امریکہ کی ڈھلتی ہوئی عالمی بادشاہت
ایک زمانہ تھا کہ جب برطانیہ کی شاہی تقریباً تمام براعظموں کا احاطہ کرتی تھی اور کہا جاتا تھا کہ برطانوی سلطنت اتنی وسیع و عریض ہے کہ اس میں سورج کبھی غروب نہیں ہو پاتا۔ اور یہ بات حقیقت بھی تھی۔ لیکن آج برطانیہ صرف ایک جزیرے تک محدود ہو کر رہ گیا ہے اور بریگزٹ کے بعد تو اس کی حالت کافی نازک ہو چکی ہے۔ جن ممالک پر کبھی برطانیہ حکمرانی کیا کرتا تھا آج ان کے تعاون کا محتاج ہے۔ یہ قانون فطرت ہے۔ ہر عروج کو زوال ہے۔
امریکہ کی کہانی بھی کچھ برطانیہ جیسی ہونے والی ہے۔ ایک وہ دور تھا کہ جب اس دنیا میں بیلنس آف پاور کے نام پر دو گروپ تھے۔ ایک سوویت یونین کا اور دوسرا امریکہ کا۔ سوویت یونین والے اپنے آپ کو کمیونسٹ اور امریکہ کے گروپ والے اپنے آپ کو کیپیٹلسٹ کہتے تھے۔ یہ نام نہاد نظریات کی جنگ، جنگ عظیم دوئم کے بعد سے لے کر بیسویں صدی کے آخری عشرے تک رہی جو کہ سوویت یونین کے اختتام پر ختم ہوئی۔ اس کے بعد سے لے کر آج تک امریکہ بہادر اپنے آپ کو دنیا کی اکلوتی سپر پاور سمجھتا آ رہا ہے۔
لیکن اب حالات بہت بدل چکے ہیں۔ اب تک امریکہ نے بلاشبہ سوویت یونین کے خاتمے کے بعد سے اس دنیا پر حکمرانی کی ہے اور ہر اس ملک کا بیڑا غرق کیا ہے جو اس کی طاقت کے آگے اٹھنے کی کوشش کرتا تھا۔ ساوتھ امریکہ کے ممالک سے لے کر مڈل ایسٹ تک اور افریقہ کے ممالک سے لے کر ساوتھ ایسٹ ایشیا تک، حتى کہ یورپ بھی امریکی طاقت سے محفوظ نہیں رہ سکا۔ لیکن اب دور بدل رہا ہے۔ دنیا اب یونی پولر کی بجائے ملٹی پولر ہو چکی ہے۔ ہر براعظم میں کوئی نہ کوئی ریجنل طاقت ابھر چکی ہے اور ایسی ریجنل پاورز کسی بھی نام نہاد عالمی پاور کے آگے سر تسلیم خم کرنے کے لیے تیار نہیں۔
یورپ میں جرمنی، فرانس اور برطانیہ اپنے فیصلے کرنے میں آزاد ہیں اور امریکہ کی ڈکٹیشن لینے کی بجائے اپنے فیصلے یورپ میں ہی کرنے کو بہتر سمجھتے ہیں۔ اس کی تازہ ترین مثال روس کے ساتھ گیس کا معاہدہ ہے جو یورپی ممالک نے امریکہ کی مخالفت کے باوجود جاری رکھا ہوا ہے۔ امریکہ کی مخالفت کے باوجود یورپ چین کے ساتھ بھی اپنے روابط بڑھا رہا ہے جو کہ یقیناً امریکہ بہادر کے لیے باعث تشویش ہے۔
افریقہ میں بھی مصر سے لے کر ساوتھ افریقہ تک، تمام ممالک امریکی مخالفت کے باوجود چین اور روس کے ساتھ معاشی معاہدات کر رہے ہیں۔
ایشیا میں بھی صورتحال کچھ مختلف نہیں ہے۔ پاکستان سے لے کر سری لنکا تک، اور وسطی ایشیا سے لے کر حتی کہ بھارت تک امریکی دباؤ کے باوجود چین کے ساتھ تعلقات کو فروغ دیے جا رہے ہیں۔
ساوتھ امریکہ کے ممالک بھی امریکی دباؤ کو نظر انداز کرتے ہوئے چین اور روس سے روابط مستحکم کرنے میں لگے ہیں۔
موجودہ صدی کو چین اور ایشیا کی صدی کہا جا رہا ہے لیکن امریکہ بہادر اس حقیقت کو تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں ہے۔ اس نے چین کی ترقی کو روکنے کے لیے باقاعدہ ریاستی سطح پر منصوبہ بندی کی ہے اور اس کا کھل کر اظہار بھی کر چکا ہے۔ امریکہ بہادر کو یہ بات سمجھ لینی چاہیے کہ آنے والا دور معاشی ترقی کا دور ہے۔ اب پراکسی وارز والا زمانہ گیا۔ اب اس دنیا کے ممالک کسی اور ملک کی جنگ اپنی زمین پر لڑنے کی بجائے دوسرے ممالک سے معاشی معاہدوں کو ترجیح دینے لگے ہیں۔
اس دنیا کے ممالک کو امریکی پراکسی وارز والے نظام سے نفرت ہو چکی ہے۔ اس دنیا کے ممالک نے امریکہ بہادر کے کہنے پر بہت تباہی دیکھ لی ہے اور مزید تباہی کے خواہاں نہیں ہیں۔ آج کی دنیا کے ممالک امن اور ترقی چاہتے ہیں۔ اپنے لوگوں کو غربت سے نکالنا چاہتے ہیں۔ آج کی دنیا کے ممالک اپنے فیصلے آزادی سے کرنے کو ترجیح دیتے ہیں۔ آج کی دنیا کے ممالک ملٹی پولیریٹی پر یقین رکھتے ہیں۔ اس سب کے باوجود امریکہ بہادر کی سلطنت کے خاتمے کو کچھ مزید وقت ضرور لگے گا کیونکہ پچھلی ایک صدی سے امریکہ بہادر نے اس دنیا کے ہر کونے میں اپنا اثر و رسوخ بنایا ہے۔ لیکن اب امریکی یونی پولیریٹی حقیقت میں ختم ہو چکی ہے اور اس کی سلطنت کا خاتمہ بھی دیوار پر صاف و شفاف الفاظ میں لکھا دکھائی دے رہا ہے۔ اس میں وقت کتنا لگے گا اس کا فیصلہ بھی امریکہ نہیں بلکہ اس دنیا کے دیگر ممالک کریں گے۔


