امید اور مایوسی کے عین درمیان خود کلامی


آج کل پاکستان کے اعلی ترین عدالتی و صحافتی مناظر میں اعلی عدلیہ کے چھ معزز ترین مکتوب نویس جج صاحبان کا سپریم جوڈیشل کونسل کو لکھا گیا خط محو گردش ہے۔ خط کے مندرجات کی بنا پر حکومت کی طرف سے پہلے کمیشن پھر اعلی عدلیہ و اعلی حکومتی شخصیت (وزیر اعظم) کے درمیان خط کے معاملے پر ملاقات و گفتگو ہوئی، اس ملاقات کے بعد اعلی عدلیہ کی طرف سے پریس ریلیز جاری کیا گیا۔ مگر پھر اعلی عدلیہ کی جانب سے صرف اسی پر اکتفا نہ کرتے ہوئے اعلی عدلیہ کے اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے باقاعدہ از خود نوٹس لے لیا گیا اور از خود نوٹس کی کارروائی کا باقاعدہ آغاز کر دیا گیا۔

یوں مکتوب نویس چھ معزز ترین اعلی عدالت کے ججوں کا خط صحافتی و عدالتی منظر نامے میں شہ سرخیوں و گفتار و شنید کا باعث بن گیا۔ پھر یکے بعد دیگرے اسلام آباد ہائی کورٹ اور لاہور ہائی کورٹ کے معزز جج صاحبان کو دھمکی آمیز انتھریکس پاوڈر میں لپٹے خط موصول ہوئے۔ اس دوران از خود نوٹس کی پہلی سماعت بھی ہوئی۔ مگر مکتوب نویس چھ ججوں کی یہ اجتماعی فریاد اور اس کے محرکات سے ہٹ کر ”اسلامی جمہوریہ پاکستان“ کے نظام عدل کے کچھ مندرجات درج ذیل ہیں۔

”اسلامی جمہوریہ پاکستان“ کی عدالتی درجہ بندی اگر ہم اقوام عالم میں دیکھیں تو 142 ممالک میں 130 درجہ پر اور خطے کے چھ ممالک میں سے پانچویں نمبر پر ہے۔ زیریں عدلیہ پر کیسز کی بھر مار، عدالتی عملے و ججز کی کمی میں لپٹا نظام عدل، طاقت ور فریق کے مقابل کمزور فریق کا عدالتی نظام میں پسپائی اختیار کرنا، عدالتی نظام میں سزا و جزا کے تصور کا خوف بتدریج کم ہونا، عدالتوں میں کیسوں کے زیر التوا رہنے کے امکانات کا زیادہ سے زیادہ ہونا، کیسوں کے زیریں عدالتوں سے فیصلے ہونے تک اور منطقی انجام تک پہنچانے جانے میں اعلی ترین عدالتوں تک جانے میں نسلوں کا سفر، عوام الناس کا عدالتی نظام سے اٹھتے اعتماد کی بنا پر جرائم پیشہ عناصر کو موقع واردات پر سزائیں تشدد و موت کے ذریعے ماوراء عدالت دینا اور ایسی بیسیوں ویڈیوز کا سوشل میڈیا پر وائرل ہونا، طاقتور جرائم یافتہ عناصر کا گواہان کی عدم دستیابی پر عدالتوں سے بری ہو جانا اور ایسی بہت ساری وجوہات وطن عزیز ”اسلامی جمہوریہ پاکستان“ کے عدالتی نظام کو عالمی درجہ بندی میں اس قدر کم تر درجہ پر رکھتی ہیں۔

