میرے شہر کا سفر


شہر سارے ہی اچھے ہیں۔ مگر خوشی کا جو احساس سالوں بعد اپنے شہر کو دیکھ کر ہوتا ہے۔ وہ کسی بھی شہر کو دیکھ کر نہیں مل سکتا۔ اپنا شہر اپنا ہی ہوتا ہے۔ اس میں بات ہی کچھ الگ ہوتی ہے۔ آخری بار جب میں اپنے شہر گیا تو میری حالت دل ناقابل بیان تھی۔

زندگی کی دوڑ میں تو سفر روزانہ ہوتا ہے۔ مگر جو سفر اپنے شہر کو ہوتو اس کے تو کیا ہی کہنے میرے شہر کی بات کروں تو یہ زیادہ بڑا شہر نہیں اس کی آبادی غالباً چھ سے سات لاکھ ہو گی۔ یہ پاکستان کے سب سے بڑے جنگل چھانگا مانگا سے غالباً بیس کلومیٹر لاہور کی جانب واقع ہے۔ اس کا نام ”کوٹ رادھا کشن“ ہے۔

میں جب بھی کسی دوسرے شہر کے شخص کو اپنے شہر کا نام بتاتا ہوں تو وہ مجھے انڈیا یا کشمیر والی طرف کا سمجھتا ہے۔ میرے دوسرے سیمسٹر کے جیالوجی کے استاد سر ارمگان صاحب کو میں یاد ہی میرے شہر کے نام کی وجہ سے تھا۔ کچھ بڑے بزرگوں سے سنا ہے کہ یہ نام دو ناموں ”رادھا اور کشن“ کو ملا کر بنایا گیا ہے جو عرصہ پہلے یہاں رہتے اور ان ہی دونوں کی وجہ سے یہ شہر آباد ہوا۔

میرے شہر میں بہت سی جگہیں قابل دید ہیں۔ جیسے شہر کے دل میں سے گزرتی ہوئی نہر اور اس نہر پر شہر کے بیچوں بیچ مختلف قسم کے ناشتہ پوائنٹس جہاں لوگ صبح کے ناشتہ سے لطف اندوز ہوتے ہیں اور بہتی ہوئی نہر نہایت عمدہ منظر پیش کرتی ہے۔ اس کے علاوہ شہر کے درمیان میں سے گزرتی ہوئی ریل کی پٹری جب اس پر سے ریل گاڑی اپنا ہارن بجاتی ہوئی گزرتی ہے تو پورے شہر کو اپنے آنے کی خبر دے دیتی ہے۔ میں جب بھی اپنے شہر جاؤں اور اس ریل کی پٹری پر کچھ لمحات نہ گزارنے جاؤں ایسا ہو نہیں سکتا۔ ان کے علاوہ اور بھی بہت سی جگہیں ہیں۔ جیسے شہر کے ساتھ آم کا باغ، ریل سٹیشن اور اس کے اوپر سے گزرتا ہوا لوہے کا پل اور اس کے ساتھ کھیلنے کے لیے کھلا میدان، ڈرائی پورٹ، پرانا سینما گھر وہاں کا بازار وغیرہ وغیرہ۔

شہر کو اردگرد سے بہت سے گاؤں گھیرے ہوئے ہیں۔ میرے شہر کی وجہ شہرت اس کا نام اور وہاں کے مشہور امرتسری کے گلاب جامن ہیں۔ امرتسر انڈیا کے ایک شہر کا نام ہے اور اس دکان کا نام اسی سے منسوب ہے۔ کیوں کہ اس دکان کا مالک وہاں سے ہجرت کر کے پاکستان آئے تھے۔ ان گلاب جامنوں کا ذکر آفتاب اقبال صاحب اپنے شو میں کر چکے ہیں۔ اس کے علاوہ ان گلاب جامنوں کی وجہ شہرت ان کا لذیذ ذائقہ ہے۔ گرم گرم گلاب جامن کے ساتھ چائے کی ایک گھونٹ تو اس کے تو کیا ہی کہنے۔

پچھلے ماہ سردیوں کی چھٹیوں میں میرا دل کیا کیوں نہ کچھ دن اپنے شہر میں گزارے جائیں کیونکہ گزشتہ دو برسوں سے پوری فیملی ابا جی کی نوکری کی وجہ سے لاہور منتقل ہوئی تھی۔

تو ہوا کچھ یوں کہ چھٹیوں کے دوسرے دن میں نے چند کپڑے اپنے بیگ میں ڈالے اور سفر کے لیے تیار ہو گیا۔ اماں جی کو سلام کیا اور موٹر سائیکل باہر نکال لی۔

موٹر سائیکل پر سفر کرنا اچھا لگتا ہے تو میں نے اسی پر جانے کا فیصلہ کیا اور سفر بھی تقریباً ایک گھنٹے کا تھا تو زیادہ مسئلہ نہیں تھا۔

میں نے اپنی موٹر سائیکل پر بیٹھ کر ہینڈ فری لگائی عصر کے وقت اپنے شہر کی جانب ہو لیا۔

میں تقریباً پانچ یا چھے ماہ بعد اپنے شہر جا رہا تھا۔ مجھے اپنے شہر کو دیکھنے کی اور اپنے دوستوں سے ملنے کی عجیب سی خوشی تھی۔ میں اسی خوشی کے عالم میں اپنی موٹر سائیکل کو آہستہ آہستہ چلا رہا تھا اور کلاسک میوزک سنتے ہوئے ڈھلتی ہوئی شام کے مزے لے رہا تھا۔ کے اچانک ذہن میں آیا کیونکہ اس سرخ خوبصورت ڈھلتے ہوئے سورج کو اپنے فون میں قید کر لو تو میں نے اپنا فون نکالا اور ایک ہاتھ سے موٹر سائیکل چلاتے ہوئے سورج کی تصاویر اور ویڈیوز بنانے لگا۔

سڑک کے ساتھ ہی ریل کی پٹری تھی اور چلتی ہوئی ریل گاڑی سفر کو چار چاند لگا رہی تھی۔ مغرب کے وقت میں اپنے شہر پہنچا تو شہر اور اپنے شہر کی رونق دیکھ کر دل کو قرار آیا۔

گھر پہنچا تو دیکھا کے گھر کی حالت خراب تھی۔ خیر تھوڑی بہت صاف صفائی کی اور اپنا کمرہ کھولا اور سیدھا بیڈ پر دونوں بازو پھیلا کر لیٹ گیا۔ تھوڑی دیر بعد دو دوستوں کو فون کیا اور اپنے آنے کی خبر دی خبر سنتے ہی دونوں دوست سارے کام چھوڑ کر میری طرف ہو لئے۔

شام کا کھانا تینوں نے ساتھ کھایا اور اپنی پسندیدہ چائے اور گلاب جامن کھانے امرتسری پہنچ گئے۔ وہاں سے واپس آ کر رات دیر تک میرے کمرے میں بیٹھ کر خوب گپیں ماری۔

انہی دنوں شہر میں میلہ لگا ہوا تھا۔ اگلے دن میلے میں کبڈی دیکھنے پہنچ گئے وہاں مختلف قسم کے کھانے لگے ہوئے تھے۔ لوگ اپنی فیملیاں لے کر میلہ دیکھنے آئے ہوئے تھے۔ رات میں ہم میلے سے واپس آئے اور دوبارہ باتوں کا وہی سلسلہ شروع ہو گیا جو پہلے دن ہوا تھا اور یہی سلسلہ اگلے پورے ہفتے چلتا رہا اور آخرکار میں اتوار کی شام کو واپس لاہور کی جانب روانہ ہو گیا اور اگلے دن سے وہی دوڑ دوبارہ شروع ہو گئی۔

 

چوہدری کامران فاروق
Latest posts by چوہدری کامران فاروق (see all)

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments