بیگانی شادی میں عبداللہ دیوانہ


مجھے اردو محاوروں کی کبھی سمجھ نہیں آئی۔ جیسے بھینس کے آگے بین بجانا۔ بین تو سپیرا بجاتا ہے وہ بھی سانپ کے آگے۔ مجھے کبھی سمجھ نہیں آئی کہ یہ کون ہے جو بھینس کے آگے بیٹھ بجا رہا ہے اور کیوں بجا رہا ہو۔ ایک اور محاورہ ہے بیگانی شادی میں عبداللہ دیوانہ میں یہی سوچا کرتی تھی کہ یہ عبداللہ کون ہے جو دوسروں کی شادی میں جا کے دیوانہ ہو جاتا ہے۔

کہتے ہیں وقت سب کچھ سمجھا جاتا ہے۔ مجھے بھی یہ محاورے وقت نے سمجھا دیے۔ بچپن میں ہم والدین کے ساتھ شادیوں پر جاتے ہیں اب ہمارے دوست احباب کی شادیاں ہو رہی ہیں وہاں ہمیں خود جانا پڑتا ہے اور ان شادیوں پر جاتے ہوئے اپنا آپ عبداللہ جیسا لگ رہا ہوتا ہے۔ شادی کسی کی دیوانگی ہم پہ طاری ہے۔

مجھے کچھ دن پہلے اپنی ایک قریبی دوست کی شادی پہ جانا پڑا۔ شادی کیا تھا ایک شاہانہ سا فنکشن تھا جگمگاتی روشنیوں، ڈھیروں پھول، رنگین لباسوں اور دمکتے چہرے۔

انتظام ایسا تھا جیسے یہاں کوئی بہت ہی اہم کام ہو رہا ہو حالانکہ بس ایک شادی تھی جو سادگی سے بھی ایک کمرے میں ہو سکتی تھی۔ لیکن اس کے لیے لاکھوں روپے کا خرچ کیا گیا تھا

میں اپنی دوست سے ملی وہ بہت حسین لگ رہی تھی۔ اس نے بتایا اس کا شادی کا جوڑا چار لاکھ کا ہے۔ اور وہ شہر کے مہنگے ترین پارلر سے تیار ہوئی ہے۔ یہ قیمتیں سن کر میرے تو ہوش اڑ گئے۔

میں اپنی دوست کو کئی سالوں سے جانتی ہوں۔ اس کا تعلق ایک سفید پوش گھرانے سے ہے۔ لیکن اس دن شادی کے فنکشن کو دیکھ کر ایسے لگ رہا تھا جیسے وہ کسی امیر گھر سے ہو اور اتنا خرچ ان کے لیے کوئی بات ہی نہ ہو۔

میں نے اپنی دوست سے کہا کہ اتنا بڑا فنکشن کیوں رکھا۔ اس نے کہا بس مجبوری تھی، والدین نے کہا سب کو بلانا ہے ورنہ سب باتیں کریں گے۔

میں چونکہ شادی میں کسی اور کو نہیں جانتی تھی تو میں اس کے ساتھ ہی برائیڈل روم میں بیٹھ گئی۔ ہر دو منٹ بعد برائیڈل روم کا دروازہ کھلتا اور کوئی نہ کوئی خاتون ماشاءاللہ کہتی ہوئی اس کی طرف بڑھتی۔ وہ بھی انہیں سلام کرتی اور میں بھی انہیں سلام کرتی۔

ایک خاتون آئیں وہ اس کے گلے لگ کر رو پڑی۔ کہتیں تم کل ہی اتنی سی تھیں اور آج دیکھو تمہاری شادی ہو رہی ہے۔ میری دوست بس مسکراتی رہی۔ وہ گئیں تو میں نے اپنی دوست سے پوچھا یہ کون تھیں تو اس نے کہا مجھے خود نہیں معلوم۔

