اُفتادِ طبع
اسے اُفتادِ طبع کا نام ہی دیا جاسکتا ہے کہ سماجی نفسیات پر انفرادی نفسیات غالب رہی۔ پہلی باقاعدہ نوکری، ایک نیا سماجی ادارہ اور گروہ جس کا مجھے حصہ بننا تھا۔ میرے لیے اگر کچھ نیا ہی پریشان کُن ہوتا تو ۔ نہیں ایسا تو نہیں۔ جو سفر جامعہ کراچی سے ہوتا ہوا گزرا وہ میرے لیے نئے نظریات و تصورات کا سفر ہی تھا۔ تو اس نئے سماجی ادارے سے منسلک ہونا پریشان کن کیوں ہوا؟ کیوں رہا؟ اور کیوں اب تک ہے؟ کیوں کہ یہ میری اُفتادِ طبع سے تصادم اور ٹکراؤ کا ماحول ہے۔
جو ملتا، بات ہوتی، اکثر ذہنی مطابقت نہ ہوتی۔ یہ سب جو لکھ رہی ہوں اب ہونے والا ادراک ہے، اس وقت تو یہ لگتا تھا جیسے کچھ بھی سمجھ میں نہیں آ رہا، یہ سب کیا ہے؟ میں اس سے قبل بھی ہر جگہ ’مس فٹ‘ تھی اور پھر میں اس نتیجے پر پہنچی کہ میں یہاں بھی ’مس فٹ‘ ہوں۔ اس مس فٹ ہونے میں فرق یہ تھا کہ وہ غیر سرکاری نوکریاں تھیں، نہیں سمجھ میں آ رہا، مزاج نہیں مل رہا، چھوڑ دیں، یہ سرکاری نوکری تھی تو یہاں تو ٹکنا ہی تھا۔
لوگوں سے ملتی تو لگتا اپنا آپ کھو رہی ہوں، تنہا ہوتی تو پھر خود کو پانے لگتی، یہ ذہنی کش مکش کا دور ثابت ہوا۔ جو کچھ اس وقت تک پڑھا تھا یہاں وہ کام آیا، جو خام اُصول زندگی میں لاشعوری یا تحت الشعوری سطح پر خود ہی طے پا گئے تھے وہ خود ہی کام بھی کر رہے تھے، زندگی میں جو اقوال کہیں پڑھے تھے وہ کام آئے، بڑوں اور اساتذہ نے جو مشورے دیے تھے اور جو نصیحتیں کی تھیں وہ کام آئیں، مطالعے مشاہدے میں جو ذہن کا حصہ بنا وہ کام آیا، اور ان سب کی رہنما بنی ”اُفتاد ِ طبع“ ۔ جہاں الجھی ہے یہ الجھی ہے، جہاں لڑی ہے یہ لڑی ہے اور جہاں قائم رہی ہے یہ قائم رہی ہے۔
ایک نے کہا :فلاں یہ کر رہا ہے، وہ کر رہا ہے، وہ یہ کر لے گا، وہ وہاں پہنچ جائے گا، وہ آگے نکل جائے گا، وہ یہ وہ وہ۔ پہلے لگا کہ یہ دنیا ہے بھئی، اسے سمجھو، تم کس دنیا میں رہتی ہو؟ دیکھو لوگ ایسا کرتے ہیں، اس سے سیکھو، یہی سیکھنے کی باتیں ہیں، تمہیں تو کچھ پتا ہی نہیں۔ پر جیسے ہی وہاں سے ہٹتے، اپنا آپ وہ نہیں لگتا جو وہ دکھانا اور بتانا یا بنانا چاہ رہے تھے، تھکاوٹ محسوس ہوتی، لگتا کہ ایک دوڑ لگی ہوئی ہے اور سمجھ میں آیا کہ مجھے نہیں دوڑنا، میں کوئی کتاب اٹھاتی اور اسے پڑھنا شروع کر دیتی، ذہن سکون میں آ جاتا، خیال کی وہ دنیا نظر آجاتی جو میری دنیا تھی، وہ تھی میری دنیا، یہ سب پسِ پردہ کون کر رہا تھا؟ میں اس پسِ پردہ قوت کو آج ’اُفتادِ طبع‘ کا نام دے سکی ہوں۔
ہم دوسروں کو وہ بھی لگنے لگتے ہیں جو ہم ہوتے نہیں ہیں یا ہوتے ہیں اور دوسرا ہم سے پہلے ہمیں سمجھنے لگتا ہے۔ ہمیں پتا نہیں چلتا کہاں ہمارے کس عمل سے ہمارے مزاج اور اُصولوں کا اظہار ہو گیا جو سامنے والے کے مزاج اور اصولوں سے لگّا نہیں کھاتے اور آپ کو اس سے فرق بھی نہیں پڑتا لیکن آپ کو یہ نہیں پتا کہ دوسرے کو اس سے فرق پڑتا ہے اور بہت پڑتا ہے اور اتنا پڑتا ہے کہ آپ کو بھی پتا پڑ جاتا ہے کہ کتنا فرق پڑتا ہے۔
