مزاحمت سے تحریک انتشار تک!
سوال دنیا میں انتشار پھیلانے اور ملکوں کے عوام کو ہیجان میں مبتلا رکھنے والی قوتوں کا ہر گز نہیں بلکہ سوال یہ اہم ہے کہ جدید ٹیکنالوجی سے لیس ممالک یا خطے کے سیاسی اور معاشی مفادات میں بندھے ہوئے اتحاد دنیا سے دہشت گردی، انتشار اور افراتفری پر اب تک کیوں قابو نہیں پا سکے ہیں؟ سوال یہ بھی اہم ہے کہ دنیا کے یہ ترقی یافتہ ممالک اور جدید تقاضوں پہ دسترس رکھنے والے ممالک اب تک دنیا سے دہشت گردی کے موذی اور تباہ کن عنصر کو کیوں ختم نہیں کر پائے ہیں یا صرف دہشت گردی کے جن کو عوام کی لوٹ کھسوٹ کے ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہے ہیں تاکہ سماج کی نسل سیاسی طور سے سوچنے اور سمجھنے کی صلاحیت سے محروم رہے۔
یہی وہ بنیادی نکتہ ہے جو مسلسل عالمی امن اور اقتصادی صورتحال کو چبا رہا ہے اور عالمی قوتیں بھی دہشت گردی کو صرف اپنی اسلحہ ساز فیکٹریوں کے اسلحہ کی خرید و فروخت کے لئے استعمال کر رہی ہیں جن میں سر فہرست امریکہ کا پینٹاگون اور یورپ کے امریکی اتحادی دہشت گردی کو بھوک و افلاس کے مقابلے میں محض ایک عوام دشمن بیانئے کے طور پر اپنے سرمایہ دارانہ مفادات کے لئے شور شرابا کر کے استعمال کر رہے ہیں جب کہ اس میں ترقی پذیر ممالک کی وہ غیر جمہوری قوتیں بھی ان کی ساتھاری ہیں جن کو کائی سیاسی ایجنڈا نہیں مگر انتشار پھیلا کر دراصل یہ انتشار پسند قوتیں ملکی استحکام کے لئے مسلسل خطرہ ہیں۔
اس تناظر میں پچھلے دنوں شنگھائی کو آپریشن آرگنائیزیشن کے 19 ویں اجلاس کے سیکیورٹی مشیر نے افغان حکومت کے نائب وزیر داخلہ محمد نبی اوماری کی جانب سے اسلام آباد کو تحریک طالبان سے دوبارہ مذاکرات کی پیشکش یا مشورے کو خطے کی سلامتی اور خطے میں دہشت گردی کے بڑھتے ہوئے خدشات کے ساتھ ملکوں کی سلامتی کے خلاف سازش قرار دیتے ہوئے شدید رد عمل کا مظاہرہ کیا ہے۔ پاکستانی وفد کے سربراہ وقار احمد کی موجودگی میں شنگھائی آرگنائیزیشن کے مشیر کا کہنا تھا ”کہ افغان حکومت کی جانب سے پاکستان کو دہشت گرد طالبان سے مذاکرات کرنے کا عندیہ دراصل خطے میں دہشت گردی کے واقعات کو ازسر نو منظم کرنے کی کوشش ہے جو کسی صورت خطے کے ممالک کی سلامتی کے خاطر برداشت نہیں کی جانی چاہیے اور نہ افغان حکومت کی اس پیشکش کو قبول کیا جانا چاہیے“ ۔
