سندھ میں گرمی اور درختوں کے دشمن افسر


یوں تو پورا ملک ان دنوں گرمی کی شدید لپیٹ میں ہے مگر سندھ میں کچھ زیادہ ہی گرمی کی لہر جاری ہے جس کی وجہ سے شہری بلبلا اٹھے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ گرمی وہاں زیادہ ہوتی ہے جہاں پر درخت نہیں ہوتے ہیں اور جہاں گرمی ہوتی ہے وہیں گرمی کا درجہ حرارت بھی کم ہوتا ہے۔ ان دنوں میں سندھ کے بیشتر شہروں میں درجہ حرارت 50 سے 53 سینٹی گریڈ رہی ہے جو انتہائی الارمنگ کی صورتحال ہے، سندھ کا کوئی ایسا شہر نہیں ہے جہاں پر آپ کو بڑی تعداد میں درخت مل رہے ہوں اس کی وجہ سندھ کے ہر شہر میں افسر شاہی کا راج ہے وہ کہیں پر بھی درختوں کا بڑا جھرمٹ دیکھتے ہیں تو ان کو وہ درخت نہیں بلکہ ان کو لکڑی دکھائی دیتی ہے جس کی وجہ سے سندھ کی افسر شاہی درختوں کی دشمن کہیں تو اس میں کوئی بڑھاؤ نہیں ہو گا۔

