دریائے دل کی روانی اور خوابِ بہارِ جاوداں


میر تقی میر نے کیا دماغ پایا تھا۔ ایک ہی وقت میں فریب وجود کا احاطہ بھی پیش نظر ہے اور موجود کی قدر پیمائی میں بھی آنکھ تہ در تہ جاتی ہے۔ جس زمین میں ’لوگ کچھ جمع آن ہوتے ہیں‘ جیسی نقد کہی، اسی میں ’میر و مرزا رفیع و خواجہ میر‘ جیسے لعل و گہر بھی گنوا دیے۔ اندوہ دروں تو اس احساس میں گندھا تھا کہ ’ہے خزاں بھی سراغ میں گل کے‘۔ اگلے روز یار عزیز حبیب اکرم سے بات ہوئی تو قائم چاند پوری کا ذکر آ گیا۔ انہوں نے خالص لاہوری رنگ میں ٹھٹھا اڑایا۔ یہ تو باور نہیں ہوتا کہ قائم چاند پوری کے مقام سے آگاہ نہ ہوں، شاید درویش کی کم علمی کے پیش نظر یہ کہنا چاہتے ہوں، ’گیا وقت خوبان دل خواہ کا‘۔ حبیب لبیب کا لہجہ کسی قدر سبک محسوس ہوا۔ کیا عرض کرتا کہ شاہ عالم ثانی کا عہد دیکھنے والے قائم چاند پوری اٹھارہویں صدی میں صف اول کے اردو شاعر تھے۔ مرزا رفیع سودا سے تلمذ پایا تھا۔ میر تقی میر، درد، سودا، جرات اور مصحفی کے ہم عصر تھے۔ دودمان چغتائی کی شکست و ریخت کے گواہ تھے۔ ایک شعر دیکھ لیجیے۔ ’نہ جانے کون سی ساعت چمن سے بچھڑے تھے / کہ آنکھ بھر کے نہ پھر سوئے گلستاں دیکھا‘۔ دل کی ویرانی کا بیان سہل نہیں۔  ہر نسل اپنی مدت عمر میں خواب اور زیاں کے مرحلے دیکھتی ہے۔

گزشتہ نشست میں سوویت یونین کے انہدام کا کچھ ذکر آیا تھا۔ شاید کسی خیر خواہ کو اس بیان میں ناچیز کے انحراف خواب کا شائبہ گزرا ہو۔ تو آج بحیرہ اوقیانوس کے پار چلتے ہیں۔ گزشتہ صدی میں ستر کے ابتدائی برس بھی کچھ ایسے ہی تشکیلی واقعات سے عبارت رہے۔ 1971 میں جنوبی ایشیا کا نقشہ بدل گیا۔ لکیر کے ایک طرف یہ قومی آزادی کہلائی، دریائے خونباب کے دوسرے کنارے پر اسے سقوط ڈھاکہ کی ترکیب بخشی گئی۔ امریکا اور چین میں ربع صدی پر پھیلی برف پگھلی۔ 86 کروڑ چینی باشندوں کو سلامتی کونسل کی مستقل نشست بھی حاصل ہو گئی۔ 1972 میں میونخ اولمپک دہشت گردی کی نذر ہو گئے۔ روس اور امریکا میں دیتانت کی ابتدا ہوئی تو ویت نام کی جنگ پر مذاکرات بھی آگے بڑھے۔ عرب دنیا نے تیل کے ہتھیار سے عالمی معیشت تلپٹ کر کے رکھ دی۔ ادھر تمدن اور فنون کی دنیا میں ساٹھ کی دہائی کی تحریکیں بھی اپنے انجام کو پہنچ رہی تھیں۔ کچھ ثمر آور ہوئیں اور کچھ شاخوں پر اگلی فصل کے شگوفوں کا انتظار طے پایا۔ اس عہد بلاخیز کا سب سے اہم واقعہ یہ تھا کہ پہلی مرتبہ ایک امریکی صدر کو استعفیٰ دینا پڑا۔ واٹر گیٹ سکینڈل کھلا اشارہ تھا کہ مطبوعہ خبر اور نشریات اب محض اطلاع کا ذریعہ نہیں، سیاست کی رستاخیز میں ایک طاقتور فریق کی شکل اختیار کر چکی ہیں۔ اب مڑ کر دیکھنے پر یاد آتا ہے کہ اتنی بہت سی لہروں میں تاریخ کے دھارے کی سمت معلوم کرنا مشکل تھا۔ یہ روایت اور امکان کے اختلاط کا عہد تھا۔

