کون ہے جو ہمارے اندر ہر وقت بولتا رہتا ہے؟
آپ تنہا ہیں اور کوئی کام کر رہے ہیں لیکن آپ کے ذہن میں کوئی موجود ہے جو آپ کو اپنے کام پر توجہ دینے نہیں دے رہا اور مسلسل بولتا چلا جا رہا ہے۔ کبھی وہ ایک بات کرتا ہے اور پھر فوراً ہی اس کا خیال کسی اور طرف منتقل ہو جاتا ہے اور پھر وہ کوئی اور بات کرنا شروع ہوجاتا ہے۔ کبھی خاموش ہو جانا اُسے آتا ہی نہیں۔ ہمارے ذہن میں بیٹھے اس باتونی نے ہمارا جینا حرام کر دیا ہے۔ چین اِک پل نہیں اور کوئی حل نہیں۔ حل تو یقیناً ہے لیکن ابھی اس گُھس بیٹھیے کی کارستانیاں سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔
ہمارے ذہن میں موجود اس باتونی کو ہمارا تحفظ عزیز ہے اور یہ اس دنیا اور اہلِ دنیا کو ہماری مرضی کے مطابق چلانا چاہتا ہے۔ یہ اور بات کہ یہ باتونی اکثر اوقات ہمارا ضرورت سے زیادہ مخلص بن جاتا ہے۔ یہ ہمارے زندگی کو گُل و گُلزار بنانے کی اتنی تدابیر بتاتا رہتا ہے کہ ان نت نئی تدابیر سے ہی ہمارا دم گھٹنا شروع ہوجاتا ہے۔ واصف علی واصف کہتے ہیں کہ ہم محفوظ رہنے کی کوشش میں ہی غیرمحفوظ ہو گئے ہیں۔
ہمارے ذہن میں موجود یہ من چلا باتونی بندر کی طرح ہر وقت پُھدکتا رہتا ہے۔ درخت کی ایک شاخ سے یہ جُھولتا ہے اور پھر فوراَ ہی اس شاخ سے اُس کا دل بیزار ہو جاتا ہے اور وہ کسی اور شاخ کا رخ کرتا ہے۔ ہمارے ذہن میں موجود اس باتونی کے پاس قصے کہانیوں کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ ہے۔ اِسے ماضی کی سیر بہت پسند ہے اور مستقبل کے سہانے خواب کاشت کرتے رہنے کی خوب مشق ہے۔ اسے صرف زمانۂ حال سے شدید نفرت ہے۔ اسے زمانۂ حال میں رہنا قطعاً پسند نہیں۔ وہ ہردم لمحۂ موجود سے فرار کے بہانے ڈھونڈتا رہتا ہے۔ اسے تو اپنے ہر سوال کا اپنی مرضی کا جواب چاہیے۔ اسے تو اپنی ہر خواہش کی تشفی فی الفور مطلوب ہے۔
ہمارے اس جاں کے عذاب باتونی اور ناک میں دم کر دینے والے اور زبردستی سے گُھس آنے والے روم میٹ سے نجات کی کوئی صورت نہیں ملتی۔ یہ ہمارے اعصاب پر رفتہ رفتہ مسلط ہوجاتا ہے اور پھر ہم اس کے اشاروں پر چلنا شروع ہو جاتے ہیں۔ یہ ہمیں تگنی کا ناچ نچواتا ہے اور ہم اس کی جیب کی گھڑی اور ہاتھ کی چھڑی بن جاتے ہیں۔ یہ ہمیں کہتا ہے کہ بول میری مچھلی کتنا پانی اور ہم اُس کے حکم کے غلام بن کر اُسے بتاتے ہیں کہ پانی اُتنا ہی گہرا ہے جتنا وہ دیکھنا چاہتا ہے۔
ہمیں اس باتونی کو اپنے ذہن سے بے دخل کر دینا چاہیے لیکن یہ جتنا کہنا آسان ہے اُتنا ہی کرنا مشکل ہے۔ البتہ اس باتونی کو نظر انداز کرنا ممکن ہے۔ جب ہم اسے بار بار نظرانداز کرتے ہیں تو پھر اس کی گرفت ہم پر کمزور پڑتی جاتی ہے اور آخر کار یہ کھڈے لائن لگ جاتا ہے۔
جب ہم یہ سمجھ لیں گے کہ منظر ناظر نہیں ہوتا بلکہ منظر اور ناظر دو اکائیاں ہیں تو ہم اس باتونی کی قید سے آزاد ہو جائیں گے۔
ہم وہ نہیں ہیں جو ہمارے اندر ہر وقت بولتا رہتا ہے ہم وہ ہیں جو اُس کی ہر وقت کی بکواس سنتے رہتے ہیں۔ ہم شاہد ہیں مشہود نہیں ہیں۔ ہم تماشائی ہیں اور اپنی زندگی کی فلم خود دیکھ رہے ہیں لیکن جونہی ہم تماشائی کی نشست چھوڑتے ہیں اور فلم کے کردار بن جاتے ہیں تو پھر ہمیں یہ یاد رہنا چاہیے کہ کہانی کا کردار تو مصنف کا لکھا ہوا ہے اور کردار کی زندگی کے سارے نشیب و فراز تو مصنف کے قلم کی تحریر ہیں۔ مصنف کے قلم کی تحریر کو جوں کا توں قبول کرنا ہو گا اس میں انتخاب کی آزادی موجود نہیں ہے۔
ہم تماشائی بن کر اپنی زندگی کی فلم دیکھیں گے تو ہمارے دِل و دماغ کا سکون برقرار رہے گا اور کرداروں پر گزرنے والی کیفیات ہم پر اثرانداز نہیں ہوں گی۔ اس دنیا میں آنے کے بعد ہم نہ کچھ کھوتے ہیں اور نہ ہی پاتے ہیں ہم تو صرف آتے اور چلے جاتے ہیں۔
مسافر اگر ڈرائیور کو بتائیں گے کہ گاڑی کیسے چلانی ہے تو وہ انہیں نامعلوم منازل کی جانب لے جائے گا جہاں پر دھول اڑتی ہوگی اور اصل زر کے ساتھ بیاج بھی دینا پڑ جائے گا۔
اس لیے ڈرائیور پر بھروسا کریں اور اُسے اپنا کام کرنے دیں آپ کا کام بھی ہو جائے گا۔


