اپنی غلطیوں کا اعتراف مگر کیوں؟


کہتے ہیں کہ انسان بھی کتابوں کی طرح ہوتے ہیں اچھے، برے، اعلیٰ، ادنیٰ بڑھیا اور گھٹیا مگر یہ کتابوں سے زیادہ مشکل ہوتے ہیں کیونکہ ان کے اکثر مضامین وہ نہیں ہوتے جو یہ اپنے بارے میں بتاتے، بیان کرتے یا پھر لکھتے ہیں کبھی بوسیدہ سی حالت میں دلکش و سنہری عبارات لیے تو کبھی خوبصورت سرورق میں بدصورت متن چھپائے ہوتے ہیں سچی بات تو یہ ہے کہ انسان سے زیادہ دلچسپ کتاب کوئی نہیں ہوتی جو رنگین سادہ اور دو ٹوک لفظوں سے مزین اس لیے بھی ہوتی ہے کہ ہم اس میں اپنی زندگی کے وہ تلخ سچ شامل نہیں کرتے جہاں ہماری غلطیاں نظر آنے لگیں بے شک سب سے اچھا ناول اور سب سے اچھی تصویر انسان کی اپنی زندگی کی ہوتی ہے کبھی تنہائی میں بیٹھ کر خود کو پڑھیں اور دیکھیں اس میں کی گئی غلطیاں کون سی ہیں اور ان میں آج بھی اصلاح کی کتنی گنجائش موجود ہے۔

پچھلے دنوں ایک پرانے اور اچھے دوست سلیم تونسوی صاحب سے ایک دعوت میں ملاقات ہوئی موصوف ایک سرکاری ادارے میں ایک بہت بڑی پوسٹ سے ریٹائر ہو چکے ہیں ان کی شخصیت میں افسری سے زیادہ نیازمندی کا عنصر ہمیشہ غالب رہا ہے سرکاری افسر ہونے کے باوجود وہ نستعلیق طبیعت اور مزاج کے آدمی ہیں ان کا دھیما پن اور خوش گفتاری لوگوں کو اپنا گرویدہ کر لیتی ہے۔ صاحب ذوق ہونے کے ساتھ ساتھ تونسہ شریف سے تعلق رکھنے کے باوجود لہجہ میں پہاڑی سختی کی بجائے ریگستانی نرمی ان کا خاصہ ہے اور یہی خاصیت انہیں دوستوں کی محفلوں میں نمایاں کر دیتی ہے۔

میں نے پوچھا جناب ریٹائر منٹ کے بعد آج کل کیا مصروفیات ہیں۔ تو فرمایا کچھ خاص نہیں ہیں البتہ آپ کے کالم اکثر پڑھتا ہوں اردو ڈائجسٹ کا بہت پرانا قاری ہوں اس میں آپ کے مضامین پڑھ کر بہت اچھا لگتا ہے۔ پھر کہنے لگے ارادہ تو یہ تھا کہ ریٹائرمنٹ کے بعد وقت ملے گا تو میں بھی ایک کتاب لکھوں گا جس میں اپنی زندگی کے دوران کی گئی غلطیوں کی نشاندہی کروں گا اور یہ بھی لکھوں گا کہ ان غلطیوں سے کیا کیا نقصان اٹھانے پڑے اور ان سے کیسے بچا جاسکتا تھا؟

اور ان سے مجھے کیا سبق حاصل ہوا تاکہ نئی نسل انہیں سمجھ سکے اور پھر سے نہ دوہرائے مگر لکھ نہیں پا رہا ہوں۔ ان کی بات سن کر مجھے محسوس ہوا کہ واقعی یہ انسانی نفسیات ہے کہ ہم اپنی زندگی کے بارے میں جب بولتے، لکھتے یا بیان کرتے ہیں تو اپنی کامیابیوں، بہادری اور کامرانیوں کے قصے بیان کرتے ہیں کبھی اپنی کمی کوتاہیوں اور دانستہ و نادانستہ غلطیوں کا اعتراف نہیں کرتے کیونکہ ہم فخر کرنا چاہتے ہیں شرمندہ ہونا پسند ہرگز نہیں کرتے۔

درحقیقت اپنی غلطیوں کا اعتراف ہے حد مشکل کام ہوتا ہے اور ہمیشہ بڑے اور قد آور لوگ ہی یہ کام کر پاتے ہیں۔ یہاں یہ بات سمجھنا بے حد ضروری ہے کہ غلطی اور گناہ میں بڑا واضح فرق ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنے اور دوسروں کے گناہوں کو چھپانے اور ظاہر نہ کرنے کا حکم دیتا ہے جبکہ غلطیوں کا اعتراف دراصل بڑائی ہوتی ہے جو ہمیں مستقبل میں ان سے بچنے کے لیے ادراک اور سوچ مہیا کرتا ہے۔ کچھ لوگ اپنی غلطیوں کو تجربے کا نام بھی دیتے ہیں۔

