سندھ کی پریا کماری سمیت 50 مغوی ڈاکوں کے قید میں، بازیابی کے لئے منتظر!


سندھ میں اس وقت لاقانونیت، بدامنی، اغوا برائے تاوان، قبائلی دہشتگردی، لوٹ مار عروج پر ہے۔ سندھ کے سکھر اور لاڑکانہ ڈویژن میں امن امان کی صورتحال انتہائی خراب ہے۔ پولیس ڈاکو راج کے آگے بے بس ہے۔ ہندو بچی پریا کماری سمیت 50 سے زائد لوگوں کو ڈاکوں نے اغوا کیا ہوا ہے۔ مسافر، ٹرالر ٹرک ڈرائیور، مزدور، بچوں، خواتین کو اغوا کر لیا گیا ہے۔ لیکن کوئی سننے والا نہیں ہے۔ لیکن پریا کماری کے اغوا کا سراغ 32 ماہ گزرنے کے بعد مل نہ سکا ہے۔

دوسری جانب سندھ میں پریا کماری سمیت مغویوں کی بازیابی کے لئے جدوجہد جاری ہے۔ روڈ راستوں، سوشل میڈیا، ریڈیو ٹی وی دیگر پلیٹ فارم پر مہم چل رہی ہے، سرکار نے پریا کماری کی بازیابی کے لئے جی آئی ٹی قائم کی ہے۔ جبکہ دیگر مغویوں کی بازیابی کے لئے بھی عید کے بعد آپریشن کی تیاریاں شروع کی جائیں گی۔ سکھر اور لاڑکانہ ڈویژن کے مختلف اضلاع گھوٹکی، کشمور کندھ کوٹ، جیکب آباد، شکارپور، لاڑکانہ، قمبر شہداد کوٹ، سکھر، خیرپور، دادو، نوشہرو فیروز، نوابشاہ کے علاقے شامل ہیں جو اس وقت لاقانونیت کی لپیٹ میں ہیں۔

عوام شام کے وقت گھروں میں محصور ہو کر رہ جاتے ہیں۔ جبکہ لوگ رات کے وقت قومی شاہراہ، موٹروے، روڈ راستوں پر سفر کرنے سے گریز کرتے ہیں اگر کوئی مجبوری میں نکلتا ہے تو یا اغوا ہو جاتا ہے یا لٹ جاتا ہے۔ پریا کماری اس وقت کہاں ہیں۔ سندھ ہائی کورٹ سکھر بینچ میں ایس ایس پی سکھر عابد بلوچ نے پریا کماری کے متعلق ایک تحریری رپورٹ جمع کرا دی گئی ہے۔ سکھر پولیس نے موقف اختیار کیا ہے کہ پریا کماری اغوا کے بعد پہلے دن 19 / 08 / 2021 سے لے کر 05 / 04 / 2024 تک پولیس کی جانب سے کی گئی کوشش/کارروائی جاری ہے

پریا کماری 19 اگست 2021 کو لاپتہ ہوئی تین دن بعد پریا کماری کے والد راجو مل کی مدعیت میں سنگرار تھانے پر انڈر سیکشن 364 اور 34 پی پی سی کے تحت مقدمہ 13 / 2021 درج کیا گیا۔ کیس کے اندراج کے بعد پولیس نے پریا کماری کی تلاش کے لیے کوششیں شروع کردی ہیں۔ پولیس کی خصوصی ٹیموں نے سنگرار کے ارد گرد 415 گھروں کی تلاشی لی پولیس کی جانب سے 1030 مشتبہ افراد سے پریا کماری کے متعلق پوچھ گچھ کی گئی سیبل پوائنٹس پر موجود تقریباً 170 افراد کو چیک کیا گیا سنگرار اور اس کے قریبی گاؤں اور علاقے کی ڈرون کے ذریعے نگرانی کی گئی مشکوک جگہوں، نالوں، تالابوں کی اچھی طرح چیکنگ کی گئی سنگرار کے سید خاندان سے تعلق رکھنے والے تقریباً 40 افراد کو حراست میں لے کر پوچھ گچھ کی گئی 300 سے زائد قریبی گھروں اور آس پاس کے علاقوں کی سونگھنے والے کھوجی کتوں کی مدد سے تلاشی لی گئی۔

مزارات اور مندروں سمیت قریبی تالاب، خالی اور بوسیدہ عمارتوں کی تلاشی لی گئی علاقے کی جیو فینسنگ کر کے متعدد مشتبہ افراد سے پوچھ گچھ کی گئی۔ لاپتہ بچے کی تلاش کے لیے ہندو برادری سمت مقامی معززین سے ملاقات کی گئیں ضلع میں خانہ بدوشوں اور بھکاریوں کے رہائشی علاقوں کی جامع تلاش لی گئی۔ پولیس کی جانب سے مختلف علاقوں کے علاوہ شکارپور کی کچے کے علاقے میں بھی چھاپے مارے گئے سندھ کے مختلف علاقوں کے علاوہ رحیم یار خان، صادق آباد، بہاولپور سمیت پنجاب کے علاقوں میں بھی تلاش لی گئی ہے جبکہ پریا کماری کو ڈھونڈنے میں مدد کے لیے مختلف اداروں کو خطوط بھی لکھے گئے۔

