یورپی سامراج کا براعظم افریقہ کی بندر بانٹ کرنا
رقبے اور آبادی کے لحاظ سے دنیا کے دوسرے بڑے براعظم افریقہ کے شمال میں بحیرہ روم، شمال مشرق میں آبنائے سویز اور بحیرہ احمر جنوب مشرق میں بحر ہند اور مغرب میں بحر اوقیانوس ہے۔ یہ 54 مکمل آزاد، دو نیم خودمختار ریاستوں اور آٹھ ایسے شہروں اور جزیروں، جو غیر افریقی ریاستوں کا حصہ ہیں، پر مشتمل ہے۔
افریقہ میں یوں تو قدیم یونانیوں۔ رومیوں اور عربوں نے بہت پہلے کالونیاں قائم کی تھیں۔ جن میں بعض صدیوں تک باقی رہیں جبکہ کافی عرصے سے بعض یورپی ممالک کی بھی افریقہ میں موجودگی رہی تھی مگر ان کی کالونیاں بیشتر افریقی ساحلوں تک محدود تھیں۔ 19 ویں صدی میں برطانوی جرمن اور فرانسیسی سیاحوں نے افریقہ کے اندرونی حصوں کو دریافت کیا تو یورپی اقوام کے لیے اس کی اہمیت بڑھ گئی اور کچھ عرصے بعد ان کے درمیان افریقی نوآبادیات کے لیے باہمی مسابقت شروع ہو گئی۔
1870 تک صرف 10 فیصد افریقہ یورپ کے باقاعدہ کنٹرول میں تھا۔ 1870 سے 1914 کے درمیان براعظم افریقہ پر سات یورپی سامراجی طاقتوں (برطانیہ۔ فرانس۔ جرمنی، اٹلی، اسپن، پرتگال، بیلجیم) کا تسلط اور یہاں کے ممالک کی باہمی تقسیم کو افریقہ کی بندر بانٹ (Scramble for Africa) کہا جاتا ہے۔ بندر بانٹ سے پہلے صرف جنوبی افریقہ اور شمالی افریقہ کے کچھ ساحلی حصوں پر برطانیہ، فرانس کے علاوہ اسپین اور پرتگال کا تسلط تھا۔
انگولا اور موزمبیق پر پرتگال کا قبضہ تھا۔ نپولیین جنگوں ( 1803 تا 1815 ) کے دوران برطانیہ جنوبی افریقہ میں کیپ ٹاؤن کی بندرگاہ پر قبضہ کر لیا تھا۔ شمالی افریقہ کے ممالک پر سلطنت عثمانیہ کی گرفت کمزور پڑنے کے باعث یورپ آ چکا تھا 1830 میں فرانس نے اپنے جہازوں پر الجیرین قزاقوں کے حملے رکنے کے لیے الجیریا پر حملہ کر کے قبضہ کر لیا تھا، الجیریا کے بحیرہ روم ساحل پر بہت سارے فرانسیسی آباد ہو گئے۔ 1870 کی دہائی تک یورپی اقوام کی افریقہ میں دلچسپی عمومی طور پر بہت کم تھی افریقہ کی بندر بانٹ کا آغاز 1879 میں بیلجیم کے بادشاہ ”لیو پولڈ دوم“ کے دریا کانگو کی وادی پر قبضہ کرنے سے ہوا۔
بیلجیم کے اس اقدام کے بعد 1882 میں فرانس نے دریا کانگو کے شمالی ساحل پر قبضہ جمایا۔ 1869 تک کسی دوسرے یورپی ملک کو شمالی افریقہ میں کوئی زیادہ دلچسپی نہیں تھی اس کے بعد افریقہ کے لیے یورپیوں کی دوڑ شروع ہوئی جس کے اہم اسباب میں صنعتی انقلاب کے بعد خام مال کی مانگ، نسلی قومی برتری، عیسائیت کا پرچار اور نئی ایجادات تھے
