ہمارے مرنے پر ایک تعزیتی جلسہ، ارے وہ بھی نہیں!
گزشتہ شب ایک خواب میں خود کو مردہ پاتا ہوں اور مرنے کے بعد اس سوچ میں ہوں کہ کیا میرے بعد دوست یاروں نے میرے لیے کوئی تعزیتی جلسہ بھی کیا ہے یا نہیں، یا پھر کسی جگری نے مجھ پر یادِ رفتگاں بھی لکھا ہو گا یا نہیں۔ میں خود کو جنت اور جہنم کے درمیانی راستوں میں پاتا ہوں کہ اتنے میں مجھے اپنا ایک دوست نظر آتا ہے اور میں اس سے پوچھتا ہوں کہ۔ ابے تُو یہاں کیا کر رہا ہے۔ تو اس نے کہا جانی میں بھی مر چکا ہوں اور تمھارے مرنے کے ٹھیک چار مہینے بعد میرا بھی انتقال ہو گیا۔
میں دوست کے ملنے پر بہت خوش ہوا اور دل ہی دل میں سوچنے لگا کہ اس سے پوچھوں گا کہ کم بختوں کیا میرے مرنے کے بعد تم لوگوں نے میری یاد میں کوئی تعزیتی جلسہ بھی کیا یا نہیں۔ ویسے یہ بھی کیا تصور ہے کہ مرنے کے بعد بھی دل ہی دل میں سوچا جانا اور سوال کرنے کو بعد پر چھوڑ دینا جبکہ مرنے کے بعد کی دنیا تو تو کچھ اور ہی بتائی جاتی ہے جہاں انسان کچھ کرنے کا صرف سوچتا ہی اور وہ ہو بھی جاتا ہے۔ بات کہیں سے کہیں نکلتی جا رہی ہے اور فی الوقت تو میں مردہ انسان ہی رہنا چاہتا ہوں چاہے وہ ایک خواب کی وجہ سے ہی کیوں نہ ہو۔
میں نے اپنے دوست سے پوچھا، یار یہ تو بتاؤ کیا میرے مرنے کے بعد تم لوگوں نے میرے لیے کوئی تعزیتی جلسہ بھی کیا۔ یا پھر ایسا ہے کہ کسی جگری یار نے مجھے خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے کسی قسم کا کوئی یاد رفتگاں بھی لکھا؟
پہلے پہل تو میرا دوست اس سوال کے جواب میں اِدھر اُدھر کی کہانی سنانے لگا اور میرے مرنے کے بعد سے میری تدفین تک کے دوران پیش آنے والے واقعات کی روداد بتانے لگا جس میں میرے فضائل کم مصائب زیادہ رہے۔ پھر جھنجھلا کر میں نے اس سے پوچھا کہ یار مجھے صرف یہ بتاؤ کہ کیا میری یاد میں کوئی تعزیتی جلسہ ہوا یا نہیں۔ ؟
ارے یار تم کیا بات کرتے ہو ہم نے ہر وقت اٹھتے بیٹھتے تمھیں یاد کیا ہے۔ یار وہ تو ٹھیک ہے لیکن تعزیتی جلسہ منعقد کیا یا نہیں، اس بار میں نے چیخ کر کہا اور ساتھ ہی اپنے ہاتھوں کی انگلیاں بھی دانتوں میں دے ڈالیں۔ ایسے میں دیکھتا ہوں کہ دوست اپنے کندھے اُچکانے اور کان کُھجانے لگتا ہے، بس یہی وہ علامت ہے جس سے میں یہ سمجھ گیا کہ دال میں کچھ کالا ہے۔ ان کم بختوں نے میرے لیے کوئی تعزیتی جلسہ نہیں رکھا اور نہ ہی کسی بیلی نے مجھ پر یادِ رفتگاں لکھا ہے۔
ابھی بحث ختم نہیں ہوئی تھی لیکن وقت کا معلوم نہیں ہو پا رہا تھا کہ دن گزر رہا ہے یا رات ہونے کو ہے، ہم دوپہر میں ساتھ بیٹھتے تھے یا پھر شام۔ یار یہاں تو کچھ پتا ہی نہیں چل پا رہا ہے کہ وقت کیا ہوا ہے اور وقت کی یہاں کیا قدرو قیمت ہے۔ لیکن ہم یہ جان گئے تھے کہ مرنے سے پہلے کی دنیا میں وقت کی بہت زیادہ قدرو منزلت ہے۔ کوئی اس قدر کاموں میں مصروف ہوتا ہے کہ اسے اپنا وقت صرف اپنی مصروفیت کے لیے ہی وقف کرنا پڑتا ہے اور کوئی وقت کے معاملے میں اس قدر بخیل ہے کہ وہ اپنی کاہلی اور سُستی کے علاوہ کسی اور امر پر اپنا وقت صرف نہیں کرتا۔ اگر مرنے کے بعد ”فانی دنیا اور دائمی دنیا“ میں کوئی فرق سمجھ آیا ہے تو وہ صرف اور صرف ”وقت کا ہونا یا نہ ہونا“ ہی ہے۔
