حافظ نعیم۔ جماعت کے نئے امیر: توقعات اور خدشات
حافظ نعیم الرحمان صاحب سراج الحق صاحب کے بعد جماعت کے نئے امیر جماعت اسلامی منتخب ہو گئے جو بادی النظر ایک اچھا فیصلہ معلوم ہوتا ہے۔ حافظ صاحب جوان اور توانائی سے بھرپور ہیں جس کا بخوبی مظاہرہ انہوں نے کراچی اور حیدرآباد میں حالیہ الیکشن مہم کے دوران کیا۔ حافظ نعیم صاحب نے نہ صرف جماعت کے کارکنان کو متحرک کیا بلکہ بہت سے ناراض اور مایوس سابق متفقین جماعت کو بھی واپس لانے میں کامیاب ہوئے اس کے علاوہ انہوں نے نئے ووٹرز کو بھی متوجہ کیا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ جماعت اسلامی نے الیکشن میں مجموعی طور پر اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔ اب الیکشن کا نتیجہ کیا آیا یہ ایک الگ بحث ہے۔
حافظ نعیم الرحمان صاحب نے اپنی الیکشن مہم میں کراچی اور اہل کرچی کے مسائل پر کھل کے بات کی۔ کوٹہ سسٹم اور دوسری نا انصافیوں پر انہوں نے موثر آواز اٹھائی۔ حافظ نعیم کا تعلق کراچی کے ایک اردو اسپیکنگ گھرانے سے ہیں انہوں نے کراچی ہی سے انجینئرنگ کی ڈگری حاصل کی۔ وہ کراچی کے بیٹے ہیں اور یہاں کے مسائل کو بخوبی سمجھتے ہیں۔ لیکن کیا وہ جماعت کے امیر بننے کے بعد بھی اپنے اس موقف پر قائم رہیں گے اور کراچی کے مسائل پے قومی سطح پر اسی توانائی کے ساتھ آواز اٹھائیں گے۔
ماضی میں جماعت اسلامی سندھ کے شہری علاقوں کی نمائندگی کیا کرتی تھی۔ کراچی اور حیدرآباد سے جماعت کے حصے میں بیشتر نشستیں ملتیں اس کے علاوہ لاہور سے ایک یا دو اور بقیہ پورے ملک سے چند سیٹیں مل جاتیں لیکن ان کی تعداد قومی اسمبلی میں بارہ چودہ سے زیادہ کبھی نہیں ہوئیں جن میں اکثریت سیٹیں کراچی اور حیدرآباد سے اردو بولنے والے علاقوں سے ملتیں۔ سنہ اسی کی دہائی میں ایم کیو ایم کی کراچی اور سندھ کے شہری علاقوں کی سیاست میں انٹری کے بعد جماعت اسلامی اور باقی تمام جماعتوں کا صفایا ہو گیا۔ لیکن سب سے بڑا دھچکہ جماعت اسلامی کو پہنچا اور وہ کوئی ایک بھی سیٹ نہ لے سکی۔ شاید اس کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہو کہ جماعت نے ہمیشہ ووٹ تو کراچی سے لیے لیکن کراچی کے ایشوز پر قومی سطح پر کبھی کوئی آواز نہیں اٹھائی جس کی وجہ سے کراچی کی عوام نے انہیں مسترد کر دیا اور پھر کبھی ان کی واپسی نہیں ہوئی۔
دو ہزار اٹھارہ کے الیکشن میں کراچی میں ایم کیو ایم میں دھڑے بندی اور ریاستی جبر کی وجہ سے ایک سیاسی خلا تھا جسے پر کرنے کے لیے اوپر والوں نے سیاسی انجینئرنگ کے ذریعے قومی اور صوبائی اسمبلیوں کی نشستیں پی ٹی آئی کے کی جھولی میں ڈال دیں۔ اس نئی جماعت کے لیے نادر موقع تھا کہ کراچی پر اپنی گرفت مضبوط کر لیتی لیکن انہوں نے اہل کراچی کو بہت مایوس کیا۔ حالیہ الیکشن میں ایم کیو ایم کو کچھ ہوش آیا اور انہوں نے متحد ہو کر الیکشن لڑا اور اپنی بیشتر کھوئی ہوئی نشستیں واپس لے لیں۔