ادب میں روایت اور امکان کا تنقیدی تصور ٹی ایس ایلیٹ (T S Eliot ) نے 1919 میں اپنے مضمون Tradition and individual talent  میں بیان کیا تھا۔ بنیادی خیال یہ تھا کہ فنون عالیہ، تہذیب اور سیاست میں لمحہ موجود کے امکان کو بروئے کار لانے کے لیے تاریخی روایت کا بھرپور شعور ضروری ہے۔ روایت کے شعور کا مطلب یہ نہیں کہ رفتگان کی کھینچی لکیروں کی ہو بہو پابندی کی جائے بلکہ روایت کے کیف و کم سے آگہی پا کر اپنے آج کو راستہ دکھایا جائے۔ لمحہ حاضر خلائے بسیط میں بھٹکتا سیارہ نہیں۔ یہ واقعات اور تجربات کا ایک متصل سلسلہ ہے جسے جانے بغیر آئندہ کی صورت گری ممکن نہیں۔ سیاسی خیالات کے اعتبار سے ٹی ایس ایلیٹ بھلے قدامت پسند ہی کیوں نہ ہو، وہ اٹھارہویں صدی کے تصور انقلاب پر بامعنی تنقید کر رہا تھا۔ آج ہماری زنبیل میں انقلاب فرانس، اکتوبر 1917 میں انقلاب روس، یورپی فاشزم، جاپانی توسیع پسندی، چینی انقلاب اور انقلاب ایران کی مثالیں بھی رکھی ہیں۔ دوسری طرف یورپ بالخصوص اینگلو سیکسن ارتقا کے نتائج بھی موجود ہیں۔ ان میں سے کسی ایک کو تنقیدی شعور کے بغیر تسلیم یا رد کرنا مشکل ہے لیکن ایک سبق واضح ہے کہ بہتری کے لیے قدم بڑھاتے ہوئے دریائے تاریخ کے دھارے سے کلی انحراف ناگزیر طور پر ناکام ہوتا ہے۔ نتیجہ خیز تبدیلی کی جڑیں تاریخ کے جنگل میں پیوست ہوتی ہیں۔ یہ کتھا تو اس دنیا سے تعلق رکھتی ہے جنہیں اقبال نے اپنے خطبات میں اجتہادی ارتقا سے تعبیر کیا ہے۔ اتفاق سے ہمارا ملک بھی آج کچھ ایسے ہی موڑ پہ کھڑا ہے۔

غیر ملکی حکمرانوں کی رخصتی کو پون صدی ہونے کو آئی۔ ہمارے تجربات کا سلسلہ ختم نہیں ہو رہا۔ بنیادی وجہ یہی ہے کہ ہم بار بار ادارے کی بجائے شخص اور تاریخی تسلسل کی بجائے نادیدہ راستے کی کھوج کی طرف لپکتے ہیں۔ فروری 2024 کے انتخابی تجربے کو ہی دیکھئے۔ ہم نے اس ملک میں بہت سے اتار چڑھاو? دیکھے لیکن بے سمتی کا ایسا منظر نہیں دیکھا۔ پارلیمانی حکومت میں پہلا موقع ہے کہ وفاق میں عددی اکثریت رکھنے والا گروہ حکومت بنانے میں ناکام رہا ہے۔ اتحادی حکومت کی ایک بڑی جماعت کابینہ کا حصہ نہیں۔ وفاقی کابینہ کے خد و خال ایسے عجیب الخلقت ہیں گویا کسی اناڑی کاریگر نے مصنوعی ذہانت سے ایک مجسمہ تیار کیا ہے۔ سیاسی قوتوں میں باہم مکالمے کی فضا نہیں۔ نئی حکومت نمائشی اقدامات کے سوا کوئی ٹھوس سمت دینے سے قاصر نظر آتی ہے۔ چار صوبائی حکومتیں گویا چار کٹے ہوئے جزیرے ہیں۔ عدل کے ایوانوں میں ایسی اٹھا پٹخ ہے کہ ہاتھ کو ہاتھ سجھائی نہیں دیتا۔ منتخب وزیراعظم نے ابھی تک قوم کے گوش سماعت کو زحمت دینا گوارا نہیں کیا۔ ایوان بالا میں ایک وفاقی اکائی کی نمائندگی ہی نہیں۔ معیشت میں اس کے سوا کچھ واضح نہیں کہ ہمیں مزید قرض لینا ہے۔ نئی حکومت قائم ہوئے دو ماہ ہونے کو آئے۔ خواب بہار جاوداں کا خیال تو پریشان ہو چکا، ایسے میں دریائے دل کی روانی کا کیا مذکور ہے، زمیں زادے کائی زدہ جوہڑ کے کنارے کشکول نظر کھولے بیٹھے ہیں۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments