امتحان میں نقل۔ ذمہ دار کون؟
ایک تجزیہ کے مطابق امریکہ نے جاپان میں دوسری جنگ عظیم روکنے کے لیے ہیروشیما اور ناگاساکی پر ایٹم بم پھینک دیا، جس پر جاپان کے شہنشاہ ہیروہیتو نے 15 اگست 1945 کو غیر مشروط ہتھیار ڈالنے کا اعلان کیا۔ اس کے بعد مذاکرات اور معاہدے میں جاپان نے شعبہ تعلیم اور شعبہ صحت کے قلمدان سنبھالتے ہوئے باقی تمام معاملات امریکہ کے حوالے کر دیے۔ دنیا نے پھر دیکھا کہ جاپان نے تعلیم کے ذریعے جاپان کو ترقی یافتہ ممالک کی صف میں کھڑا کر دیا۔
1945 کے دو سال بعد 1947 میں پاکستان معرض وجود میں آیا۔ جاپان اور پاکستان کا موازنہ کرتے ہوئے شرم محسوس ہوتی ہے۔ جاپان ہر لحاظ سے کئی درجے پاکستان سے آگے ہے اور اس کی واحد وجہ شعبہ تعلیم میں جامع اور بہترین پالیسیاں ترتیب دینا ہے۔ جاپان نے شعبہ تعلیم میں کسی قسم کی کوتاہی برداشت نہیں کی جاتی ہے۔ دنیا کی تمام خوبیوں کو شامل کرتے ہوئے اپنے نظام تعلیم کو زمین سے آسمان کی بلندیوں تک لے گئے۔ مقام افسوس ہے کہ پاکستان میں آج تک صرف پالیسی پالیسی کا کھیل پچھتر سال سے کھیلا جا رہا ہے۔
شعبہ تعلیم میں بے شمار خامیاں ہیں مگر آج کل وزیر تعلیم پنجاب رانا سکندر حیات نقل کے حوالے سے کافی سرگرم ہیں۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس منفی سرگرمی کو اس قدر مضبوط کرنے میں کس کا ہاتھ ہے۔ کون سے ایسے عوامل ہیں جس سے یہ ناسور روز بروز بڑھتا جا رہا ہے۔ سرکاری اساتذہ کا اس عمل میں کردار کس نوعیت کا ہے؟ کیا رانا سکندر حیات کا سرکاری اساتذہ کو مورد الزام ٹھہرانا درست ہے؟ کیا واقعی اساتذہ اس نقل کے لیے رشوت سے اپنے ہاتھ رنگتے ہیں؟
ان سوالات کا جواب ڈھونڈنے کی اشد ضرورت ہے۔ ان جوابات سے پہلے کل کا ایک واقعہ پڑھ لیجیے۔ میرا ایک امتحانی سینٹر میں جانے کا اتفاق ہوا کیونکہ آج جماعت نہم کا آخری پیپر تھا اور مطالعہ پاکستان ہونے کی وجہ سے آسان تھا۔ سی سینٹر میں ہال سمیت چھ کمرے تھے جبکہ نگران کی تعداد پانچ تھی۔ استفسار پر معلوم ہوا کہ ایک نگران کم ہے۔ اس کی وجوہات کچھ بھی ہوں مگر یہ بات پتھر پر لکیر تھی کہ ناظم سینٹر نے بل چھ نگران کا ہی بنانا تھا کیونکہ اس سے اس کو تقریباً دس سے پندرہ ہزار کا فائدہ ہو گا۔
اکثر ناظمین سینٹر ایسی حرکات کرتے ہیں۔ اس سے پہلے سینٹر میں ایک کلرک بھی ہوتا ہے جس پر ناظم سینٹر کام خود کر کے دو بل بنا کر کلرک سمیت دو افراد کے پیسے بٹورنے میں کامیاب ہو جاتا ہے۔ جس پر پنجاب بورڈ نے کلرک کی پوسٹ ختم کر دی۔ اس بات سے اندازہ لگا لیجیے کہ جب ناظم نے نگران اور کلرک کی دیہاڑی لگانے کے چکر میں عملہ کم رکھنا ہے تو وہ تمام نگران عملے پر نگرانی سے قاصر ہی رہے گا جس سے نقل اور رشوت کے مواقع میں اضافہ ہوتا ہے۔