مقام افسوس یہ کہ انتہائی موثر الیکشن مہم چلانے اور بے دریغ روپیہ خرچ کرنے کے باوجود جماعت اسلامی کے حصے میں کچھ نہ آیا۔ اب ان کے پاس ”اخلاقی کامیابی“ حاصل کر لینے کے دعوی کے سوا کچھ باقی نہیں بچا۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ جماعت اسلامی ایک منظم اور نظریاتی جماعت ہے اور یہ بھی کہ جماعت کے بیشتر افراد دیانت دار اور اچھے کردار کے لوگ ہیں تو پھر کیا وجوہات ہیں کہ اس جماعت کو لوگ ووٹ نہیں دیتے لیکن اس کے جلسوں میں ایک بڑی تعداد میں شرکت کرتے ہیں۔
جماعت اسلامی کے بانی مولانا مودودی ایک عظیم مفکر اور قرآن کے بڑے اسکالر تھے ان کی تصانیف اور قرآن کی تفسیر ایک کارنامہ ہے لیکن سیاسی میدان میں ان کی سوچ سے خود ان کے قریبی ساتھیوں نے بھی اختلاف کیا اور ماچھی گوٹھ کانفرنس کے بعد وہ تمام اکابرین اور ان کے بیشتر رفیق ان سے الگ ہو گئے تھے جن میں ڈاکٹر اسرار احمد۔ مولانا امین احسن اصلاحی۔ ارشاد حقانی صاحب۔ جاوید احمد غامدی صاحب کے علاوہ اور بہت سے پرانے ساتھیوں اور مخلص کارکنوں نے مولانا کی سیاست اور سوچ سے اختلاف کے باعث جماعت سے دوری اختیار کرلی۔
سنہ ستر تک تو جماعت اسلامی کسی نہ کسی طرح اپنی شناخت منواتی رہی۔ سابقہ مشرقی پاکستان میں بھی جماعت کا ایک بڑا ووٹ بینک تھا لیکن سقوط ڈھاکہ کے بعد وہ بھی ختم ہو گیا۔ سانحہ مشرقی پاکستان ملٹری ایکشن آپریشن سرچ لائٹ کے دوران جماعت اسلامی کے نوجوان کارکنان اور جماعت کی ذیلی طلبہ تنظیم اسلامی چھاترو شنگھو نے پاک فوج کی قیادت اور سرپرستی میں عسکری ونگ البدر اور الشمس میں شامل ہو کر مقامی بنگالیوں کی مخبری کی اور فوج کر ساتھ ان کے قتل و غارت گری میں پیش پیش رہے انہوں نے اس بہانے اپنی ذاتی دشمنیاں بھی چکائیں جس کی وجہ سے بہاریوں اور مغربی پاکستان سے تعلق رکھنے والوں سے بنگالیوں کی نفرت میں مزید اضافہ ہوا اور ”شالا پونزابی“ نفرت کا ایک استعارہ بن گیا۔
جن دنوں مشرقی پاکستان میں خون کی ہولی کھیل جا رہی تھی یہاں مغربی پنجاب پاکستان میں جماعت کے مقلد ایک صحافی جناب الطاف حسین قریشی اردو ڈائجسٹ میں قسط وار مضمون ”محبتوں کا زمزمہ بہ رہا ہے“ کے عنوان سے لکھ کر عوام کو یہ باور کرا رہے تھے بنگالی پاکستان کی محبت میں غرق مکتی باہنی اور بیرونی جارحیت کے خلاف متحد ہیں جبکہ صورتحال اس کے بالکل برعکس تھی۔ مشرقی بنگال لہولہان تھا اور پھر سولہ دسمبر سنہ اکہتر میں پاکستان دو لخت ہو گیا۔ (محترم الطاف حسین قریشی سے اختلاف یا اتفاق میں کوئی ہرج نہیں لیکن ان پر ”محبت کا زمزمہ بہ رہا ہے“ کے حوالے سے جو الزام لگایا جاتا ہے وہ واقعاتی اعتبار سے قطعی غلط ہے۔ الطاف صاحب نے اس عنوان سے مضامین کا سلسلہ 1966 کے موسم خزاں میں لکھا تھا۔ مشرقی پاکستان میں فوجی آپریشن مارچ 1971 میں شروع ہوا تھا۔ الطاف صاحب پر یہ الزام اسی طرح سے پراپیگنڈا ہے جیسے بھٹو صاحب پر "ادھر ہم ادھر تم” کا الزام لگانا جو دراصل ایک کم تعلیم یافتہ قلم دراز صحافی کی تصنیف کثیف تھا۔ و۔ مسعود)
