صلیبیں اپنی اپنی (11)
”یاد کر کے سبت کا دن پاک ماننا۔ چھ دن تک تو محنت کر کے اپنا سارا کام کاج کرنا، لیکن ساتواں دن خُداوند تیرے خُدا کا سبت ہے اس میں نہ کوئی کام کرے نہ تیرا بیٹا نہ تیری بیٹی نہ تیرا غلام نہ تیری لونڈی نہ تیرا چوپایہ نہ کوئی مسافر جو تیرے ہاں تیرے پھاٹکوں کے اندر ہو کیوں کہ خُداوند نے چھ دن میں آسمان اور زمین اور سمندر جو کچھ ان میں ہے وہ سب بنایا اور ساتویں دن آرام کیا اس لیے خُداوند نے سبت کے دن کو برکت دی اور اسے مقدس ٹھہرایا۔“ خروج 20 : 8۔ 11
بچے عموماً اپنا ہوم ورک کرتے رہتے اور میں کوئی کتاب پڑھتا رہتا۔ اگر کسی بچے کو مدد کی ضرورت ہوتی تو مداخلت کرتا ورنہ میرا کام صرف سپروائز کرنا ہوتا تھا۔ اس روز میں بالے کو الجبرا کا ایک سوال حل کروا راہا تھا کہ اچانک ایک بزرگ اپنی چھڑی ٹیکتے ہوئے داخل ہوئے اور میرے برابر خالی کرسی پر بیٹھ کر بائبل کھول لی۔ بچے انہیں چاچا جی کہہ کر مخاطب کر رہے تھے۔ مجھے کچھ بُرا بھی لگا کہ وہ بچوں کی پڑھائی میں مخل ہو رہے تھے مگر میں ان کی بزرگی کا خیال کر کے ٹال گیا۔ ان کا چہرہ پسینے میں شرابور تھا اور سانس دھونکنی کی طرح چل رہا تھا۔
”بچو، آج ہم خروج کا بیسواں باب پڑھیں گے،“ انہوں نے اپنے چشمے کے دونوں شیشوں کو منہ کے سامنے لے جاکر سانس کی بھاپ دی اور قمیص کے دامن سے رگڑ کر پہن لیا۔ صفحات کو آگے پیچھے کر کے بالآخر انہیں خروج کا بیسواں باب مل گیا۔ یہ باب ان دس احکامات کے بارے میں ہے جو خدا نے حضرت موسیٰ کو کوہِ سینا پر دیے تھے۔ اس باب میں خدا نے بنی اسرائیل کو اپنی ہدایت کے مطابق زندگی گزارنے کے لیے بنیادی اصول دیے، جن میں عبادت، اخلاقیات، اور معاشرتی قوانین شامل ہیں۔
انہوں نے ہِل ہِل کر بالکل مدرسے کے بچوں کے انداز میں پڑھنا شروع کر دیا۔ ان کے منہ میں دانت نہیں تھے لہٰذا بات کرتے وقت ان کی باچھوں سے تھوک رستا تھا جسے وہ بار بار اپنے رومال سے صاف کرتے تھے۔ جب وہ بارہویں آیت پر پہنچے تو میں نے کہا، ”چاچا جی میرا ایک سوال ہے۔“
انہوں نے بائبل بند کردی اور میری طرف دیکھنے لگے۔
”یہ سوال خروج کے بیسویں باب کی ان چار آیتوں کے بارے میں ہے جو سبت کی اہمیت کے متعلق ہیں۔“
”آپ نے بالکل ٹھیک سمجھا،“ انہوں نے ہاتھ اٹھا کر کہا۔ ان کی آنکھوں میں وہی چمک تھی جو ایک استاد کی آنکھوں میں ہوتی ہے جب اسے معلوم ہو کہ اس کی بات شاگرد کی سمجھ میں آ گئی ہے۔
