چیتر کے رنگ اور میٹرک کا امتحان
نانی اماں کے گھر، صحن میں کھڑی بکائن کی شاخوں پر ننھے ننھے سبز پتے پھوٹ رہے تھے۔ گیہوں کے کھیتوں سے بل کھا کر گزرتی پگڈنڈیوں پہ اگی خود رو بوٹیوں پر زرد، گلابی، جامنی، طوطیے اور مہندی رنگ کے دل کش پھول کھل گئے تھے۔ لگتا تھا کسی کسان کے سر پہ رکھی دھنک کی گٹھڑی کی ایک گانٹھ کھل گئی ہو اور چلتے چلتے گاؤں کو جاتی پگڈنڈی پر قوس قزح کے سارے رنگ بکھرتے چلے گئے ہوں۔ کھوہ کو جاتی کچی سڑک پر کھڑے شریہنہ کے پیڑ نے ننھے ننھے، ہرے ہرے شگوفوں کا آنچل اوڑھ لیا تھا۔ گندم کے خوشوں نے سبز رنگ میں سنہری رنگ گھولنا شروع کر دیا تھا۔ تتلیاں پھول پھول منڈلانے لگی تھیں۔ پرندے ڈال ڈال چہچہاتے پھرتے تھے۔
ایسا ہی چیتر کا ایک مہینہ تھا جب تقریباً چوتھائی صدی قبل ہم نے میٹرک کا فائنل امتحان دیا تھا۔
گھر سے کتابیں، کپڑے اور آٹا اٹھائے میں، خالد، جبار اور احمد علی شہر آ گئے۔ پہلی بار گھر سے باہر رہنے کا تجربہ ہوا۔ دن رات کتابوں میں سر کھپانا، دائی سے روٹیاں لگوانا اور بازار سے سالن لانا سب کتنا بوجھل بوجھل سا لگتا تھا۔
احمد علی چھوٹے کمرے میں اکیلا پڑھتا تھا۔ ٹیپ ریکارڈر پر محمد رفیع کے گیت اونچی آواز میں چلا دیتا۔ ہم جب ’ابو بن ادھم‘ نظم کی سمری کو رٹا مار رہے ہوتے، ابو بن ادھم خواب میں کسی فرشتے سے ہم کلام ہوتا، تب محمد رفیع کی مدھر آواز گونج رہی ہوتی
’میں گنگا کی موج تو جمنا کا دھارا
ہو رہے گا ملن یہ ہمارا تمہارا ’
اور چیتر رت کی بہار دیکھ کر شاید وہ گاتے
’بہارو پھول برساؤ
میرا محبوب آیا ہے ’۔
سامنے پڑوسی کی چھت پر جھکا آم کا درخت جھومنے لگتا۔
مجھے یاد ہے میری بائیں کلائی پر نئی نکور گھڑی بندھی رہتی۔ سفید ڈائل پر سیاہ نمبر، سیاہ پٹے والی خوب صورت گھڑی تھی جو ابو نے کسی حاجی سے سعودیہ سے منگوا دی تھی۔ بس گھڑی گھڑی وقت دیکھنا اچھا لگتا تھا۔ جب بھی گھڑی کی دونوں سوئیاں ایک لائن میں آ جاتیں تو کہتا ’دو سوئیاں ایک سوئی بن گئی ہیں‘ ۔ محمد رفیع کی آواز گونج رہی ہوتی۔
چھو لینے دو ان نازک ہونٹوں کو
کچھ اور نہیں ہے جام ہے یہ ’
ہم پانچوں نمازیں درگاہ بابا فرید پر جا کر پڑھتے تھے۔ ہر نماز کے بعد مزار پر فاتحہ پڑھتے اور رب سے بڑی شدت سے فرسٹ ڈویژن میں پاس ہونے کی، کسی بھی پیپر میں فیل نا ہونے کی دعا مانگا کرتے۔ آستانے میں زائرین مکھانے برساتے رہتے، مکھانے اکٹھے کر کے جیبوں میں بھرتے اور مکان پر واپس آ کر پھر کتابوں میں گم ہو جاتے۔
فجر کی اذان آتی تو بستر چھوڑ دیتے۔ ماحول میں عجب بھاری پن سا ہوتا۔ مدھم مدھم اندھیرے میں مختلف مساجد سے اذانوں کی تانیں اٹھتیں۔ نیند آنکھوں کے کٹوروں میں بھرے، لڑکھڑاتے تیز قدموں کے ساتھ، صبح کی خنکی میں سکڑے، ہاتھ باندھے ہم دربار کی طرف جاتے۔ فجر کی نماز کے بعد روزانہ ایک شخص درگاہ کے احاطے میں ہارمونیم بجا کر گاتا
’لیا جب سے میں نے یہ نام محمد
بڑا لطف آیا سویرے سویرے ’
ہمیں یوں لگتا جیسے اس شخص کی آواز پر بھی نیند چھائی ہو، ہارمونیم سے نکلتے سر بھی مدہوش ہوں، اور سننے والے لوگ بھی آدھے سوئے آدھے جاگے ہوں۔ آستانے میں نا رات کا اندھیرا ہوتا نا صبح کا اجالا۔ عجب پراسرار سا ماحول بن جاتا۔