دراصل غلطی کیا ہے؟ اسے سمجھنا بے حد ضروری ہے تب ہی ہم اپنی غلطیوں کا ادراک کر پائیں گے؟ بھول چوک، خطا، لغزش، عدم صحت، غلط بیانی، ناسمجھی، غلط فہمی یا کسی شے کی حقیقت یا تہہ تک نہ پہنچنا جو گناہ یا احکامات خداوندی کی خلاف ورزی کے زمرے میں نہ آتا ہو غلطی کہلاتا جبکہ گناہ اللہ کے احکامات اور اس کے قوانین و ہدایات کی وہ خلاف ورزی ہوتا ہے جس کے کوئی مثبت پہلو نہیں ہوتے جبکہ تمام تو نہیں لیکن بہت سی غلطیوں کے بہت سے مثبت پہلو بھی ہوتے ہیں۔

یہ کہاوت مشہور ہے کہ ہم اپنی غلطیوں سے سیکھتے ہیں اور یہ درست بھی ہے کہ کوشش کرنے سے یا سعی کرنے سے غلطی ہو ہی جاتی ہے اور غلطی کرنے سے ہمارا ذہن اور ہمارا ہنر بڑھتا ہے یہ نہیں ہو سکتا کہ ہم غلطیوں کے خوف سے کام ہی کرنا چھوڑ دیں جب بھی ہم کچھ اچھا بھی کرنا چاہتے ہیں تو غلطی کی گنجائش موجود رہتی ہے۔ دنیا میں موجدوں کی غلطیوں کے سبب کئی عظیم ایجادات ظہور پذیر ہو چکی ہیں جن میں پیس میکر، پوسٹ اٹ نوٹ اور مائیکرو ویو شامل ہیں۔

اگر سکاٹ لینڈ کے سائنس دان الیگزینڈر فلیمنگ نے یہ چھوٹی سی غلطی نہ کی ہوتی تو آج ہمارا ماضی و حال مختلف اور منفرد نظر آتا کہتے ہیں کہ فلیمنگ نے اینٹی بائیوٹک کی پینسلین کی دریافت نہیں کی ہوتی اگر انہوں نے پٹری ڈش یا سخری قاب چھٹیوں پر جانے سے قبل باہر نہ چھوڑ دیا ہوتا جو پڑا رہنے سے آلودہ گیا تھا اس کو صاف کرنے سے قبل انہوں نے ڈش میں دیکھا کہ پھپھوند میں اضافہ ہوا لیکن بیکٹریا نہیں بڑھا یہ کوئی معمولی پھپھوند نہیں تھی یہ پینسیلیم نوٹیٹم تھا اور یہی پینسلین کی دریافت کا موجب بنا جس سے بیکٹیریا کے انفیکشن کا علاج کیا جانے لگا خیال کریں کہ کس طرح ایک چھوٹی سی بھول لاکھوں جانیں بچانے کا موجب ہوئی۔

کہتے ہیں کہ غلطیاں شرمندگی کا باعث ہوتی ہیں لیکن معروف انگریزی مصنف آسکر وائلڈ نے لکھا ”ہر آدمی غلطیوں کو تجربے کا نام دیتا ہے اس کے مزاح نے بہت ہی اہم نکتے کو اجاگر کیا ہے کہ غلطی کرنا ہمیں اپنے بارے میں اور ہماری زندگی کے جاننے کے بارے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ کسی غلطی کی وجہ سے کسی بڑے امتحان میں ناکامی آپ کو سکھاتی ہے کہ آپ کو حقیقی مایوسی سے کیسے نمٹنا ہے۔ اکثر غلطی کا ڈر ہمیں نئے کام کرنے سے روکتا ہے جبکہ غلطیوں کو قبول کرنا اس کا برعکس ہوتا ہے جو ہمیں کسی بھی غلطی سے سیکھنا اور سبق حاصل کرنا بتاتا ہے۔

