استاد کی تذلیل بند کریں
کسی انسان کو خوشی قسمتی سے کوئی بڑا عہدہ مل جائے یا وہ چوہدری بن جائے تو وہ اپنا دبدبہ اور روب ہمیشہ ماتحتوں اور مسکین لوگوں کو لازمی دکھاتا ہے۔ ان کا تکبر اور مغرور سے لبریز رویہ اخلاقیات سے گرا ہوتا ہے۔ تاریخ کے چند سال پہلے کے صفحات کو پرکھتے ہیں، 2002 کے بعد ہر سیاست دان اور بیوروکریٹ نے ہمیشہ اساتذہ کی تذلیل کرنے کی کوشش کی ہے۔ اس کی بنیاد جنرل پرویز مشرف کے دور میں ان کے حکم سے وزیر اعلی پنجاب چوہدری پرویز الٰہی نے ”مار نہیں پیار“ کا نعرہ لگا کر رکھ دی تھی۔
اس ”سلوگن“ نے استاد کے مقام و مرتبہ کو زوال کی پستی کی طرف لانے میں سب سے زیادہ کردار ادا کیا ہے۔ ایجوکیٹرز کے نام پر بھرتی کی گئی، اس میں بھی استاد کی جگ ہنسائی کی بنیاد رکھی گئی۔ جس میں مستقل کی جگہ غیر مستقل بنیادوں پر بھرتی کر کے استاد کے مقام و مرتبہ کی توہین کی گئی۔ پنجاب میں بیس فیصد بوائز سکولز کو گرلز سکولز میں ضم کر کے ماڈل سکول بنائے گئے۔ مرد اساتذہ کی جگہ خواتین اساتذہ کو ترجیح دی گئی۔
پنجاب ایجوکیشن فاؤنڈیشن جیسے ادارے کو تقریباً دس ہزار سکولز دے کر اساتذہ کی بے توقیری کے جھنڈے گاڑے گئے۔ قصہ مختصر ہر حکومت میں ایسے ہتھکنڈے استعمال کیا گئے جس سے استاد کی تذلیل ہوتی رہے اور یہ سلسلہ اپنی روایت سے بڑھتا چلا آ رہا ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت نے اپنی چار سالہ دور حکومت میں ایک بھی استاد کو بھرتی نہ کر کے گھٹیا ترین مثال قائم کی ہے۔ نگران حکومت نے تمام حدیں پار کرتے ہوئے اساتذہ کو فروخت کرنے کا منصوبہ بنایا ہوا تھا وہ تو اساتذہ تنظیموں نے احتجاجی دھرنے سے اس کو ناکام بنانے کے لیے تحریک چلائی تو کسی حد تک اس سے چھٹکارا حاصل کیا گیا مگر تلوار اب بھی سروں پر لٹک رہی ہے۔
سازشی منصوبے اور پلان کے مطابق نگران وزیر اعلی محسن نقوی نے چند سکولز کا وزٹ کر کے اساتذہ کی تذلیل کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی تھی۔ ہر جگہ پر اساتذہ کو قصوروار قرار دیا گیا جبکہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔ تدریسی فرائض کے علاوہ حکومت کو بے شمار خدمات کے لیے اساتذہ ہی نظر آتے ہیں۔ غیر تدریسی خدمات سے بھی استاد جیسے لفظ کی توہین کی جا رہی ہے۔ مردم شماری، الیکشن کمیشن کی تمام سرگرمیاں، احساس سروے، ڈینگی ایکٹویٹیز، آٹے تقسیم پر مامور اساتذہ سے تدریسی فرائض میں کوتاہی کے ساتھ اس کے مقام و مرتبہ کی بھی توہین ہے۔
موجودہ وزیر اعظم شہباز شریف نے اپنے پنجاب کے دور حکومت میں دانش سکولز کی پشت پناہی کی، گورنمنٹ کے بہترین سکولز کو دانش کے حوالے کر کے اساتذہ برداری کی حوصلہ شکنی کی روایت ڈالی گئی۔ وزیر اعلی پنجاب مریم نواز صاحبہ اور وزیر تعلیم رانا سکندر حیات نے نقل کے نام پر جس طرح اساتذہ کی تذلیل کی ہے۔ اس کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے، مقام افسوس ہے کہ اب علاقے کا ہر ایرا غیرا نتھو کھیرا سیاست دان امتحانی مراکز کو چیک کرے گا۔
ڈپٹی کمشنر سے لے کر اسسٹنٹ کمشنر ہر کوئی امتحانی مراکز کی طرف دوڑ رہا ہے۔ گورنمنٹ کو اپنی پراپرٹی سمجھ کو پرائیویٹ کرنے کی سازش کو کامیاب بنانے کے لیے منفی ہتھکنڈے استعمال کیے جا رہے ہیں۔ عوام میں گورنمنٹ اساتذہ کے خلاف باقاعدہ مہم چلائی جا رہی ہے تاکہ ان پر چھری چلاتے وقت عوام کی طرف سے ردعمل نہ ہونے کے برابر رہے۔ انصاف آفٹر نون سکولز میں اساتذہ کو کم ترین اجرت دے کر تذلیل کی ایک ایسی مثال قائم کی گئی ہے کہ پوری کائنات میں اس کی نظیر نہیں ملتی ہے، اس تنخواہ پر بھی ٹیکس لگا کر حکومتی ایوانوں میں عیاشیاں کی جا رہی ہیں۔