انگریزی کی مشہور زمانہ کہاوت ”جسٹس ڈی لیڈ جسٹس ڈی نائیڈ“ یعنی انصاف کا مظلوم کو ”بر وقت“ نہ ملنا یا ”دیر سے ملنا“ گویا انصاف کے تمام کے تمام تقاضوں و امکانات کو کلی طور پر رد کرتا ہے۔ بلکہ شاید انصاف کا قتل ہے۔ کسی بھی مہذب معاشرے اور بالخصوص اسلامی معاشرے میں جو کہ تہذیب و انصاف کے اعلی ترین معیار پر قائم معاشرہ ہونا چاہیے میں بنیادی ”انسانی حقوق“ کے علمبردار اور بنیادی ترین انسانی حقوق جن میں سر فہرست ”انصاف کا حصول“ دلوانے کے باقاعدہ ذمہ دار ترین ادارہ ”عدالتی نظام“ ہی ہے۔

اسی بنا پر اقوام عالم میں صف اول کے عدالتی نظام رکھنے والی مغربی اقوام اپنے غیر مسلم و کفر کے معاشرے میں کامیاب، مہذب، ترقی یافتہ، انسانی و معاشرتی حقوق حتی کہ جانوروں، چرند، پرند و حشرات الارض کے حقوق کا تحفظ کرنے والی عدلیہ کی وجہ سے عدالتی نظام کی درجہ بندی میں بہت بہتر اور اپنے اپنے عوام الناس کو بہترین اور ”فوری انصاف“ کے حصول کی فراہمی اور ”بنیادی ترین انسانی و معاشرتی حقوق“ کی فراہمی اپنے فیصلوں کے ذریعے یقینی بنا کر معاشرے میں عدالتی نظام کے اہم، حساس و فیصلہ کن ترین کردار کو بخوبی نبھا رہی ہیں۔

مثبت، مضبوط و مربوط معاشرتی اقدار میں عدلیہ معاشرے کے بنیادی ترین ستون کی حیثیت سے قائم و ایستادہ ہوتی ہے۔ عدلیہ قانون و آئین کی پاس داری، پہرے داری و قانون و آئین کی عمل درآمد سے لبریز ہوتی ہے۔ جیسے کہ ہم دیگر اقوام عالم میں دیکھتے ہیں۔ مگر کیا وطن عزیز ”اسلامی جمہوریہ پاکستان“ میں عدالتی معیار و نظام عوام الناس کے لئے مطلوبہ متعین معیار کو نافذ کر پایا ہے؟

بیان کردہ سیاق و سباق کے ساتھ اسلامی جمہوریہ پاکستان کے موجودہ عدالتی نظام کے بنیادی ترین ذمہ داران اہل سیاست بھی ہیں جن کے پاس قانون سازی اور آئین لکھنے جیسی طاقت بھی رہی اور تا حال ہے۔ مگر نظام عدل کو موجودہ حالات تک لانے میں اہل سیاست براہ راست ذمہ داران ہیں۔ اہل سیاست نظام عدل میں قانونی ترامیم لا کر نظام عدل کو بہتری کی طرف مائل کر سکتے تھے۔ گزشتہ حکومتی جماعت جس کا نام ہی انصاف کی بنیاد پر ہے، بھی نظام عدل کی بہتری کے لئے اپنے دور حکومت میں نظام عدل کی بہتری و ترقی کے لئے آئینی ترامیم و ریفارمز لانے کی بجائے ججوں کے خلاف جھوٹے ریفرنس بنانے میں مصروف رہی، اب بھی مذکورہ جماعت کی شکایت مکتوب نویس ججوں کے معاملے میں قانونی سے زیادہ ”سیاسی“ ہے۔

یہی حال و ماضی کم و بیش باقی حکومت کرنے والی سیاسی جماعتوں کے نظام عدل کے لیے رہے ہیں۔ نظام عدل، عدلیہ و آئین ساز اسمبلیوں میں حکومت و حزب اختلاف کرنے والے نظام عدل کے بہتری کے لئے ضرور اچھا سوچیں اور چاہیں گے، اور امید واثق ہے کہ حکومت و حزب اختلاف سیاست سے بالا تر ہو کر رائج نظام عدل کو عام آدمی کے لئے موثر اور آسان بنائیں گے۔

 

Facebook Comments HS