ایک واقعہ سنیں۔ نوکری کو اتنا عرصہ نہیں ہوا تھا۔ میرے ایک سینئر فیکلٹی ممبر کا رات کے وقت فون آیا اور انہوں نے پوچھا کہ ’آج آپ بینک گئی تھیں؟‘ میں نے جواب دیا ’ارادہ تھا لیکن جا نہیں سکی، کیوں؟ کہنے لگے‘ مجھے معلوم ہوا کہ آپ کی تنخواہ نہیں آئی، روک لی گئی ہے۔ ’اب میں رات کو پریشان۔ ایک سہیلی کو فون کیا، پریشانی بتائی تو جواب میں اس کی ہنسی سنائی دی، میں نے کہا تم ہنسی کس بات پر ہو؟ دوسری ہم جامعہ کو فون کیا، اب اس کا جواب ملاحظہ کریں : ”تم کیا سمجھتی ہو، انہوں نے تمہاری ہمدردی میں تمہیں فون کیا ہے، انہوں نے تو تمہیں فون کیا ہی اس لیے ہے کہ تم پریشان ہو اور تم پریشان ہو رہی ہو۔
“ یہ جواب اتنا سکون بخش تھا کہ میں سو گئی۔ اگلے دن بینک گئی، تنخواہ آئی ہوئی تھی، شعبے میں پہنچ کر سب سے پہلے اس ہم جامعہ کو فون کیا کہ تنخواہ آ گئی ہے اور تمہارا شکریہ جو ذہنی سکون مجھے تمہارے جواب سے ملا۔ سوال یہ ہے کہ کسی کو پریشان کرنے سے کیا ملتا ہے؟ میں نے اپنے ان سینئر سے اس موضوع پر کوئی بات نہیں کی۔ یہ سب سمجھنے کے لیے ہے، پوچھنا کیسا۔
ایک اور واقعہ سنیں۔ شعبے میں پہنچے، صدر شعبہ کرسی پر موجود تھے، حاضری کے لیے رجسٹر اُٹھایا تو دیکھا کہ نام ہی نہیں، صدرِ شعبہ یہ سب دیکھ رہے ہیں، میں نے دوبارہ نام دیکھے کہ میری نظر سے ہی نہ گزرا ہو لیکن نام ہوتا تو ملتا۔ میں نے پوچھا ’سر میرا رجسٹر میں نام نہیں ہے؟‘ فرمانے لگے ’میں نے بہ حیثیت غیر تدریسی عملے کے آپ کا ٹرانسفر شعبہ تصنیف و تالیف میں کر دیا ہے۔ ‘ (یہ وہی صدرِ شعبہ تھے جنہوں نے مجھے لوگوں کے بارے میں گیان دیا تھا کہ فلاں یہ کر رہا ہے اور فلاں وہ کر رہا ہے ) ۔
میرا ردّ ِ عمل یہ تھا کہ میں نے صدر ِ شعبہ کا جواب سنا، کرسی سے اٹھی، حاضری رجسٹر بالکل معمول کے انداز میں اس کی جگہ رکھا اور اپنے کمرے میں آ گئی۔ دیکھیں کسی جونیئر کا جارحانہ ردّ ِ عمل اس کے خلاف استعمال کرنے کے لیے کافی سے زیادہ ہوتا ہے۔ یہاں میرے کام وہ تربیت آئی جو میرے فکری اُستاد ڈاکٹر منظور احمد نے کی۔ انہوں نے بتایا تھا کہ جب میں فلسفے کی پہلی کلاس میں جاتا ہوں تو میں طالب ِ علموں سے کہتا ہوں کہ ”فلسفہ محض پڑھنے کی چیز نہیں ہے، یہ عملی مضمون ہے۔“ طالب ِ علم سوال کرتے کہ وہ کیسے؟ تو میں جواب میں کہتا ہوں کہ ”جب آپ اپنی زندگی کا کوئی مسئلہ حل کرنے کے لیے سوچ بچار کرتے ہیں تو دراصل وہی فلسفہ ہے۔“
میں اپنے کمرے میں پہنچی اور سوچا کہ یہ کیا ہے؟ یہ ہمارے شعبے کا ماحول، آپ کلاس کے بارے میں سوچیں، آپ کچھ اور سوچنے والی باتیں سوچیں، نہیں آپ یہ سوچیں، کیا بکواس ہے؟ میں کچھ منصوبہ بندی کر کے شعبے میں آئی ہوں گی کہ مجھے یہ کرنا ہے، اب یہ نئی ناپسندیدہ و پریشان کن صورت حال اور مجھے اس کو سمجھنا ہے۔
کیا یہ صدرِ شعبہ کا اختیار تھا؟ کیا انہوں نے مجھے کوئی خط دیا؟ نہ یہ صدرِ شعبہ کا اختیار تھا نہ انہوں نے مجھے کوئی خط دیا۔ وہ میرے حاضری رجسٹر میں نام تلاش کرنے کا مشاہدہ کیوں کرتے رہے، میرے پوچھنے اور رجسٹر واپس رکھنے تک؟ میں بھول جاؤں کہ اس دن میرے آدھے سر میں درد ہوا۔ اگلے ماہ میرا نام دوبارہ رجسٹر میں موجود تھا۔ یہ سب کیا تھا؟ ان کا اس وقت کا مشیر ِ خاص اس دن (یقینا سن گن لینے کے لیے ) میرے پاس آیا اور پوچھا کہ کیا ہوا؟ کوئی مسئلہ ہے؟ میں نے جواب دیا نہیں کوئی مسئلہ نہیں، یہی ”اُفتادِ طبع“ تھی جو اس وقت بھی میرے کام آئی۔


