لڑکی، تو اس کو کم مہر پر ابا جی کہیں اور فٹِ کرا کر مہر کی بچت سے اس کے لئے نئی مصری، یمنی، بحرینی یا لبنانی امپورٹڈ ہم عمر ماما لے آئیں گے۔

ویسے اگر ہمارا کوئی مشورہ مانتا تو ہم اہل عرب کو مشورہ دیتے کہ بھائیوں گاڑی اور زندگی کی طرح شادیوں کا بھی بیمہ کروا لیا کرو! یہ اور بات کہ غالب امکان یہی کہ خود بیمہ کمپنی کا بھٹہ ہی بیٹھ جائے گا۔

اس المیہ کے سبب ہمارے ملک کی طرح یہاں بھی ہزاروں جوان لڑکیاں اپنے باپ کی ہٹ دھرمیوں کے باوجود غیر شادی شدہ بیٹھی ہیں جبکہ ہزاروں ہی لڑکے رقم نہ ہونے کے سبب لنڈورے پھرتے رہتے ہیں۔ ظاہر ہے ان حالات کے سبب جو کچھ معاشرتی مسائل پیدا ہوسکتے ہیں ان کو قلم بند کرنا میرا مقصد نہیں صرف عقل مند کو اشارہ کافی ہے۔ ویسے بھی یہاں شباب کی ایک بڑی تعداد انتہائی نیکؔ ملے گی اور ان کی نیکی کا اندازہ انٹرنیٹ پر ان کی انگریزی اور عربی چیٹنگ سائٹس پر گفتگو اور حرکتوں سے کیا جاسکتا ہے۔

ویسے کسی عرب کو بھول کر بھی اس کی تعریف کرتے ہوئے عربی میں نیک مت کہہ دیجئے گا ہمیں ہمارے مترجم نے یہی کہا تھا کہ بنیادی طور پر یہ گالی ہے اور اس کے معنی حضرت لوطؑ کے امتی گویا قوم لوط سمجھے جا سکتے ہیں۔ ویسے یہ اور بات ہے کہ یہ سننے پر مخاطب ممکن ہے آپ سے ناراض ہونے کی بجائے بہت خوش ہوں، یعنی الٹا آپ کی کم بختی آ جائے۔

یہاں کے نوجوانوں پر کی گئی تحقیق کے مطابق یہاں پنج وقتہ نمازی اور غیر شادی شدہ شباب بھی اتنے ہی نیک ہوتے ہیں جتنے ہمارے یہاں گٹے دار نمازی پشتو فلم کے ”پروڈیوسر“ نیک ہوتے ہیں۔ اللہ تعالی ان سب کو خاص اپنی رحمت کے سائے میں رکھے۔ آمین۔

ایک زمانہ تھا جب مقامی لوگوں کو تنخواہیں بھی ٹھیک ٹھاک ملتی تھیں اور خرچے بھی زیادہ نہ تھے اس وقت خاصے لوگ چار پیسہ جمع ہونے پر ایک اور شادی کرلیتے تھے مگر افتاد زمانہ اور صدام حسین کی خلیجی جنگ کا ایسا برا اثر معیشت پر پڑا کہ آج 1999 ء میں نہ تو زبردست تنخواہیں رہیں اور نہ ہی بچت۔ اب تو اہل عرب کے لئے پہلی شادی کر لینا ہی عیاشی سے کم نہیں تو کئی، کون اور کیسے کرے! اوپر سے، نخرے والی۔

اب چوں کہ تبدیلی زوجہ کی انہیں ایسی عادت پڑ چکی تھی کہ ”جیسے چھٹتی نہیں ہے کافر منہ کو لگی ہوئی“ ، تو اس کا انہوں نے یہ توڑ نکالا کہ جہاں پہلے ان کے اجداد پانچ چھ لاکھ ریال جمع ہونے پر بیوی بدل لیتے تھے تو اب پانچ چھ سو ریال جمع ہونے پر یہ بازار سے نیا جوال یعنی موبائل خرید لاتے ہیں۔ اور اگلے دن دفتر میں ہر ایک اپنا، نیا جوال (یعنی موبائل) اسی شان سے دکھا کر اس کے فنکشنز کی بات ایسے کر رہا ہوتا ہے جیسے کبھی ان کے بزرگ نئے قبیلے یا دوسرے ملک کی نئی بیوی کی بابت کیا کرتے تھے۔ ماضی میں ان کے اجداد اگر مختلف ممالک یا قبیلے کی بیویاں زندگی کا مزہ بدلنے کے لئے تبدیل کرتے تھے تو یہ آج کے عہد میں نوکیا، القاتل، اریکسن یا سیمنز کے متعارف دور حاضر کا موبائل لاکر اپنے ”دل“ کی بھڑاس یا ٹھرک نکالتے ہیں۔