مجھے یاد ہے پہلا پرچہ مطالعہ پاکستان کا تھا۔ اور میں نے پہلا سوال جنگلات کے فائدے لکھا تھا۔ فائدے اتنے لکھ ڈالے کہ آدھا وقت نکل گیا۔ بقیہ آدھے وقت میں باقی پیپر جلدی جلدی مکمل کرنا پڑا تھا۔
پیپر تو سب اچھے ہو رہے تھے۔ درختوں پہ بھی بہار اتری تھی۔ درگاہ پر آئے زائرین بھی خوش دکھائی دیتے تھے، قوال بھی مست گا رہے تھے، مکھانے برس رہے تھے۔ گاؤں کے کھیتوں کھلیانوں میں بھی چیتر نے رنگ بکھیرے تھے۔ مگر ہمارے دل پہ خزاں چھائی تھی۔ کم بخت پیپرز کب ختم ہوں، ہم کب اپنے چیتر میں لپٹے گاؤں میں اپنے گھر واپس جائیں۔
ایک ہفتے بعد ہی یوں لگنے لگا جیسے گھر سے باہر نا جانے کتنے زمانے بیت گئے۔
پھر دو چھٹیاں آئیں۔ ہم خوشی خوشی گاؤں چلے گئے۔ ماں نے کتنے چاؤ سے شکر پہ مکھن کا پیڑا رکھ کر دوپہر کا کھانا دیا تھا۔ گاؤں میں بجلی نئی نئی آئی تھی۔ چودہ انچ کا رنگین ٹی وی لومینر بھی کچھ دن پہلے ہی نیا گھر میں آیا تھا۔ ٹی وی پیٹی پہ رکھے صندوق پہ پڑا تھا۔ انڈیا پاکستان کا میچ چل رہا تھا جس میں سعید انور اور عامر سہیل خوب بلے بازی کر رہے تھے۔ پلنگ پہ سفید چادر بچھی تھی جس پہ نیلی دھاریاں تھیں۔ سفید رنگ کے نرم تکیے تھے جن پر رنگ برنگے دھاگوں سے پھول بوٹے کڑھائی کیے گئے تھے۔ برتنوں سے بھری انگیٹھی سے لٹکتا کپڑا پلنگ کو چھو رہا تھا۔ اس کپڑے پہ پھولوں سے بھرے دو پودے بنے ہوئے تھے۔ ان کی شاخوں میں دو کبوتر دبک کر بیٹھے تھے۔ ان پھولوں پہ بھی چیتر کا موسم پھیلا تھا۔ جب پاکستان میچ ہار گیا تھا تو دل مرجھا گیا تھا اور وہ پھول بھی بے رنگ سے لگنے لگے تھے۔
وہ دن کتنا خوب صورت اور اجلا دن تھا۔ اپنا گھر، اپنا گاؤں، اپنا جیون۔ جیسے دریا کنارے ریت پہ تڑپتی مچھلی اچھل کر پانی میں اتر گئی ہو اور پھر سے جینے لگی ہو۔
ریاضی کے پرچے کی پریشانی لاحق تھی۔ اس مضمون سے سب چالو تھے۔ پیپر سے ایک دن قبل بادل خوب برسے۔ مچھلی چوک اور آس پاس کی گلیاں تالاب بن گئیں۔ برستے مینہ میں، جل تھل گلیوں کی پھسلن سے گزر کر ہمارے استاد اقبال صاحب مکان پہ آئے اور تمام مشکل سوالات ہمیں سمجھا گئے۔ کچھ لوگ بھی چیتر کے مہینے سا خوب صورت دل رکھتے ہیں۔
ایک ایک کر کے پیپر ختم ہوتے گئے اور آزادی کے دن قریب آتے گئے۔ چھ سات مہینے کی آزادی۔ سکول لائف کی سب سے لمبی چھٹیاں۔
ہم منصوبے بنانے لگے کہ چھٹیاں کیسے گزاریں گے۔
سارا سارا دن ہائی سکول کی چھتری نما بکائنوں کی نگھی چھاؤں میں بیٹھ کر تاش کھیلا کریں گے۔ سفیدے کے تنوں پہ اپنے نام کے ساتھ کچھ اور بھی حروف لکھ کر خوش ہوا کریں گے۔ شکر دوپہروں میں بالوں کو سنوار کر، نہا دھو کر گاؤں کی گلیوں گھومیں پھریں گے۔ بانگی کھوہ کے پاس، گندم کے کھیتوں میں کھڑی بوڑھی بیریوں کے کھٹے میٹھے بیر اتارنے جائیں گے۔
سرکنڈوں اور اوکاڑی کے جنگل سے گزر کر ستلج دریا پر پہنچیں گے، لوہے کی کنڈی میں ’گنڈویا‘ پرو کر، دھاگے سے باندھ کر دریا میں پھینکیں گے اور ریت پر آلتی پالتی مارے بیٹھے رہیں گے۔ پتن پہ کھڑی پرانی سی کشتی پہ سوار ہو کر ملاح کے ساتھ پانی میں ڈوبتے سورج کی طرف چلتے جائیں گے۔