شنگھائی آرگنائیزیشن کے اس شدید ردعمل پر پاکستانی وزارت خارجہ کی ترجمان ممتاز زہرہ بلوچ نے پاکستانی موقف دیتے ہوئے بہت وضاحت سے کھرے لہجے میں کہا کہ ”پاکستان پر امید ہے کہ افغان حکومت کے ذمہ داران افغانستان میں پناہ لینے والے“ تحریک طالبان ”کے ان دہشت گردوں کو پاکستان کے اندر کارروائیاں کرنے سے روکنے میں مسلسل ناکام رہا ہے جب کہ دہشت گرد طالبان افغانستان کی سر زمین کو اپنے مقاصد کے حصول کے لئے استعمال کر رہے ہیں اور پاکستان میں دہشت گرد کارروائی کر کے افغانستان میں تحفظ حاصل کیے ہوئے ہیں جس سے یہ عندیہ ملتا ہے کہ ان کو افغان حکومت نہ صرف سہولت کاری دے رہی ہے بلکہ ان نازک حالات میں دہشت گرد طالبان کے ذریعے پاکستان کو کمزور کرنے کی منظم سازش ہو رہی ہے۔ انہوں نے سخت لہجے میں کہا کہ جب تک ان“ تحریک طالبان ”کے دہشت گردوں کو افغانستان سے سہولت فراہم کی جاتی رہے گی۔ اس وقت تک افغان حکومت کی کسی بھی پیشکش یا مشورے کو ماننا پاکستان کے لئے مشکل امر ہو گا ’۔
پاکستان میں دہشت گردی کی حالیہ لہر میں عوام سمیت فوج کے افسران اور سپاہی مسلسل نشانہ بنائے جا رہے، جو ملکی سیاسی اور بگڑتی ہوئی معاشی صورتحال میں انتہائی تشویشناک عمل ہے جب کہ شواہد بتاتے ہیں کہ تحریک پاکستان کی ساڑھے تین سالہ حکومت میں پی ٹی آئی کا بیانیہ دہشت گرد طالبان کی حمایت اور ان کو مکمل سہولت کاری کے لئے استعمال کیا گیا اور دہشت گرد طالبان کے سزائے موت کے قیدیوں کو عمران حکومت کی ایما پر اس وقت کے صدر عارف علوی نے عام معافی دے کر پاکستان میں بسایا جو پانچ ہزار جنگجو سمیت پاکستان میں لائے گئے جبکہ ان دہشت گرد طالبان کو عمران حکومت کی حمایت کے ساتھ اس وقت کی عسکری قیادت کی بھی مکمل حمایت جاری رہی، حالیہ دہشت گردی کیوں اور کس لئے پاکستان میں سر ابھار رہی ہے۔
یہ آج کے ہر پاکستانی کا سوال ہے کہ تحریک انصاف کی جانب سے مسلسل سیاسی انتشار کو کیوں ہوا دی جا رہی ہے یا ملک کی بگڑتی ہوئے معاشی صورتحال پر قابو پانے کی کوششوں کو دہشت گردی کے ذریعے تحریک انصاف کیوں غیر محفوظ کرنے کے در پہ ہے یا حالیہ طالبان دہشت گردی پر تحریک انصاف کی وہ شدت یا مخالفت نہیں، جو ملک کے عمومی غیر سنجیدہ واقعات پر ہوتی ہے۔ اس سلسلے میں تحریک انصاف کی ممکنہ ”تحریک مزاحمت“ اس خطے اور خصوصاً پاکستان کے امن و استحکام کو ”افغان جہاد“ کے نام پر ”پینٹاگون“ کے پرانے منصوبے کی وہ نئی قسط دکھائی دیتا ہے جو عمران خان اور تحریک انصاف کے ساتھ ”افغان جہاد“ کی حامی جماعتوں کے ممکنہ اتحاد میں نظر آتی ہیں جن کا اشارہ اپنی مرضی کے انتخابی نتائج کا بہانہ بنا کر ”مزاحمتی تحریک“ شروع کرنا ہے۔