ارے بھئی پھر بات کہیں سے کہیں نکل گئی۔ یار دیکھ مجھے ایک لائن میں جواب دے کیا میرے مرنے کے بعد مجھ پر یادِ رفتگاں لکھا گیا، کوئی تعزیتی جلسہ رکھا گیا؟
جواب میں دوست نے کہا کہ تمھارا فلاں جگری دوست تم پر یادِ رفتگاں لکھنا چاہتا ہے اور کیا لکھنا چاہتا ہے یہ بھی ہمیں بتا چکا ہے، لیکن اس کا کہنا ہے کہ جیسے ہی اسے کچھ فرصت ملے گی تو وہ اسے تحریر میں لائے گا۔
اسی طرح تمھارے بہت سے دوستوں نے جن میں ”میں“ بھی شامل تھا کہ درمیان یہ طے پایا تھا کہ تمھیں خراج عقیدت پیش کرنے اور تمھاری خدمات کے اعتراف میں ایک تعزیتی جلسہ منعقد کریں گے، لیکن تاریخ اور مقام کا تعین نہیں ابھی نہیں ہو پایا تھا، اب جبکہ میں بھی مر چکا ہوں اور تمھارے سامنے ہوں، معلوم نہیں تعزیتی جلسہ ہوا ہے یا نہیں۔ اسی سوچ کے ساتھ ہم کچھ عرصے کے لیے ایک دوسرے کی نظر سے اُوجھل ہو گئے۔ کچھ عرصے کے بعد ہمارا ایک جاننے والا ہمیں حشر کے میدان سے کچھ پہلے نظر آیا اور ہم نے اس سے پوچھا۔ بھائی تم یہاں کب سے؟
اس نے جواب میں کہا کہ آپ لوگوں کے مرنے کے تین سال بعد میرا بھی انتقال ہو گیا اور اس وقت میں بہت جلدی میں ہوں، اس پر ہم نے اس سے کہا کہ بھائی یہاں وقت نام کی کوئی شے نہیں ہوتی۔ اس پر اس نے کہا کہ یہاں وقت ہوتا ہے یا نہیں لیکن منزل ضرور ہوتی ہے اور منزل پر پہنچنے کے لیے پہلی شرط وقت سے نکلنا اور درست راستے کا تعین کرنا ہے۔
ایسے میں ہم نے سوچا کہ یار اس سے پہلے کہ یہ یہاں سے غائب ہو جائے اس سے پوچھ ہی لیا جائے کہ۔ ”کیا ہمارے مرنے کے بعد ہمارے دوستوں نے ہماری یاد میں کوئی تعزیتی جلسہ کیا تھا نہیں جبکہ اب تو ہماری تین برسیاں بھی گزر چکی ہیں!“
اس پر جاننے والے نے کہا کہ ارے بھئی مجھے تو کوئی ایسی خبر نہیں۔ اتنے میں قریب سے گزرتے ہوئے ایک فرشتے کی آواز سنائی دی اور وہ کہہ رہا تھا کہ تم لوگوں کا ایک دوست آج ہی اس دنیا میں لایا گیا ہے اس سے پوچھ لینا، ہم نے کہا کہ کیا پوچھ لینا جس پر فرشتے نے کہا بھئی اُسی تعزیتی جلسے کے بارے میں۔ ۔ ۔ ایسا لگ رہا تھا کہ جیسے فرشتہ ہماری چڑ بنا رہا ہو۔
اس سے پہلے کہ میں اپنے مرنے کی چوتھی برسی مناتا اور اپنے کسی نئے دوست سے مرنے کے بعد ملاقات کرتا۔ اتنے میں ایک آواز آئی کہ ”اٹھو سارا وقت سو کر گزار دیتے ہو“
یہ آواز شریک حیات کی تھی۔ اس طرح آنکھ کُھل گئی اور خود کو زندہ پاتا ہوں۔ دوپہر کا وقت ہے میں اپنے دوستوں کے ساتھ بیٹھا ہوں اور ایک ہی سوال کرتا ہوں۔
کیا ہمارے مرنے کے بعد تعزیتی جلسہ بھی ہوا کرے گا یا نہیں۔ جس پر سب نے کہا ”ارے وہ بھی نہیں“ ۔
ایسا ہے کہ اب ہمیں اس حقیقت کے ساتھ جینا ہو گا کہ ”ہم ایک تعزیتی جلسے کی مار بھی نہیں رہے“ ۔


