صلیبیں اپنی اپنی، قسط نمبر 1 : بشیر چاچا
”یہ گرجے، یہ مسجدیں، یہ مندر تو صرف کچھ لوگوں کی روزی چلاتے ہیں ورنہ خدا کو کیا پڑی کہ وہ اس کا حساب رکھے کہ کون گرجا میں جاتا ہے، کون مسجد میں، اور کون مندر میں،“ جمعدار بشیر دین کہتے، ”میرا مذہب تو بس میرے اور خدا کے درمیان ہے۔ میں پچھلے بیس سال سے کسی چرچ میں نہیں گیا مگر میرا ایمان خداوند خدا اور یسوع مسیح پر لوہے کی طرح مضبوط ہے۔ کون مائی کا لال ہے جو مجھے خداوند کی بادشاہی میں داخل ہونے سے روکے گا؟“
اگرچہ وہ کافی مذہبی تھے مگر انہیں چرچ سے خدا واسطے کا بیر تھا۔ کہتے تھے کہ وہ جیسے جیسے خدا کے نزدیک ہوتے جا رہے ہیں ویسے ویسے چرچ سے دور ہوتے جا رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ بائبل ایک مکمل کتاب ہے جس میں ہر مسئلے کا حل ہے، لہٰذا انہیں کسی پادری، کسی پنڈت، کسی مولوی کی ضرورت نہیں ہے۔
”آخر یسوع بھی تو باغی تھا،“ وہ ہوا میں مُکّا تان کر کہتے، ”اُس نے بھی کلیسیا کو چیلنج کیا تھا اور اس کا حشر ہم نے دیکھ ہی لیا۔“
ان کی بائبل سبز رنگ کے ایک ریشمی جزدان میں رہتی تھی جو سنہری گوٹا کناری سے مزیّن تھا اور اُس کے گرد ایک لمبی سی سرخ ڈوری لپٹی رہتی تھی۔ ایک روز لانس نائیک اللہ دتّہ نے ان سے جزدان کے متعلق پوچھا تو انہوں نے بتایا کہ ایک مرتبہ انہوں نے ایک صوبے دار کی والدہ کو جزدان سیتے ہوئے دیکھا تھا۔ جزدان سینا ان کا مشغلہ تھا، اور ساری پڑوسنیں ان سے قرآن شریف کے لیے جزدان سلواتی تھیں، چناں چہ انہوں نے اپنی بائبل کے لیے بھی سلوا لیا۔
”پوری دنیا میں صرف میری بائبل ہے جو ریشمی جزدان میں رکھی جاتی ہے،“ وہ مسکرا کر کہتے، ”فرق صرف اتنا ہے کہ تمہارا قرآن تو جزدان سے باہر نہیں نکلتا مگر میری بائبل روزانہ پڑھی جاتی ہے۔“
جمعدار بشیر دین پوری چھاؤنی میں اپنی شان اور دبدبے کے لیے مشہور تھے۔ کچھ نہیں تو ساڑھے چھ فٹ کے تو رہے ہوں گے۔ بھاری بھرکم، تنی ہوئی مونچھیں، نسواری رنگ کی شلوار، اسی رنگ کی قمیص اور سر پر سفید رنگ کا کلاہ جس میں سے نسواری رنگ کی ٹوپی اوپر سے جھانکتی تھی۔ کلاہ کا ڈیڑھ بالشت کا کلف سے اکڑا ہوا طرّہ مور کی کلغی کی مانند ہمیشہ ایستادہ رہتا تھا۔ دھوپ سے بچنے کے لیے سیاہ شیشوں کا چشمہ پہنتے تھے۔ اُس زمانے میں مغربی پاکستان کے گورنر نواب آف کالا باغ تھے جو بڑی دبنگ شخصیت کے مالک تھے۔ لوگ کہتے تھے کہ اگر نواب آف کالا باغ اور جمعدار بشیر دین کو ساتھ ساتھ کھڑا کر دیا جائے تو مجال ہے کہ کوئی پہچان سکے۔ دونوں میں سرِمو فرق نہیں تھا۔
یونٹ کے کمانڈنٹ، کرنل شیر دِل خان، بھی جمعدار بشیر دین کی بڑی عزت کرتے تھے اور ہمیشہ انہیں جمعدار صاحب کہہ کر مخاطب کرتے تھے۔ فوج میں مہتروں یا خاکروبوں کو جمعدار کہتے ہیں، لیکن جمعدار بشیر دین عام مہتر نہیں تھے۔ وہ مہتروں کے کمانڈر انچیف کہلاتے تھے اور ان کا کام یونٹ کے تمام مہتروں کو سپروائز کرنا تھا۔