دوسرا بورڈز کی طرف سے سینٹرز بناتے وقت کمروں اور ہال کی پیمائش کی معلومات کو نظر انداز کیا جاتا ہے۔ بورڈ کی ہدایات کے مطابق سیٹنگ پلان ترتیب نہیں دیا جاتا ہے۔ چالیس طلباء پر ایک نگران تعینات کرنے کی کوشش میں طلباء کو نزدیک نزدیک بٹھایا جاتا ہے جس سے نقل کرنے میں آسانی ہوتی ہے۔ گورنمنٹ اور پرائیویٹ سکولز اچھے نتائج اور پوزیشن کی دوڑ میں من پسند عملہ سینٹر میں تعینات کروانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
اگر اس میں کامیابی حاصل کرنے میں ناکامی ہو تو اپنے تعلقات کو استعمال کرتے ہوئے عملہ سے سلام دعا بناتے ہوئے شفقت کی درخواست کی جاتی ہے۔ اس کے لیے روٹی پانی، تحائف اور نقد رقم جیسے منفی ہتھکنڈوں کو استعمال کیا جاتا ہے۔ طلباء کے والدین بھی اس دوڑ میں برابر کے شریک ہوتے ہیں۔ پرائیویٹ اسکولز ایسوسی ایشن اور پرائیویٹ کالجز ایسوسی ایشن نے پوزیشن اور نمبرز کی دوڑ میں نقل مافیا کو مضبوط کیا ہے۔ زیادہ سے زیادہ داخلے کے لئے پوزیشنز اور 100 فیصد نتائج کا اچار تیار کرنے کے لیے نقل کا سہارا لیا جاتا ہے۔
پرائیویٹ اسکولز و کالجز ایسوسی ایشن کی خواہشات ایک طرف مگر حقیقت اور مقام افسوس یہ ہے کہ اس نقل کے کردار سرکاری اساتذہ ہی ہیں۔ سابقہ چند سال سے سرکاری اساتذہ کی آسامیاں خالی ہونے سے اکثر سرکاری اساتذہ ڈیوٹی کرنے سے معذرت کر لیتے ہیں جس سے بورڈز کی طرف سے پرائیویٹ عملے کی اجازت دی گئی جس وجہ سے اس مافیا کو ایسی ہلا شیری ملی کہ یہ مضبوط ترین شکل اختیار کر گیا ہے۔ بورڈز کی طرف سے عملے کی تعیناتی کے بعد متعلقہ اسکول کے پرنسپل یا ڈپٹی ڈسٹرکٹ ایجوکیشن افسر سے اجازت نہ ملنے کی وجہ سے اکثر مقامات پر سرکاری اساتذہ کی نام پر پرائیویٹ عملہ ڈیوٹی سر انجام دے رہا ہوتا ہے۔
جس وجہ سے سرکاری اساتذہ الزامات کی زد میں آتے ہیں۔ ”مار نہیں پیار“ کے سلوگن نے بھی کسی حد تک طلباء کو تعلیم سے دور رکھنے (اے صاحب دانش، ”مار نہیں پیار“ کے سلوگن سے آپ کو اختلاف ہے۔ اور جاپان کے تعلیمی معیار کے لئے آپ رطب اللسان ہیں۔ کیا جاپان میں تعلیمی تشدد روا رکھا جاتا ہے؟ و-مسعود) اور نقل کے ذریعے ڈگری کے حصول میں اپنا کردار ادا کیا ہے۔ استاد اپنی عزت بچانے کے وقت گزارنے کی پالیسی پر عملدرآمد کر رہا ہے۔ 100 فیصد نتائج کی دوڑ میں بھی نقل مافیا کی خدمات حاصل کی جاتی ہیں۔ ٹیوشن مافیا کو اس معاملے میں نظر انداز نہیں کیا جا سکتا ہے۔ ایک کلاس میں پچاس سے ایک سو تک طلباء کی تعداد ہوتی ہے۔
اس سے ان اساتذہ کی ٹیوشن کمائی تنخواہ سے زیادہ ہوتی ہے۔ ہائی اسکولز میں جماعت نہم اور دہم کے طلباء سے دو ہزار فی ماہ ٹیوشن وصول کی جاتی ہے پھر اس ٹیوشن کی لاج رکھنے کے لیے بھی نقل مافیا کو تلاش کیا جاتا ہے۔ امتحانی سینٹر میں تعینات عملے کی دو پیپرز کے درمیانی وقفے میں ہوٹل میں دعوتیں کی جاتی ہیں پھر اس دعوت کو حلال کرنے کے لیے طلباء کو نقل کروائی جاتی ہے۔ حیرانی کی بات یہ ہے کہ ٹیوشن مافیا اس دعوت کے لیے رقم بھی طلباء سے اکٹھے کرتے ہیں اور والدین بھی یہ رقم دینے میں اعتراض نہیں کرتے ہیں۔
