صلیبیں اپنی اپنی، قسط نمبر 4 : قربان گاہ
”اور میں تجھ سے کہتا ہوں، تو پطرس ہے، اور اس چٹان پر میں اپنی کلیسیا بناؤں گا، اور موت کے دروازے اس پر غالب نہ آئیں گے۔“ متی 16 : 18
پادری پال کا چرچ کنٹونمنٹ کے علاقے میں ایک پہاڑی پر واقع تھا۔ اس کی 1870 میں تعمیر شدہ عظیم الشان مگر سال خوردہ عمارت عہد رفتہ کی طرف انگلی اٹھاتی تھی۔ اب تو خیر اس کے گرد مکانات بن گئے ہیں مگر ایک زمانے میں شام کو ٹھنڈی سڑک پر چہل قدمی کرتے ہوئے سر اٹھا کر پہاڑی پر دیکھتے تو اس کا کلس آسمان سے باتیں کرتا نظر آتا تھا۔ قیام پاکستان سے قبل یہ آرمی کا چرچ تھا اور اس میں انڈین آرمی کے انگریز افسروں کی فیملیاں عبادت کے لیے آتی تھیں۔ چرچ کے بیچوں بیچ وسیع و عریض ہال میں سو ڈیڑھ سو افراد کے لیے نشستیں ہیں اور اب یہ کیتھیڈرل بن گیا ہے جہاں بشپ کی کرسی ہوتی ہے۔
پاکستان بننے کے بعد یہ چرچ عرصے تک ویران پڑا رہا۔ آخر حکومت نے اسے ایک پروٹسٹنٹ کمیونٹی کے حوالے کر دیا جس میں دانی ایل بھی شامل تھا۔ یہ کمیونٹی پہلے ہی غریب تھی اور اتنے بڑے چرچ کو سنبھالنا ان کے بس کی بات نہیں تھی۔ پرانے زمانے میں اگر بادشاہ کسی سے ناراض ہوجاتا تھا تو اسے تحفے میں ہاتھی دے دیتا تھا۔ وہ بے چارہ ہاتھی کو کھلانے کے چکر میں خود بھوکا مرتا تھا۔ یہی حال اس چھوٹی سی کمیونٹی کا ہوا۔ سب سے پہلا کام تو اس کی صفائی کرنا تھا۔
لوگ اپنے اپنے کاموں سے فارغ ہو کر چرچ آ جاتے اور سیڑھیاں لگا کر چھت سے مکڑی کے جالے صاف کرتے۔ بلند و بالا چھت شہتیروں کے ایک جال پر رکھی تھی جو سال ہا سال غیر آباد ہونے کی وجہ سے چمگادڑوں کا مسکن بن گئی تھی اور ان کی بیٹ سے وہ شہتیر ڈھک گئے تھے۔ اتنی بڑی عمارت کے بجلی کے بل کی ادائیگی بھی کمیونٹی کی گنجائش سے بالاتر تھی۔ چناں چہ جو بلب فیوز ہو گئے تھے وہ فیوز ہی رہے۔ جب لوگ ہال میں جمع ہوتے تو کھڑکیاں کھول دی جاتیں تاکہ باہر سے روشنی آ سکے۔
سامنے بائیں جانب کونے پر ایک پرانا آرگن رکھا تھا جس پر مٹی کی دبیز تہہ چڑھی ہوئی تھی۔ آرگن چرچ کی موسیقی میں بڑی اہمیت رکھتا ہے۔ حمدیہ گیتوں کے ساتھ اگر موسیقی ہو تو وہ گیت روح میں سرایت کر جاتے ہیں۔ آرگن ایک بڑا سا ہارمونیم ہوتا ہے جس میں پیڈل لگے ہوتے ہیں اور اس کے پردے کو بجائے ہاتھ سے دبانے کے پیروں سے پیڈل مار کر دبایا جاتا ہے۔ ہارمونیم کی ایجاد سے قبل چرچ میں آرگن ہی ہوتا تھا مگر اس میں دو خامیاں ہیں۔
