گناہ کا اوتار
خدا کا یہ نیا تعارف کتنا پاورفل تھا۔ جب میں اپنی ذات میں پنپتے گناہ کا سراغ پا کر ڈر گیا اور عبادت کی خاطر تم مجھے معبد کی سیڑھیاں پر چڑھاتے لے گئیں۔ میں نے دیکھا کہ تمہیں قرآن کے مضامین پر زبردست دسترس ہے اور میری ازلی معصیت کی یاس بھی سند، تو تم نے مجھے تبدیل ہونے کا عندیہ دے دیا۔ لفظوں کو نوک پلک سنوارنے والے ڈے ڈریمر کو تم الٰہیات کا سبق دینے چلی تھیں۔ اور میری کتابیں جن میں میرے جیسے انسانوں کی تاریخ کا نوحہ درج ہے۔
یہ فیض، سٹریم آف کانشیئس نیس میں لکھنے والی ورجینیا وولف اور ن م راشد انہیں تم نے میری ذات سے کیسے جدا کر دیا کہ میری تخلیق کا مقصد محض آسمانوں میں بسنے والے کسی خدا بصیر کی مدح سرائی ہے۔ اسپتال کے گندے وارڈ میں مریضوں کے لہو اور پیپ کو چھونے اور صاف کرنے والے حقیر انسان کو تم حجاز مقدس میں اپنے لیے بہشت بریں کی فریاد کرنے کی دعوت کیسے دے سکتی ہو۔ زندگی کے اس وسیع کینوس میں سائنس کی برکات اور سال ہا سال کی مشقت کے بعد ملنے والی اس امید کی کرن کو تم نے اپنی کانسپریسی تھیوریز میں مد غم کر دیا ہے۔
انسانی نفسیات کس طرح ہٹ اینڈ ٹرائل کی چکی سے گزر کر نشونما پاتی ہے اور درد کی فزیالوجی جہاں اڈاپٹیشن سرے سے موجود ہی نہیں۔ کیسے میں جہادی جذبے سے سرشار ہو کر اپنے جیسے کسی انسان کی رگ جان پر چھری پھیر دوں۔ اور مجنون گروہ میں شامل ہو کر کسی بے گناہ کی ماب لینچنگ کر دوں۔ تم شریعت کے حدود کی پردہ دار جبکہ میں رنگ، لکیر اور روشنی کو اپنی پوروں سے چھونے والا پتنگا۔ میں تیرے فوق البشر کے معیار پر پورا نہیں اتر سکوں گا۔
اس لیے قبل اس کہ میری ذات کی کومل لو تیرے الہامی الاؤ میں اپنا دم توڑ دے۔ میں تیری غلامی کا بندھن توڑ کے بھاگ جاؤں گا۔ ایک ایسی دنیا میں جہاں میری اور میرے باپ کی قربانی کو ذرا برابر بھی شناخت نہ ملی۔ جہاں سال ہا سال کی ریاضت اور خدمت کو کسی کسی مخفی محرک اور مالی فائدے کی امید سے نتھی کر دیا جاتا ہے۔ جہاں دشنام طرازی ہی نیا طرز اخلاق ہے اور نیک نیتی جرمانے اور لائف ٹائم غلامی اور بھتے کی نوید۔
وہاں صدق و وفا کی کومل کلیاں پروان نہیں چڑھتی۔ جس معبد میں کیے جانے والا چندہ کسی غنڈے کے اسلحہ اسکواڈ کو پیٹ بھرنے پر خرچ ہو جائے اس معبد سے نوکری، کتاب اور فرار کی ریت اچھی۔ مجھے شایاں نہیں کہ تیرے معبد پر اپنے لہو اور گوشت سے ایثار کروں اور دھتکارا بھی جاؤں۔ میں تیری فرد عمل سے اپنی یاسیت کو جدا کرتا ہوں اور کسی ایسی سرزمین میں پناہ چاہتا ہوں جہاں میرے جیسے گنہگار چارٹر آف ہیومن رائیٹس بنائیں، فلاحی ریاست کے ڈھانچے پر قائم ہوں۔
اور انسانیت کے وقار اور ترقی کے اس نئے مذہب کو اگر میں اپنی کارگزاری پیش بھی کروں گا تو وہ میرے چولہے، اور بستر مرگ پر آرام دہ موت کی ضمانت اٹھائے گی۔ تا وقت یہ کہ صور پھونکا جائے تو میں بارگاہ ایزدی میں پھر اپنے ازلی گناہ کا اقرار کرنے لایا جاؤں۔ اور وہ میری فریاد کو جھٹلا دے۔ کیونکہ میں نے اُسکی بتائی کچھ رچوئلز کو ادا نہیں کیا اور ان کو آڑ میں انسانیت سوز جرائم کے ارتکاب سے باز رہا۔ یا میں تہجد میں اٹھ اٹھ کر اپنی نیک نامی کی شیخی بھگارنا بھول گیا۔
اگر دلوں کے آبلوں پر ہی چل کر مجھے تو، اور تیرے الہٰ کی بہشت بریں ملے گی تو مجھے میری فرد جرم مبارک۔ تیری چاہت کا کیڑا جو مجھے ایک عرصے سے کاٹ رہا تھا۔ آج اس کے پس پردہ گھناؤنی سازش مجھ پر آشکار ہوئی۔ میں تیری صورت سے انکاری ہوں۔ اور 1984 کے ڈسٹوپیا کی طرح اپنی ان ڈائنگ فائڈلٹی کے ساتھ میں بھی اپنے بگ برادر سے پیار کا دم بھرتا ہوں، کون جانے جب فیض ’ہم اہل صفا مردود حرم‘ کا نعرہ لگائے گا تو دھتکار کے سینے سے کون کون سے افسانے نکلیں گے۔ کیہڑا جانڑیں تیریاں رمزاں۔