ان حکمرانوں کے لیے ہی غالب نے کہا تھا ”شرم تم کو مگر نہیں آتی“ ان بائیس سالہ دور حکومت میں اساتذہ کی عزت و احترام اور حوصلہ افزائی کے لیے کوئی اقدامات کیے ہیں تو ان کی تفصیل سامنے لائی جائے۔ ہر نتائج کے بعد شوکاز، معطلی اور جرمانے سے اساتذہ کو ذلیل و رسواء کیا جاتا ہے۔ جرمانے اور بنیادی تنخواہ میں کٹوتی کر کے ذہنی اذیت کے ساتھ مالی نقصان بھی کیا جاتا ہے۔ پنجاب ایگزیمنیشن کمیشن کے زیر اہتمام جماعت پنجم اور ہشتم کے امتحانات کے بعد اساتذہ کی اپنی عزت بچانے کے لیے دوڑ لگ جاتی تھی۔
سنٹرز میں بچوں کو نقل کروانے کی روایت کی بنیاد پڑ چکی تھی۔ اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں ہے کہ استاد اپنے تدریسی فرائض میں کام چور یا غیر سنجیدہ ہے۔ اس میں حکومت کی ناقص پالیسیاں کارفرما ہیں۔ موجودہ صورت حال میں ہر سکول میں اساتذہ کی کمی ہے، فنڈز نہ ہونے کے برابر ہے۔ حکومت کی طرف سے دیے جانے والے فنڈز سے بجلی کے بل ادا نہیں ہو رہے ہیں۔ اکثر سکولز کی عمارتیں ناقص ہیں۔ طلباء کے لیے صاف پانی کی سہولت موجود نہیں ہے۔
ان سب وجوہات کے باوجود سرکاری اساتذہ اللہ تعالی کی رضا اور خوشنودی کے لیے اپنی مدد آپ اور مخیر حضرات کے تعاون سے طلباء کو بہترین تعلیم دے رہے ہیں بلکہ ضلعی اور ڈویژن سطح پر پوزیشن بھی حاصل کر رہے ہیں۔ میں وزیر اعظم سے یہ جاننے کی جسارت کرنا چاہوں گا کہ آپ مجھے سابقہ پانچ سال میں دانش سکولز میں کوئی ضلعی یا ڈویژن سطح پر کوئی پوزیشن ہی دکھا دے۔ صرف اور صرف اقربا پروری کو فروغ دیتے ہوئے اپنے سیاسی فوائد کے لیے اساتذہ کو ”قربانی کا بکرا“ بنا جا رہا ہے۔
پنجاب ایجوکیشن فاونڈیشن کے تحت چلنے والے ہزاروں سکولز کے استاد کو کم ترین تنخواہ دی جا رہی ہے۔ حکومتی پالیسی کے مطابق کم از کم تنخواہ 32 ہزار ہے، میں یہ دعوی سے کہہ سکتا ہوں کہ پورے پنجاب میں کسی بھی پنجاب ایجوکیشن فاونڈیشن کے سکولز کے کسی بھی استاد کو یہ تنخواہ نہیں دی جا رہی ہے۔ ایک مزدور کی کم از کم پندرہ سو دیہاڑی ہے اس حساب سے وہ 35 سے 45 ہزار کما رہا ہے اور پنجاب ایجوکیشن فاونڈیشن کا استاد بس 10 سے 20 ہزار کے درمیان گزارہ کر رہا ہے۔
استاد سرکاری ہو یا پنجاب ایجوکیشن فاونڈیشن کا اس نے علم کی روشنی سے بچوں میں نور پیدا کرنے کی کوشش کرنی ہے اور وہ اس میں کامیاب بھی ہو رہا ہے۔ پرائیویٹ سکول ایسوسی ایشن پنجاب کی پشت پناہی کرتے ہوئے وزیراعلی پنجاب اور وزیر تعلیم سرکاری اساتذہ پر نقل کا الزام ڈال دیا گیا ہے۔ منصوبے کے تحت طلباء کو تیار کر کے رشوت جیسا گھٹیا الزام لگایا جا رہا ہے۔ اس نقل کا غصہ اتارنے کے لیے لاہور بورڈ کے چیئرمین اور کنٹرولر کو عہدے سے برخواست کر دیا گیا ہے۔
اساتذہ تنظیموں نے اس کی بھر پور مذمت کی ہے۔ آئی ایم ایف کو خوش کرنے کے لیے اساتذہ کش پالیسیاں بنائی جا رہی ہیں۔ میں اگر اس قوم کے زوال کا سبب اساتذہ کی تذلیل کہوں تو بے جا نہ ہو گا، تاریخ اٹھا کر دیکھ لیں کہ جس قوم نے استاد کو عزت و تکریم سے نوازا ہے وہ ترقی کی منازل طے کرتی ہوئی اپنی منزل کو پا لیتی ہے۔ امریکہ، جاپان، جرمنی، چین جیسے ممالک کی ترقی کا سبب صرف اور صرف استاد کو اعلی ترین مقام دینا ہی ہے۔
ہمارا دین اسلام بھی معلم کو عزت و تکریم سے نوازنے کی تلقین کرتا ہے۔ اس لیے ایک اچھی اور مہذب قوم کا ثبوت دیتے ہوئے اساتذہ کو ان کو جائز حق دینے کے ساتھ معاشرے میں عزت و تکریم سے نوازنا ہو گا۔ مسلمان قوم ہونے کے ناتے حکومت اور قوم کو استاد کی تذلیل بند کرنی ہوگی ورنہ اس قوم کو تباہ و برباد ہونے سے کوئی نہیں بچا سکتا ہے۔



Excellent discussion with solid arguments.