بات کرتے ہیں شہداد کوٹ سے، شہداد کوٹ کے چارو طرف بہت ساری نہریں بہتی ہیں جس میں ٹانوری شاخ، مستوئی شاخ، پتوجا شاخ سمیت کئی بڑی نہریں بہتی ہیں اور وہاں پر 1996 تک تو درختوں کی ایسی گھنی چھاؤں ہوتی تھیں کہ نہروں کے کناروں سے شہر تک درخت ہی درخت ہوتے تھے اور سورج کی کرنیں تک نہیں نظر آتی تھیں مگر پھر ہوا یہ کہ ایریگیشن ڈیپارٹمنٹ کو وہ درخت آنکھ میں چبھنے لگے اور یوں راتوں رات کاٹے گئے صبح ہو اٹھے تو درختوں کا جھرمٹ تو
نہیں تھا ہاں وہاں پر ہرے ہرے درخت زمین بوس ہو کر ایریگیشن ڈپارٹمنٹ کو لازماً کوس رہے ہوں گے کہ چند پیسوں کی خاطر ان کو کاٹ کر نیچر کے خلاف گئے۔
ایسی ہی صورتحال ہر شہر کی ہے سندھ کے ہر شہر سے کہیں نا کہیں سے کوئی نا کوئی نہر لازمی گزرتی ہے اور وہاں پر ایسے ہی گھنے سائے دار درخت ہوا کرتے تھے مگر اب آپ سروے کر کے دیکھ لیں درخت کا نام و نشان نہیں ملے گا۔ ہاں ہر سال بہار کی موسم میں ہماری بیوروکریسی درخت لگاؤ مہم ضرور چلاتی ہے اور وہ صرف فوٹو سیشن کی حد تک محدود ہوتی ہے اس میں پودے تو لگا دیے جاتے ہیں مگر ان کی دیکھ بھال نہیں کی جاتی جو چند دنوں کے اندر ہی پانی
نا ملنے کی وجہ سے مرجھا کر ختم ہو جاتے ہیں۔
مجھے یاد ہے کہ سندھ میں اور کچھ نہیں تو ہلکی ہلکی بوندا باندی ہی سہی لیکن وہ ایک ڈیڑھ ماہ میں ہر سیزن میں ہوتی تھی، حیدرآباد اور جامشورو تو ٹھنڈی ہواؤں کے شہر کے طور پر جانے جاتے تھے اور ان دونوں شہروں میں کبھی ہفتے میں تین تین بار بھی بارش ہوتی تھی اور ہر وقت ٹھنڈک کا احساس رہتا تھا مگر اب وہ ہی شہر ہیں جہاں پر 48 سینٹی گریڈ درجہ حرارت چل رہا ہوتا ہے۔ سندھ کا کوئی سا بھی شہر دیکھ لیں لاڑکانہ، سکھر، نوشہرو فیروز، خیرپور میرس، کنڈیارو، سکرنڈ، نواب شاہ، قاضی احمد، دادو، مورو، خیرپور ناتھن شاہ، مہیڑ، نصیر آباد سمیت کوئی بھی شہر دیکھ یہاں تک کے جو سمندر میں ہے کراچی وہاں پر بھی بارش کا کوئی نام و نشان نہیں ہوتا وجہ کیا ہے صرف ایک کے ہم نے اپنے لئے دوزخ کا انتخاب خود کر لیا ہے ہر جگہ سے درخت کاٹ کر۔
گرمی کے پی کے، پنجاب اور اسلام آباد میں بھی ہے اس سے انکار نہیں ہے مگر آپ سندھ، پنجاب اور کے پی کے بلوچستان کو دیکھیں گے تو اندازہ ہو جائے گا کہ سندھ کی افسر شاہی نے کس طرح سے سندھ سے ایک منظم سازش یا یوں کہیں کہ کرپشن کی انتہا درجے کی حد تک جا کر درخت بھی کٹوا دیے ہیں جس کی وجہ سے گرمی کی شدت میں ہر سال اضافہ ہو رہا ہے۔
اسلام آباد میں گرمی ہے اس سے انکار نہیں ہے مگر وہاں پر اتنی ہریالی ہے کہ ہفتے میں ایک دو بار بارش ہو ہی جاتی ہے جس کی وجہ سے ٹھنڈک کا احساس ہوتا ہے اسی طرح سے پنجاب کے تمام شہروں میں درخت ہیں وہاں کی صوبائی حکومت اپنا کردار نبھا رہی ہے اور درخت کاٹنے پر شاید پابندی بھی عائد کی ہوئی ہے مگر سندھ میں ایریگیشن سمیت مختلف محکمے خود درخت کٹوا کر ان کی لکڑی بیچ دیتے ہیں۔
کہا جاتا ہے کہ درخت زندگی ہوتے ہیں اور ہماری بدقسمتی یہ ہے کہ ہم اپنی زندگی خود اپنے ہاتھوں سے کاٹ رہے ہوتے ہیں صرف چند پیسوں کی خاطر اور اب صورتحال یہ ہے کہ گرمی کا درجہ حرارت ہر سال بڑھ رہا ہے اور اس کو کنٹرول کرنے کے لئے لازمی ہے کہ لاکھوں کی تعداد میں ہر شہر میں درخت لگانے پڑیں گے پھر جاکر اس کلائیمیٹ چینج سے نمٹا جاسکتا ہے ورنہ اگر یہ ہی صورتحال رہی تو شاید چند سالوں میں بہت کچھ ختم ہو جائے گا اور پھر صورتحال کنٹرول میں بھی شاید نا رہے۔
دنیا کے ماہرین درخت لگانے پر زور دے رہے ہیں اور ہمارے حکمران ہوں یا افسر شاہی وہ لگے ہوِئے درخت کاٹنے پر زور دے رہے ہیں۔ سمجھ نہیں آتا کہ دنیا چاند پر پہنچ گئی ہمارے ہمسائے ممالک دنیا کے ساتھ کندھا کندھے میں ملا کر چل رہے ہیں اور تو اور ہماری ہی کوکھ سے نکلا بنگلادیش ترقی کی راہ پر تیزی کے ساتھ گامزن ہے پھر ہمارے ملک کو کیا ہو گیا ہے کہ وہ 74 سال گزر جانے کے باوجود اپنے پیروں پر مکمل طور پر کھڑا نہیں ہوسکا ہے کیوں ہے ایسا یا جان بوجھ کر ملک کو ایسے حال میں دھکیلا جا رہا ہے سمجھ سے بالاتر ہے۔
بہرحال بات ہو رہی تھی درختوں کی تو حکمران کلائیمیٹ چینج کی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے ایک ایمرجنسی درخت لگانے کی بھی لگائیں تاکہ جتنے درخت ہونگے ملک میں اتنی گرمی کم ہوگی اور جتنی زمینیں کھارے پانی کی وجہ سے بنجر ہو رہی ہیں وہ خود بہ خود آباد ہونا شروع ہوجائیں گی کیوں کہ درخت ہونے سے جر کا پانی خود بخود میٹھا ہوجاتا ہے مگر پتا نہیں ہمارا یہ مطالبہ اندھوں کے شہر میں آئینہ بیچنا والی محاورے کی طرح ہو گا یا اس پر کچھ عمل درآمد بھی ہو گا۔
ملک کے ہر فرد کو چاہیے کے اگر کلائیمیٹ چینج سے نمٹنا ہے تو اپنے اپنے گھر کے آگے دو دو ہی سہی درخت ضرور لگائیں تاکہ اس دوزخ جیسی گرمی سے نجات حاصل ہو سکے۔

Facebook Comments HS