پریا کماری کی تلاش میں مدد کے لئے پرنٹ الیکٹرانک اور سوشل میڈیا اور ریڈیو پر اشتہارات بھی دیے گئے۔ قریبی اضلاع میں عوامی مقامات پر بچی کی گمشدگی اور تلاش میں مدد کے پمفلٹ لگائے گئے۔ پریا کماری کی تلاش میں مدد کرنے والے کے لیے 50 لاکھ روپے کا انعام بھی رکھا گیا ہے۔ پریا کماری کیس کی انسپیکٹر، ڈی ایس پی اور ایس ایس پی لیول پر کیس کی تحقیقات کی گئی۔ محکمہ داخلہ کی جانب سے ڈی آئی جی میرپور خاص جاوید جس کا نی کی نگرانی میں ایس ایس پی حیدرآباد امجد شیخ اور ایس ایس پی بینظیر آباد تنویر تنیو پر مشتمل جوائنٹ انویسٹیگیشن ٹیم اس وقت کیس کی تحقیقات کر رہی ہے۔

جوائنٹ انویسٹیگیشن ٹیم کے سربراہ ڈی آئی جی میرپور خاص جاوید جس کا نی کی جانب سے پریا کماری کی گمشدگی کے معاملے کا تمام پہلوؤں سے جائزہ لینے اور تفتیش کرنے کے لئے 6 ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں ایس ایس پی حیدر آباد امجد احمد شیخ کی سربراہی میں فرانزک ٹیم قائم کی گئی ہے ٹیکنیکل ٹیم ایس ایس پی بینظیر آباد تنویر تنیو کی سربراہی میں قائم کی گئی ہے۔ مختلف لوگوں کے بیانات قلم بند کرنے کے لئے ڈی ایس پی سٹی اور ڈی ایس پی روہڑی کی سربراہی میں دو الگ الگ کمیٹیاں قائم کی گئیں ہیں۔

جبکہ خانہ بدوش لوگوں اور بھکاریوں کا ڈیٹا اکٹھا کرنے کے لئے ڈی ایس پی عبدالقدوس کلوڑ اور غلام حسین ڈاھری پر مشتمل ٹیمیں کام کریں گی تمام ٹیمیں تین روز میں رپورٹ جے آئی ٹی سربراہ جاوید جس کا نی کو پیش کریں گی۔ ٹیکنیکل اور فرانزک ٹیموں نے پریا کماری کے رشتے داروں سکھر اور سنگرار سے تعلق رکھنے والے ہندو برادری کے معززین اور دیگر افراد کے بیانات تفصیل جمع کرنا شروع کر دیے ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ پریا کماری بازیاب ہوگی یا نہیں۔

کیوں کہ 32 ماہ کا وقت گزرنے کے باوجود کوئی اتا پتا نہیں چلا ہے۔ سوشل میڈیا پر الزام عائد کیا گیا ہے کہ سنگرار کے با اثر شخصیات سید زاہد حسین شاہ اور شاہد حسین شاہ اغوا میں ملوث ہیں۔ ان سے تفتیش کی جائے۔ تفتیشی افسر جاوید جسکانی کا کہنا ہے کہ جب تک ورثا نہیں کہیں گے تب تک شاہ صاحبان کو طلب نہیں کیا جاتا۔ جبکہ ہندو پنچایت اور مکھی صاحبان کا کہنا ہے کہ وہ ٹیکس دیتے ہیں، جن کو ووٹ دیتے ہیں وہ ایک مرتبہ بھی پریا کماری کے گھر پر ہمدردی کے لئے نہیں آئے ہیں۔

ہماری آنکھیں اب بلاول بھٹو زرداری اور پیپلز پارٹی کی طرف دیکھتی ہیں جبکہ ہندو برادری عدم تحفظ کا شکار ہو کر سندھ چھوڑ کر بھارت جانے کی تیاریاں کی جا رہی ہیں۔ سندھ میں اس وقت ایسے حالات ہیں کہ ایک سال مکمل ہونے کے باوجود پروفیسر شہید اجمل ساوند کے قاتل گرفتار نہ ہو سکے ہیں۔ کاوش کی ٹی این نیوز کے بیورو چیف شہید جان محمد مہر کے قاتلوں کو 8 ماہ کا عرصہ گزرنے کے باوجود پولیس گرفتار کرنے میں ناکام ثابت ہوئی ہے۔ ایسے لگ رہا ہے جیسے لاقانونیت جنگل راج ہو۔ لیکن جنگل کے بھی کچھ اصول ہوتے ہیں۔ یہاں حکومت پولیس، قانون نافذ کرنے والے اداروں سمیت تمام اسٹیک ہولڈرز خاموش تماشائی کا کردار ادا کر رہے ہیں۔

 

Facebook Comments HS