عبادت گاہیں، بچوں سے ناانصافی اور ملزموں کے پیر بھائی
وطن عزیز کی فضاوں سے آج کل کچھ اچھی خبریں نہیں آ رہی ہیں، روز ایک ایسی خبر ملتی ہے جس سے دل دہل جاتا ہے اور ذہن اندیشہ ہائے دور دراز میں گھِر جاتا ہے، اور میں سوچنے لگتا ہوں کہ آخر ہم کس طرف چل پڑے ہیں۔ ابھی ہم چارسدّہ کے اس واقعے کی، جس میں اسکول میں پاس ہونے والے بچے کی ہوائی فائرنگ سے اس کی اپنی والدہ جاں بحق ہوئی تھی، خبر کے صدمے سے باہر نہ آئے تھے کہ آج 3 اپریل 2024ئی ایک اور شرمناک واقعے کی خبر سننے کی ملی۔
آج جیو نیوز کی ایک خبر کے مطابق کوٹ ادو کی مسجد میں ایک کم سن بچہ اعتکاف میں بیٹھا ہوا تھا، اعتکاف میں بیٹھے ایک اور نوجوان کے جنسی زیادتی کا شکار ہوا۔ سحری کے وقت جب باپ اپنے بچے سے ملنے گیا تو بچہ رو رہا تھا، پوچھنے پر اس نے رات کو اس کے ساتھ ہونے والی زیادتی کے بارے میں بتایا۔ یہ خبر سن کر میرے تو ہوش اُڑ گئے اور چند لمحوں کے لیے میں سکتے میں آ گیا تھا۔
مجھے تو اس بات پر حیرت ہے کہ کیا پورے محلے میں کوئی بزرگ نہیں تھا جو اعتکاف میں بیٹھتا، آخر ایک کم سن بچے کو اعتکاف میں بیٹھنے کی اجازت ہی کیوں دی گئی وہ بھی ایک نوجوان لڑکے کے ساتھ۔ دوسرا سوال یہ ہے کہ مسجد انتظامیہ نے مسجد میں بچے کے ساتھ ایک نوجوان کو اعتکاف کرنے کی اجازت دیتے وقت بچے کے تحفظ کو یقینی بنانے کا بندوبست کیوں نہ کیا (مولوی صاحب یا مسجد کمیٹی کا ایک بزرگ رکن کو بھی اعتکاف میں بیٹھ جانا چاہیے تھا) ۔ یہ مسجد انتظامیہ کو ذمہ داری ہے کہ اعتکاف کی اجازت دیتے وقت تمام پہلوؤں پر غور کرے۔
ویسے تو جنسی زیادتی کہیں بھی ہو قابل مذمت اور ناقابل برداشت ہے لیکن مقام، وقت اور حالت کی وجہ سے گناہ کی سنگینی میں کئی گنا اضافہ ہوجاتا ہے۔ آپ تصور کریں رمضان کے مبارک مہینے کا آخری عشرہ جس میں لیلتہ القدر کی طاق راتیں بھی شامل ہیں اور مسجد میں اعتکاف کی حالت، ایسے میں انسان کا وحشی درندہ بن جانا (جب کہ شیطان بھی قید میں ہو)، یہ سوچ کر ہی جسم کے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔
اسی خبر کی گونج میں ایک اور خبر بھی سننے کو ملی کہ کچھ عرصے پہلے تاندلیاں والا (فیصل آباد) کے ایک دینی مدرسے میں ایک کمسن بچے کی ساتھ قاری نے زیادتی کی کوشش کی جسے بچے کے باپ نے رنگے ہاتھوں پکڑ لیا، بعد میں قاری صاحب گرفتار ہو گئے۔ اب بچے کے باپ نے مولانا ابتسام الہٰی ظہیر کی ثالثی میں ملزم سے صلح کر لی ہے۔ میں یہاں ایسے مولویوں کے رویے کو منافقانہ تو نہیں کہوں گا لیکن دہرا معیار ضرور کہوں گا۔ دوسروں کو گناہ سے بچنے کی تلقین کرنے والے جب اپنے پیر بھائی کو ایسے سنگین گناہ کرتے دیکھتے ہیں تو میدان میں کود کر ان کی جان بخشی کی کوشش کرتے ہیں اور معاملے کو معافی تلافی کے ذریعے رفع دفع کرواتے ہیں۔
2019ء میں ایسا ہی ایک واقعہ مانسہرہ میں پیش آیا تھا جس میں مرکزی ملزم قاری شمس الدین نے مدرسہ تعلیم القرآن میں زیر تعلیم 10 سالہ طالب علم سے زبردستی جنسی زیادتی کرنے کے بعد اپنے دیگر ساتھیوں کے ساتھ مل کر اس جسمانی تشدد کا نشانہ بھی بنایا تھا۔ مفتی کفایت اللہ نے پہلے تو جنسی زیادتی کے ملزم کو اپنے گھر میں چھپا کر رکھا لیکن جب وہ پکڑا گیا تو اپنا اثر رسوخ استعمال کر کے متاثرہ خاندان کو مجبور کیا کہ ملزم سے صلح کر کے اسے معاف کر دیں، تصفیہ نہ کرنے کی صورت میں انھوں نے بچے کے والدین کو دھمکیاں بھی دیں (یہ الگ بات ہے کہ بچے کے والدین نے تصفیہ کرنے سے انکار کر دیا) ۔ ہمارے علما کے (سب کے نہیں) اس طرزِ عمل سے مساجد اور مدارس میں بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے واقعات کی تدارک نہیں ہو سکی، جس سے ان مقدس اداروں کی ساکھ خراب ہو رہی ہے۔
ایسے درندہ صفت آدمیوں (ایسے لوگوں کو انسان لکھنا بھی انسانیت کی تذلیل ہے) کی وجہ سے معاشرے کے باشعور لوگوں میں خوف و ہراس پھیل رہا ہے، ہم اپنے کم سن بچوں کے مدرسوں میں قرآن شریف پڑھنے کے لیے بھیجتے وقت 100 مرتبہ سوچنے پر مجبور ہیں۔ یہ ہمارے علمائے حق کی ذمہ داری ہے کہ آگے بڑھ کر اپنے زیرِ انتظام مساجد کی نگرانی کا ایک ایسا نظام وضع کریں جس سے اس قسم کے واقعات کا تدارک ہو سکے۔ ہمیں یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ مساجد اور مدارس کی مثال سفید لباس کی ہے جس پر چھوٹا سا داغ بھی لگ جائے تو نمایاں ہوجاتا ہے ( نہ کہ ایسا بدنما دھبہ) لہذا اس لباس کو پہننے والوں پر لازم ہے کہ اپنے آپ کو مٹی، دھول، گندگی اور کیچڑوں سے دور رکھیں ورنہ ان پر انگلیاں اٹھتی رہیں گی۔ مجھے امید ہے کہ میرے اس مضمون کو مذہبی حلقے مثبت انداز لیں گے کیوں کہ میرا مقصد کسی کو بلاوجہ ہدفِ تنقید بنانا نہیں بلکہ معاشرے میں پھیلے سنگین برائی کی نشاندہی کرنا ہے۔


