ڈاکٹر اعظم سمور: فخرِ چکوال


چکوال کے سرکاری اسپتال میں گزرنے والے شب و روز بڑے یادگار رہے۔ یہاں ملنے والے دوستوں اور ان کی بے لوث محبت سے میرا لاہور کی بجائے چکوال کے سرکاری اسپتال سے علاج معالجہ کروانے کا فیصلہ بے حد مفید اور درست ثابت ہوا۔ یہاں نوجوانوں سے لے کر بڑوں تک ہر عمر کے اعزا و یاروں سے بڑا پیار محبت کا سلسلہ رہا۔ خاص کر ملک کاشف اعوان اور علی خان کے ساتھ ساتھ ڈاکٹر اعظم سمور کے ساتھ اسپتال کے صبح و شام اور بھی یادگار بن گئے۔

ڈاکٹر اعظم سمور 32 سال کی عمر میں ضلع چکوال کے پڑوس میں موجود ایک سرسبز و شاداب گاؤں دولت پور سے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے چکوال منتقل ہو گئے اور اس جنت نما ٹکڑہ زمین کو مُشک بار بنانے لگے۔ ڈاکٹر اعظم سمور ENT سپیشلسٹ ہیں اور بنا کسی ڈیجیٹل اکاؤنٹ ہولڈنگ یا دیگر ڈیجیٹل اشتہار بازی کے ضلع چکوال کے طول و عرض میں برابر مشہور ہیں۔ میں نے انھیں آج منعقدہ مختصر الوداعی تقریب میں بھی یہ بات بتائی کہ چکوال میں پیدا ہونے کی وجہ سے گھٹی ڈلنے کے بعد جس پہلے ڈاکٹر کا نام کانوں میں پڑا وہ ڈاکٹر اعظم سمور ہی تھے۔

سمور کی وجہ سے میرے لاشعور میں ان کا بڑا ڈراؤنا سا خاکہ بنا ہوا تھا مگر جب ان سے تعارف ہوا اور رسم و راہ میں بتدریج اضافہ ہوتا گیا تو میں نہ صرف ان کے عظیم دانشورانہ خیالات، روشن خیالی، خوش مزاجی، تاریخی شعور، ادبی ذوق اور اپنی اصل سے جڑ کی طرح جُڑے ہونے سے متاثر ہوا بلکہ اس کے ساتھ ساتھ ان کی بھاری مونچھوں سے برآمد ہونے والے طاقتور تبسم سے بھی گھائل ہوتا گیا۔ بدھا، مہاویر اور چارواک کے تاریخی و شعوری موازنے سے لے کر پاکستان کے عمیق عصری مسائل کے ادراک اور پھر ہند و پاک کی جغرافیائی اور زمانی تقسیم و تاریخ تک کوئی موضوع ایسا نہیں جس پر ڈاکٹر اعظم سمور کا گہرا مطالعہ نہ ہو۔ اسی لیے جب جب ان سے ملنے کا موقع ملتا ہے میں اسے موقع غنیمت جانتے ہوئے کسی ایسے ہی تاریخی وقوعے کو چھیڑ کر اس پر ان کے وچار سانجھے کرتا ہوں۔

ڈاکٹر صاحب نے آج اس مختصر تقریب میں بتایا کہ جب وہ اس سرکاری اسپتال میں داخل ہوئے تھے تو بھرپور نوجوان تھے اور ہرن کی سی پُھرتی سے اسپتال کی جوائننگ دینے آئے تھے، تب انھوں نے خود سے یہ عہد کیا تھا کہ جب میرا دانہ پانی یہاں سے اُٹھے گا یعنی اس ملازمت سے سبکدوش ہونے کی ساعت آئے گی تب تک اِسی سُرعت اور پھرتی کو برقرار رکھوں گا، سو پھر گویا ہوئے اور ہمیں مطلع کیا کہ آج بھی اس محفل میں آنے اور اپنے دورِ ملازمت کے آخری روز کے فرائضِ سرانجام دینے کے لیے جب وہ آئے تو اسی پُھرتی اور تیزی سے دوڑتے ہوئے اسپتال کی سیڑھیاں چڑھیں، حتی کہ بعض دفعہ تو دو، تین یا چار چار زینے اکٹھے چڑھتے گئے۔

