مجھے حوصلہ دینے والے پیارے ابو جان کے نام خط
پیارے ابو جان!
آپ پر سلامتی ہو۔ امید کرتی ہوں جس جگہ آج آپ ہیں بہت خوش ہوں گے۔ آپ سے بچھڑے تین برس گزر گئے۔ آج بھی آپ کا دیا ہوا پیار، حوصلہ، خوشی کا ہر وہ لمحہ جو میں نے آپ کے ساتھ گزارا تھا مجھے بہت حوصلہ دیتا ہے۔
کبھی کبھی مجھے یہ خیال آتا ہے کہ اگر آپ نے مجھے وہ پیار، وہ حوصلہ، وہ خوشی نہ دی ہوتی تو آج میں اتنی مضبوط اور با اعتماد نہ ہوتی۔ میری پیدائش سے لے کر آپ نے جس طرح میری پرورش کی، میرے ناز نخرے اٹھائے، مجھے اُنگلی پکڑ کر چلنا سکھایا۔ آخر ایک باپ کے علاوہ کون کرتا ہے سب۔
بچے بچپن میں کافی شرارتیں کرتے ہیں اور اُن کو کافی چوٹ لگتی ہے۔ مجھے جب بھی کھیلتے ہوئے چوٹ لگتی تھی تو میرے والد مجھے آ کر پکڑتے اور سنبھالتے تھے۔ انہوں نے مجھے کبھی نہیں ڈانٹا کہ کیا کر رہی ہو؟ کیوں بار بار گِر رہی ہو؟ بلکہ مجھے کہتے تھے کہ گِر کے ہی تو سنبھلنا آئے گا تمہیں۔ میں ایک بار جھولا لے رہی تھی اور میں گِر گئی۔ میرے ماتھے پر چوٹ لگی اور میں زور زور سے رونے لگی۔ ابّو بھاگے بھاگے آئے میرے پاس اور مجھے اُٹھایا اور مجھے حوصلہ دیتے رہے۔ جب تک وہ چوٹ بہتر نہیں ہو گئی تب تک میرے ابّو میرا اِسی طرح خیال رکھتے رہے۔
ایک بار مجھے یاد ہے کہ جب بورڈ کے پیپرز تھے اور میں کافی پریشان تھی۔ میں پہلے پڑھنے میں اچھی نہیں تھی تو سارے رشتے دار کہتے تھے کہ اِس کی شادی کر دیں تو میرے ابّو کہا کرتے تھے کہ یہ پڑھے گی جتنا اُس کا پڑھنے کا دل ہے۔ ابّو نے مجھے حوصلہ دیا اور کہا تم دوسروں کا پریشر نہ لو۔ اپنے آپ کو بہتر کرو، محنت کرو اور باقی اللہ تعالیٰ پر چھوڑ دو۔ میں اِسی بات کو ذہن میں رکھتے ہوئے اپنا ہر کام کرتی چلی گئی۔ اب میرا کوئی بھی امتحان ہو میں اپنا بیسٹ کرتی ہوں۔ اب جب بھی کسی مشکل صورتحال کا سامنا کرتی ہوں تو مجھے آپ کی کہی باتیں یاد آتی ہیں۔
آج میں جہاں بھی ہوں بہت کامیاب ہوں۔ میں نے اپنا میٹرک بہت اچھے نمبروں سے پاس کیا اور پھر انٹر بھی بہت اچھے نمبروں سے پاس کیا۔ پھر آپ چاہتے تھے کہ میں کوئی پروفیشنل ڈگری حاصل کروں تو آج میں پنجاب یونیورسٹی کے ڈیپارٹمنٹ میڈیا اینڈ ڈیویلپمنٹ کمیونیکیشن سے ڈگری حاصل کر رہی ہوں اور کچھ سالوں میں عملی طور پر بطورِ صحافی کام کروں گی۔
بس ایک خلش ہے آج میں جہاں ہوں اور جیسی بھی ہوں کاش آپ میرے سامنے ہوتے تو دیکھتے کہ آج آپ کی بیٹی کس مقام پر ہے اور یقیناً آپ بہت خوش ہوتے لیکن جو اللہ کی رِضا اور جتنا وقت آپ کے ساتھ گزرا بہت اچھا تھا آپ کی یادوں کے ساتھ۔
آپ میری زندگی کا سب سے بڑا اثاثہ ہیں۔ میری دعا ہے کہ خدا آپ کے درجات بلند فرمائے (آمین) ۔ جو آپ نے ہمارے بہتر مستقبل کے لئے اپنے کل پر قربان کر دیا۔ زندگی میں ایسے بہت سے لوگ ہوتے ہیں جو اتنی خوشیوں سے محروم ہوتے ہیں اور مجھے آپ نے سب خوشیاں دی ہیں۔ میرا ہر قدم پہ ساتھ ایک بیٹی کے لئے اُسکے والد کی طرف سے بہت بڑا سرمایہ ہے۔
”اتنا کچھ آخر کون کرتا ہے ایک لڑکی کے لیے سوائے اُسکے باپ کے علاوہ“
منجانب: آپ کی پیاری بیٹی!