بنگالی سیاسی طور پر باشعور قوم تھی اس نے اپنی آزادی کی جنگ میں بے شمار قربانیاں دیں جسے فراموش کر دینا ان کے لیے ممکن نہ تھا چنانچہ انہوں حالات بہتر ہونے کے بعد اپنے ”غداروں“ پر جنگی جرائم کے مقدمے چلائے اور انہیں طویل سزائیں اور پھانسیاں دیں جن میں اکثریت سابق جماعت اسلامی یا اسلامی شاسترو شنگھو سے متعلق افراد تھے جو وقت گزرنے کے ساتھ بوڑھے ہو گئے تھے لیکن بنگالیوں نے اپنے اوپر ستم ڈھانے والے ”شالا بہاری“ کو معاف نہیں کیا اور ان جنگی جرائم کے جرم میں پھانسی پر لٹکا دیا۔ اب یہ ایک الگ بحث ہے کہ کیا ان کا یہ عمل درست تھا یا نہیں۔ دوسری طرف ہمارا المیہ یہ کہ سقوط مشرقی پاکستان کے سانحے کو لگ بھگ پچاس برس گزر گئے اور ہم نے ابھی تک حمود الرحمان کمیشن رپورٹ ہی شائع نہیں کی اور نہ ہی آج تک اس قومی جرم کی پاداشت میں کسی کو ایک دن کی سزا ہوئی اور نہ ہی اس سانحہ کے کسی مجرم کی نشاندہی ہوئی۔ کسی مردہ معاشرے کی اس سے بہتر مثال اور کیا ہوگی۔
مشرقی پاکستان کے بعد مغربی پاکستان میں جماعت مولانا مودودی کی زندگی تک ایک معتبر سیاسی مذہبی جماعت کے طور پر قائم تھی جس کی بڑی وجہ مولانا کی بھاری بھرکم شخصیت تھی۔ ان کے بعد جماعت اپنا سیاسی تشخص کھو بیٹھی حالانکہ اس وقت بھی جماعت اسلامی میں پروفیسر غفور احمد جیسے مدبر اور دوراندیش افراد موجود تھے۔ لیکن امارت کے لیے میاں طفیل احمد کو منتخب کیا گی۔ ان کے دور میں بعد جماعت اسلامی محض ایک اسٹیبلشمنٹ کی جماعت بن کر رہ گئی جو اقتدار میں آنے کے لیے پچھلے دروازے کی تلاش میں رہتی ہے۔ یہی جماعت کے امیر میاں طفیل مرحوم نے کیا اور وہ ضیاء الحق کے قدموں میں جا گرے جس کی وجہ شاید ان سے قرابت داری بھی رہی ہو (میاں طفیل غالباً شفیقہ ضیاء مرحومہ کے قرابت دار تھے۔) بہرحال اس کے بعد جماعت گرتی چلی گئی اس کے بعد متعدد رہنما اور کارکن جماعت سے منحرف ہو گئے جن میں میرے والد مرحوم بھی تھے جو جماعت کے بانیان میں تھے۔
میاں طفیل ایک کمزور شخصیت کے مالک تھے۔ وہ ضیاء الحق اور اسٹیبلشمنٹ کے ہاتھوں کھیلتے رہے اور صدقے میں چند وزارتیں ان کے حصے میں آئیں۔ سنہ ستر کی آخری دہائی میں روسی فوجیں فوجیں دریائے آمو کو پار کر کے افغانستان میں داخل ہو چکی تھیں گیس اور معدنی ذخائر سے مالا مال اس خطے میں یورپ اور امریکہ کو روس کی آمد اور خطے میں بالا دستی سوٹ نہیں کرتی تھی۔ لہذا امریکی سی آئی اے اور ہمارے حساس اداروں نے مل کر امریکی برانڈ جہاد کا اعلان کر دیا جس کے لئے امریکی ڈالر۔ فوجی ساز و سامان اور سعودی ریال کی ترسیل شروع ہو گئی اس مشن کے لیے افرادی قوت پاکستان میں جماعت اسلامی اور دوسری مذہبی جماعتوں نے فراہم کی اور ملک بھر میں مدارس کا جال بچھا دیا۔ لاکھوں نوجوانوں کو برین واش کر کے اس آگ میں جھونک دیا۔ ہزاروں نوجوانوں کے لاشے ان کے والدین کو دفنانے کے لیے پیش کئیے گئے اور غمزدہ خاندان کو بیٹے کی شہادت کی لولی پاپ تھما دی جاتی۔