1869 میں فرانسیسی کمپنی نے نہر سویز تعمیر کیا۔ جس سے بحیرہ روم اور بحیرہ احمر کے درمیان لنک قائم ہوا۔ جس کے نتیجے میں بحر اوقیانوس اور بحر ہند کے درمیان بحری سفر براہ راست اور آسان تر ہو گیا۔ 1875 میں برطانیہ نے نہر سویز کی کمپنی میں حصص خریدے۔ تجارتی اہمیت کے پیش نظر نہر سویز کی نگرانی برطانوی خارجہ پالیسی کا اہم حصہ رہی۔ اسی کے تحت 1882 میں مصر میں جنگ چھڑ جانے سے برطانیہ نے علاقے پر قبضہ کر کے مصر پر تسلط قائم کیا۔
فرانس بھی افریقہ میں بڑی سلطنت قائم کا خواہاں تھا۔ افریقی ممالک پر قبضے کے لیے مسابقت سے یورپی اقوام کے درمیان باہمی جنگ کا خدشہ پیدا ہوا۔ اس کے تدارک کے لیے جرمن چانسلر بسمارک نے 1884 میں یورپی ممالک کے نمائندوں کی ”برلن“ میں کانفرنس منعقد کی۔ جس کا مقصد افریقی ممالک کی بندر بانٹ کے سلسلے میں اصول اور قواعد طے کرنے تھے۔ اور مقبوضہ علاقوں کی سرحدوں اور حدود کا باہمی تعین کرنا تھا انہوں نے یہ اتفاق بھی کیا کہ ان میں سے کوئی بھی ملک فوج بھیج کر افریقی زمین پر اسٹریٹجیک مقامات اور جگہوں پر قبضہ کر سکتا ہے۔
1985 میں جرمنی نے نمیبیا۔ توگو، کیمرون اور تنزانیہ پر قبضہ کر لیا۔ 1896 میں سوڈان کی طرف برطانیہ نے فرانس کی پیش قدمی رک دی جس پر وہ صحارا کے جنوبی خطے (وسطی، مشرقی، جنوبی اور مغربی افریقہ) پر متوجہ ہوا۔ مغربی افریقہ (نائجیریا، آئیوری کوسٹ، گیمبیا، گنی، گنی بساؤ، مالی، مورتیانیہ سینی گال، لائبیریا، گھانا، سیر الیون، ٹوگو وغیرہ) پر اگرچہ زیادہ تر تسلط فرانس کا رہا تاہم وہاں کچھ چھوٹی کالونیاں برطانیہ کے تحت بھی رہیں جبکہ دو کالونیاں جرمنی اور ایک پرتگال نے قائم کیں۔
وسطی افریقہ (چاڈ، کیمرون، کانگو، انگولا۔ استوائی گنی وغیرہ) پر زیادہ تسلط بیلجیم کا تھا۔ انگولا پر پرتگال کا قبضہ رہا اور کچھ کالونیاں جرمنی اور فرانس کی بھی تھیں۔ مشرقی افریقہ (کینیا، تنزانیہ، یوگینڈا، روانڈا، برونڈی، جنوبی سوڈان) میں برطانیہ اور اٹلی غالب تھے اور ایک کالونی فرانس کے پاس بھی تھی۔ جنوبی افریقہ ممالک (جنوبی افریقہ، زیمبیا، زمباوے، نمیبیا، ملاوی، ماریشس، جزائر قمر وغیرہ) میں برطانیہ کا تسلط تھا جہاں برطانیہ اور ”بوہر جمہوریہ“ (ڈچ آبادکاروں کی ریاست) کے درمیان تناؤ کے سبب 1880 سے 1902 تک وقتاً فوقتاً جنگیں ہوتی رہیں جن کو ”بوہر“ جنگیں کہا جاتا ہے۔