امتحان کے بعد عملی امتحان کے نمبرز کے لیے یہی روٹی پانی اور تحائف کا سہارا لیا جاتا ہے۔ مزے کی بات یہ ہے کہ بورڈ عملہ بھی اس عمل میں برابر کا شریک ہوتا ہے۔ قصہ مختصر اتنی وجوہات کے باوجود اس نقل کا ذمہ دار کون ہے مگر اس حقیقت کو جھٹلانا ناممکن ہے کہ نقل کروانے کے کرداروں میں ہمارے اساتذہ شامل ہیں۔ رانا سکندر حیات وزیر تعلیم نے اس مافیا کو جس طرح ننگا کیا ہے وہ داد کے مستحق ہیں۔ پاکستان وہ ملک ہے جس میں مافیاز اداروں سے زیادہ مضبوط اور طاقتور ہیں۔
رشوت خور اداروں کی صف بندی کی جائے تو پہلی پانچ پوزیشنوں میں سے ایک پوزیشن محکمہ مال کی بنتی ہیں۔ رجسٹری، انتقال وغیرہ کے لیے لاکھوں روپے رشوت وصول کی جاتی ہے۔ اس نقل مافیا کو روکنے اور اس کے سدباب کے لیے اب پٹواری، گرداور اور تحصیلدار سنیٹرز کا معائنہ کریں گے۔ جس کا باقاعدہ نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا گیا ہے ۔ رجسٹری یا فرد کی کاپی دینے کے لیے جو لوگ ہزاروں روپے لیتے ہیں وہ اب نقل مافیا کا سدباب کریں گے۔
محکمہ مال کی سابقہ روایات کو دیکھتے ہوئے میں پورے وثوق سے کہہ سکتا ہوں کہ اس سے نقل مافیا مزید مضبوط ہو گا۔ وزیر اعلی پنجاب مریم نواز اور وزیر تعلیم رانا سکندر حیات سے درخواست کرتا ہوں کہ ان سینٹرز میں ڈیوٹی کے لیے محکمہ مال کی خدمات حاصل کی جائیں تو یقیناً خاطر خواہ نتائج حاصل کیے جا سکتے ہیں بلکہ اس کے لیے پنجاب پولیس کو بھی شامل کیا جا سکتا ہے۔ رشوت کے سدباب کے لیے پنجاب پولیس کی خدمات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہیں۔
اساتذہ بھی ان ڈیوٹیوں سے مکمل نجات حاصل کرتے ہوئے اپنی تمام تر صلاحیتیں اور توانائیاں اسکولز میں تدریسی خدمات پر مامور کریں گے۔ شرط آزمائش ہے اس لیے بلا جھجک پنجاب پولیس اور محمکہ مال سے عملہ منتخب کر کے امتحانات کے سینٹرز میں تعینات کیا جائے۔ اس عمل سے یقیناً پرائیویٹ اسکولز اور ٹیوشن مافیا کو بڑا جھٹکا لگے گا کیونکہ اس عملے کی بھاری فیس کی ادائیگی میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ وزیر اعلی پنجاب مریم نواز صاحبہ اور وزیر تعلیم رانا سکندر حیات صاحب اس مافیا کو کس حد تک جڑ سے اکھاڑنے میں کامیاب ہوتے ہیں اس کا فیصلہ 19 اپریل سے شروع ہونے والے ہائر سیکنڈری اسکول کے امتحانات میں ہی ہو جائے گا۔ اسکولز اور کالجز میں نقل مافیا کو شاید آپ قابو میں کرنے کامیاب ہو جائے مگر یونیورسٹی میں یہی مافیا لڑکیوں کو جنسی ہراساں کرنے تک چلا گیا ہے، یونیورسٹی کے اسکینڈلز اکثر دیکھنے کو ملتے ہیں۔ یہ اسکینڈلز اسی نقل کا حصہ ہیں۔ اس پر بھی ہاتھ ڈالنے کی اشد ضرورت ہے۔


