مہنگائی کا بے قابو جِن
موسمِ گرما کی آمد آمد ہے اور ہم میمنہ و میسرہ درست کرنے میں لگے ہیں۔ یوں سمجھ لیجیے کہ ہم حالتِ جنگ میں ہیں اور ”میڈم بجلی“ کا مقابلہ کرنے کے لیے ہاتھ پاؤں مار رہے ہیں۔ وجہ اِس کی یہ کہ پچھلے سال ہمیں میڈم کے ”ہتھ“ لگ چکے ہیں اور اب کی بار ہم کماحقہ بندوبست کرنے کی تگ و دو میں ہیں۔ ہمارے پاس ”موکل“ تو ہیں نہیں جو ہمارے میٹر کی ریڈنگ کھینچ کے پیچھے کر دیں اور نہ ہی ہم بجلی چوروں کے خلاف کوئی قدم اُٹھا سکتے ہیں کیونکہ یہ کام حکمرانوں کاہے اور حکمرانوں کی مجبوری یہ کہ اُنہوں نے آخر اِنہی چوروں سے ووٹ بھی تو لینے ہوتے ہیں۔
اِس لیے ہمیں خود ہی کچھ کرنا ہو گا۔ دراصل پچھلے سال گرمیوں میں ہمارا ایک ماہ کا بِل 90 ہزار روپے آیا تو پہلا تاثر یہ تھا کہ ایسا ہوہی نہیں سکتا۔ ہم نے گھرمیں کون سی کوئی خفیہ فیکٹری لگائی ہوئی تھی جو اتنا بِل آتا۔ پھر جب آنکھیں مَل مَل کے دیکھا تو ہونی ہو چکی تھی اور بِل تو اُتنا ہی تھا۔ جب بِل ریڈنگ کا مطالعہ شروع ہوا توا اللہ گواہ ہے کہ ”کَکھ“ سمجھ نہ آیا البتہ یہ ضرور پتہ چلا کہ میٹر ریڈنگ کا بِل تو صرف 2 سطور میں تھا لیکن ٹیکسز کی فہرست شیطان کی آنت کی طرح طویل۔ پھر ہر ماہ بِل کی وہی رفتار لیکن ٹھنڈے پیٹوں نہ ہضم ہونے کے باوجود ہم بِل قبول کرتے چلے گئے کہ چچا غالب فرما گئے
رنج سے خوگر ہوا انسان تو مِٹ جاتا ہے رنج
مشکلیں مجھ پر پڑیں اتنی کہ آساں ہو گئیں
ہمارا ذہن ٹھہرا ارسطوانہ اِس لیے ہم نے سوچا کہ کیوں نہ اِن ٹیکسز کا پتہ لگایا جائے۔ ہمیں یہ اعتراف کرنے میں کوئی جھجک نہیں کہ اِن 32 سے 35 فیصد ٹیکسز میں سے کچھ سمجھ میں آئے اور کچھ سَرکے اوپر سے گزر گئے۔ جو کچھ سمجھ میں آیا اُس میں پہلا 17 فیصد جی ایس ٹی یعنی جنرل سیلز ٹیکس ہے۔ کوئی ہمیں سمجھائے تو سہی کہ بجلی تو ہم نے خرید لی اور اُس کی قیمت پر سمجھوتہ بھی کر لیا پھر یہ سیلز ٹیکس کیوں؟ دوسرا بڑا ٹیکس وہ ہے جو بجلی پیدا کرنے والی کمپنیوں کو ادا کیا جاتا ہے۔
یہ براہِ راست عوام کی جیبوں پر ڈاکا ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق بجلی پیدا کرنے والی نِجی کمپنیوں یعنی آئی پی پیز کو غیرملکی قرضوں کی ادائیگی اور ملکی دفاعی اخراجات کے بعد تیسری سب سے بڑی رقم ادا کی جاتی ہے۔ سابق امیرِ جماعت اسلامی سراج الحق کے مطابق اِن 88 کمپنیوں میں سے بیشتر کے مالکان پاکستانی ہیں جو مہنگی ترین بجلی پیدا کرتے ہیں اور اضافی پیداوار کی مَد میں بھی اب تک ساڑھے آٹھ ٹریلین روپے حاصل کرچکے۔ اصولاً اِنہیں صرف مہنگی بجلی کی قیمت ہی ادا کی جانی چاہیے لیکن یہ آئی پی پیز سالانہ 2 ہزار ارب روپے کیپسٹی پیمنٹ یعنی ”غیر استعمال شُدہ بجلی“ کی مَد میں حاصل کرتے ہیں۔ اِن کمپنیوں کے ساتھ جو معاہدہ کیا گیا ہے وہ 2027 ء تک ہے اِس لیے یہ تلوار سَر پر لٹکتی ہی رہے گی۔
سات، آٹھ قسم کے ٹیکسز تو اور بھی ہیں لیکن چونکہ ہمارے یا قوم کے ”رَولا ڈالنے“ سے یہ ٹیکسز تو ختم ہونے کے نہیں اِس لیے مزید ٹیکسز کی تشریح کار بیکار، آگے چلتے ہیں۔ قوم سے کہیں بہتر حکمران جانتے ہیں کہ ملک میں مہنگائی کا جِن بے قابو کیوں ہے؟ قصور اِس میں حکومت کا بھی نہیں کہ زرعی ملک ہونے کے باوجود ہم گندم کا بہت بڑا حصہ بیرونی ممالک سے درآمد کرتے ہیں اِس کے علاوہ اشیائے خورونوش میں خوردنی تیل اور پام آئل بھی درآمد کیا جاتا ہے۔ اگر کبھی چینی کی پیداوار زیادہ ہو جائے تو شوگر ملز مالکان پہلے وافر مقدار میں چینی برآمد کر کے اپنی جیبیں بھرتے ہیں اور پھر وہی چینی مہنگے داموں درآمد کی جاتی ہے۔ جس کی وجہ سے بیشمار زرِمبادلہ ہاتھ سے نکل جاتا ہے اور ہم کشکولِ گدائی لیے آئی ایم ایف کے در پر سجدہ ریز ہو جاتے ہیں۔