میری دوست نے مجھے کہا بس چپ چاپ سلام کرتی جاؤ۔ ان میں سے کوئی امی کا جاننے والا ہے تو کوئی ابو کا تو کوئی دادا کا تو کوئی دادی کا۔

”ہمیں خود نہیں پتہ یہ کون ہے، بس سلام کیے جاؤ“ ۔

میں نے اپنی دلہن دوست سے پوچھا کہ تم اتنے زیادہ لوگوں کو کیسے جانتی ہو، مہمانوں کی اتنی تعداد کیسے ہے؟ اس نے جواب دیا کہ وہ تو مشکل سے بیس یا تیس لوگوں کو جانتی ہے، باقی تمام مہمان تو اس کے ماں، باپ، بھائی، دادا، تایا وغیرہ کے جاننے والے ہیں۔

مجھے ابھی تک اس بات کی سمجھ نہیں آئی کہ اتنے زیادہ لوگوں کو بلانے کا کیا فائدہ ہے۔ اس سے کئی گنا بہتر یہ نہیں کہ صرف انہی لوگوں کو بلایا جائے جن کی آپ کی زندگی میں ایک خاص اہمیت ہے۔ ان کے ساتھ بہترین وقت گزارا جائے اور مزہ کیا جائے؟

اکثر ممالک میں شادی کا فنکشن ایک دن کا ہوتا ہے۔ وہ بھی دلہا اور دلہن اپنے پیسوں سے انتظام کرتے ہیں۔ وہ پھر اپنی چھٹی دیکھتے ہیں اور اس دن شادی رکھ لیتے ہیں۔ ہمارے ہاں شادی کسی کی ہوتی ہے، ہفتہ بھر کی چھٹیاں ہماری ہو جاتی ہیں۔

ہمارے ملک میں شادی کو ایک نہیں بلکہ زبردستی کوئی پانچ سات تقریبات میں بانٹ دیا جاتا ہے اور ان کے بغیر شادی ہوتی ہی نہیں ہے۔ ہر فنکشن پر لاکھوں روپے خرچ کرنا فرض ہے چاہے وہ پیسے کسی شدید ضرورت کو ایک طرف رکھ کر یہاں خرچ کیے جا رہے ہوں۔ یہاں تک کہ کچھ لوگ تو فنکشنز کرنے کے لیے ادھر ادھر سے قرضے لے لیتے ہیں۔

یہاں سوال یہ بنتا ہے کہ شادی تو اہم ہے لیکن شادی کا فنکشن اتنا اہم کیوں ہے۔ ہم اس دن پر اتنے پیسے کیوں لگا دیتے ہیں۔ اور اس سے بھی بڑا سوال کیا وہ پیسے ہم اپنے لیے لگاتے ہیں یا لوگوں کے لیے لگاتے ہیں۔

میری دوست کی شادی پر جو اخراجات ہوئے تھے ان کا محض چار فیصد اس پر لگا تھا باقی سارا خرچ مہمانوں پر ہوا تھا تاکہ وہ بعد میں باتیں نہ کریں لیکن مزے کی بات انہوں نے باتیں ہر صورت میں کرنی ہوتی ہیں۔

لوگ بڑی تقریبات اس لیے کرتے ہیں تاکہ وہ معاشرے میں ایک منفرد مقام حاصل کریں۔ اس میں سوشل میڈیا کا بھی کافی اثر ہے۔ دلہا دلہن اپنے لیے سوشل میڈیا کے قابل تصاویر چاہتے ہیں جس کے لیے بہت بڑے بڑے فنکشن کیے جاتے ہیں۔