چاچا رفیق مولوی کی دکان سے سائیکل کی پرانی ٹیوب مانگ کر غلیل بنائیں گے۔ مٹی کے ’گلیلے‘ بنا کر چڑیوں، لالیوں، کووں اور گھوگھیوں کے نشانے لیں گے جو سب خطا جائیں گے۔ شریہنہ کی ٹھنڈی چھاؤں میں اڈہ کھڈا اور باندر کلا کھیلا کریں گے۔ ست ربڑی گیند اور پرانے بلے سے دن بھر کرکٹ کا مزہ لیں گے۔ چاندنی راتوں میں رات ڈھلنے تک وانجو کھیلا کریں گے۔
ساون کے مہینے میں جب گھنگھور گھٹائیں ہمارے گاؤں میں چھما چھم برسنے آئیں گی تو ہم سارا دن مینہ میں نہایا کریں گے۔
بابا موہل بادشاہ کے میلے پر جلیبی کھائیں گے، برف کی ڈلیوں والا ٹھنڈا ٹھار فالودہ پئیں گے۔ ہل چلی زمیں پر بیٹھ کر کبڈی دیکھیں گے۔ آم ترنوز کھا کر شام کے سرمئی دھندلکے میں، کچے رستوں پر دھول اڑاتے ہنستے ہنساتے گھروں کو لوٹ آئیں گے۔ چن پیر دربار پر قطار میں چلتے اونٹوں کی جماعت دیکھیں گے، رنگ برنگی رسیوں، پھمن، کوڈیوں، گھنگھرووں اور گھنٹیوں سے سجے اونٹ دیکھ کر یوں لگے گا جیسے چیتر کے سارے رنگ قطار باندھے چل پڑے ہوں۔
پیسے اکٹھے کر کے گومے کی دکان سے وی سی آر کرائے پر لیں گے اور رات جاگ کر فلمیں دیکھا کریں گے۔ پی ٹی وی پر چلنے والے ڈراموں کی ساری قسطیں دیکھیں گے۔ پورے چاند کی دودھیا راتوں میں ہائی سکول کے گراؤنڈ میں بیٹھ کر لتا، رفیع، نور جہاں اور مہدی حسن کے فلمی گیت سنا کریں گے۔ ابو کے پرانے ڈائجسٹوں کی محبت بھری رومانوی کہانیاں چپکے چپکے پڑھ کر تخیلاتی دنیا آباد کریں گے۔
ہم نے جو منصوبے بنائے وہ ہمارے خیالوں کی اڑان کی طرح لا محدود تھے۔
خدا خدا کر کے سب پیپر ختم ہو گئے۔ سر سے بار اترا، جان چھوٹی۔ خوشی کا کوئی ٹھکانا نا رہا۔ گاؤں تھا، ہم تھے، کھیل تماشے تھے اور بدلتے موسم تھے۔ ایک ایک کر کے دن تیزی سے گزرنے لگے۔ جیسے ان کو پر لگ گئے ہوں۔
بکائن کی گھنی چھاؤں میں بیٹھ کر تاش کھیلنے سے ہم جلد ہی اکتا گئے۔ بکائن پہ پھول کھلے، پھول ڈوڈیاں بن گئے اور پھر ڈوڈیاں بھی سوکھ گئیں۔ سفیدے کے تنے پر جو ہم نے کسی نام کا پہلا حرف لکھا تھا وہ پیڑ نے چند ہی دن میں مٹا ڈالا۔ بن سنور کر شکر دوپہروں کو گاؤں کی سائیں سائیں کرتی سنسان گلیوں میں پھرنے سے بھی بے چین دل کو چین نا پڑا۔ بیریوں کے بیر جلد ہی بھگڑیاں بن کر ختم ہو گئے۔ ستلج دریا کنارے کوئی مچھلی کنڈی میں نا پھنسی۔ گنڈوئے نا حق مارے گئے۔ سورج تک ملاح کی کشتی نا پہنچ پائی اور ڈھلتا سورج ستلج کے پانی میں ڈوب کے مر گیا۔ ریت کے ہر ذرے میں اندھیرا بھر گیا۔
گھنگھور گھٹائیں برس کر لوٹ گئیں۔ ساون اجڑ گیا۔ حبس اور گرمی بڑھ گئی۔ موہل بادشاہ کے میلے پر لگی کبڈی کا میدان ٹوٹ گیا۔ ڈھول خاموش ہو گئے۔ چن پیر دربار پر جاتی جماعت کے اونٹوں کی گھنٹیاں نا جانے کہاں گم ہو گئیں۔
وقت تیزی سے ہاتھ سے کھسکتا چلا گیا۔ میٹرک کا رزلٹ آ گیا۔ سکول میں سب سے زیادہ نمبر آئے تھے۔ سکول کے لوح اعزاز بورڈ پہ نام لکھے جانے کی خوشی تو بہت تھی مگر وہ خوشیاں پھر کبھی لوٹ کر نہیں آئیں جو میٹرک کے پیپرز کے بعد چھٹیوں میں برسیں تھیں۔