جب وہ اپنی بائیسکل پر راؤنڈ کے لیے نکلتے تو چھاؤنی میں پھیلے ہوئے مہتر چوکنّے ہو جاتے اور جھاڑوئیں کچھ تیز ہو جاتیں۔ وہ پوری چھاؤنی کے ٹوائلٹ جھانکتے پھرتے تھے اور جہاں ذرا سی گندگی دیکھی، فوراً اپنی نوٹ بُک نکال کر چیک کیا کہ وہاں کس کی ڈیوٹی تھی۔ وہیں نزدیک ہی کام کرنے والے کسی مہتر کو صفائی کرنے کے لیے بھیج دیتے اور شام کو اس مہتر کی پیشی ہوتی جس کی کوتاہی تھی۔
ان کی راؤنڈ کے دوران اگر کوئی راستے میں مل جاتا تو اپنی سائیکل سے اتر کر اس کے ساتھ چلتے ہوئے خیریت پوچھتے۔ مجھے راستے میں دیکھ کر ہمیشہ سائیکل سے اتر جاتے، کچھ دور میرے ساتھ چلتے اور بڑی دل چسپی سے میری پڑھائی کے متعلق پوچھتے۔ اس زمانے میں مچھروں سے بچنے کے لیے ڈی ڈی ٹی استعمال کی جاتی تھی۔ جہاں گندا پانی جمع ہوتا وہاں فوراً ڈی ڈی ٹی چھڑک دی جاتی۔ ایک بار انہوں نے گندے پانی کے گڑھے پر رک کر مجھے ملیریا پر پورا لیکچر دیا۔ مجھے ان ہی سے پتا چلا کہ دنیا میں مچھروں کی ساڑھے تین ہزار قسمیں ہوتی ہیں اور جس مچھر سے ملیریا ہوتا ہے اسے اینوفیلیز کہتے ہیں۔
جمعدار بشیر دین بھرتی تو مہتر کی حیثیت ہی سے ہوئے تھے مگر تھے بڑے ذہین اور محنتی۔ انہیں پڑھنے کا شوق تھا اور فارغ وقت میں پڑھتے رہتے تھے۔ کرتے کرتے انہوں نے میٹرک پاس کر لیا۔ اگرچہ فوج میں مہتر عموماً سویلین ہوتے ہیں مگر ان کے افسروں نے ان کی ہمت افزائی کی اور ان کی مراعات میں اضافہ ہوتا رہا۔ حالاں کہ وہ صرف میٹرک پاس تھے مگر کثرت سے مطالعہ کرتے تھے۔ لوگوں کا کہنا تھا کہ وہ کتابوں کو نچوڑ کر پیتے ہیں اور کوئی ایسا موضوع نہیں جس پر دانش مندانہ اظہار خیال نہ کر سکتے ہوں۔ یہی وجہ تھی کہ سپاہیوں سے لے کر افسر تک، سب ہی ان کی عزت کرتے تھے۔
رات کے کھانے کے بعد وہ بلا ناغہ اپنے کوارٹر کے سامنے میدان میں چارپائیاں بچھا کر دوستوں کو جمع کرلیتے تھے۔ حیدرآباد سندھ اگرچہ دن میں تپتا ہے مگر شام کو ٹھنڈی ہوا چلنی شروع ہوجاتی ہے اور رات کے کھانے کے بعد پوری پوری فیملیاں چہل قدمی کے لیے نکلتی ہیں۔ اس زمانے میں تو ٹریفک بھی خال خال ہی ہوتا تھا۔ کینٹونمنٹ کے علاقے میں شاذ و نادر ہی کوئی کار سڑک پر نظر آ جاتی لہٰذا لوگ سڑکوں پر بھی ٹہلتے تھے۔
جمعدار بشیر دین کی محفل کے ارد گرد ہوا میں کنگ اسٹارک سگریٹ کے دھوئیں کی بُو شامل ہوتی تھی۔ کے ٹو سگریٹ سے پہلے کنگ اسٹارک سب سے تیز سگریٹ ہوتا تھا اور سپاہیوں میں سب سے زیادہ پسندیدہ سگریٹ تھا۔ جب سپاہی ترقی کرتے کرتے نائب صوبے دار کے عہدے پر پہنچتا تھا تو اس کا سگریٹ کا برانڈ بھی تبدیل ہوجاتا تھا اور وہ قینچی پینا شروع کر دیتا تھا۔ کمیشن ملنے پر جب وہ سیکنڈ لفٹیننٹ کے عہدے پر پہنچتا تھا تو کیپسٹن تک پہنچ جاتا۔ جمعدار صاحب کا محبوب موضوع علامہ مشرقی کی خاکسار تحریک تھا۔ کہتے تھے کہ جب وہ خاکساروں کو کندھوں پر بیلچے رکھے پریڈ کرتے دیکھتے تھے تو ان کا بس نہیں چلتا تھا کہ وہ بھی کلمہ پڑھ کر بیلچہ سنبھالیں اور ان میں شامل ہوجائیں۔
”تو جمعدار صاحب آپ کو روکا کس نے تھا؟“ کسی نے پوچھا۔
”بھائی، میں صرف سوچ کر رہ جاتا تھا۔ اگر تم میرے باپ کی سرخ سرخ آنکھیں اور گز بھر لمبی مونچھیں دیکھ لیتے تو تمہیں تو سوچنے کی ہمت بھی نہ ہوتی۔ ان کی آنکھوں میں ہر وقت خون بھرا رہتا تھا اور ان کی ایک ڈانٹ پر میرا پیشاب خطا ہوجاتا تھا۔“