روس کے خلاف بر سر پیکار جنگجو جدید امریکی اسلحہ۔ مخصوص جغرافیائی پوزیشن اور چھاپہ مار کارروائیوں کے سبب روس کے لیے عذاب بن گئے اور روس کو افغانستان سے پسپا ہونا پڑا۔ ایک جنگ کا خاتمہ ہوا لیکن اس کا ایک تاریک پہلو یہ بھی ہے کہ دنیا جو پہلے بائی پولر تھی اور طاقت کا توازن قائم تھا اچانک یونی پاور بن گئی اور دنیا کی حکمرانی کا تاج امریکہ کے سر پر سج گیا۔ جنگ کے خاتمہ اور روس کی پسپائی اور عظیم روس کے بکھرنے کے بعد امریکہ کے مقاصد پورے ہوچکے تھے جس کے بعد امریکہ خطے میں لگی آگ اور اپنے تیار کئیے ”مجاہدین“ کو نیوٹرلائز کئیے بغیر نکل گیا اور اس فساد افغانستان کا سارا فال آؤٹ پاکستان پر آ گرا۔ اس کے بعد وطن عزیز میں کلاشنکوف۔ ہیروئن۔ جرم اور تشدد کے علاوہ ساٹھ لاکھ افغانی ”مہمان“ پاکستان میں در آئے اور وہ آج تک ہمارے لیے ہماری معیشت کے لیے ایک عذاب بنے ہوئے ہیں۔
اب آتے ہیں جماعت اسلامی کے سیاسی کردار اور اس کے رہنماؤں کی کارکردگی اور ترجیحات کی طرف جو جماعت کی ساکھ کو مولانا مودودی کے تخیل کے مطابق آگے نہ لے جا سکے بلکہ اس کی تنزلی کا باعث بنے۔ میاں طفیل کے بعد جماعت اسلامی کے امیر حافظ حسین احمد ہوئے جنہوں نے اپنے غیر لچکدار روئے اور ذاتی نمود کے باعث جماعت کے تشخص کو بہت مجروح کیا۔ حافظ حسین احمد مرحوم نے اپنی انتخابی مہم میں جس طرح خودنمائی کی سیاست کی وہ جماعت کا مزاج ہرگز نہ تھا۔ جگہ جگہ بورڈ اور ہورڈنگز لگائے گئے جس کی عبارت کچھ اس طرح تھی ”قاضی آ رہا ہے۔ قاضی کا ڈنڈا۔ قاضی دا وہیڑا۔ قاضی دی ہٹی“ وغیرہ وغیرہ اس طرز عمل پر جماعت میں شامل سنجیدہ طبقے کو بہت مایوس کیا۔ ان کی افغان پالیسی بھی بری طرح ناکام ہو چکی تھی۔ جماعت امریکی مفادات کو سپورٹ اور امریکی انسپائرڈ جہاد کرانے کا دھبہ شاید کبھی نہ دھو سکے گی۔
والد مرحوم بھی قاضی حسین احمد کی الیکشن مہم اور سیاسی قلابازیوں پر جماعت سے کنارہ کش ہو گئے۔ جماعت میں تشدد کا عنصر بھی قاضی صاحب کے دور میں مزید فروغ پایا۔ سچ تو یہ ہے کالج اور یونیورسٹیوں میں تشدد اور اسلحہ کے کلچر کی ابتدا بہت پہلے اسلامی جمیعت طلبہ ہی نے کی تھی۔ قاضی صاحب کے بعد منور حسن خان صاحب امیر جماعت اسلامی منتخب ہوئے انہوں نے جماعت کو کہیں کا نہ رکھا۔ ان کی دیانت داری پر تو کوئی سوال نہیں اٹھایا جا سکتا لیکن ان کے سخت گیر رویے نے جماعت کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا۔ خاص طور سے ان کا طالبان اور افغان جہاد کے رومانس اور پھر ان کا ٹی وی پر دکھائے جانے والے ایک بیان جس میں وہ فرماتے ہیں کہ ”طالبان کا بابرکت دور“ اور مزید یہ کہ ”طالبان تو شہید ہیں لیکن پاکستانی فوجی کی شہادت پر سوالیہ نشان ہے“ نے جماعت کی نظریاتی اور متشددانہ مزاج کا بھانڈا پھوڑ دیا۔ اس بیان کے بعد انہوں نے جماعت کے سینئر ارکان اور ان والدین کو بھی بہت صدمہ پہنچایا جن کے بچے فوج میں تھے یا شہید ہوئے تھے
منور حسن خان کے بعد لالہ سراج امیر جماعت بنے جو دوسروں کی طرح نجی زندگی میں تو شریف اور دیانتدار تھے لیکن ان کی سیاست اور بیانات بہت مایوس کن تھے۔ اس کی مثال کچھ Placebo Effect کی طرح تھی۔ پلاسیبو وہ جعلی دوا ہوتی ہے جس سے فائدہ کوئی نہیں ہوتا ہے بس مریض کو تسلی سی ہوجاتی ہے کہ اس نے دوا لے لی ہے۔
پچھلے الیکشن کے دوران حافظ نعیم الرحمان کو دیکھا مجھے ان میں توانائی نظر آئی یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ جماعت نے ہر مصیبت کی گھڑی میں اپنی ذیلی جماعت الخدمت کے ذریعے اچھا کام کیا جس کی وجہ سے لوگ خاص طور سے کراچی کی عوام نے انہیں سپورٹ کیا اور ووٹ بھی دیے۔ میں نے خود تقریباً تیس سال بعد جماعت کو ووٹ دیا۔ لیکن نتائج ان کی توقعات کے خلاف آئے جس پر جماعت نے شدید احتجاج کیا جو ہنوز جاری ہے۔ چند روز پہلے حافظ نعیم صاحب کو جماعت اسلامی کا چھٹا امیر منتخب کیا گیا۔ حافظ صاحب کی سیاست میں دم دکھائی دیتا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ وہ کیا ایسا کرتے ہیں کہ جماعت دوبارہ کچھ نشستیں لینے میں کامیاب ہو جائے لیکن لگتا نہیں کہ حافظ نعیم کبھی کوئی بڑا بریک تھرو کر سکیں گے۔ لوگ جماعت کے جلسوں میں تو بڑی تعداد میں شرکت کرتے ہیں لیکن جماعت انہیں ووٹ میں تبدیل کرنے کی اہل قطعی نہیں ہے۔ جماعت کو اگر آگے جانا ہے تو اپنے کارکنان پر بھروسا کرنا ہو گا اور ان کو ممبر شپ دینا ہوگی۔
اب صرف ”متفقین“ کی لالی پاپ سے کام نہیں چلے گا۔ لوگوں کے لیے اپنے دروازے وا کریں اور زیادہ سے زیادہ ممبر شب دے کر اپنے ووٹ بینک کو بڑھائیں۔ حال یہ ہے کہ لوگ بیس بیس سال سے بلکہ اس سے بھی زیادہ جماعت سے منسلک ہیں لیکن رکنیت نہیں ملتی بس ”متفق“ کا ڈھول گلے میں پڑا رہتا ہے۔ جماعت کو اگر آگے جانا ہے تو وقت کے ساتھ چلنا ہو گا اور اپنی افغان رومانس کی پالیسی کو ترک کرنا ہو گا اور مردہ ایشوز پر سیاست کرنے کے بجائے عصر حاضر سے مطابقت رکھنے والا کوئی پروگرام پیش کرنا ہو گا۔
جذباتی نعرے اور مذہبی چورن اب نہیں بکنے والا۔ جماعت کو متشددانہ رویوں اور جہادی مائنڈ سیٹ سے نکل کر ریشنل سیاست کرنی ہوگی۔ جماعت کو ہر ایشو پر ”ملین مارچ“ کا انعقاد جس میں چند ہزار افراد سے زیادہ شرکت نہیں کرتے ترک کرنا ہو گا۔ اسی طرح ان کو اپنے جماعتی ساتھیوں کے علاوہ دوسروں کو بھی مسلمان اور محب وطن سمجھنا ہو گا۔ امید کرتا ہوں کہ حافظ نعیم جماعت کے لیے نیک شگون ثابت ہوں گے اور وہ جماعت کو صحیح ٹریک پر لا سکیں گے۔ وہ کراچی کے بیٹے ہیں اور اس مظلوم و لاوارث شہر کے مسائل سے بخوبی آگاہ بھی ہیں ان سے توقع ہے کہ کراچی کے ساتھ ہونے والی زیادتیوں کے خلاف قومی سطح پر آواز بھی اٹھائیں گے۔ اور قومی سیاست میں بھی لچکدار رویہ اور مفاہمت کی پالیسی اپنانا ہوگی۔