”ہم کتابِ پیدائش میں بھی پڑھتے ہیں کہ خدا نے دنیا چھ دن میں بنائی اور ساتویں دن آرام کیا اور اسے ہم سبت کہتے ہیں،“ میں نے کہا۔
”آپ نے بالکل صحیح کہا،“ انہوں نے اپنی عینک ٹھیک کرتے ہوئے جواب دیا۔
” سوال یہ ہے کہ ساتواں دن کون سا تھا۔ یہودیوں سے بات کریں تو ساتواں دن سنیچر تھا اور مسیحیوں سے بات کریں تو اتوار تھا۔ اگرچہ مسلمانوں میں ساتویں دن خدا کے آرام کرنے کا تصور نہیں ہے مگر وہ بھی جمعہ کی چھٹی کرتے ہیں۔ تو اگر ہمیں بائبل میں یہ بتا دیا جاتا کہ خدا نے دنیا کس دن بنانا شروع کی تو سارا جھگڑا ہی ختم ہوجاتا۔“
چاچا جی منہ کھول کر میری طرف دیکھ رہے تھے۔ غالباً میرا سوال ان کی سمجھ میں نہیں آیا تھا۔ انہوں نے بچوں سے کہا، ”تمہارے سر بہت پڑھے لکھے آدمی ہیں۔ مسلمان ہوتے ہوئے بائبل کو اچھی طرح پڑھا ہے۔“
”چاچا جی، ایک بات اور مجھے سمجھائیں۔ یہ سبت کے دن سب کو چھٹی دے دی ہے۔ بیٹا، بیٹی، غلام، لونڈی، مہمان، یہاں تک کہ آپ کے چوپائے بھی چھٹی کر رہے ہیں مگر بے چاری بیوی کو چھٹی نہیں ملی۔ اس کا مطلب ہے کہ وہ اکیلی ہی پورا دن باورچی خانے میں لگی رہے گی،“ میں نے شرارتی مسکراہٹ کے ساتھ کہا۔
وہ پھر بھی خالی خالی نظروں سے مجھے دیکھ رہے تھے۔ پھر کہنے لگے، ”سر آپ جو انہیں جیومیٹری شومیٹری پڑھاتے ہیں، اچھی بات ہے، مگر انہیں روزانہ پندرہ منٹ بائبل ضرور پڑھایا کریں۔“
میں نے ان کی تائید میں سر ہلا دیا اور باہر صحن میں انکل شاہد کے پاس آ کر بیٹھ گیا۔ حسب معمول کچھ دیر پہلے صحن میں چھڑکاؤ ہو چکا تھا اور ابھی تک فرش سے مٹی کی سوندھی سوندھی خوشبو اٹھ رہی تھی۔
”سوری سر، ہم آپ کو چاچا جی کے بارے میں بتانا بھول گئے،“ انکل شاہد نے کہا، ”کمیونٹی میں ان کی بہت عزت ہے۔ چاچا جی کے بچے نہیں ہیں اور ان کی بیوی بھی گزر چکی ہیں۔“
”میں نے تو پہلی مرتبہ انہیں دیکھا ہے۔ آئے اور بلا کسی تعارف کے شروع ہو گئے۔“
”وہ زیادہ پڑھے لکھے نہیں ہیں۔ بس انہیں بچوں کو بائبل پڑھانے کا شوق ہے۔ پورے شہر میں پیدل ہی گھومتے ہیں۔“
اس دوران چاچا جی اپنی چھڑی ٹیکتے ہوئے باہر نکلے اور ہم دونوں اٹھ کر کھڑے ہو گئے۔
”چاچا جی، چائے تو پیتے جائیں،“ انکل شاہد نے چیخ کر کہا۔