ایسی ہی ایک کوشش انتخابی نتائج میں دھاندلی کے خلاف نظام مصطفی کی تحریک کی صورت میں مذہبی جماعتیں 1977 میں چلا چکی ہیں جس کے نتیجے میں نہ صرف ملک جمہوریت سے آمرانہ نظام کی طرف بڑھا بلکہ پاکستان میں دہشت گردی کے عفریت کو جنرل ضیا نے جماعت اسلامی کے ”جہاد فلسفے“ کی حمایت سے جاری رکھا جبکہ ان دہشت گرد طالبان کو بنانے کی مکمل سہولت کاری ”پینٹاگون“ سے ڈالروں کی مد میں جاری رکھی گئی اور مذہبی تنگ نظر جماعتوں کی مدد سے ملک کو ”تھیو کریٹک“ بنانے کی کوشش کی جاتی رہی اور آج بھی ماڈرن طالبان سوچ کی پارٹی تحریک انصاف کے ذریعے نئی نسل میں ”تھیوکریٹک“ سوچ پیدا کر کے ملک کی نسل کو ”خودپسندی“ اور تباہی کی جانب لے جایا جا رہا ہے جو ایک ایسا سنجیدہ سوال ہے جس کا جائزہ لیا جانا ضروری ہے۔
ملک کی موجودہ ابتر سیاسی اور معاشی صورتحال میں بانی پی ٹی آئی اور افغان جنگ سے مالی اور سیاسی فوائد حاصل کرنے والی جماعتوں کا ایک ”اکھنڈ“ 1977 کے قومی اتحاد کی طرز پر بننے کی طرف جا رہا ہے جس کا اشارہ عید بعد ممکنہ ”مزاحمتی تحریک“ چلانے کا انتشار پسند فارمولا ہے جس میں ممکنہ طور پر ماضی کے قومی اتحاد کی فائدے مند جماعتیں بشمول جمعیت علمائے اسلام اور جماعت اسلامی کے علاوہ افغان ٹریڈ سے فائدہ اٹھانے والی پشتوں خواہ ملی پارٹی اور دیگر کی اس ”مزاحمتی تحریک“ میں شرکت یا اکھنڈ بننے کے اشارے ہیں۔
ممکنہ طور پر مجھے اس موقع پر موجودہ 2024 کے انتخابات کے نتیجے اور تناظر میں 1977 کی معصوم عوام کو گمراہ کرنے والی نظام مصطفی کے نعرے میں لپٹی وہ تحریک شدت سے یاد آ رہی ہے جس کا اشارہ بطور خاص تحریک انصاف کی جانب سے دیا جا رہا ہے کہ عید بعد ممکنہ مزاحمتی تحریک بھرپور طریقے سے ابھرے گی اور سارے نظام کو بہا کر لے جائے گی۔ پی ٹی آئی کی اس ممکنہ دھمکی کے بعد مجھے ماضی کے قومی اتحاد ایسا سیاسی کھیل دوبارہ دکھائی دے رہا ہے جس کی پشت پر ”پینٹا گون“ کا انتشار پسند گروہ اس خطے کوایک مرتبہ پھر ”افغانستان“ کی سالمیت کے پردے میں تحریک انصاف اور ماضی کے طالبان حمایت کے مذہبی سیاسی گروہ کو یکجا کر کے اس پورے خطے کو سیاسی اور معاشی طور پر کمزور کر کے اپنا عالمی استحصالی مفاد حاصل کرنا چاہتا ہے جس میں ”پینٹا گون“ کی سب سے زیادہ پسندیدہ اور سہولت کار جماعت تحریک انصاف دکھائی دے رہی ہے جو نہ صرف ”طالبان مائنڈ سیٹ“ رکھتی ہے بلکہ جس کے پاس عسکری تربیت یافتہ جنرل ضیا کی سوچ کے ”دہشت گرد طالبان“ بھی ہیں جو اپنے پرانی حمایت یافتہ طالبان سوچ جماعت اسلامی اور جمعیت علمائے اسلام کی مدد سے خطے میں اپنا ”انتشار پسند“ ہدف حاصل کر کے خطے کی ترقی کا ارادہ رکھنے والے چین، روس، ایران اور سعودی عرب کے ممکنہ اتحاد کا راستہ روکنا چاہتی ہے جس میں ”پینٹاگون“ کی سب سے پسندیدہ انتشار پسند جماعت تحریک انصاف دھاندلی ”کے نام پر زیادہ متحرک دکھائی دیتی ہے جس کی کمک کے لئے طالبان حمایت یافتہ مذہبی جماعتوں کی مدد فراہم کرنے کی منصوبہ بندی صاف نظر آ رہی ہے وگرنہ تحریک انصاف کی جمعیت علمائے اسلام اور پشتونخواہ ملی پارٹی کی سیاسی رسہ کشی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے۔
