تبدیلی


اکثر ایسا ہوتا ہے کہ ہم کسی انسان کو دیکھ کر بے اختیار سوچتے ہیں کہ اس کے ساتھ کیا ہوا ہو گا۔ اس پر ایسے کون سے حالات و واقعات گزرے ہوں گے کہ یہ اس حال میں پہنچ گیا۔

ہر انسان تبدیلی کے عمل سے گزرتا ہے۔ کسی میں تبدیلی غیر محسوس طریقے سے ہوتی ہے تو کسی میں ایک دم بہت بڑی تبدیلی آ جاتی ہے۔ ہمیں خود اپنے اندر ہونے والی تبدیلی کا اندازہ نہیں ہوتا لیکن دوسروں کو ہم میں ہونے والی تبدیلیاں نظر آ جاتی ہیں۔

کچھ دن پہلے میری ملاقات میری سکول کی سہیلیوں سے ہوئی۔ ہم سب پکی سہیلیاں تھیں۔ ہم اپنی کلاس کا شرارتی ترین ٹولا تھیں۔ ہماری باتیں کبھی ختم ہی نہیں ہوتی تھیں۔ ہم نے وعدہ کیا تھا کہ ہم اپنی یہ دوستی زندگی بھر چلائیں گی۔ لیکن وقت نے ہماری دوستی کو گہنا دیا۔ چار سال بعد ہم میں سے ایک نے سب کو ملنے پر آمادہ کیا تو ہماری ملاقات ہو پائی۔

چار سال ایک دوسرے سے نہ ملنے کے باعث سب کے پاس بتانے کے لیے بہت کچھ تھا۔ لیکن ہم بہت احتیاط سے بات کر رہے تھے۔ پہلے والی بے فکری غائب تھی۔ میں تو بالکل چپ تھی۔ میری دوستوں نے مجھ سے کئی بار پوچھا کہ تم بھی تو کچھ بتاؤ۔ آخر ان چار سالوں میں کیا ہوا۔ لیکن میرے پاس بتانے کے لیے کچھ نہیں تھا۔

میں جو سکول کی شرارتی ترین طالبہ تھی، سکول سے نکل کر خاموش طبع بن گئی تھی۔ میرے چار سال بس کالج، اکیڈمی اور گھر میں گزر گئے تھے۔ میں بس خاموشی سے ان کی باتیں سنتی رہی۔ آخر میں ایک دوست نے کہا کہ تم بہت بدل گئی ہو۔ میں تب چونکی اور اسے حیرانی سے دیکھنے لگی۔

میرے مطابق تو میں ویسی ہی تھی۔

گھر آنے کے بعد بھی اس کا وہ جملہ میرے کانوں میں گونجتا رہا۔ میں کئی دن تک اس جملے کو بھول نہیں سکی پھر مجھے احساس ہوا کہ میں واقعی بدل چکی تھی۔

میری عمر بڑھ چکی تھی۔ اس کے مطابق تجربات بھی بڑھ چکے تھے۔ میں زیادہ معلومات جانتی تھی۔ معاشرے کی زیادہ سمجھ آ چکی تھی اور اس کے مطابق ہی میرے مزاج اور شخصیت میں تبدیلی آ رہی تھی۔

میں نے اسی بارے انٹرنیٹ پر پڑھنا شروع کر دیا۔ مجھے پتہ چلا کہ تبدیلی واقعی اتنی عام ہے۔ مجھے یہ جان کر بہت حیرت ہوئی کہ انسانی زندگی میں تبدیلی میری سوچ سے بھی زیادہ عام تھی۔ مجھے ایسی معلومات ملی جن کو جان کر میں حیران رہ گئی۔ مجھ میں آنے والی چھوٹی سی تبدیلی کی وجہ سے پیدا ہونے والا تجسس مجھے زندگی میں آنے والی تبدیلیوں کی دلچسپ کہانیوں کی طرف لے گیا۔

مجھے کئی ایسے لوگوں کی زندگیوں کے بارے میں جاننے کو ملا جن میں آنے والی تبدیلی انسانوں کے لئے محرک ثابت ہو سکتی تھی۔ لیکن اسی کے ساتھ کچھ ایس تبدیلیاں بھی پڑھنے کو ملیں جن کے باعث میرے رونگٹے کھڑے ہو گئے۔

جیسے معروف بھارتی اداکارہ ثنا خان کا شوبز کی دنیا چھوڑ کر دین کی طرف متوجہ ہونا، گلوکار جنید جمشید کا اچانک موسیقی چھوڑ کر اسلام کی تبلیغ کے کاموں کی طرف متوجہ ہونا اور گلوکار عبداللہ قریشی کا اپنا موسیقی چھوڑ کر اپنے دین کی طرف متوجہ ہونا۔

سو بچوں کا قتل کرنے والے جاوید اقبال کی کہانی کسے نہیں معلوم۔ ایک عام سا انسان اس قدر سفاک کیسے بنا۔ کیا ہوا تھا کہ اس نے سو بچوں کا قتل کر دیا؟

اسی طرح امریکی سیریل کلر اینڈریو کنانن کا ایک ذہین ترین طالب علم سے قاتل بننا اور پھر خودکشی کر لینا اپنے پیچھے کون سی کہانی چھپائے بیٹھا تھا۔

ایک اور امریکی سیریل کلر چارلین گیلیگو کا قتل میں ملوث ہونے کے بعد جیل میں نفسیات، کاروبار اور ادب پڑھنا کیا اس کی ندامت یا شرمندگی کا نتیجہ تھا؟

میں سوچ رہی تھی کہ ان لوگوں میں اس قدر تبدیلی کیسے آئی۔ انہیں کس چیز نے تبدیل ہونے کی تحریک دی۔

تبدیلی انسان کی زندگی کا وہ اہم عنصر ہے جسے وہ چاہتے ہوئے بھی نہیں روک سکتا۔ جلد یا بدیر چھوٹی یا بڑی انسان کو کسی نہ کسی تبدیلی سے گزرنا ہی پڑتا ہے۔ اس تبدیلی کا علم اس انسان کو ہے یا نہیں یہ بات جاننا کسی دوسرے شخص کے لیے کافی مشکل ہے۔

تبدیلی اچھی بھی ہو سکتی ہے اور بری بھی اور یہ کہ اپنے اندر آنے والی تبدیلیوں کا استعمال بہتری کے لیے کرنا ہے یا برائی کے لیے یہ بھی انسان کے ہاتھ میں ہے۔ لیکن اس کے ساتھ یہ بھی کہ کچھ لوگوں کے لیے اپنے اندر آنے والی تبدیلی پر قابو پانا کافی مشکل ہو جاتا ہے۔ اس لیے ہمیں چاہیے کہ ہم ایسے لوگوں کی مدد کے لیے اقدامات اٹھائیں۔ اسکول اور کالجوں میں ماہر نفسیات ڈاکٹر کا انتظام کریں اور کسی ذہنی دباؤ شخص پر طنز کرنے یا اس کا مذاق اڑانے کی جگہ اس کو علاج کروانے کا مشورہ دیں اور اس کی حوصلہ افزائی کریں تا کہ اس شخص کو کوئی غلط قدم اٹھانے سے روکا جا سکے۔

Facebook Comments HS