پاکستانی تارکین وطن جو مشکوک حالات میں غائب ہو گئے
خالد آفتاب (فرضی نام) سعودی عرب کی ایک بڑی کمپنی میں شٹرنگ کارپینٹر کے طور پر کام کر رہے تھے جو 29 اگست 2015 میں لاپتہ ہو گئے تھے اور تاحال ان کا سراغ نہیں مل سکا۔ ان کے فیملی ذرائع کے مطابق ان کی ڈیوٹی سٹیشن الخرج میں تھی، جہاں وہ کچھ عرصے کے لیے ہسپتال میں داخل رہے اور بعد میں ان کی کمپنی نے انہیں پاکستان واپس جانے کی اجازت دے دی۔ تاہم، 29 اگست 2015 کو ریاض ائرپورٹ پر ایک ائر لائن کمپنی نے ان کی خراب صحت کی وجہ سے انہیں پاکستان لے جانے سے انکار کر دیا۔ اس وقت کمپنی کا عملہ ان کے ساتھ ہوائی اڈے پر موجود اور وہی انہیں واپس لیبر کیمپ میں لے کر آیا تھا۔
ان کے دوستوں کے مطابق ائرپورٹ سے واپس آتے ہوئے انہیں فالج کا دورہ پڑا تاہم ہسپتال لے جانے کے بجائے کمپنی کا عملہ خالد آفتاب کو لیبر کیمپ میں لے گیا۔ اگلے دن کمپنی نے اپنے ایک پیغام میں بتایا کہ خالد آفتاب صبح ہوتے ہی کسی کو کچھ بھی بتائے بغیر ازخود کہیں چلے گئے ہیں۔ بادی النظر میں یہ سارا واقعہ انتہائی مشکوک اور غیر معمولی ہے کیونکہ ایک بیمار اور لاغر شخص کسی سہارے اور مدد کے بغیر وہاں سے کیسے نکل سکتا ہے۔ دوسرے، اسے ہسپتال میں داخل کرنے اور مناسب طبی امداد فراہم کرنے کے بجائے کمپنی نے اسے لیبر رہائشی یونٹ میں کیوں رکھا؟
آج تک خاندان کو ان کے بارے میں کوئی اطلاع نہیں ہے اور نہ ہی ان کے دوستوں اور نہ ہی کسی رشتہ دار نے ان کے بارے میں سنا ہے۔ خالد کے اچانک لاپتہ ہونے کی وجہ سے ان کے اہل خانہ شدید دکھ اور غم میں ہیں تاہم وہ آج بھی ان کو تلاش کرنے کی پوری کوشش کر رہے ہیں۔ انہوں نے بار بار حکومت پاکستان سے اس معاملے کو ترجیحی بنیادوں پر نمٹائیں کی درخواست کی ہے کہ حکومت ریاض پولیس اور مملکت سعودی عرب کی دیگر متعلقہ ایجنسیوں کے ذریعے خالد آفتاب کو تلاش کرنے میں اپنا کردار ادا کرے۔
واضح رہے کہ خالد آفتاب کی گمشدگی نہ پہلا واقعہ ہے اور نہ ہی آخری، بیرون ملک مقیم پاکستانی غیر محفوظ ہیں خاص طور پر عرب ریاستوں میں۔ ان کا پتہ بھی نہیں چلتا وہ کب اور کہاں گئے اور پھر جلد ہی یہ لاپتہ افراد کی لسٹ میں شامل ہو جاتے ہیں۔ اپنوں تک نہ ان کی میتیں پہنچ پاتی ہیں نہ ان کی خیریت کی اطلاع۔ ہمارے ہزاروں پاکستانی خاندان جس اذیت اور کوفت میں مبتلا ہیں اس کا اندازہ نہیں لگایا جا سکتا۔ اپنوں سے جدائی کا دکھ خاص طور پر جب ان کے زندہ اور مردہ ہونے کے بارے میں کچھ پتہ ہی نہ چل سکے یہ ایک ایسا دکھ اور اذیت ہے جسے صرف محسوس کیا جا سکتا ہے بیان کرنا ناممکن ہے۔
میں نے چونکہ خود برٹش ریڈ کراس کے میسجنگ اینڈ ٹریسنگ سروس ساتھ کام کیا ہوا ہے، اس لیے بیرون ممالک میں مقیم پاکستانیوں تک بنیادی معلومات کو پہنچانا اپنا فرض سمجھتا ہوں اور یہ خواہش بھی ہے کہ عام لوگوں تک یہ معلومات پہنچانی چاہیں۔ ریڈ کراس اور ریڈ کریسنٹ کے ذیلی مراکز دنیا بھر میں کام کر رہے ہیں اور مسنگ پرسنز کے حوالے سے ان کی کارکردگی ہمیشہ سے قابل ذکر رہی ہے۔ معاشی مسائل اور پھر جلد ترقی کی خواہش لیے بہت سے پاکستانی یورپ جانے کے لیے غیر قانونی راستہ اختیار کرتے ہیں جسے ڈنکی لگانا بھی کہتے ہیں۔ تو اگر وہ اس کسی جگہ پہ پکڑے جاتے ہیں یا کہیں پہ مس ہو جاتے ہیں تو ان کے گھر والے میسجنگ اینڈ ٹریسنگ سروس کو استعمال کر کے ان کے بارے میں معلومات حاصل کر سکتے ہیں۔
واضح رہے کہ ریڈ کریسنٹ اور ریڈ کراس عالمی تنظیمیں ہیں، ان کی ایک سروس جسے میسجنگ اینڈ ٹریسنگ سروس کہا جاتا ہے اور اگر آپ کا کوئی نیر اینڈ ڈیئر مین میڈاسٹرز یا نیچرل ڈزاسٹر کی وجہ سے کہیں گم ہو جاتا ہے تو اس کی تلاش کے لیے ایک طے شدہ طریقہ کار ہے جو کہ میسجنگ اینڈ ٹریسنگ سروس فراہم کرتا ہے۔ ان کا فارم، جو ریڈ کریسنٹ یا ریڈ کراس کی سوسائٹی کے قریبی دفتر قریب سے لیا جا سکتا ہے اور اس کو فل کر کے جمع کروانا ہوتا ہے۔
اس فارم باقاعدہ ریکارڈ کا حصہ بن جاتا ہے اور آخر تک کوشش کی جاتی ہے کہ اس میسج کو متعلقہ ملک تک پہنچایا جا سکے اور فیملی کو اپنے لاپتہ فرد کے بارے میں فیڈ بیک مل سکے۔ کیونکہ یہ ریڈ کراس اور ریڈ کریسنٹ کی جو تنظیمیں ہوتی ہیں ان کے ہیڈ زیادہ تر ملکوں میں صدر لیول کے لوگ ہوتے ہیں۔ جیسے یہ کیس خالد آفتاب کا میرے پاس آیا جو سعودی عرب گئے اور کچھ عرصے کے بعد وہ وہاں بیمار ہو گئے اور پھر لاپتہ پاکستانی تارکینِ وطن کی فہرست میں شامل ہو گئے۔
جب ایک دوست کے ریفرنس سے یہ کیوری میرے پاس آئی تو بطورِ وکیل میں نے ان کو کچھ مشورے دیے اور میں نے انہیں کہا کہ سب سے پہلے ہم مختلف جگہوں پہ خط لکھتے ہیں تاکہ ہمیں پتہ چل سکے کہ صورتحال کیا ہے۔ جب ہم نے سعودی ایمبیسی کو خط لکھا انہوں نے کوئی جواب نہیں دیا، ہم نے ان کی کمپنی کو خط لکھا انہوں نے بھی کوئی جواب نہیں دیا۔ جب ان کو ائرپورٹ چھوڑنے کے لیے جا رہے تھے تو ان کے ایک جاننے والے دوست بھی ساتھ تھے۔ میں نے بہت کوشش کی کہ ان کے اس متعلقہ فیملی فرینڈ کے ساتھ رابطہ کروں لیکن آپ خوف کا اندازہ کریں گے انہوں نے مجھ سے بات کرنے سے انکار کر دیا۔
