حافظ نعیم الرحمان: "اوور ریٹڈ” امیر جماعت اسلامی
نو منتخب امیر جماعت اسلامی کی عمر بمشکل ایک سال ہوگی جب لیاقت بلوچ ختم نبوت کی تحریک میں اسلامی جمعیت طلبہ کے پلیٹ فارم سے متحرک تھے۔ غالباً جیل بھی کاٹی۔ اور جب حافظ نعیم کی اسکول جانے کی عمر ہوئی، لیاقت بلوچ اسلامی جمعیت طلبہ کے مرکزی ناظم اعلیٰ تھے۔ بزرگ رہنما لیاقت بلوچ ایک بار پھر اراکین جماعت کا اعتماد حاصل کرنے میں ناکام رہے۔ وہ متعدد بار امارت کے الیکشن کے لیے شوریٰ کی طرف سے نامزد کیے گئے مگر کارکنوں نے پہلے سراج الحق اور اب حافظ نعیم الرحمان کو ان پر ترجیح دی۔
یہ تو سچ ہے کہ جماعت کے امیدواران خود یا ان کے بہی خواہ ان کے لیے کوئی مہم نہیں چلاتے۔ نامزد امیدواروں کے بیچ کوئی اندرون خانہ سرد جنگ نہیں ہوتی۔ لابنگ نہیں کی جاتی۔ لیکن کم و بیش پچاس ہزار اراکین کے الیکٹورل کالج کے ایک خاص امیدوار کے حق میں کیے گئے پروپیگنڈے سے متاثر ہونے کے امکان کو کسی بھی طرح رد نہیں کیا جا سکتا۔ سابقہ امیر کے پہلی بار انتخاب کے وقت بھی ان کے حق میں اسی طرح رائے عامہ ہموار تھی جس طرح اب کی بار فضا حافظ نعیم کے حق میں تھی۔
2014 میں امارت کے انتخابات کے لیے جماعت اسلامی نے جو تین نام پیش کیے وہ لیاقت بلوچ، منور حسن اور سراج الحق کے تھے۔ اس وقت کے امیر منور حسن ڈرون حملوں میں مارے جانے والے پاکستانیوں کے حق میں ایک بیان کے باعث بعض حلقوں کی ناراضی کا نشانہ بن گئے تھے۔ عوامی حلقوں میں بھی اس حوالے سے غم و غصہ موجود تھا کیونکہ ڈرون حملوں کا شکار افراد خود کئی پاکستانیوں کی خون ریزی میں نہ صرف ملوث تھے بلکہ ببانگ دہن اپنے افعال کی ذمہ داری بھی قبول کیا کرتے تھے۔
یہ اسی تنظیم سے وابستہ افراد تھے جس کا وجود اب بھی پاکستان اور افغانستان کے بہتر تعلقات میں بڑی رکاوٹ بنا ہوا ہے۔ ان حالات میں منور حسن کا جانا ٹھہر گیا تھا۔ 2002 میں جب صوبہ خیبر پختونخوا میں متحدہ مجلس عمل نے حکومت تشکیل دی تو ایم ایم اے کی دوسری بڑی پارلیمانی پارٹی ہونے کے ناتے جماعت اسلامی کے حصہ میں سینئر وزارت اور وزارت خزانہ آئی۔ سراج الحق نے یہ دونوں مناصب سنبھالے۔ جمعیت علماء اسلام نے اکرم درانی جیسے سرمایہ دار کو وزیر اعلیٰ نامزد کیا۔
اکرم خان درانی کی نسبت ان کی کابینہ کے سینئر وزیر سراج الحق غریب گھرانے سے تعلق رکھتے تھے۔ سادہ سے گھر میں رہتے تھے۔ ان کی اس سادگی کو جماعت اسلامی نے خوب کیش کرایا۔ سراج الحق دوبارہ تحریک انصاف کے وزیر اعلیٰ پرویز خٹک کی کابینہ میں وزیر خزانہ بنے۔ سراج لالہ کی سادگی کے پرچار کے لیے سوشل میڈیا کا جدید ہتھیار بھر پور استعمال ہوا۔ اسی اثنا میں اراکین جماعت نے انہیں دبنگ امیر منور حسن اور تجربہ کار رہنما لیاقت بلوچ پر فوقیت دیتے ہوئے امیر جماعت چن لیا۔