ان میں بالآخر برطانیہ کو فتح حاصل ہوئی۔ 1910 میں برطانیہ نے اپنی جنوبی افریقی کالونیوں کو سابقہ بوہر جمہوریہ کے ساتھ ملا کر ”جنوبی افریقہ کایونین“ قائم کیا جو برطانیہ سلطنت کا ڈومینین بنا۔ جنوبی افریقہ میں برطانیہ نے چند دوسری کالونیاں بھی بنائیں جبکہ جرمنی اور پرتگال کی بھی کچھ موجودگی رہی۔ فرانس نے 1896 میں ”ماداگسکر“ کا جزیرہ قبضے میں لیا۔ 1912 میں مراکش پر فرانس نے اور لیبیا پر اٹلی نے قبضہ کیا 1914 تک براعظم افریقہ میں آزاد ریاستیں صرف دو باقی رہ گئیں تھیں ایک لائبیریا جو 19 ویں صدی کی ابتدا میں آزاد امریکی حبشیوں نے قائم کی تھی اور دوسری مشرقی افریقہ کی ایتھوپیا کی قدیم بادشاہت تھی۔ ”زولس“ اور ”اشانتی“ جیسے بہت سارے افریقی قبیلوں نے یورپی تسلط کی مزاحمت کی مگر آخر میں یورپی براعظم افریقہ کو فتح اور تبدیل کرنے میں کامیاب ہوئے عیسائی مشنریز نے آ کر یہاں تعلیمی ادارے قائم کیے جبکہ صنعت کاروں نے ربڑ، ہیروں اور سونے کی صنعتیں لگائیں
افریقی ممالک کی آزادی۔ 1939 میں افریقہ میں صرف لائبیریا، مصر اور ایتھوپیا آزاد ریاستیں تھی۔ جنگ عظیم دوم کے بعد افریقی ممالک بتدریج آزادی حاصل کرنے لگے 1952 میں لیبیا نے اٹلی سے اور 1956 میں تنزانیہ اور مراکش نے فرانس سے آزادی حاصل کر لی مگر فرانس الجیریا کو آزادی دینے سے گریزاں تھا الجیرین نے ہتھیار اٹھا لیے۔ 6 سال کی خونریز جنگ کے بعد 1962 میں فرانس کے صدر جنرل ڈیگال کے دور میں الجیریا کو بھی آزادی مل گئی۔ سب صحرائی ممالک میں 1957 میں گھانا نے اٹلی سے آزادی حاصل کی۔ اگلے دہائی ( 60 ) میں زیادہ تر بقیہ براعظم آزاد ہو گیا۔ انگولا اور موزمبیق میں پرتگالی 1975 تک موجود رہے 1980 میں روڈیشیا (زمباوے ) نے اور 1994 میں جنوبی افریقہ نے برطانیہ سے آزادی حاصل کر لی۔
افریقہ پر کالونئیل دور کے اثرات۔ کسی بھی ملک یا خطے پر سامراجی تسلط کے بیشتر اثرات مضر اور منفی ہوتے ہیں۔ منفی اثرات 1 ) زمین اور آزادی سے محرومی 2 ) بیماریوں کا سامنا۔ 3 ) ۔ مزاحمتوں اور قحطوں کے باعث ہلاکتیں 4 ) ۔ روایتی کلچر کا زوال اور نتیجتاً سماجی عدم استحکام اور شناختی بحران۔ 5 ) ۔ تقسیم کی وجہ سے سرحدوں اور لوگوں کی مصنوعی اور غیر فطری گروہ بندی جس کے افریقی سماج۔ سیاست اور معیشت پر منفی مضمرات تاحال موجود ہیں
اگرچہ سامراجیت کا مغلوب اقوام پر مجموعی اثر فائدہ کے بجائے زیادہ تر منفی اثرات کا ہوتا ہے۔ تاہم اس کے ساتھ اس کے کچھ مثبت پہلو بھی ہوتے ہیں۔ افریقہ کے لیے اس کے کچھ مفید اثرات بھی رہے۔ ( 1 سامراجیت کی وجہ سے مقامی جنگیں کم ہوئیں ( 2۔ بعض جگہوں پر انسانی بنیادوں پر صحت اور تعلیمی حوالوں سے بہتری آئی۔ ( 3 تجارتی مانگ بڑھنے سے افریقی پیداوار کی قدر بڑھ گئی ( 4۔ تجارتی مقاصد اور مفادات کے لیے تعمیر کردہ انفراسٹرکچر سے کسی حد تک افریقی بھی مستفید ہوئے