جس کے بعد میں نے ایک دو پاکستانی حضرات کے ساتھ رابطہ کیا۔ جب میں نے ان کو کمپنی کا نام بتایا تو وہ چونک اٹھے۔ ان سے جو بات ہوئی اس سے پہلے بتاتا چلوں کہ اس معاملے میں، میں نے پاکستان فارن آفس میں وزارتِ محنت کے اس متعلقہ ڈپارٹمنٹ کو خط لکھا جو فارن آفس میں اس قسم کے معاملات کو ڈیل کرتی ہے۔ مجھے شک تھا کہ شاید تعاون نہ کیا جائے۔ تاہم پاکستان ایمبیسی کے متعلقہ افسر نے بہت اچھا رسپانس دیا۔ میرے ایک میل کا جواب آیا۔ متعلقہ افسر نے مجھ سے رابطہ کیا اور بتایا کہ ہم ریاض پولیس سے رابطہ کرتے ہیں اور اگر ان کے پاس کوئی معلومات ہوئیں تو آپ سے شیئر کریں گے۔
میں نے اپنے مؤکل کو مشورے دیے کہ عربی اخبارات میں مسنگ پرسن کے اشتہار دیں۔ پھر ٹویٹر اور فیس بک پر کچھ کمپین رن کریں لیکن وہ ان کاموں کے لیے تیار نہیں ہوئے اور انہوں نے مکمل خاموشی کر لی۔ لیکن اسی ایشو میں سعودی عرب میں بہت سارے لوگوں کے ساتھ میرا رابطہ ہوا، جنہوں نے مجھے یہ بتایا کہ کئی دفعہ ایسا ہوا ہے کہ اگر کسی کمپنی میں کوئی غیر ملکی بندہ بیمار ہو جائے یا اس کی ہیلتھ انشورنس ختم ہو جائے، تو وہ اس بندے کو اٹھا کے صحرا میں بھی پھینک آتے ہیں یا اگر کوئی شخص لیبر کیمپ میں مر جاتا ہے تو بھی وہ خاموشی سے جا کے اس کی لاش صحرا میں پھینک آتے ہیں اور اس طرح کے بہت سارے کیسز ہیں جو دوسروں لوگوں کے ساتھ ہوتے ہیں اور لوگ خاموش تماشائی بنے رہتے ہیں جبکہ سعودی ایمبیسی نے میرے خط کا جواب دینا مناسب نہیں سمجھا سوائے پاکستانی سفارت خانے کے متعلقہ افسر کے۔
اب ایک نظر بیرون ممالک میں قید پاکستانیوں کے ان اعداد و شمار پر ڈالتے ہیں جسٹس پروجیکٹ پاکستان غیر سرکاری تنظیم نے جمع کیے۔ جے پی پی کے مطابق دنیا بھر کی جیلوں میں 14 ہزار سے زائد پاکستانی شہری قید ہیں جن میں سے صرف 58 فیصد مختلف الزامات کے تحت متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب کی جیلوں میں پابند سلاسل ہیں جبکہ 2010 سے 2023 کے درمیان 183 پاکستانی شہریوں کو بیرون ملک پھانسی دی گئی۔
تفصیلات کے مطابق دسمبر 2023 تک کم از کم 5,292 پاکستانی شہری متحدہ عرب امارات میں قید ہیں۔ جن میں سے 235 افراد منشیات کے الزام میں، 48 چوری/ڈکیتی، 46 غیر اخلاقی سرگرمیوں اور 21 اور 13 بالترتیب قتل اور زیادتی کے الزام میں جیل میں بند ہیں۔
جے پی پی کے مطابق، ستمبر 2022 میں متحدہ عرب امارات میں قید پاکستانیوں کی تعداد تقریباً 1,600 تھی اور جو دسمبر 2023 تک بتدریج بڑھ کر 5,292 ہو گئی۔
اگرچہ پاکستان کا متحدہ عرب امارات کے ساتھ قیدیوں کی منتقلی کا معاہدہ ہے لیکن زیادہ تر پاکستانی شہریوں کو اپنے قانونی حقوق تک مکمل رسائی نہیں دی جاتی۔
