چین امریکہ تعلقات: زاویہ نظر بدلنے کی ضرورت


2 اپریل کو چین کے صدر ژی جن پھنگ اور امریکہ کے صدر جو بائیڈن کے درمیان ایک ٹیلیفونک رابطے میں چین امریکہ تعلقات کے حوالے سے کئی امور پر گفتگو ہوئی اور ایک بار پھر یہ طے کیا گیا کہ دونوں ممالک ایک دوسرے کے باہمی احترام اور فائدے کے لئے مل کر کام کریں گے اور ایسے عوامل سے بچا جائے گا جس سے تعلقات میں کشیدگی پیدا ہو۔ امریکہ کی جانب سے سیمی کنڈکٹر چپس کے معا ملے پر حالیہ امریکی اقدامات کو چین میں براہ راست تجارتی اور معاشی رکاوٹ کے طور پر سمجھا جا رہا ہے اور چین نے کئی ممالک کے ساتھ اس معاملے کو عالمی سطح پر اٹھایا ہے کہ عالمی تجارتی معاملات میں مسابقت کا مقابلہ جائز اور پیشہ ورانہ طور پر کیا جائے۔

ایک اور اہم معاملہ امور تائیوان میں امریکی طرز عمل بھی ہے جسے چین میں چین امریکہ تعلقات کی ریڈ لائن کہا جاتا ہے۔ امریکہ کی جانب سے بظاہر چین کے ساتھ کوئی امریکی تنازعہ نظر نہیں آتا لیکن اس کے باوجود سیاسی اور تجارتی سطح پر عالمی منڈی میں امریکی رویہ تعلقات میں سرد مہری کی وجہ بن جاتا ہے۔ گزشتہ ایک دہائی کے دوران واشنگٹن کے بہت سے سیاست دانوں اور اسکالرز نے چین اور امریکہ کے مستقبل کو تشکیل دینے کے لیے ایک مروجہ بیانیے کو اپنایا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ چین کا عروج امریکی بالادستی کے لیے براہ راست چیلنج ہے، جو ایک ابھرتی ہوئی طاقت اور ایک مستحکم طاقت کے درمیان بہت سی جنگوں اور تنازعات کی یاد دلاتا ہے، جیسے قدیم یونان کے دو شہروں کی ریاست ایتھنز اور اسپارٹا کے درمیان تاریخی جنگ۔ لیکن حالیہ دنوں امریکی اکیڈمک اور اسٹریٹجک سرکل لے نمائندوں نے بیجنگ میں چین کے صدر شی جن پھنگ سے ملاقات کی اور اس ملاقات میں اس خاص نظریے سے گزیر کی ضرورت تسلیم کی ہے۔

شی جن پنگ کے ساتھ ملاقات کے دوران انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ان کے قریبی اقتصادی انحصار کے پیش نظر امریکہ اور چین دونوں پرامن بقائے باہمی اور باہمی ترقی کے ذریعے ہی پھلنے پھولنے کے خواہاں ہیں۔ ”تھوسیڈائڈس ٹریپ“ نامی نظریہ کیوں مسترد کیا جا رہا ہے؟ چین کا ماننا ہے کہ بنیادی طور پر یہ زیرو سم کی ذہنیت پر منحصر ہے۔ یعنی ایک ایسا نقطہ نظر جو بین الاقوامی تعلقات کو ایک ابدی مسابقت کے طور پر دیکھتا ہے، جہاں ایک قوم کی ترقی فطری طور پر دوسری قوم کی ترقی کو کمزور کرتی ہے۔ شاید اسی لئے چینی صدر نے سان فرانسسکو میں ہونے والی ملاقات میں صدر بائیڈن سے کہا تھا کہ دنیا بہت بڑی ہے اور اس میں مواقع بھی بہت ہیں لہذا کسی ایک ملک کی جیت سے دوسرے ملک کی ہار نہیں ہو سکتی۔

حالیہ ملاقات میں بھی انہوں نے امریکی اکیڈمک اور اسٹریٹجک سرکل کے نمائندوں سے کہا کہ چین۔ امریکہ تعلقات دنیا کے سب سے اہم دوطرفہ تعلقات میں سے ایک ہیں، اور چین اور امریکہ کے درمیان تعاون یا محاذ آرائی کے تعلقات ہیں یا نہیں، اس کا انحصار چینی اور امریکی عوام کی فلاح و بہبود اور انسانیت کے مستقبل پر ہے۔

گزشتہ 45 برسوں کے دوران چین امریکہ باہمی تجارت میں 200 گنا سے زائد کا اضافہ ہوا ہے۔ 70,000 سے زیادہ امریکی کمپنیوں نے چین میں سرمایہ کاری اور کام کیا ہے، اور تقریباً 90 فیصد آپریشنز منافع بخش رہے ہیں۔ اپنے تزویراتی عزائم کے حوالے سے چین نے نوآبادیات اور استحصال کے فرسودہ طریقوں کو ترک کرنے کے ساتھ ساتھ بالادستی کے حصول کو مسترد کرنے کا عہد کیا ہے۔ چین کا ماننا ہے کہ اس کا امریکہ کی جگہ لینے کا کوئی ارادہ نہیں اور اس کے ترقیاتی اہداف چینی عوام کی فلاح و بہبود کو مسلسل بہتر بنانے اور عالمی پائیدار ترقی میں خاطر خواہ کردار ادا کرنے پر مرکوز ہیں۔

جوں جوں گلوبل ساؤتھ بیدار ہوتا ہے اور ترقی پذیر ممالک عروج پر پہنچتے ہیں، یونی پولر دنیا کے ماضی کی طرف لوٹنا ناممکن ہو جاتا ہے۔ چین اور امریکہ کے تعلقات کے پرانے دن واپس نہیں آ سکتے لیکن یہ تعلقات ایک روشن مستقبل کو گلے لگا سکتے ہیں۔ لیکن ایسا اسی وقت ہو سکتا ہے جب دونوں ایک دوسرے کو شراکت دار کے طور پر دیکھیں اور باہمی احترام کا مظاہرہ کریں۔ امن کے ساتھ مل جل کر ر ہیں اور جیت کے نتائج کے لئے تعاون کرتے ر ہیں۔

Facebook Comments HS