وہ اس بات پہ اپنی بھاری مونچھوں تلے پھیلے بھاری تبسم کو مسلسل ہونٹوں پہ سجائے اس اہم سنگِ میل کو عبور کرنے میں کامیاب ہونے پر سرمست و شاداں تھے۔ ہم سب نے ان کی اس قدر مستقل مزاجی کی داد دی اور حیران بھی ہوئے کہ ڈاکٹر صاحب کے چہرے پہ کہیں ملازمت سے سبکدوشی پر پیدا ہونے والے معنی خیز فکرمندی و مایوسی کے تاثرات نہیں تھے۔ الٹا وہ خوش تھے کہ اب انھیں آوارہ گردی کرنے کے وافر مواقع میسر ہوں گے۔

اسپتال میں میرے علاج معالجے اور دیکھ بھال کو میرے بڑے پیارے بھائی ملک کاشف اعوان کے ساتھ ساتھ ڈاکٹر اعظم سمور بھی بغور دیکھ رہے تھے، جب میری سرجری مکمل ہو چکی تو ڈاکٹر صاحب اور کاشف بھائی فوراً میرا حوصلہ بڑھانے اور پہلا چیک اپ کرنے آ موجود ہوئے، گو میری سرجری کا ان کے شعبے سے براہِ راست تعلق تو نہ تھا مگر بطور فزیشن ان کے تجربات سے بھرپور مشورے بہت قیمتی ثابت ہوئے سو اس بنیاد پر میں زبردستی یہ اعزاز اپنے نام کرنا چاہوں گا کہ چکوال کے اس مایہ ناز ڈاکٹر کی مدتِ ملازمت کا آخری مریض میں ثابت ہوا۔ اُدھر اِن کا آخری ورکنگ ڈے شروع ہوا اور اِدھر مجھے ڈسچارج سلپ تھما دی گئی۔ اِس حادثاتی مماثلت نے ہمارے دوستانے اور تعلق کو مزید دلچسپ اور پیار بھرا بنا دیا ہے۔

ڈاکٹر اعظم سمور کے ساتھ میں اپنی دوستی کا ذکر کروں تو یہ ذکر چکوال کے معروف صحافی علی خان کی بذلہ سنج گفتگو، نظم گو شاعر و ناول نگار ملک کاشف اعوان کے فکر انگیز لطیفوں اور تجزیوں اور کہیں کہیں ہمارے دوست وقاص منہاس کے کنوارے پن سے بھرپور تبصروں کے بنا ادھورا رہے گا۔ ڈاکٹر صاحب کے ساتھ دوبدو ملاقاتیں تو چار پانچ ہی ہوں گی مگر اس کے علاوہ جب جب ملے ان دوستوں میں سے اکثر سبھی اور کبھی کبھار کوئی نہ کوئی ایک تو لازمی موجود ہوا۔

ہمارے مکالمے ہمیشہ تاریخ و ثقافت، چکوال کی تاریخی و جغرافیائی اہمیت، دھنی پنجابی کے متروک الفاظ اور دھنی پنجابی ادب کے فروغ کے متعلق ہی رہے۔ ان ملاقاتوں میں اکثر ڈاکٹر صاحب، ملک کاشف اعوان، علی خان اور کبھی کبھار میری تخلیقات پر تنقیدی و تخلیقی مباحث بھی ہوتے آئے ہیں۔ آج کل یا یوں کہیے میرے اس دورۂِ چکوال پر میری تخلیقات خاص طور پر تنقیدی گولہ باری کی زد میں ہیں اور اس کی وجہ میری دانستہ کوتاہی، سہل پسندی اور لاپرواہی کے عناصر ہیں چونکہ میں نوجوانی کے زُعم میں اکثر الفاظ بنا احتیاط کے استعمال کر جاتا ہوں مگر یہ تینوں تجربہ کار تخلیق کار اس سماج میں ایسی فکری لاپرواہی یا روشن خیالی کا بُھگتان دے چکے ہیں سو وہ مجھے سُدھارنے کے لیے میری تخلیقات کو تنقید کا خوب تختۂِ مشق بناتے ہیں۔

ڈاکٹر اعظم سمور، ملک کاشف اعوان اور علی خان کے ساتھ بیٹھک کرنے میں اس قدر فکری عیاشی کا ساماں ہوتا ہے کہ ہزاروں کتابیں ایک طرف اور ایسے مباحث ایک طرف۔ مجھے چکوال میں ان کی دوستی کسی نعمتِ غیر مترقبہ سے کم نہیں لگتی۔ دنیا جہاں کی شخصیات، مقامات، افکار اور معاملات و ترجیحات پر سیر حاصل گفتگو ہوتی ہے۔ خاص کر اس رمضان میں بوجوہ بیماری میرا اسپتال کا چکر روزانہ کی بنیادوں پر لگتا رہا اور اس دوران اِنھی دوستوں کے ساتھ جو محفلیں سجیں ان کا لطف تادیر قائم رہے گا، وہ کیسا لطف تھا، یہاں بیان اس لیے نہیں کر رہا کہ کل پھر ان احباب کے تنقیدی تختہ دار پر لٹکا نہ دیا جاؤں۔

