ٹرک کی بتی کے پیچھے


mohammad rafiq dad

جب تک میرے اپنے پاس اسمارٹ فون نہیں تھا، میں بچوں کا اس کھلونے کے ساتھ جو انہماک ہے اس کو سمجھنے سے قاصر رہا اور ہر وقت انھیں ہدفِ تنقید بناتا رہا۔ پھر یوں ہوا کہ بچوں کے ساتھ میرے روز روز کے تُو تکار سے تنگ آ کر میرے نواسے، عارف نے مجھے اسمارٹ فون خرید کر دینے کی پیشکش کی، کچھ دیر تک میرے ضمیر نے مزاحمت کی کہ کل تک بچوں کو برا بھلا کہنے والا خود اسی خرافات میں مشغول ہو جائے، دنیا کیا کہے گی، لیکن میں نے ضمیر کو تھپکی دیتے ہوئے مطمئن کرنے ( یا سُلانے ) کی کوشش کی کہ انفارمیشن ٹیکنالوجی سے فائدہ اٹھا کر مجھے اپنے مضامین سوشل میڈیا پر وائرل کر کے ملک و قوم کی خدمت کرنے کا اس نادر موقع سے فائدہ اٹھانا چاہیے۔ ویسے بھی مفت میں کوئی چیز اگر مل جائے تو اسے ٹکرانا کفرانِ نعمت ہے، لہذا میری رضامندی کے بعد عارف نے ایک میڈ اِن چائنا اسمارٹ فون خرید کر دی اور فیس بک پر میرا اکاؤنٹ بھی کھلوا دیا۔

سوشل میڈیا کی دنیا میں آنے کے بعد مجھے پتا چلا کہ بچے اور بڑے کیوں اس دنیا کی رنگینیوں میں کھو جاتے ہیں کہ انھیں کھانے پینے کا ہوش نہیں رہتا اور نہانے، کپڑے بدلنے کی فرصت نہیں ملتی۔ فیس بک، پوسٹ، لائیک، کمنٹس اور جوابی کمنٹس کا ایک ایسا گھن چکر ہے جس کا کوئی اختتام نہیں۔ بعض ماڈیریٹر یا یوزر اتنے چالاک ہوتے ہیں کہ ایک شوشہ چھوڑ کر باقی سب قارئین کو ٹرک کی بتی کے پیچھے لگا دیتے ہیں اور خود اطمینان سے بیٹھ کر لائیکس اور کمنٹس شمار کرتے رہتے ہیں۔

کچھ دنوں پہلے کی بات ہے کہ ایک پوسٹ نظروں سے گزری جس میں ماڈیریٹر نے یہ سوال پوچھا تھا: ”بتائیے ’ش اور ص‘ میں کیا فرق ہے؟ بس پھر کیا تھا سب لوگ ’ش اور ص‘ کے درمیان فرق کو ڈھونڈنے اور ایک دوسرے کو سمجھانے کی کوشش میں سر دھڑ کی بازی لگانے لگ گئے۔ کچھ کمنٹس آپ کی خدمت میں پیش کرنے کی جسارت کر رہا ہوں، جس سے آپ کو ہمارے قارئین کے افتادہ طبع کے بارے میں کچھ نہ کچھ آئیڈیا ضرور ہو گا:

آوارہ پنچھی: ”ش کے اوپر تین نقطے ہوتے ہیں جب کہ ص پر کوئی نقطہ نہیں ہوتا“ ۔
دلِ مومن: ”وہی فرق ہے جو ج اور ش میں ہے۔“
دل دیوانہ: ”ص ش کے بعد آتا ہے، اس کے علاوہ کوئی خاص فرق نہیں۔“
پگلی حسینہ: ”وہی فرق ہے جو آسمان اور زمین میں ہے۔“
نازو: ”پلیز! وضاحت کیجیئے، آپ کیا پوچھنا چاہ رہے ہیں؟ میں تو سوچ سوچ کر پریشان ہو گئی ہوں۔
دلبر خان: ”اس فرق کو جان کر ملک و قوم کو کیا فائدہ ہو گا۔“
خانہ خراب: ”ش سے شب اور ص سے صبح آتی ہے۔“

اس پوسٹ کو اور اس کے جواب میں کمنٹس کو پڑھ کر مجھے بھی کچھ لکھنے کا اشتیاق ہونے لگا، لہذا میں نے کچھ اس طرح کے کمنٹس لکھے : ”آپ نے کمالِ مہارت سے اپنے فالورز کو ٹرک کی بتی کے پیچھے لگا دیا ہے۔“ میرے کمنٹس پڑھ کر سارے قارئین ش اور ص کے فرق کو بھول کر ٹرک کی بتی کے (یعنی میرے ) پیچھے لگ گئے اور ایسے ایسے کمنٹس پاس کیے کہ الحفیظ و الاماں، انھیں دہرایا بھی نہیں جاسکتا۔ ماڈیریٹر نے جب دیکھا کہ قارئین اُس کی پوسٹ کو چھوڑ کر دوسری طرف نکل گئے ہیں تو اس نے مداخلت کر کے قارئین کو دوبارہ پٹری پر لانے کی کوشش اور اپنے کمنٹس لکھا: ”پیارے دوستو! اصل موضوع ش اور ص کا فرق تھا آپ لوگ ٹرک کی بتی کے پیچھے پڑ گئے۔ برائے مہربانی، دوبارہ اصل پوسٹ کی طرف آئیں،“ لیکن قارئین ماڈیریٹر کی باتوں کو نظرانداز کر کے ٹرک کی بتی کے پیچھے ہی لگے رہے۔ مجبوراً ماڈیریٹر کو اپنی پوسٹ ہی ڈیلیٹ کرنی پڑ گئی۔

Facebook Comments HS