”جمہوریت کی بحالی“ والی دھوکہ دہی کی ممکنہ ”مزاحمت تحریک“ کی آڑ میں ماضی کی قومی اتحاد (پی این اے) کی اس خونریز اور مذہبی انتہا پسندی کے وہ خوفناک مناظر کسے یاد نہیں، جب بھٹو حکومت کی بر سر اقتدار پیپلز پارٹی کی جانب سے کرائے گئے انتخابی نتائج کے خلاف فوجی اشرافیہ اور امریکی امداد سے قائم ہونے والے مذہبی منافرت پھیلانے کی کوشش 9 ستارے کے اتحاد نے آمر فوجی جنرل ضیا کے مارشل لا کا جواز فراہم کرنے کے لئے کی تھی اور بادی النظر میں افغانستان میں چلنے والی سیاسی ہلچل کے نتیجے میں نور محمد ترہ کی کی سربراہی میں برپا ہونے والے ممکنہ ”ثور انقلاب“ کا راستہ روکنے کی حکمت عملی پر امریکی مفادات اور ڈالر کی ریل پیل میں بہت منظم طریقے سے اس خطے کو طالبان کی دہشت گردی کے حوالے کیا تھا جس کے لئے تمام مذہبی جماعتوں کو فوجی آمر جنرل ضیا کی طرف سے دھڑا دھڑ Amenity Plot الاٹ کر کے ان پر مدرسے یا مذہبی ریسرچ کے نام پر بلڈنگوں کی تعمیر کے لئے امریکی امداد ڈالر کی صورت میں جمعیت علما اسلام اور جماعت اسلامی کو فراہم کیے گئے تھے۔
خطے کی اس گمبھیر صورتحال کا منطقی نتیجہ یہ نکلا کہ ”امریکی ڈالروں“ کی لالچ میں مذہبی دستار نے بھی اپنے دام لگوائے اور اس وقت کی جنرلی اشرافیہ نے بھی تنگ نظر مذہبی دستاروں کی مدد سے افغانستان کے اس عوامی ”ثور انقلاب“ کو ناکام کروانے کے لئے پاکستان کے سماج کو ایک تنگ نظر مذہبی منافرت میں تبدیل کر دیا اور امریکی ڈالروں کی لالچ میں بہہ کر اس پر امن کے خطے کو دہشت اور وحشت میں دھکیل دیا، جس میں اس وقت کے فوجی آمر جنرل ضیا نے کلیدی کردار ادا کیا۔
ایسی ہی ایک کوشش دوبارہ سے جنرل گل حمید کی طالبان مائنڈ سیٹ جماعت تحریک انصاف کی مدد سے کی جا رہی ہے جس کو روکنا ان تمام جمہوری اور ترقی پسند قوتوں کا فرض ہے جو ماضی میں طالبان دہشتگردی کے سامنے ڈٹ کر کھڑے رہے اور ملک سمیت خطے میں ”طالبان دہشت گردی“ کے عفریت کا مقابلہ کیا، اس سلسلے میں ملکی عسکری اداروں کے ذمہ داران کا بھی یہ اولین فرض ہے کہ وہ دہشت گردی کی موجودہ تباہ کن پالیسی کو جنرل ضیا کی پالیسی میں دیکھنے کی کوشش نہ کریں، وگرنہ تحریک انصاف کی انتشار پسند ممکنہ ”تحریک مزاحمت“ سب کچھ تباہ کرنے کے در پہ ہے۔


