سوشل میڈیا اور ہم


سوشل میڈیا کیا ہے ہے اس سے مراد ایک ٹیکنالوجی ہے جو معلومات کا خزانہ فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ روابط کے لئے استعمال کی جاتی ہے۔ ہمارا تعلق جس دور سے ہے اس میں سوشل میڈیا کو بام عروج حاصل ہے ہر عمر سے تعلق رکھنے والا فرد اس ٹیکنالوجی پر شعوری اور لاشعوری طور پر اپنا زیادہ سے زیادہ وقت صرف کر رہا ہے جس کے بہت سے نتائج برآمد ہوتے ہیں جو کہ ایک غور طلب پہلو معلوم ہوتا ہے ہر تصویر کے دو رخ ہوا کرتے ہیں جہاں اس ٹیکنالوجی کے فوائد ہیں تو نقصانات بھی بیشمار ہیں۔

اگر لوگوں کو اس کے ذریعے میں آزادی رائے حاصل ہے، وہ کھل کر اپنی رائے کا اظہار کر سکتے ہیں تو اس آزادی رائے کے بہت سے نقصانات بھی دیکھنے کو ملتے ہیں۔ یہ آزادی کہیں نفرت تو کہیں دل آزاریوں کا باعث بن جاتی ہے جہاں لوگ اس ایجاد سے فوائد حاصل کرتے وہیں اس کا منفی استعمال کرنے والے بھی پائے جاتے ہیں۔ عصر حاضر میں موجود سوشل میڈیا کی یلغار نے ہر طبقے اور عمر کے فرد کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے۔ تیز رفتار ذرائع ابلاغ نے بلاشبہ دنیا کو گلوبل ولیج میں تبدیل کر دیا ہے لیکن اعتدال ہر شے میں ضروری ہوتا ہے۔

لہٰذا اعتدال سے ہٹ کر جب نوجوان نسل سوشل میڈیا کا استعمال کرتی ہے تو فائدہ کے بجائے نقصان کا سامنا کرنے لگتی ہے۔ لوگ اس ٹیکنالوجی کا استعمال بہت سے مقاصد کے لئے کرتے ہیں۔ کوئی روابط کے لئے اس کا استعمال کرتا ہے تو کوئی تعلیم کے حصول کے لئے معلومات کی تلاش میں سرگرداں دکھائی دیتا ہے۔ کوئی اس کے ذریعے کاروبار کرتا ہے تو کوئی وقت گزاری کرتا دکھائی دیتا ہے۔ یعنی شعوری اور لاشعوری طور پر ہر فرد اپنے دن کا کافی وقت سوشل میڈیا پر صرف کرتا ہے۔

اور اس کے ذریعے شہرت حاصل کرنے والوں میں زیادہ تعداد ایسے لوگوں کی ہے جن کا مقصد صرف دولت اور شہرت کمانا ہے، خواہ اس کے لئے اپنی ثقافتی اور مذہبی اقدار کی قربانی کیوں نہ دینی پڑے۔ یوں تو ہر عمر سے تعلق رکھنے والا فرد آج کل سوشل میڈیا سے متاثر نظر آتا ہے مگر نمایاں طور پر نوجوان طبقہ اس گرداب میں بری طرح پھنس چکا ہے۔ یہ بجا ہے کہ یہ ٹیکنالوجی تعلیم کے حصول میں بھی معاون ہے اور اگر اس کا مثبت استعمال کیا جائے تو معاشرتی و سماجی بہتری اور نکھار کا یہی ذریعہ تمام ذرائع ابلاغ سے تیز تر ہے۔

مگر اس کے استعمال کی لت اور اس کا شکنجہ نو جوانوں کو ان کے مقصد زندگی سے دور کرنے میں کسی حد تک کامیاب ہو چکا ہے۔ اور نوجوانوں کا مستقبل تاریکی کے دہانے پر کھڑا ہے۔ ہر گھر کے سربراہ کو خیال رکھنا چاہیے کہ اس کی زیر پرورش نسل اس کے مصر اثرات سے محفوظ رہے۔ والدین اور اساتذہ کے لئے ضروری ہے کہ وہ اپنے بچوں کو اس کے مضر اور کارآمد اثرات سے آگاہ کریں کسی بھی چیز کا نامناسب استعمال اس کے فوائد کو گھٹا کر اسے مضر بنا دیتا ہے۔

 


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments