شہرِ سو حکمران


بلوچستان کے مشرق اور پنجاب کی جنوب میں قبائلی شہر ڈیرہ بگٹی واقع ہے۔ جو قدرتی گیس جیسے وسائل سے مالا مال ہے مگر اس میں آباد ایک بے بس اور روایتی بادشاہت پر یقین رکھنی والی بگٹی قوم ہے۔

یہ قوم بہادری میں دنیا میں اپنا ایک مقام رکھتی ہے۔ جب ہم اس قوم کی تاریخی مطالعہ کرتے ہیں تو یہ چند سو کی فوج، برطانوی راج کے خلاف کھڑی نظر آتی ہے۔ اکیسویں صدی کی آغاز میں پاکستان میں قائم فوجی حکمران کی حکومت میں ان کی جنگ کی داستانیں، آج بھی زبان زد عام ہیں۔ مگر جی حضوری کا کلچر ان کے خون میں رج بس چکی ہے۔ 2006 کی فوجی آپریشن کے بعد جنرل مشرف نے سرداری نظام کے خاتمے کی نوید سنائی۔

مگر آج جب ہم دیکھتے ہیں کہ اس ایک سردار کو مار کر، سو اور سردار ہمارے سروں پر مسلط کر دیے گئے۔ جن میں سفید پگ پہنے اور بڑے جوتے والوں کی تعداد سب سے زیادہ ہے۔ آج کی اس دور میں یہ قوم پانی کی بوند بوند کے لئے ترس رہی ہے۔ ستر فیصد سے زائد آبادی گندا پانی پینے پر مجبور ہے۔ تعلیمی نظام اپنی آخری سسکیاں لیے رہی ہے۔ تیس ہزار بچے اسکولوں سے باہر ہیں۔ آج بھی اس شہر میں پانچ سو زائد نقل سے میٹرک پاس معلم موجود ہیں جو اپنی یونین کی سیاسی طاقت کی بدولت گھروں میں بیٹھے تنخواہیں وصول کر رہی ہیں۔ اس کا مالی بجٹ ایم پی اے کے دس فیصد بھتے کی نذر ہو جاتا ہے۔

سیکورٹی کے نام گیس کمپنیوں سے پر کروڑوں روپے کی وصول کی جا رہی ہے۔ اس شہر میں بیٹھے صحافی کی لکھی ہوئی تحریریں، دس چھلنیوں سے گزرتی ہیں۔ اتنے سارے لوگوں سے جب کوئی چیز گزرنے کے بعد تو اس میں حقیقت نام کی چیز باقی نہیں رہتی۔ آج اس شہر میں ایک شعوری انقلاب کی ضرورت ہے۔ ویسی بھی جب کسی جگہ کی تجارت، صنعت، مالیات پر قابض طبقات جب بھی کسی علاقے کی معاشرے کی ارتقاء کی راہ میں رکاوٹ بن جاتی ہیں۔ تو اس علاقے کی عوام کو ان سے چھٹکارا حاصل کرنے کے لیے ایک انقلابی تبدیلی کی ضرورت پڑتی ہے۔

اور یہ انقلابی تبدیلی اس وقت تک مکمل نہیں ہوتی جب تک اس علاقے کے عوام اس کا استحصال کرنے والے افراد اور طبقات کے مفادات کی حفاظت پر معمور انتظامیہ کی خلاف آواز بلند نہ کریں۔ اور وہ تعلیم کے بغیر ممکن نہیں ہے۔ جب لوگ تعلیم یافتہ ہوں گے۔ تو وہ خود اپنے مسائل کا حل تلاش کرنے میں آسانی پائیں گے۔ اور یہ بھی جانے گے کس طرح اس قبائلی طبقاتی نظام سے جان چھڑایا جاسکتا ہے۔ آج بھی ریاست نے اگر اس شہر بے بس پر اپنی نظر کرم نہیں کئی تو کچھ سالوں تک اس شہر کا آوے کا آوا بگڑ جائے گا۔

اک ہم ہی سرِ دار نہیں اور ہیں کتنے
اس دشت میں یارانِ سبک طور ہیں کتنے
اُکتا گئی گردش سے نمو یافتہ گِل تک
اے کوزہ گرِ دہر ابھی دور ہیں کتنے
اُفتادِ شب و شام سمجھ میں نہیں آتی
معلوم نہیں ہے ستم و جور ہیں کتنے
ہم کوئی پیمبر تو نہیں ہیں کہ بتائیں
صحرا میں حرا کتنے ہیں اور ثور ہیں کتنے

Facebook Comments HS