البتہ غلطی کا ازالہ بروقت ہو جائے تو بڑے نقصان سے بچا جاسکتا ہے میرے والد مرحوم کہتے تھے کہ غلطی ہونے کی بڑی وجہ لاعلمی اور ناواقفیت ہوتی ہے جوں جوں آپ کی عمر، علم اور تجربہ بڑھتا ہے غلطیاں کم ہونے لگتی ہیں وہ کہتے تھے کہ کبھی بھی بہت زیادہ غصے، خوشی یا جذبات میں فیصلہ نہ کریں ان حالات میں غلطی کا امکان بڑھ جاتا ہے وہ کہتے تھے کم علمی کے ساتھ ساتھ حد سے زیادہ خوداعتمادی بھی غلطی کا موجب بنتی ہے خوداعتمادی یا شوق شوق میں دریا میں کودنے کی غلطی آپ کو موت کے منہ میں لے جا سکتی ہے۔

وہ کہا کرتے تھے کہ اگر آپ غلط ٹرین پر سوار ہو جاتے ہیں تو آپ پہلے ہی اسٹیشن پر اترنے کی کوشش کریں کیونکہ جتنا فاصلہ بڑھتا جائے گا اتنی ہی واپسی مشکل اور مہنگی ہوتی جائے گی۔ غلطی کا ارتکاب ہوجانا کوئی کچھ ناممکن نہیں بلکہ انسان سے غلطی کا سرزد ہوجانا معمول کی بات ہے لغت عرب کی ایک تحقیق کے مطابق لفظ انسان، نسیان سے مشتق ہے جس کے معنی بھول جانا یا غلطی کا ارتکاب کر جانا ہوتا ہے۔ اچھے انسان کی خاصیت یہ ہے کہ وہ بروقت اپنی غلطی کو تسلیم کرے اور اعتراف کر کے اس سے سبق حاصل کرے تاکہ آئندہ اس غلطی کو دوہرایا نہ جا سکے۔ غلطیوں کا اعتراف صرف ایک انسان تک محدود نہیں بلکہ اجتماعی غلطیوں کا اعتراف لیڈروں، رہنماؤں، کے ساتھ ساتھ قومی اور ملکی سطح پر ہونا چاہیے۔

مجھے سلیم تونسوی صاحب کی بات سے اتفاق ہے کیونکہ انسان بہت سے معاملات سے بہت کچھ سیکھتا ہے پورا ماحول ہمیں کچھ نہ کچھ سکھانے کی کوشش کرتا رہتا ہے مگر عام مشاہدہ ہے کہ انسان سب سے زیادہ اپنی غلطیوں سے ہی سیکھتا ہے کسی بھی معاملے میں کی جانے والی یا سرزد ہو جانے والی غلطی ہمارے اور ہماری آنے والی نسل کے لیے سبق سے کم نہیں ہوتی ماہرین کا خیال ہے کہ غلطی کرنے سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ بہرحال کوشش کی گئی ہے غلطی سے سیکھنے کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ اس غلطی کا اعادہ نہ ہو اور اعتراف اور اس کا بیان اور تحریر اس بات کی علامت ہے کہ ہماری آنے والی نئی نسل سابقہ تجربات سے فائدہ اٹھائے ُ۔

غلطی تسلیم کرنے سے ذہن کو ایک عجیب سی راحت کا احساس ہوتا ہے یہی راحت اور مسرت ہمارے سوچنے اور سمجھنے کی صلاحیت کو بہتر بناتی ہے اور سکون کا باعث بھی بن جاتی ہیں کہ ہم نے اعتراف کر کے اپنا فرض ادا کر دیا ہے۔ میرے ایک مرحوم دوست کہتے تھے کہ جب مجھے اپنی غلطیاں یاد آتی ہیں تو کبھی کبھی مجھے شرمندگی محسوس ہوتی ہے لیکن اکثر مجھے اپنی غلطیوں اور بے وقوفیوں پر ہنسی بھی آتی ہے۔ اب بھلا ان کا بیان کر کے میں اپنا مذاق خود ہی کیسے اڑا سکتا ہوں؟

میری سلیم تونسوی صاحب سے گزارش ہے کہ آپ اپنی غلطیوں کے بارے میں کتاب ضرور لکھیں تاکہ اپنی زندگی میں ہونے والی غلطیوں سے سیکھا جا سکے اور ماضی کے بوجھ کو تحریر کے ذریعے اپنے کندھوں سے اتارا جا سکے اور یہی مشورہ میرے ان سب باقی محترم دوستوں کو بھی ہے جن کے تجربات ہماری نئی نسل کے لیے سرمایہ اور ہدایت ثابت ہو سکتے ہیں۔ تو آئیں اپنی اپنی غلطیوں کا اعتراف کر کے اپنی نوجوان نسل کو تجربات کے طور کچھ نہ کچھ دے جائیں۔

 

Facebook Comments HS