اول تو یہ اتنا بڑا اور بھاری ہوتا ہے کہ جگہ جگہ اٹھائے نہیں پھر سکتے۔ دوسری بات یہ کہ یہ اتنا قیمتی ہوتا ہے کہ غریب چرچ اسے نہیں خرید سکتے۔ چناں چہ جب انیسویں صدی میں فرانس میں ہارمونیم ایجاد ہوا تو چرچ نے ہاتھوں ہاتھ لیا۔ ہندوستان میں مسیحی مبلغین گلے میں ہارمونیم لٹکائے سڑکوں کے کنارے کھڑے ہو کر یسوع مسیح کی شان میں گیت گاتے تھے۔ مغربی موسیقاروں نے ہارمونیم کو کبھی قبول نہیں کیا اور ہندوستانی موسیقار بھی ابتدا میں اسے چھوتے ہوئے بھی کراہیت محسوس کرتے تھے مگر آہستہ آہستہ وہ ہندوستانی موسیقی کا جزو لاینفک بن گیا۔
دانی ایل پہلی بار اسٹول بچھا کر آرگن کے سامنے بیٹھا تو اس نے پھونکیں مار مار کر مٹی کو ہٹایا اور جب اس نے پیڈل چلائے تو معلوم ہوا کہ پردے میں کہیں سوراخ تھے۔ پیڈل مارنے سے جو ہوا بھرتی تھی اس میں سے بہت کم ہی آرگن کے پائپوں تک پہنچ پاتی تھی ورنہ زیادہ تر رس کر نکل جاتی تھی چناں چہ دانی ایل کو پیڈل تیزی سے چلانے پڑتے تھے اور وہ پسینے میں شرابور ہوجاتا تھا۔
موسیقی میں دانی ایل کی صلاحیت خداداد تھی۔ اگر کوئی دھن ایک مرتبہ سن لیتا تو اسے حفظ ہوجاتی تھی خواہ وہ کتنی ہی مشکل کیوں نہ رہی ہو۔ وہ پوری دھن اس طرح بجاتا کہ مجال ہے کہ کوئی سر بھول جائے۔ دوستوں کی محفلوں میں وہ اپنا ہارمونیم لے کر بیٹھ جاتا اور گھنٹوں فرمائشی دھنیں بجاتا رہتا۔ ایک بار اس نے کہیں بیتھوون کی سمفنی نمبر 9 سن لی تھی جو وہ ہارمونیم پر اس طرح ڈوب کر بجاتا تھا جیسے اس کے کان پورا آرکیسٹرا سن رہے ہوں۔ جب اس نے پرانے آرگن کی صفائی کر کے اسے قابل استعمال بنالیا تو حمدیہ گیتوں کے دوران وہی اسے بجاتا تھا۔
***
اس دن پیٹر اور ان کی بیگم نیلوفر کا پورا خاندان چرچ میں جمع تھا کیوں کہ ان کی بچی کے بپتسمہ کی رسم تھی۔ یہ ان کی پہلی بچی تھی جو ان کی شادی کے پندرہ سال کے بعد پیدا ہوئی تھی۔ پورے خاندان نے ان کی خوشی میں شرکت کی تھی اور نیلوفر کے کچھ عزیز پنجاب سے بھی آئے تھے۔ پیٹر کی عمر چالیس پینتالیس تو رہی ہوگی۔ خاصی سنجیدہ شخصیت کے مالک تھے اور ان کی کمیونٹی میں کافی عزت تھی۔ لوگ ان کے پاس مشوروں کے لیے آتے تھے۔
اس روز قربان گاہ کو خاص طور پر سجایا گیا تھا۔ پتھر کی میز پر نیا غلاف ڈالا گیا تھا اور دونوں جانب تازہ پھولوں کے بڑے بڑے گل دستے رکھے ہوئے تھے جو پیٹر نے اپنی فیملی کی جانب سے پیش کیے تھے۔ پشت پر ایک صلیب ایستادہ تھی اور دونوں سروں پر رکھے ہوئے شمع دانوں میں موم بتیاں روشن تھیں جن کے برابر چاندی کے دو بڑے بڑے ساغر رکھے ہوئے تھے اور ان کے برابر چاندی کی دو رکابیاں رکھی تھیں۔ یہ اس رسم میں استعمال ہوتی ہیں جو حواریوں کے ساتھ حضرت عیسیٰ کی آخری رات کے کھانے کی یاد میں ادا کی جاتی ہے۔ چرچ میں قربان گاہ ایک مرکزی حیثیت رکھتی ہے اور یہ خدا کے حضور میں اس قربانی کو ظاہر کرتی ہے جو بندہ عبادت کی شکل میں پیش کرتا ہے۔ حضرت ابراہیم بھی جہاں قیام کرتے تھے وہاں ایک قربان گاہ بناتے تھے۔ غالباً کعبہ ان میں سے ایک تھا۔ مسیحی عقیدے کے مطابق قربان گاہ میں مسیح کی قربانی بھی شامل ہے۔
پیٹر اور نیلوفر، اپنی نوزائیدہ بیٹی، للی کو تھامے، آہستہ آہستہ قربان گاہ کی طرف بڑھے۔ ان کے چہروں پر خوشی اور سنجیدگی کی ملی جلی کیفیت تھی۔ ان کے ساتھ جاوید اور نسرین چل رہے تھے۔ جاوید پیٹر کا بچپن کا دوست تھا اور اس کی بیوی، نسرین کی بھی نیلوفر سے کالج کے زمانے کی دوستی تھی۔ پیٹر اور نیلوفر نے ان دونوں کو اپنی بچی کے دینی والدین مقرر کیا تھا جو بچی کی روحانی تربیت کی ذمہ داری کو اٹھانے کے لئے تیار تھے۔
پادری پال نے مسکرا کر ان کا استقبال کیا، ”ہم یہاں نہ صرف للی کے روحانی سفر میں شریک ہونے کے لیے جمع ہوئے ہیں بلکہ بطور گواہ بھی یہاں موجود ہیں۔ یہ نہ صرف للی کے دینی والدین کی ذمہ داری ہے، بلکہ ہم سب کی ذمہ داری ہے کہ خداوند کی روشنی کی جانب بچوں کی رہنمائی کرتے رہیں۔“
وہ پانی کے اس طشت کی جانب بڑھے جو ایک اسٹینڈ پر رکھا تھا اور دعا مانگی، ”اے خداوند، ہم تجھ سے درخواست کرتے ہیں کہ تو اس پانی کو برکت دے۔ اسے اپنے روح پاک کے ذریعہ مقدس بنا، تاکہ جو بھی اس پانی سے بپتسمہ لے، اسے تیری محبت، تحفظ، اور نجات حاصل ہو۔ ہم یہ دعا اپنے خداوند، یسوع مسیح کے نام سے کرتے ہیں، جو تجھ سے ہمیشہ کے لئے محبت کرتا ہے۔ آمین۔“
پھر پادری پال نے نیلوفر کو اشارہ کیا کہ للی کو پانی کے طشت پر جھکا دے اور بہت احتیاط سے چلو میں پانی لے کر للی کی پیشانی پر بہاتے ہوئے کہا، ”للی، میں تجھے باپ، بیٹے اور روح پاک کے نام پر بپتسمہ دیتا ہوں۔“ للی بے خبر سو رہی تھی مگر پیشانی پر پانی پڑتے ہی کچھ کلبلائی اور پھر سو گئی۔
پادری پال نے للی کی پیشانی پر مقدس تیل سے صلیب کا نشان بنایا اور کہا، ”اب تو ہمیشہ کے لیے مسیح کی اپنی ہے۔“ پھر قربان گاہ پر شمع دان میں لگی ہوئی موم بتی سے ایک موم بتی سلگا کر نسرین کو دیتے ہوئے کہا کہ مذہبی ماں کی حیثیت اسے یہ ذمہ داری دی گئی کہ وہ للی کو مسیح کی روشنی لے کر دنیا میں لے جائے۔
تقریب کے اختتام پر پادری پال نے للی کو مجمع کے سامنے پیش کیا اور تالیوں کی گونج میں حاضرین اٹھ اٹھ کر پیٹر اور نیلوفر کو مبارک باد دینے کے لیے ان کے گرد جمع ہونے لگے۔


