آؤ کوئی تدبیر کریں!

پاکستانی معیشت کی روز افزوں تنزلی سے دوچار صورتِ حالات ہر محبِ وطن پاکستانی کے لیے بے حد پریشانی کا باعث ہے۔ اور ہم لوگ ہی نہیں غریب، امیر، کاروباری حضرات یا ملازم پیشہ افراد سب صرف پریشان ہیں۔ انگشت بدنداں ہیں کہ ہمارا کیا بنے گا؟ سیلاب کا پانی ہمارے پیروں کو چھو رہا ہے اور ہم کھڑے پریشانی میں دیکھ رہے ہیں اور سوچ رہے ہیں کہ آخر کیا بنے گا۔
ہمارے مقتدرین کو عوام کے سامنے عہد کرنا پڑے گا کہ ہم ملک کو قرض کی دلدل سے نکالنا اور معاشی طور پر مضبوط کرنا چاہتے ہیں، آئیں مل کر تدبیر کریں۔ جب آپ سب نے اس بات کا اللہ کے سامنے عہد کر لیا اور حلف دے دیا تو پھر سب سے پہلے ملک پر ہر قسم کے لیے گئے قرضوں کے ہندسے کو خاص و عام کے سامنے لا کر اسے منجمد کرنا ہو گا کہ آج کی تاریخ میں ہم نے اتنا قرض دینا ہے اور اس کے بعد کوئی قرض نہیں لیا جائے گا۔
اس کے بعد عملی اقدامات کرنے ہیں جس میں سب سے پہلے ہر پاکستانی کی ضرورت کو انصاف سے سامنے رکھتے ہوئے سرکاری و نیم سرکاری محکمہ جات کے ملازمین کی تنخواہوں کی بالائی حد ”“ کو مناسب کر کے طے کرنا ہو گا۔ پھر وہ تمام سرکاری مراعات جن میں سرکاری گاڑیاں، مفت کا پیٹرول، مفت بجلی، گیس، ٹیلی فون، ہوٹلنگ اور ہوائی سفر، ایکڑوں پر محیط سرکاری بنگلے شامل ہیں، مکمل طور پر ختم کرنا ہوں گے۔ حکومتی مشینری کا وزیروں اور مشیروں کے لشکر کے ساتھ دوروں پر نکلنے پر پابندی لگانی ہو گی۔
تمام غیر پیداواری اخراجات ختم کرنے ہوں گے۔ اعلان کرنا ہو گا کہ رشوت لینے والے کو مخصوص مدت کے اندر اندر قرار واقعی سزا دی جائے گی اور اسے عملی طور پر ثابت بھی کرنا ہو گا۔ میرٹ کا نظام لاگو کرنا ہو گا جب کہ اقرباپروری ختم کرنا ہو گی۔ اسمبلی اراکین کو ساتھ رکھنے کے لیے فنڈز فراہم کرنے سے گریز کرنا ہو گا۔
اس کے بعد تمام سرکاری و نیم سرکاری محکموں کے ملازمین کی رائٹ سائزنگ کرنی ہو گی اور اس کی زد میں جو ملازمین فارغ ہوں گے انھیں حکومتی معاونت کے ساتھ بیرونی ممالک سے سفارتی تعلقات کا استعمال کرتے ہوئے ایڈجسٹ کروانا ہو گا۔ بیرونِ ملک اپنی ایمبیسی کے مکمل سٹاف کی سمت درست کرنا ہو گی اور ان کو تربیت فراہم کر کے اس مہم میں شامل کرنا ہو گا۔ ان ایمبیسیز کو کمرشل انداز پر چلانا ہو گا کہ ملازمین وہاں بیٹھ کر موج مستی نہ کریں بل کہ ملک و قوم کی خدمت کے جذبے سے ملکی مفاد کے لیے کام کریں۔
آئی پی پیز سے کیے گئے معاہدوں کو جلد از جلد ختم کرنے کے اقدامات کریں اور جو رقم ہم ان آئی پی پیز کو ادا کرتے ہیں اس کا کچھ حصہ پاکستانی عوام کو دیں اور ترغیب دیں کہ وہ سولر سسٹم کی تنصیب کی طرف جائیں تاکہ حکومت پر بجلی کی فراہمی کا پریشر ختم ہو۔ اس طرح جو بجلی گھریلو استعمال سے زائد ہو اسے کمرشل استعمال میں لایا جا سکے۔ انڈسٹریلائزیشن کی طرف خصوصی توجہ دی جائے۔ ایکسپورٹ بڑھانے کے لیے خصوصی ترغیب دی جائے جب کہ تعیش کے سامان بالخصوص بڑی گاڑیوں کی درآمد پر مکمل پابندی عائد کر دینی چاہیے۔
ایسے تمام ادارے جو ٹھیک سے نہیں چل رہے جیسا کہ سٹیل مل ہے کراچی ان پر آنے والے تمام اخراجات فی الفور بند کردینے چاہئیں۔ جو لوگ پاکستان بننے کے بعد اربوں کے مالک بن گئے ہیں ان سے خصوصی طور پر قرض اتارو سکیم میں فنڈز (رضاکارانہ) حاصل کیے جائیں۔ پُرخلوص معیشت دانوں کی ایک ٹیم تشکیل دی جائے جو کہ کل قرضہ جات کو سامنے رکھ کر تقسیم نکالے کہ ان قرضہ جات کو ختم کرنے کے لیے اندرونِ پاکستان سے تاجر برادری و امرا سے کس قدر عطیات، قرضِ حسنہ حاصل کِیا جائے اور بیرونِ ملک پاکستانیوں سے کس حد تک عطیات اور قرضِ حسنہ حاصل کِیا جائے اور پھر اسے واپس کرنے کی سکیم بھی سامنے لائی جائے۔ یہ مدت زیادہ سے زیادہ پانچ سال ہونی چاہیے۔
جو میں نے تجاویز دی ہیں ضروری نہیں کہ سو فی صد یہ قابل عمل ہوں مگر یہ ضرور ہے کہ قابلِ غور ہیں اور مثبت نتائج بھی دے سکتی ہیں۔ شرط صرف ایک ہے کہ اہلِ اقتدار اپنے مخلص ہونے کا سب فریقین کو یقین دلا سکیں اور سب مل کر عہد کریں کہ ہم نے اکیلے امیر نہیں ہونا ہم جب بھی امیر ہوں گے ملک پاکستان کے ساتھ ہوں گے، اپنے تمام بھائیوں کے ساتھ ہوں گے۔ ہر چیز باہم بانٹ کر کھائیں گے اور ناجائز کچھ نہیں کریں گے، میرا خیال ہے جب آپ نیت کر لیں گے تو اللہ رب العزت منزلیں آسان فرمائے گا۔ آئیں آغاز کریں مل کر کوئی تدبیر کریں۔ پاکستان زندہ باد!