ان ایلیٹ کلاس کی شادیوں کے مناظر دیکھ کر ہم جیسوں کا بھی دل کرتا ہے کہ ہم بھی انہی طرح کی شاندار تقریبات کریں۔ انسان کی فطرت ہے کہ وہ جہاں کچھ ایسا دیکھتا ہے جو اس کے پاس نہیں، اس کو حاصل کرنے کی کوشش میں لگ جاتا ہے۔ اسی لیے وہ ان کی طرح دولت کی نمائش کرنے میں لگ جاتا ہے، کیونکہ اگر وہ یہ نہیں کرے گا تو اس کو محسوس ہو گا کہ لوگ اسے کمتر سمجھیں گے اور اس کو معاشرے میں اعلی مقام نہیں ملے گا۔ اگر کوئی ان میں سے ایک تقریب نہ بھی کرنا چاہ رہا ہو تو اس کو زبردستی کرنی پڑتی ہے کیونکہ اس کا کوئی دوست یا رشتہ دار کوئی ایسی بات کہہ دیتا ہے کہ ”یہ والی تقریب کیوں نہیں ہو رہی اس کے بغیر تو مزہ ہی نہیں آئے گا“ ۔

یا بعض خواتین کو اپنا شادی کا جوڑا دوبارہ بنانا ہوتا ہے وہ صرف اس کی خاطر خاندان میں کسی کی شادی کروا دیتی ہیں۔

کسی کو ڈانس کا شوق چڑھا ہوتا ہے تو کسی نے پورے خاندان سے ملنا ہوتا ہے۔ خرچ کسی کا شوق کسی کا۔ مہندی نہ رکھی جائے تو کزنز نے گلہ کرنا کہ ہم ڈانس پرفارمنس کیسے کریں گے، برائیڈل شاور نہ رکھا جائے تو دوستوں نے ضرور غصہ کرنا ہوتا ہے، دعوتیں نہ رکھی تو رشتہ داروں کا اعتراض کرنا۔ دراصل زیادہ تر کام تو دوسروں کی خوشنودی حاصل کرنے اور اپنی ناک اونچی رکھنے کی خاطر کیے جاتے ہیں

خوشنودی سے یاد آیا کہ آدھے لوگوں کو تو محض اس لیے بلایا جاتا ہے کہ ان کو برا نہ لگے۔ شادی پہ تین سو کے قریب مہمان ہونا تو بہت عام بات سمجھی جاتی ہے۔ قریبی خاندان اور دوستوں سے لے کر رشتہ داروں کے رشتہ داروں کو بھی بلایا جاتا ہے، تاکہ کوئی یہ گلہ نہ کرے کہ آپ نے ہمیں نہیں بلایا۔ اگر کوئی بیچارا اپنی مہمانوں کی فہرست کو کم رکھنا بھی چاہے تو اس کے والدین کہتے ہیں ”نہیں ان کو بھی بلاؤ، نہیں اس کو بھی بلا لو، کہیں وہ برا نہ مان جائیں“ ۔ اس طرح شادی کی تقریب ان لوگوں سے بھر جاتی ہے جن کو آپ صحیح سے جانتے بھی نہیں ہیں۔ میں ابھی تک سمجھنے سے قاصر ہوں کہ کوئی انسان اپنی زندگی کے ایک اہم ترین دن پر ان لوگوں کو بلانا چاہے گا جو اس کی زندگی میں کوئی اہمیت ہی نہیں رکھتے۔

شادیاں ہماری سادگی سے بھی ہو سکتی ہیں۔ ہم اپنے شوق اپنے خرچ پر بھی پورے کر سکتے ہیں۔ اور شادیوں کے علاوہ بھی اپنی زندگی کے مختلف مواقعوں کو منا سکتے ہیں۔ اور ہر چیز اعتدال میں ہو تو اچھی لگتی ہے۔ کسی پر بوجھ نہ پڑے۔ جنہوں نے شادی کا انتظام کیا ہوتا ہے وہ خود اس کا صحیح سے مزہ نہیں لے سکتے کیونکہ وہ دوسروں کو پوچھنے میں مصروف ہوتے ہیں۔

تو کیا خیال ہے کوئی شادی سادگی سے بھی کر کے دیکھی جائے یا نہیں؟

Facebook Comments HS