قارئین! یہ تو سبھی جانتے ہیں کہ خوراک کی مد میں ہر کسی کو گندم، چاول، پیاز، دودھ، دالیں، چینی، سبزیاں اور خوردنی تیل کی ضرورت ہوتی ہے۔ اِس کے علاوہ گھرکا کرایہ، یوٹیلٹی بِلز (پانی، بجلی، گیس) اور ٹرانسپورٹ کی ضرورت ہوتی ہے۔ پاکستان میں ماشاء اللہ بڑے بڑے معیشت دان بیٹھے ہیں جوہر روز الیکٹرانک میڈیا پر بیٹھ کر ارسطوانہ بحثیں کرتے رہتے ہیں۔ اِن میں سے ہے کوئی ایسا جو 50 ہزار روپے میں گھریلو اخراجات کا تخمینہ لگا کر دکھا سکے۔
وفاقی وزیرِاطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ کا کہنا ہے کہ معاشی اشاریے بہتری کی جانب گامزن ہیں اور مہنگائی کم ہو رہی ہے۔ اگلے سال تک یہ 15 فیصد تک آ جائے گی۔ عرض ہے کہ عوام معاشی اشاریوں کو جانتے ہیں نہ معیشت کی گھمن گھیریوں کو ۔ اُن کی معیشت تو پیٹ سے شروع ہو کر پیٹ پرہی ختم ہوتی ہے۔ اُنہیں بس اتنا ہی علم ہے کہ مہنگائی اور بے روزگاری کا جِن اُنہیں نگلنے کو تیار بیٹھا ہے۔ وہ یہ دیکھ کر بھی جلتے کڑھتے رہتے ہیں کہ حکمرانوں کی آویزاں کردہ ریٹ لِسٹ کے عین نیچے سبزی، گوشت اور کریانہ فروش مَن مرضی کے نرخوں پر اپنی اشیاء فروخت کر رہے ہیں۔
اِن چھوٹے دُکانداروں اور سبزی، پھل اور کریانہ فروشوں سے جب سوال کیا جاتا ہے کہ وہ حکومتی ریٹ لسٹ کے مطابق سامان فروخت کیوں نہیں کرتے تو اُن کا جواب ہوتا ہے کہ اُنہیں جس ریٹ پر اشیائے ضروریہ ملیں گی وہ اُسی پرہی فروخت کر سکتے ہیں۔ حکومت ذخیرہ اندوزوں پرتو ہاتھ ڈالنے کی سکت نہیں رکھتی ہماری دُکانوں پر ریٹ لسٹیں چسپاں کرتی پھرتی ہے۔
اِس وقت وفاقی ادارہ شماریات کے اعداد و شمار کے مطابق مہنگائی کی شرع 29 فیصد ہے جبکہ وفاقی وزیرِاطلاعات کے مطابق اگلے سال تک اِسے 15 فیصد تک لایا جائے گا۔ سوال مگر یہ ہے کہ علاقائی ممالک میں یہ شرح کتنی ہے؟ چین میں مہنگائی کی شرح محض 0.7 فیصد ہے۔ چین کی بات تو چھوڑیں کہ وہ عالمی طاقت ہے جو امریکہ کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے ڈَٹ کر کھڑا ہے لیکن بھارت جہاں غربت کا یہ عالم کہ 80 کروڑ افراد کو ماہانہ 5 کلو اناج مفت تقسیم کیا جاتا ہے۔
یہی نہیں بلکہ بھارت میں پاکستان کی کل آبادی سے بھی زیادہ افراد فاقہ کشی پر مجبور ہیں وہاں بھی مہنگائی کی شرح 5.10 فیصد ہے۔ وہ بنگلہ دیش جسے ہمارے مارشل لائی حکمران بوجھ سمجھتے تھے وہاں مہنگائی 7.3 فیصد اور ڈیفالٹ کر جانے والے ملک سری لنکا میں اِس وقت مہنگائی کی شرح 5.9 فیصد ہے۔ اگر اگلے سال تک پاکستان مہنگائی کی شرح کو 15 فیصد تک لانے میں کامیاب ہو بھی جاتا ہے تو پھر بھی مہنگائی کا یہ جِن بے قابو ہی رہے گا۔
عوام کو یہ کہہ کر بہلایا نہیں جاسکتا کہ رفعتوں کو چھوتی مہنگائی کی اصل ذمہ دار تحریکِ انصاف کی ساڑھے تین سالہ حکومت ہے یا اتحادیوں کی سولہ ماہ کی حکومت میں مہنگائی کا یہ جِن بے قابو ہوا ہے۔ اِس سے پہلے کہ مہنگائی کا عفریت کسی خونی انقلاب کا پیش خیمہ بن جائے، حکمرانوں کو انقلابی اقدامات اُٹھاتے ہوئے اشرافیہ کے جبڑوں سے وہ دولت نکالنی ہوگی جو مجبور و مقہور عوام کی رگوں سے لہو نچوڑ کر بنائی گئی۔ یاد رکھیں کہ عوام اب نہ تو مہنگائی کا بوجھ برداشت کرنے کی سکت رکھتے ہیں اور نہ ہی مزید ٹیکسز کا ۔