یہ تارکین وطن غیر جانبدار کونسلروں اور قانونی مشیروں تک مناسب رسائی کے بغیر جیلوں میں قید ہیں اور جن جرائم کے وہ مرتکب ہیں انہیں سزائے موت کا سامنا کرنے کا خطرہ بھی موجود ہے۔ جے پی پی کے اسی ڈیٹا بیس میں بتایا گیا ہے کہ 2022 میں متحدہ عرب امارات نے ایک پاکستانی کو قتل کے الزام میں سزائے موت سنائی۔ سعودی عرب کی جیلوں میں کم از کم 3100 پاکستانیوں کو رکھا گیا ہے۔ ان میں سے 691 منشیات کے جرم جبکہ 180 چوری اور ڈکیتی کے الزام میں قید ہیں۔
21 ٹریفک قوانین کی سنگین خلاف ورزی پر حراست میں ہیں جب کہ 58 مالی جرائم کے لیے جیل میں ہیں۔ سعودی عرب میں پاکستانیوں کو بغیر کسی رعایت کے پھانسی دینے کا سلسلہ جاری ہے، 2023 مجموعی طور پر 7 پاکستانیوں کو پھانسی دی گئی ہے جبکہ ابھی بھی سعودی عرب میں قانون کی خلاف ورزی کرنے والے کئی پاکستانیوں کو ”سخت قانونی کارروائی کا سامنا ہے۔ تاہم جے پی پی کے مطابق منشیات کے جرم میں ملوث پاکستانی جنہیں سخت سزاؤں کا سامنا کرنا پڑے گا، میں سے بہت سے لوگ خود اسمگلنگ کا شکار ہیں، انہیں منشیات کی سمگلنگ کے لیے مجبور کیا گیا اور دھمکیاں دی گئیں۔
اسی طرح یونان میں، 811 پاکستانی شہری قید ہیں، زیادہ تر غیر قانونی داخلے اور امیگریشن سے متعلق الزامات کے تحت سزا کاٹ رہے ہیں۔ جے پی پی نے گزشتہ سال ستمبر میں سینیٹ کے پینل کے ساتھ دفتر خارجہ کے اشتراک سے ڈیٹا تیار کیا تھا جس میں بتایا گیا کہ کم از کم 683 پاکستانی شہری منشیات کی سمگلنگ، دہشت گردی، فارنرز ایکٹ، اسلحہ ایکٹ اور غیر قانونی قیام سمیت مختلف وجوہات کی بنا پر بھارت کی جیلوں میں بھی بند ہیں۔ اٹلی میں اس وقت 586 پاکستانی شہری قتل، ریپ، منشیات کی اسمگلنگ اور مالیاتی جرائم میں جیلوں میں ہیں۔ دنیا کے مختلف ممالک میں پاکستانی مختلف جرائم میں سزا کاٹ رہے ہیں جن میں سے اکثر کو سخت قانونی کارروائی کا سامنا ہے جس میں سزائے موت بھی شامل ہے۔
ملک میں بڑھتی ہوئی مہنگائی کے پیش نظر پاکستانیوں کی کثیر تعداد اپنی جانوں کی پروا کیے بغیر یورپی ممالک میں پہنچنے کی کوشش کرتی ہے۔ جیسا کہ ایک سال پہلے کم از کم 350 پاکستانی ایک اوور لوڈڈ کشتی پر سوار تھے جو یونان کے قریب کھلے سمندر میں الٹ گئی اور ڈوب گئی۔ انسانی سمگلروں نے دبئی، مصر اور لیبیا کے لیے قانونی طور پر پرواز کرنے کے بعد سمندری راستے سے غیر قانونی طور پر یورپ لے جانے کے لیے ایک شخص سے تقریباً 8,000 ڈالر وصول کیے تھے۔ تاہم یہ تعداد ان پاکستانیوں کی ہے جو جیلوں میں قید ہیں، لاپتہ پاکستانیوں کے حوالے سے قانون اور ادارے خاموش ہیں۔
پاکستانیوں کو بیرون ممالک جانے سے پہلے وہاں کے قوانین اور دیگر معاملات کے حوالے سے آگاہی دینا حکومت کا فرض ہے مگر فارن آفس اس سلسلے میں اپنا جامع کردار ادا کرنے سے قاصر دکھائی دیتا


