سالانہ اسٹیٹس آف ایجوکیشن (اثر) رپورٹ


27 مارچ 2024 کو کراچی کے ایک بڑے ہوٹل میں سالانہ اثر کی رپورٹ پیش کی گئی۔ اس تقریب کی دعوت میں وزیر تعلیم سردار شاہ اور سیکریٹری اسکول ایجوکیشن کو اسپیشل دعوت دی گئی تھی کہ وہ آ کے سندھ صوبے کی تعلیم کی رپورٹ کو دیکھیں اور کوئی اپنا پلین دے کہ اب کیا کرنا ہے۔ مگر افسوس کہ اس اہم پروگرام میں نہ وزیر موصوف نے شرکت کی نہ ہی سیکریٹری اسکول ایجوکیشن تشریف لائے۔ یہ ہمارے وزیر کا رویہ کوئی انہونی بات نہیں۔

اگر اس پروگرام میں کسی کتاب کی لانچنگ ہوتی یا دانشور اور ادیب لوگ آتے تو اس پروگرام میں وزیر صاحب تقریر کرنے ضرور آتے۔ اس کو علم تھا جو سندھ کی تعلیم کی رپورٹ دکھائی جائے گی اس حوالے سے اس کے پاس کوئی بات کرنے کی نہیں ہے۔ اثر کی رپورٹ تعلیم کے وزیر کی آنکھیں کھولنے کے لیے کافی ہے۔ آج اس پر ایک انگریزی اخبار میں زبیدہ مصطفی نے بھی آرٹیکل لکھا ہے اور اس نے وزیر تعلیم سردار شاہ کے نہ آنے پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔

اثر کی سالیانی رپورٹ میں سندھ کے اربن اور رورل اسکولوں میں بنیادی سہولیات اور بچوں کے لرنگ آؤٹ کم کے حوالے سے بتایا گیا ہے۔ اس سروے میں 3 سے 5 اور 6 سے 16 سال کے بچوں کا ٹیسٹ کیا گیا۔ اس رپورٹ کے مطابق سندھ کے اسکولوں میں پڑھنے والے 73 فیصد بچے دو عدد کی تقسیم نہیں کر سکتے، 78 فیصد بچے انگلش کے جملے پڑھ نہیں سکتے اور 61 فیصد بچے سندھی اردو پڑھ نہیں سکتے۔ سندھ پہلی دفعہ بلوچستان سے بھی تعلیم کے حوالے سے پیچھے چلا گیا ہے۔

بلوچستان کے نتائج سندھ کے مقابلے میں اچھے ہیں۔ پورے پاکستان میں سروے کیا گیا اور سندھ سے ملنے والے اشارے سب سے کم ہے۔ اس کے علاوہ سندھ کے پبلک اسکولوں میں 46 فیصد واش روم نہیں ہے۔ 52 فیصد اسکولوں میں پینے کا صاف پانی نہیں ہے۔ 55 فیصد اسکولوں میں باؤنڈری وال نہیں ہے۔ 77 فیصد اسکولوں کو کوئی گرانٹ نہیں ملی۔

اسی رپورٹ میں یہ بتایا گیا ہے سندھ کے 14 فیصد بچے اسکولوں سے باہر ہیں۔ جو کہ بلوچستان پورے پاکستان میں پہلے نمبر پر ہیں۔ بلوچستان کے 25 فیصد بچے اسکولوں سے باہر ہیں۔ جب کہ پنجاب کے 7 فیصد، کے پی کے 10 فیصد اور آزاد کشمیر کے 2 فیصد بچے اسکولوں سے باہر ہیں۔

سندھ کی تعلیم کے حوالے سے بد ترین صورتحال ہے جہاں اسکولوں میں بنیادی سہولیات نہیں ہے اور جو بچے اسکولوں میں ہیں ان کی تعلیم کا معیار پورے پاکستان سے نیچے ہیں۔ ان کو ڈیل کرنے کے لیے ہماری وزیر تعلیم سردار شاہ کی کوئی پالیسی سامنے نہیں آئی، مگر وہ اسکولوں میں میوزک ٹیچر رکھنے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ اور ٹیچرز کو لائسنس دینا چاہتے ہیں۔ اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے ہماری وزیر تعلیم سردار شاہ کو سندھ میں تعلیم کے مسائل کا کوئی ادراک نہیں۔

