مسلم معاشرے میں خواتین کا استحصال


آج سے تین سال پہلے عراقی خواتین پر دستاویزی فلم بنی جو پہلے نیشنل جیوگرافک چینل نے نشر کی اس کے بعد بی بی سی نے نشر کی۔ اس دستاویزی فلم میں کنٹریکٹ میرج کو موضوع بنایا گیا کیونکہ کئی سالوں سے عراق میں کنٹریکٹ میرج عروج پر تھی۔ انٹرویو کرنے والی ایک خاتون صحافی تھیں۔ جنھوں نے ان خواتین سے سوال کیا کہ آپ جو شادیاں کر رہی ہیں تو کیا آپ سب اہل تشیع ہیں تو ان خواتین کا جواب حیرت انگیز تھا۔ انھوں نے کہا کہ اس طرح کی کنٹریکٹ شادیاں کرنے والی زیادہ تر لڑکیاں سنی مسلک سے ہوتی ہیں اہل تشیع بھی ہوتی ہیں لیکن ان کی تعداد کم ہوتی ہے۔ پھر خاتون صحافی نے یہ بھی بتایا کہ ان علاقوں میں کنٹریکٹ شادیوں کا رجحان زیادہ دیکھا گیا جو کہ جنگ زدہ علاقے تھے یا جنگ کے بعد ان کی حالت ابھی بھی نہیں بدلی تھی۔ خاتون صحافی نے سوال کیا کہ ان شادیوں کا مطلب کیا ہے تو ان خواتین نے بتایا مختصر مدت کے لیے ہونے والی شادیوں کو کنٹریکٹ میرج کہتے ہیں چاہے وہ 15 دن کے لیے ہویا مہینہ یا اس سے بھی کم مدت کے لیے۔

پھر ان خواتین سے سوال ہوا کہ ایسی خواتین کا مستقبل کیا ہوتا ہے تو انھوں نے کہا کہ کہ جو لڑکی ایک بار اس دائرے میں آ گئی پھر وہ اس سے نہیں نکل سکتی وہ ساری زندگی ایسے ہی گھومتی رہے گی اور ان کے بچوں کا بھی کوئی مستقبل نہیں ہوتا۔ جن سے انٹرویو کیا گیا ان لڑکیوں کی عمر 16 سال سے 30 کے درمیان تھی۔ پھر ان سے سوال کیا کہ آپ لوگ خود شادی کرتی ہیں یا آپ کے گھر والے بھی شامل ہوتے ہیں تو انھوں نے کہا کہ ہمارے گھر والے شامل ہوتے ہیں، باقاعدہ معاہدہ ہوتا ہے، پیسے طے ہوتے ہیں۔

اینکر نے پھر سوال کیا کہ آپ خواتین کوئی کام کیوں نہیں کرتیں تو وہ کہنے لگی کہ ہماری اور ہمارے گھر والوں کی گزر بسر ان ہی پیسوں پر ہوتی ہے کوئی کام یہاں نہیں ہے کیونکہ طویل عرصے سے جنگ چل رہی ہے۔ اس نے یہ بھی پوچھا کہ صرف عراقی حضرات ہوتے ہیں یا دوسرے ممالک سے لوگ شادی کرنے آتے ہیں تو انھوں نے کہا کہ دوسرے ممالک سے بھی لوگ یہاں آتے ہیں۔ خواتین کا استحصال ان علاقوں میں زیادہ تھا جہاں مخفی طور پر جنگ چل رہی تھی یا جنگ ختم تو ہو گئی تھی لیکن اس کی تباہی کے اثرات اب بھی تھے۔

اینکر جتنے زاویوں سے سوالات کر سکتی تھیں انھوں نے سوالات کیے کہ کہیں سے کوئی خیر کی خبر ملے لیکن ہر بات کا جواب منفی ہی ملا جب وہ ہر طرح سے بات کر چکی تو مسلم معاشرے کی خستہ حالی پر افسوس کر کے چلی گئیں۔