2018 میں جماعت اسلامی نے دوبارہ متحدہ مجلس عمل کے پلیٹ فارم سے کتاب کے نشان پر الیکشن میں حصہ لیا۔ صرف چترال سے عبدالاکبر چترالی ایم این اے منتخب ہوئے۔ جبکہ صوبائی اسمبلیوں میں بھی کوئی خاطر خواہ کامیابی حاصل نہ ہوئی۔ جماعت اسلامی کے اراکین کے خیال میں یہ شکست اتحادی سیاست کے نتیجہ میں ہوئی۔ الیکشن کے فوری بعد جماعت اسلامی نے ایم ایم اے سے علیحدگی اختیار کر لی۔ کتاب کے نشان پر منتخب ہونے والے جے یو آئی اور جماعتی اراکین نے اپنی اپنی جماعتوں کی پالیسیوں پر عمل پیرا ہونا شروع کر دیا اور یوں ایم ایم اے ٹوٹ گئی۔
جماعت کے عالی دماغوں نے اتحادوں کی سیاست کو خیر باد کہتے ہوئے اپنے نشان پر ہی الیکشن میں حصہ لینے کا فیصلہ کیا۔ مگر سولو فلائٹ کے باوجود اب کی بار جماعت کا پارلیمانی حجم مزید کم ہو گیا۔ سینیٹ اور قومی سے پارٹی کا صفایا ہو گیا۔ اب انٹرا پارٹی الیکشن میں سراج الحق کے اور لیاقت بلوچ کے علاوہ کراچی کے ضلعی امیر حافظ نعیم الرحمان کا نام بھی انتخابات کے لیے ارکان کے سامنے پیش کیا گیا۔ سینئر رہنماؤں کے مقابلے میں ایک ضلعی رہنما کا نام پیش کر کے ایک نئی روایت قائم کی گئی۔
حافظ صاحب گزشتہ بلدیاتی الیکشن میں مئیر کراچی بنتے بنتے رہ گئے۔ پیپلز پارٹی نے غیر جمہوری ہتھکنڈوں کے ذریعے ان کا راستہ روکا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ نو منتخب امیر کراچی کے مقبول رہنما ہیں۔ گزشتہ بلدیاتی انتخابات میں جیت نے جماعت کے اندر اور باہر ان کی مقبولیت میں اضافہ ہوا۔ موجودہ الیکشن میں ایم پی اے کی نشست ٹھکرانے سے ان کے قد کاٹھ میں مزید اضافہ ہوا۔ رائے عامہ ان کے حق میں ہموار ہوئی اور یہ تاثر دیا گیا کہ ان کی قائدانہ صلاحیتوں کے سبب کراچی میں جماعت کو ووٹ پڑا ہے۔
یوں وہ سراج الحق اور لیاقت بلوچ جیسے مرکزی رہنماؤں سے مقابلے کے باوجود قافلہ سید مودودی کے پانچویں مرشد عام کے منصب پر فائز ہوئے۔ مگر کیا جماعت اسلامی کی کراچی میں حالیہ سیاسی پیش قدمی حافظ نعیم کی مرہون منت تھی؟ ایسا بالکل نہیں کیونکہ ماضی میں ایم کیو ایم کے قیام سے پہلے دو بار عبدالستار افغانی مئیر کراچی کے طور پر فرائض سر انجام دے چکے۔ اسی طرح پرویز مشرف دور میں متحدہ کے بائیکاٹ کے سبب جماعت اسلامی کے نعمت اللہ خان کراچی کے ناظم منتخب ہوئے۔
سابقہ بلدیاتی انتخابات میں بھی ایم کیو ایم کی عدم موجودگی کے باعث ہی جماعت اسلامی اکثریت حاصل کر پائی۔ جماعت اسلامی کا کراچی میں ووٹ بینک تو نصف صدی قبل بھی موجود تھا۔ جماعتی ووٹ بینک کے احیاء کا کریڈٹ موجودہ امیر کو دینا کراچی کے معروضی حالات کے منافی ہے۔ سراج الحق تو گزشتہ دو انتخابات میں شکست کے باعث ووٹ حاصل نہ کر پائے جبکہ لیاقت بلوچ ایک پھر اپنے سے جونئیر مگر پاپولر رہنما کے حق میں کیے جانے والے پروپیگنڈے کی نذر ہو گئے۔