آج ڈاکٹر اعظم سمور کا چکوال کے سرکاری اسپتال میں مدتِ ملازمت کا آخری دن تھا اور یوں چکوال کا یہ معروف اسپتال ایک مستعد، پیشہ ورانہ مہارت میں کمال رکھنے والے دیانتدار ڈاکٹر سے محروم ہو گیا۔ اسپتال میں دیگر کئی پیشہ ورانہ سنگِ میل عبور کرنے کے ساتھ ساتھ ڈاکٹر صاحب کا ایک تاریخی کارنامہ یہ بھی ہے کہ اسپتال کے طول و عرض میں لگی نایاب تاریخی تختیاں جن پر تقسیمِ ہندوستان سے پہلے دور کی انگریز حکومتی شخصیات، چکوال کی معروف کاروباری شخصیات بشمول سہگل خاندان اور خصوصاً معروف شاعر و بیوروکریٹ مصطفے زیدی کی بطور کمشنر جہلم اسپتال کے مشہور خواجہ بلاک کی تقریب رونمائی کی تختیوں کو حفاظت سے برآمد کر کے انھیں محفوظ بنانے کے بعد اسپتال کے استقبالیے کے بالکل سامنے ایک تاریخی ورثے کے طور پر سجانا بھی شامل ہے۔

ملک کاشف اعوان، علی خان اور بندہ ناچیز نے ڈاکٹر اعظم سمور کی انھی عظیم الشان خدمات کے اعتراف میں آج ان کی ملازمت سے سبکدوشی کے موقع پر پھولوں کے دستے پیش کیے اور ان کی خدمات کا بھرپور اعتراف کیا۔ اس عہد کے ساتھ اجازت چاہی کہ میرے عارضی عارضے سے بحالی کے دوران ہی دوستوں کی ایک اور منڈلی سجائیں گے اور مرغِ مسلّم خوب اُڑائیں گے۔ ڈاکٹر اعظم سمور کی مابعد ملازمت زندگی کی رسومات تاحال جاری و ساری ہیں۔ چکوال بھر میں ان کی ملازمت سے سبکدوشی کی خبریں موضوعِ خاص و عام ہیں اور اخباروں کی زینت بن رہی ہیں۔ میری ڈھیروں دعائیں اور نیک تمنائیں ڈاکٹر صاحب کے ساتھ ہیں کہ وہ اب پہلے سے زیادہ دھنی پنجابی ادب کی ترویج اور آوارہ گردی و موسیقی سے عشق پروان چڑھانے میں وقت گزاریں اور خوب زندگی جئیں۔ ان کے تبسم کی نذر ایک شعر پیشِ خدمت ہے کہ

اک میں ہی نہیں جرمِ محبت کا خطاوار
ہلکا سا تبسم بھی تو شامل تھا اُدھر سے

آخر پہ ڈاکٹر اعظم سمور کی دھنی پنجابی شاعری کی نئی آنے والی کتاب ”ویلے دی ویل“ سے کچھ نظمیں بطور انتخاب یہاں پیش کرنا چاہوں گا تا کہ قارئین کو اندازہ ہو کہ ڈاکٹر اعظم سمور کا چکوال میں موجود ہونا نہ صرف مسیحائی کے پیشے کے لیے رحمتِ خداوندی سے کم نہ ہے بلکہ یہاں کے مقامی ادب کے لیے بھی تازہ ہوا کے جھونکے کی مانند ہے۔

ویلے دا وِیلنا
اَساں وِیلے دے وِیلنے اُتے
وِیلے نُوں ہی وِیلن بیٹھے
اپنے ہتھوں وِل گئے ہاں
دَم دے گُھپ ہنیرے اندر
رَبّا تینوں لَبھدے لَبھدے
اپنے آپ نُوں مِل پئے ہاں
سَاہ سمندر ڈُونگا بھانویں
تَن دی بیڑی جَھکھڑاں پَھنڈی
اَساں حیاتی ٹِھل گئے ہاں
گُوڑھی گَل
رَب دے ہوندیاں
میں جے آکھاں۔ میں اَکلَّا
کُوڑی گَل اے
میرے ہُندیاں
اُوہ جے آکھے۔ میں اَکلّا
گُوڑھی گَل اے
عینک
پیراں تَھلے
آکے مردی
کِیڑی ویکھ کے
دِل کردا اے
اَسماناں نُوں عینک گَھلیے