سیاست کے گھوڑے پر، ریاست کی لگام


243 ملین آبادی پر مشتمل مسلم اکثریتی ملک، ایک ایسی ریا ست جہاں کسی وزیرِاعظم نے اپنی مدت پوری نہیں کی۔ ملکی تاریخ میں کوئی الیکشن اپنے تنازعات کے بغیر نہیں رہا۔ تاہم الیکشن 2024 سب سے زیادہ زور پکڑتا نظر آیا۔

فوجی حکمرانی اور آمریت کی طویل تاریخ کے ساتھ، جب نومبر 2022 سابق آرمی چیف نے اپنی الوداعی تقریر میں نہ صرف سیاست میں فوج کی مداخلت کا اعتراف کیا بلکہ پاکستانی فوج کا مستقبل میں جمہوری کام سے باز رہنے کی یقین دہانی بھی کروائی۔ صرف 15 ماہ بعد ، 8 فروری کا ووٹ مبینہ فوجی مداخلت کے سائے میں دیکھا گیا، اور یہ وعدہ بھی بخارات بنتا نظر آیا۔

پاکستانی سیاست۔ کیا عوام کہ ضرورت صرف صحت و تعلیم کی نا قص سہولیات، گھروں میں گیس اور پانی کا آنا ہی ہے؟ جو گزشتہ 76 سالوں سے پورا نہ ہونے والا منشور ہے۔ روٹی، کپڑا اور مکان۔ اب یہ صدا جب کانوں تک آتی ہے تو یوں لگتا ہے کہ روٹی، کپڑا اور مکان محض عوام کے لئے نہیں بلکہ حکمرانوں کی ضرورت ہو۔

کیا یہ حقیقت نہیں کہ ایک سابق وزیرِاعظم جیل کی سلاخوں کے پیچھے بیٹھا ہے، کھڑے ہونے سے قاصر تھا۔ جبکہ دوسرا خود ساختہ جِلاوطنی سے دوبارہ اُبھرا ہے، اور اس کی سزائیں بھی بہہ گئیں۔

لیکن اس کشمکش کے نتائج عوام پر کیا مرتب ہوتے ہیں، اس سوال کے جواب سے پہلے ایک نظر گزشتہ ماہ کے انتخابات پر ڈالتے ہیں۔

جمعرات صبح 8 بجے، ووٹنگ کا سلسلہ شروع ہوا اور بغیر کسی وقفے کے شام تک جاری رہا۔ شام 5 بجے ووٹنگ کا عمل رُکا تو نتائج کا انتظار تھا۔ 6 بجے کے بعد غیر حتمی اور غیر سر کاری نتائج آنا شروع ہوئے۔ توقعات کے بر عکس نتائج نے سب کو حیران کر دیا کیونکہ، پی ٹی آئی کے آزاد امیدوار سب سے آگے تھے۔ تاہم یہ سلسلہ بھی کچھ دیر بعد رُک گیا۔ عوام کی نظریں الیکشن کمیشن آف پاکستان پر جمی تھی لیکن وہ بھی بے بس دکھائی دیا۔ رات 12 بجے تک بھی بیشتر علاقوں میں نہ تو موبائل نیٹورکس بحال ہوئے اور نہ ہی گنتی کے نتائج منظرعام پر آئے۔ اس موقع پر سوشل میڈیا اور مین اسٹریم میڈیا پر بحث و تکرار، شک و شبہات اور سوالات کی بو چھا ر دکھائی دی۔

ایک طرف تو نتائج میں تاخیر کو پی ٹی آئی اور اس کے حامیوں نے دھاندلی قرار دیا تو دوسری جانب پاکستان مسلم لیگ نون اور دیگر پارٹیوں کے خیموں میں مکمل خاموشی چھائی رہی۔ حکومتی اداروں پر عوام کا اعتبار بھی کم ہوتا دیکھا گیا۔ صبح 10 بجے ای سی پی کی جانب سے دہرے اعلان کی یقین دہانی بھی کروائی گئی، تاہم یہ بھی نہ ہو سکا۔

اس سسٹم پر شاید سوال داغنے کی ضرورت نہیں، جواب ہم سب کے پاس ہے۔

میڈیا کے کردار کی بات کی جائے تو صاف نظر آتا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ کے مخالف سمت کھڑے سیاستدانوں کو کوریج بھی نہیں ملتی۔ پاکستان کی حالیہ تاریخ کا جائزہ لیا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ آج سے ٹھیک 6 سال قبل سنہ 2018 کے انتخابات میں میاں نواز شریف کی حیثیت پاکستانی میڈیا پر فرعون سے زیادہ نہ تھی، اور آج موسیٰ سے کم نہیں۔ بڑے بڑے پروگراموں، نیوز چینلوں، یہاں تک کہ اخبارات کی سُرخیوں میں بھی ان کے مبینہ کرپشن پر چہ مگوئیاں ہی سنائی دیتی تھیں۔

ملک کے 14 ویں عام انتخابات میں یہ منظر دوبارہ دیکھا گیا۔ مگر آج، بندوقوں کا رُخ دوسری طرف ہے۔ البتہ تاریخ قدیم اور کردار مختلف ہیں۔

یاد رہے! 72 سالہ خان کو جو حمایت بذریعہ سوشل میڈیا حاصل ہوئی، وہ صدا نواز کے وقت کہاں سُنائی دی؟ یہ سب دیکھ کر مجھے سمجھ نہیں آیا کہ سوشل میڈیا کا یہ ٹرینڈ بعد میں اُبھرا ہے یا پھر عوام میں شعور؟

اس مزاحیہ کھیل نے پاکستانی سیاست کو ایک نئی شکل دی ہے۔ زلزلے کی شدت اس قدر تھی کہ جھٹکے آج تک گونج رہے ہیں۔

1958، آزادی کے لگ بھگ 11 سال بعد ، لگام اس قدر سختی سے کَسی گئی کہ سیاسی گھوڑا آج تک بے بس ہے۔

Facebook Comments HS