جہاں شناس

گلے پر تیز دھار خنجر پھرنے سے نرخرا کٹ چکا تھا جو مسلسل تھرتھراتے ہوئے وقفے وقفے سے عجیب آوازیں نکال رہا تھا۔ رات کے پچھلے پہر چارپائی کے قریب کھڑی جہاں شناس بستر پہ نیم مردہ جسم کو بغور دیکھتے ہوئے ہانپ رہی تھی۔ ملگجا حلیہ ، بکھرے بال اور چہرے پر خون کے چھینٹے پڑنے سے کسی وحشی درندے کا گماں ہوتا تھا۔ اس کی آنکھوں میں آگ اور نتھنے پھولے ہوئے تھے۔ چارپائی کے عین اوپر لمبی

Read more

دیہات میں نوجوانی کی منہ زور محبت

زمانے بیت گئے بے فصیل دل محلہ کسی فاتح کی توجہ حاصل کر سکا نہ کوئی مسافر دم بھر کو رکا۔ یادوں کی بے قفل حویلی پر نقب لگی نہ کسی مکڑی نے جالا تن کر اسے قصہ پارینہ بنانے کی جرات کی تھی۔ چٹخنی کے تکلف سے آزاد ماضی کی کھڑکی کسی مانوس چاپ پر باہر بند گلی میں کھلتی رہی، آہٹوں کے لاشے گرتے رہے، سماعتوں کے زخم رستے رہے روایات کے ماتھے پہ بل آئے نہ کھڑکی

Read more