سر زمیں سندھ سے پریا کماری کو زمین کھا گئی یا آسمان؟
سکھر کے نواحی علاقے سنگرار سے تعلق رکھنے والی معصوم بچی پریا کماری اکتیس ماہ گزرنے کے باوجود تاحال بازیاب نہ ہو سکی ہے۔ تقریباً تین سال پورے ہونے کو ہیں کہ گڑیا جیسی بچی کے ورثاء اپنی لخت جگر کی اغوا پر مسلسل غم سے نڈھال ہیں اور وہ پریا کی جدائی میں زار و زار رو رہے ہیں۔
پریا کماری آج سے کوئی اکتیس ماہ پہلے سنگرار کے علاقے سے نو محرم کے دن اغوا کی گئی تھی اور تاحال اس کی کوئی خبر نہیں۔ گزشتہ کئی مہینوں سے فیس بک اور دوسری سوشل پلیٹ فارمز پر مسلسل پریا کی وہ وڈیو شیئر کی جا رہی ہے جس میں وہ محرم کے دنوں میں سبیل تقسیم کرتے ہوئے نظر آر رہی ہے۔ اور تو اور سوشل میڈیا پر پریا کی آزادی کے حوالے سے بہت سارے خاکے بھی چل رہے ہیں۔ جن میں اس ننھی بچی کی آزادی کے حوالے سے آواز اٹھانے کی اپیل کی جا رہی ہے۔
اس دوران اپنی بیٹی کی جدائی میں دھاڑ دھاڑ کر رونے والی ماں کے بھی بہت سارے وڈیوز جاری ہوئیں ہیں جن میں وہ ماتم کرتے ہوئے نظر آتی اور یہ کہتے نظر آتی ہیں کہ پریا کو آزاد کیا جائے ہم یہ دھرتی ہی چھوڑ جائیں گے۔ ادھر کئی مرتبہ مختلف پولیس افسر مغوی کے ورثا سے مل کر ان کو بچی کی بازیابی کا یقین دلا کر گئی ہے لیکن ابھی تک بچی قید و بند سے آزاد نہیں ہو سکی۔
پریا کماری کا کوئی اغوا برائے تاوان کان معاملہ نہیں، اگر ایسا ہوتا تو اغوا کرنے والے کب کے تاوان کی رقم طلب کر چکے ہوتے اور تو اور پریا کے ورثا بھی منہ مانگے پیسے ادا کر کے اپنی بچی کو آزاد کروا چکے ہوتے۔ لیکن یہ معاملہ اغوا برائے تاوان کا نظر نہیں آر رہا۔ تو پھر معاملہ ہے کیا؟ اس کے حوالے سے سوشل میڈیا پر بہت سی چہ میگوئیاں ہو رہی ہیں۔ جن کی تفصیل میں جانے سے گریز کرتے ہوئے صرف اتنا کہنا مناسب ہو گا کہ پریا کے اغوا میں سنگرار ہی کے علاقے سے تعلق رکھنے والے ایک با اثر شخص شاہد شاہ کا نام گزشتہ کئی مہینوں سے سننے میں آ رہا ہے۔
اور حال ہی میں جب سندھ کی سول سوسائٹی نے مختلف شہروں میں احتجاج اور دھرنے دینے شروع کیے اور سوشل میڈیا سے لے کر پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا تک پریا کی آزادی کے لیے آواز اٹھنے لگی تو شاہد شاہ کو بھی مجبوری میں میڈیا میں آنا پڑا اور اس نے میڈیا پر آ کر بچی کی اغوا کے حوالے سے تمام الزامات مسترد کر دیے۔ لیکن یہ بات یہاں پر ختم نہیں ہوتی۔ بات تو بہت دور تک نکل چکی ہے جس کے حوالے سے سوشل میڈیا پر ادھر ادھر کی بہت ساری باتیں پڑھنے کو مل رہی ہیں جن کو دہرانے سے کسی کی عزت نفس کو نقصان پہنچ سکتا ہے اس لیے اتنا ہی کہنا بہت ہے کہ پریا کے والدین کی خاموشی بہت کچھ بیان کر رہی ہے اور اس سے یہ اندازہ بھی لگایا جاسکتا ہے کہ بچی کو اغوا کرنے والا بڑا ہی طاقتور بندہ ہے اور اغوا کا مقصد تاوان نہیں بلکہ کچھ اور بھی ہے۔
پریا کی رہائی کے متعلق اس وقت ساری سندھ میں احتجاجی مظاہرے ہو رہے ہیں، یوں تو کراچی سے لے کر کشمور تک آئے دنوں بدامنی کی بہت سی باتیں سننے کو ملتی ہیں لیکن اس کے باوجود سارا سندھ پریا کی آزادی کے لیے اٹھ کھڑا ہوا ہے۔ سول سوسائٹی ہو یا ادبی اور سندھ کی قومپرست جماعتیں سب مل کر ننھی پری کی بازیابی کے لیے آواز بلند کر رہی ہیں۔
پریا کماری کے معاملے کو ایک لمحے کے لیے بھلا کر بھی دیکھا جائے تو پتا چلے گا کہ صوبہ سندھ میں امن امن کی صورت حال بہت ہی خراب ہے جس کی وجہ سے بڑی عمر والے لوگ تو عذاب میں ہیں ہی مگر معصوم بچوں اور بچیوں کی حالت بہت ہی تشویش ناک ہے، پھر وہ رانی پور کی فاطمہ پھرڑو ہو جسے پیروں کی حویلی میں عذاب دے دے کر مارا گیا تھا یا ٹھل کندھ کوٹ کی فضیلہ سرکی ہو جو 18 سال پہلے اغوا کی گئی تھی اور آج تک آزاد نہیں ہو سکی۔ فضیلہ کی بات تو اعلی عدالت تک بھی پہنچی تھی، کئی کمیٹیاں بنی، دن رات یہ معاملہ میڈیا پر آتا رہا اور پھر ایک دن سب اس کیس کو بھول بیٹھے۔ کہتے ہیں کہ فضیلہ کو بھی کسی بہت ہی طاقتور وڈیرے نے اغوا کروا کہ اپنی حویلی میں قید کر دیا ہے۔ بالکل اسی طرح جس طرح پریا کے حوالے سے خبریں سننے کو مل رہی ہیں۔
سندھ میں آج کل پریا کماری کی آزادی کی تحریک اپنے زوروں پر ہے، اس تحریک کو بڑھتے ہوئے دیکھ کر صوبہ سندھ کے کچھ وزراء کے بیانات بھی سامنے آئے ہیں جن میں انہوں نے بچی کی آزادی کی خاطری کروائی ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ پریا کب آزاد ہوتی ہے اور اس کو اغوا کرنے والوں کو کیا سزا دی جاتی ہے۔ اور اس طرح کے واقعات کی روک تھام کے لیے آئندہ کون سی حکمت عملی طے کی جاتی ہے۔