”پتر، تمہیں پتا ہے کہ میں چائے نہیں پیتا۔“
”یہ بچوں کے ٹیچر ہیں،“ انکل شاہد نے میرا تعارف کرایا۔
”ہاں، میری ملاقات ہو گئی، خوش رہو پتر،“ چاچا جی نے جواب دیا۔ چند قدم چل کر پلٹے اور رک کر میری طرف دیکھ کر بولے، ”ماسٹر صاحب، اِن کو روزانہ پندرہ منٹ بائبل پڑھانا نہ بھولیں۔“
”چاچا جی، آپ کا حکم سر آنکھوں پر،“ میں نے کہا۔ انہوں نے سوالیہ انداز سے انکل شاہد کی طرف دیکھا۔
”ذرا زور سے بولیں سر، چاچا جی کو سنائی نہیں دیتا،“ انکل شاہد نے مسکرا کر کہا۔
” آپ کا حکم سر آنکھوں پر،“ میں نے چیخ کر کہا۔
انہوں نے سر کو جنبش دی اور دروازے سے نکل گئے۔
”چاچا جی مہینے میں ایک بار آتے ہیں اور پندرہ منٹ سے زیادہ نہیں ٹھہرتے۔ آپ مائنڈ مت کیجئے گا۔“
”نہیں انکل مائنڈ کرنے کی کوئی بات نہیں۔ وہ تو مجھے پہلے سے پتا نہیں تھا اس لیے ذرا گھبرا گیا تھا۔“
”سر، آپ مریم سے تو مل لیے ہیں نا؟“ انکل شاہد نے ہاتھ اٹھا کر اشارہ کیا۔
”جی، میری ملاقات ہو گئی ہے،“ میں نے گردن موڑ کر دیکھا تو مریم کمرے سے نکل کر آ رہی تھی۔ میں اٹھ کر کھڑا ہو گیا۔
”کیسے ہیں آپ؟“ اس نے میرے سامنے والی خالی کرسی پر بیٹھتے ہوئے پوچھا۔
”بالکل ویسا ہی ہوں جیسا اس وقت تھا جب آپ نے پچھلی بار مجھے دیکھا تھا،“ میں نے جواب دیا۔
” وہ تو میں دیکھ رہی ہوں۔“
” بس دیکھتی رہیے۔“
”اچھا بس، اب مذاق ختم، میں دیکھنا چاہتی ہوں کہ آپ میں سنجیدہ گفتگو کرنے کی صلاحیت ہے یا نہیں۔“
”لیں، میں سنجیدہ ہو گیا اور امتحان کے لیے تیار ہوں۔“
انکل شاہد کے چہرے سے صاف نظر آ رہا تھا کہ الجھن میں مبتلا تھے۔ وہ کبھی میری طرف دیکھتے اور کبھی مریم کی طرف۔
” انکل، میری ملاقات مریم سے ہو چکی ہے اور ہماری باتیں ایسی ہی ہوتی ہیں،“ میں نے ان کی الجھن کو رفع کرنے کے لیے کہا۔
”ٹھیک ہے، تو پھر آپ ایسی ہی باتیں کریں تب تک میں چائے بنواتا ہوں،“ انہوں نے مسکرا کر کہا اور اٹھ گئے۔
”تو پھر آپ پورے ہفتے کی رپورٹ پیش کریں کہ کیا کرتی رہیں،“ میں نے کہا۔
”بڑا کام تو یہی ہوا کہ پروفیسر مجتبیٰ سے مل آئی۔“
” پروفیسر مجتبیٰ، وہ اردو ڈپارٹمنٹ کے ہیڈ؟“
” جی، فادر پال کے ساتھ گئی تھی۔ ان دونوں کی دوستی ہے۔“
” میں انہیں پادری پال کہتا ہوں اور میری بھی ان سے دوستی ہے۔“
” اتنا مخلص شخص میں نے نہیں دیکھا۔ انہوں نے اپنی زندگی چرچ کے لیے وقف کردی ہے۔ “