اس کے کچھ عرصے بعد ایران میں خواتین کی تحریک شروع ہو گئی جس کے نتیجے میں مہسا امینی نام کی لڑکی انتقال کر گئی۔ اس کی موت کا الزام ایران کی پولیس پر عائد ہوا اور ایرانی خواتین خود اپنی حکومت کے خلاف کھڑی ہو گئیں۔ ان خواتین کا کہنا تھا کہ ایران میں صرف اہل تشیع نہیں ہیں بلکہ دیگر مذاہب سے بھی لوگ تعلق رکھتے ہیں لیکن ہم پر مسلسل دباؤ ڈالا جا رہا ہے کہ ہم اہل تشیع کی فقہ کو اختیار کریں اور حکومت اہل تشیع کے قوانین ہم پر بھی لاگو کر رہی ہے جو کہ ان خواتین کو منظور نہیں تھا۔ اسکارف تو صرف ایک بہانہ تھا اندر معاملات اتنے خراب ہو گئے کہ بالآخر اس نے تحریک کی شکل اختیار کرلی اور اب تک کئی ہزار افراد ایرانی حکومت کے خلاف احتجاج میں زخمی ہوچکے ہیں اور کئی سو ہلاک ہوچکے ہیں۔

پاکستان سمیت پوری مسلم دنیا میں عورتوں کے حوالے سے جو شدت پسندی آئی ہے۔ ہمارے نزدیک اس کی بڑی وجہ ایسے عائلی قوانین کو موجودہ دور میں بھی قابل عمل بنائے رکھنا ہے جن کا تعلق زمانہ قدیم سے ہے جیسے کنٹریکٹ کی شادیاں یا خفیہ طریقے سے خواتین کو قدیم قوانین کے تحت باندی بنانا جب کہ پوری دنیا میں غلامی ختم ہو گئی ہے۔ اس وقت مسلم دنیا جس میں پاکستان بھی شامل ہے ان قوانین کو مانتی ہے یا جو لوگ اس قسم کے کام کر رہے ہیں ان کو مذہب کی یہ تشریح دے کر تسلی دی جا رہی ہے۔ ان قدیم قوانین کو زندہ رکھنے کے لیے مسلم دنیا کے کسی نہ کسی حصے میں جنگ جاری رکھی جا رہی ہے یا جنگ تو ختم ہو گئی ہے لیکن بحالی کے کام نہیں کیے جا رہے۔

آج کل پاکستانی عوام کنٹریکٹ میرج سمیت دیگر قوانین میں خاصی دلچسپی لے رہے ہیں۔ ان قوانین کے متعلق سوال کرتے نظر آرہے ہیں کہ ان قوانین کو اپنے لیے کیسے قابل عمل بنایا جائے جبکہ ایمنسٹی انٹرنیشنل ایسے قوانین کو غلامی کی جدید شکل بتا چکی ہے۔

اب یہاں علما کا کام ہے کہ وہ اس قانون کی دوبارہ تشریح کریں اور یہ بتائیں کہ موجودہ دور میں جب جنگیں اور ہیومن ٹریفکنگ عروج پر ہے تو اب اس عائلی قانون کی ضرورت ہے بھی یا نہیں کیونکہ سعودی عرب نے اجتہاد کے ذریعے قوانین میں ترمیم کی ہے۔ موجودہ زمانے میں مذہب کے نام پر جس طرح خواتین کا استحصال کیا جا رہا ہے وہ افسوس ناک ہے۔

اسی طرح سے پاکستانی صحافیوں پر بھی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ جو لوگ پاکستان میں ان کاموں میں پکڑے گئے ہیں یا وہ جو گھریلو معاملات میں شدت پسندی اختیار کر رہے ہیں جس کے نتیجے میں گھریلو تشدد بڑھ گیا ہے ایسے لوگوں سے بھی جواب دہی کریں تاکہ شدت پسندی کا سد باب کیا جائے۔ اگر عام آدمی بھی کوئی برائی کرتا ہے تو صرف معاشرتی نرمی نہیں دیکھتا بلکہ وہ مذہبی نرمی بھی دیکھتا ہے کہ مذہب اسے کس طرح یہ کام کرنے کی اجازت دیتا ہے۔ اگر آپ یہ کہے کہ جی جو برائی کرتا ہے اس کا کوئی مذہب نہیں ہوتا تو یہ غلط ہے۔ اکثر دیکھا گیا ہے کہ ایسے لوگوں نے مذہب کو ہی اپنے بچنے کا جواز بنایا ہے۔

Facebook Comments HS