***
پوری چھاؤنی میں وہ جمعدار بشیر دین کہلاتے تھے مگر میں انہیں بشیر چاچا کہتا تھا کیوں کہ ان کا بیٹا دانی ایل میرا کلاس فیلو تھا اور میں اکثر اسکول جاتے ہوئے راستے میں اس کے کوارٹر پر رُک جاتا تھا تاکہ اسے ساتھ لے لوں۔ دانی ایل اور میں ساتویں جماعت سے ساتھ تھے۔ جب ہماری کلاس میں اُس کا داخلہ ہوا تو اسے میری ڈیسک پر ہی بٹھایا گیا۔ ہر ڈیسک پر دو لڑکے بیٹھتے تھے اور میں سب سے اگلی صف میں اپنی ڈیسک پر اکیلا ہی تھا۔ چناں چہ کلاس ٹیچر نے اسے میرے ساتھ بٹھا دیا اور اسی دن سے ہم دونوں کی دوستی ہو گئی۔
جیسے جیسے ہم اگلی کلاسوں میں گئے، ہمیں احساس ہوا کہ ہمارے خیالات میں کافی یکسانیت ہے۔ ہم دونوں، گھنٹوں بیٹھے ان موضوعات پر گفتگو کرتے تھے جن پر اس عمر کے بہت کم بچے باتیں کرتے ہیں۔ زندگی کیا ہے؟ کیوں کچھ لوگ امیر ہوتے ہیں اور باقی سب غریب ہوتے ہیں؟ تکلیف، بیماری، موت، یہ سب کیا ہے؟ کیا خدا لاپروا ہے جو معصوم لوگوں کو آفات میں مبتلا کرتا ہے؟ اسی قسم کی اوٹ پٹانگ باتیں کیا کرتے اور ہر قسم کی کتابیں پڑھتے تھے۔
پھر وہ زمانہ آیا جب ہم دونوں نے ایک دوسرے کے مذہب کا مطالعہ کرنا شروع کیا۔ دانی ایل ابوالاعلیٰ مودودی کی تفہیم القرآن پڑھنے لگا اور میں نے لاہور کے ایک بائبل اسکول میں داخلہ لے لیا جو بذریعہ ڈاک بائبل پڑھاتا تھا۔ دو سال کے عرصے میں مجھے پرانے اور نئے عہد ناموں کی اچھی خاصی سوجھ بوجھ ہو گئی اور دانی ایل قرآنی آیات میں محکمات اور متشابہات کے فرق کو سمجھنے لگا۔
میں دانی ایل کو اکثر اپنے ساتھ جمعہ کی نماز کے لیے لے جاتا۔ اس نے سورہ فاتحہ سیکھ لی تھی، باقی میرے برابر کھڑا ہوا ہونٹ ہلاتا رہتا اور باقاعدہ سب کی طرح رکوع و سجود کرتا۔ پہلی بار جب وہ مسجد میں گیا تو داخل ہوتے وقت میں نے اپنے رومال کے چاروں کونوں میں گانٹھیں لگا کر اس کے سر پر منڈھ دیا اور اسے بتایا کہ مسجد میں سر ڈھانپنا آداب میں شامل ہے۔ ”
جب میں اس کے ساتھ پہلی مرتبہ چرچ گیا تو نشست پر بیٹھتے وقت حسب عادت جیب سے رومال نکالا اور چاروں کونوں میں گانٹھیں باندھ کر سر ڈھک لیا۔ اس نے رومال اتار کر میرے ہاتھ میں دے دیا۔
”چرچ میں ننگے سر ہی بیٹھتے ہیں۔ صرف خواتین سر ڈھانپتی ہیں،“ اس نے میرے کان میں کہا۔
”کمال ہے۔ مسجد میں سر ڈھانپنا آداب میں شامل ہے اور چرچ میں ننگے سر جانا،“ میں نے بھی جواباً سرگوشی کی۔
”پتا نہیں خدا کے نزدیک کوئی فرق پڑتا ہے یا نہیں،“ اس نے کہا۔
”پتا نہیں۔ یہ تو اللہ میاں سے پوچھ کر ہی بتایا جاسکتا ہے،“ میں نے کندھے اچکا کر جواب دیا۔
میں اکثر دانی ایل کے ساتھ اس کے چرچ جاتا تھا۔ جب چندے کی پلیٹ جماعت میں گھمائی جاتی تو میں بھی دوسروں کی طرح اس میں پچیس پیسے یا پچاس پیسے کا سِکّہ ڈال دیتا اور کھڑے ہو کر سب کے ساتھ آواز ملا کر حمدیہ گیت گاتا
بخش اپنے فضل سے خدایا
مجھ کو دولت تو ایمان کی
لحن داؤد مجھ کو عطا ہو
اور حکمت سلیمان کی