” اس میں شک نہیں۔“
” دراصل فادر پال ہی نے میرا تعارف پروفیسر مجتبیٰ سے کرایا تھا۔ ان سے خط و کتابت ہوتی رہی ہے مگر ملاقات پہلی مرتبہ ہوئی۔“
” پروفیسر مجتبیٰ بھی بے حد محنتی ہیں۔ اردو ڈپارٹمنٹ میں تحقیق کا سلسلہ انہوں نے ہی شروع کیا ہے۔“
” اور بڑے خاکسار آدمی ہیں۔ ہم شام کے وقت ان کے کوارٹر پر گئے تھے۔ برآمدے میں فرش بچھا ہوا تھا اور اس پر ان کے معتقدین کی بھیڑ لگی ہوئی تھی۔ کہیں تِل دھرنے کی جگہ بھی نہیں تھی۔ ہم لوگوں کو پھلانگتے ہوئے ان تک پہنچے۔“
اتنے میں انکل شاہد چائے کی ٹرے ہاتھ میں لیے ہوئے آ گئے۔
” ارے انکل، آپ نے کیوں تکلیف کی؟“ میں نے اٹھ کر ان کے ہاتھ سے ٹرے لے لی۔
” آپ کی ایسی ہی باتیں ختم ہوئیں یا ابھی سنجیدہ گفتگو کی نوبت نہیں آئی؟“ انہوں نے ہنستے ہوئے پوچھا۔
ہم پروفیسر مجتبیٰ کے متعلق باتیں کرتے رہے۔ وہ صوفی خیالات کے تھے اور ان کے مریدوں کی تعداد کا اندازہ لگانا مشکل تھا۔ ہر روز شام کو ان کے گھر میں محفل ہوتی تھی جس میں ان کے مرید دور دور سے آتے تھے مگر ان سے کوئی نذرانہ قبول نہیں کرتے تھے۔
”انکل، آپ دانی ایل کو تو جانتے ہیں نا؟“ میں نے موضوع بدلتے ہوئے پوچھا۔
” دانی ایل۔“ وہ اپنے ذہن پر زور دینے لگے۔
”دانی ایل جس نے مجھے آپ کے پاس بھیجا تھا۔“
”اچھا، ہاں یاد آ گیا۔“
” جی، وہ میرے بچپن کا دوست ہے۔“
” اچھا لڑکا معلوم ہوتا ہے۔ “
” دانی ایل وہ تو نہیں جو کینٹونمنٹ چرچ میں آرگن بجاتا ہے؟“ مریم نے پوچھا۔
” وہی، مگر آپ اسے کیسے جانتی ہیں؟
” میں نے کئی بار فادر پال کی سروس میں حاضری دی ہے، وہیں اسے دیکھا تھا۔ فادر پال اس کی تعریف کرتے ہوئے نہیں تھکتے۔“
” وہ ہمیشہ آپ کی فیملی کے متعلق پوچھتا ہے۔ میں نے اس سے کہہ دیا ہے کہ کسی چُھٹی کے دن اسے آپ سے ملا دوں گا،“ میں نے انکل شاہد کو مخاطب کر کے کہا۔
”کیوں نہیں، آپ اسے کہہ دیں کہ اتوار کو چائے ہمارے ساتھ پیے،“ انہوں نے جواب دیا۔
”آپ بھی گھر پر ہوں گی؟“ میں نے مریم سے پوچھا۔
”کوئی پروگرام تو نہیں ہے۔ اچھا ہے لے آئیں۔ میں نے اسے چرچ میں دیکھا تو ہے، اس کا میوزک بھی سنا ہے مگر فادر پال نے تعارف نہیں کرایا۔“
میں اپنا جوش دبانے کی کوشش کر رہا تھا۔ دل چاہ رہا تھا کہ نکل کر دوڑ لگاؤں اور دانی ایل کو زور سے بھینچ کر چیخوں، ”یار، تیرا کام بن گیا!“