ویسے جس رفتار سے عربوں کی ماضی اور حال میں ان کی بیویاں ان کے خرچے کرواتی رہی ہیں اسی رفتار سے شادی شدہ اور کنوارے شبابوں کے موبائلوں کے بھی فتورے یعنی پوسٹ پیڈ بل بھی آتے ہیں۔ ایسے شباب عام شام نظر سے گزرے جن کے جدید نصف بہتر یعنی جوالوں کے بل ان کی تنخواہ کے نصف یا اس سے بھی زیادہ آتے تھے، اور وہ آئے دن اکثر ایک ہاتھ سے اپنا سر اور دوسرے سے موبائل یا اس کا فتورہ (بل) پکڑے روتے پائے گئے۔

یہاں شروع شروع میں تو موبائل کی کال کا خرچہ تین چار ریال فی منٹ تک ہوتا تھا جو ہمارے آنے تک گھٹ کر تقریباً ایک ریال فی منٹ تک رہ گیا تھا (اور اس وقت تک پری پیڈ اسکریچ کارڈ والا سسٹم متعارف نہیں ہوا تھا) ، اب آپ خود سوچ لیں، یہاں کا ہر شریف شباب (بقول ہمارے ایک مقامی دوست وہ جس کی صرف ایک ہی گرل فرینڈ ہو) اگر ایک دن میں دس منٹ بھی ایک محبوبہ سے گپ مارتا ہو تو فی محبوبہ، چھ سات سو ریال ماہانہ تو موبائل کا بل آوے ہی آوے، جو اوسطاً ڈھائی تین ہزار ریال کمانے والے شباب یعنی ینگ مین کے لئے بہت بڑی رقم ہوتی ہے۔

ویسے کچھ جگہوں پر اہالیان عرب کا رویہ انتہائی غیر متوقع اور غیر یقینی ہوتا ہے، مثلاً نماز میں (سب کا نہیں کسی کسی کا، مگر آنکھیں کھلی رکھیں تو ہر مسجد میں ایک آدھ نمونہ ضرور ملے گا) ۔

مسجدیں ماشاء اللہ نمازیوں سے جمعہ میں بھی اتنی ہی بھری ملیں گی جتنی عام ظہر کی نماز میں، مگر نماز پڑھتے پڑھتے جیبوں میں ہاتھ ڈال کر اچھی طرح کھنگالنا، بٹوا نکال کر ریال گننا، سر کھجا کر جوئیں تلاش کرنا، ان کو مارنا، گھڑی میں ہر گھڑی بار بار وقت دیکھنا اور یا پھر جیب سے بے پیسٹ کا مقامی ٹوتھ برش یعنی مسواک نکالنا اور اس کا نماز میں اتنا استعمال (اور وہ بھی رمضان میں روزے کی حالت میں ) کہ دیکھنے والا سمجھے کہ بس، اب آئی پچکاری۔

یہ سارے کرتب یہیں آ کر دیکھے (مصر اور عراق میں تو بقول کرنل محمد خاں، یار لوگ نماز کے دوران سوٹے بھی لگا لیتے ہیں ) ۔ بہر حال، ایک دن تو غضب ہو گیا، ہم اور ایک لواؔ (میجر جنرل) مسجد میں ساتھ ساتھ داخل ہوئے ظہر کی جماعت اسی وقت شروع ہوئی تھی۔ امام کے پیچھے ہم دونوں نے ساتھ ہاتھ باندھے ہی تھے کہ یکایک میرے ساتھ کھڑے میجر جنرل کا جوال یعنی موبائل بجنے لگا۔ جناب نے دوران نماز، کمال مہارت سے جیب میں ہاتھ ڈالا، جوال نکال کر نمبر دیکھا اور سکون سے کان پر لگا کر بولے، بعد صلاۃؔ (یعنی نماز کے بعد ) اور پھر موبائل بند کر کے جیب میں رکھا اور امام کے ساتھ رکوع میں چلے گئے۔

ہمارے پاکستان کی کیا بات! ہم مسجد کی حرمت کا اتنا خاص خیال رکھتے ہیں کہ کہیں نماز میں موبائل نہ بجنا شروع ہو جائے مسجد ہی نہیں جاتے۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments