جہاں شناس
گلے پر تیز دھار خنجر پھرنے سے نرخرا کٹ چکا تھا جو مسلسل تھرتھراتے ہوئے وقفے وقفے سے عجیب آوازیں نکال رہا تھا۔ رات کے پچھلے پہر چارپائی کے قریب کھڑی جہاں شناس بستر پہ نیم مردہ جسم کو بغور دیکھتے ہوئے ہانپ رہی تھی۔ ملگجا حلیہ ، بکھرے بال اور چہرے پر خون کے چھینٹے پڑنے سے کسی وحشی درندے کا گماں ہوتا تھا۔ اس کی آنکھوں میں آگ اور نتھنے پھولے ہوئے تھے۔ چارپائی کے عین اوپر لمبی
Read more