سندھ کے اسکولوں میں میوزک ٹیچر آئیں گے تو، وہ کہاں بچوں کو میوزک سکھائیں گے۔ اسکولوں میں تو بچے بٹھانے کی جگہ ہی نہیں ہے۔ 2018 میں سندھ کے پبلک اسکولوں میں ارلی چائلڈ ٹیچر بھرتی کیے گئے تھے اور ابھی تک سندھ کے پبلک اسکولوں میں ارلی چائلڈ ایجوکیشن کی کوئی کلاس نہیں بن سکی اور وہ ٹیچر مفت کی تنخواہ لے رہے ہیں۔ اگر میوزک ٹیچر آ بھی گئے تو وہ ارلی چائلڈ ٹیچر کی طرح بچوں اپنا کام نہیں کر سکے گے۔ وزیر صاحب کو میوزک ٹیچر کا اس لیے شوق ہے کہ وہ اسکول میں کلچرل ایکٹیوٹی کو پروموٹ کرنا چاہتا ہے۔ حقیقت میں وہ کلچر کا آدمی ہے لیکن اس کو تعلیم کا پورٹ فولیو مل گیا ہے۔

میں نہ میوزک ٹیچر کے خلاف ہوں نہ ہی ارلی چائلڈ ٹیچر کے خلاف ہوں۔ مگر آپ کسی سیڑھی کے اوپر سے نیچے نہیں آتے آپ کو سیڑھی کے نیچے سے اوپر جانا پڑتا ہے۔ اسکولوں میں بنیادی سہولیات اور تعلیمی معیار پہلی سیڑھی ہے، پہلے اس کو بہتر کرو، اس کے بعد میوزک ٹیچر بھی آ جائے گے۔ آپ اگر پنجاب یا کی پی سے آگے نہیں نکل سکتے، کم از کم ان کے ساتھ تو چلو۔ میں سمجھتا ہوں پنجاب اور کی پی کی کو بھی بہت کام کرنے کی ضرورت ہے مگر اس رپورٹ کے مطابق وہ سندھ سے بہت آگے ہیں۔

سندھ کی تعلیم کی اس صورتحال پر سابق سیکریٹری اسکول ایجوکیشن اکبر لغاری نے بڑے انکشافات کیے ہیں۔ اکبر لغاری نے بتایا ہے کہ میں ایک ڈسٹرکٹ ایجوکیشن افسر اپنی مرضی کا نہیں لگا سکا۔ اور سارے ڈسٹرکٹ ایجوکیشن افسران نااہل ہیں۔ اس نے مزید بتایا کہ وہ 2023 میں 20 لاکھ بچوں کو کتابیں نہیں دی سکا۔ سابق سیکریٹری اکبر لغاری کے وقت میں بھی وزیر تعلیم سید سردار علی شاہ تھے اور ان کو کلچر ڈپارٹمنٹ سے وہ ہی اسکول ایجوکیشن میں لے کر آئے تھے۔

وزیر تعلیم سردار شاہ کے قریبی ذرائع بتاتے ہیں، سردار شاہ تعلیم کی وزارت سے خوش نہیں ہے اور وہ کلچر کی وزارت چاہتے ہیں۔ مگر کلچر کی وزارت سندھ کے نوجوان ذوالفقار شاہ کو دی گئی ہے اور وہ بڑی دلچسپی کے ساتھ کام کر رہے ہیں۔ اب لحمہ فکر یہ ہے کہ تعلیم کی وزارت ایک ایسے شخص کو دی گئی ہے جس کو تعلیم میں کوئی دلچسپی نہیں اور وہ اپنی ایکسپرٹیز کلچر میں سمجھتا ہے۔ ایسا وزیر سندھ کی تعلیم کی بد ترین صورتحال میں کیا کرے گا۔ یہ ایک بہت بڑا سوال ہے جس کا جواب آنے والا وقت بتائے گا۔

Facebook Comments HS